ویلفئیر پارٹی کہاں ہے
ویلفیئر پارٹی کہاں ہے ؟
سن دو ہزار دس کے آخر میں ویلفیئر پارٹی بنانے کا اعلان کیا گیا تو خوش ہونے والوں میں بھی شامل تھا، انتظار کرنے لگا کہ نئی پارٹی سے ایک نئی سیاسی فکر اور سیاسی روڈ میپ نکلے گا، میں کبھی یہ امید نہیں کرتا تھا کہ ویلفیئر پارٹی ایک دن اقتدار میں آجاے گی، سبھی سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کے لئے نہیں ہوتی، کچھ کنگ میکر ہوتی ہیں کچھ راے عامہ کو بنانے بگاڑنے کا کام کرتی ہیں کچھ ایجنڈا سیٹ کرنے کا کام کرتی ہیں، سب کی اپنی اپنی جگہ اہمیت ہے، اور سبھی طرح کی سیاسی جماعتوں کی ضرورت رہتی ہے، انتخابی سیاست میں کامیابی کا معیار محض حکومت سازی نہیں بلکہ راے عامہ کو متاثر کرنا بھی ہے، اسکی ایک مثال جن سنگھ ہے جو اگرچہ انتخابی سیاست میں کبھی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کر سکا لیکن باقی سیاسی پارٹیوں کے ایجنڈا کو بنانے بگاڑنے میں بہت اہم رول ادا کرنے میں کامیاب ہوا، سوتنتراتا پارٹی بھی ایسی ہی ایک جماعت تھی اور بھات ساری جماعتیں ہیں جنکی مثال دی جاسکتی ہیں، کئی جماعتیں واضح نظریاتی موقف کی وجہ سے ناقابل نظر انداز ہو جاتی ہیں مثلا زیادہ تر کمیونسٹ پارٹیاں مرکز میں حکومت بنانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں لیکن بھات سارے ایسے قوانین اور پالیسیز بنوانے میں کامیاب ہوتی ہیں جنکو کمیونسٹ پارٹیاں شدت سے اٹھاتی ہیں، اب سوال یہ ہیکہ ویلفیئر پارٹی کیا چاہتی ہے، اسکے نظریاتی امتیازات کیا ہیں، وہ کس قسم کی سیاسی اور معاشی تبدیلی کی خواہش مند ہے؟ دس سال ہو چکے ہیں اور ان دس سالوں میں ویلفیئر پارٹی کی کیا کامیابیاں ہیں؟ اس کے لئے میں نے انکی ویب سائٹ پر انکا تعارف حاصل کیا، انکی سرگرمیوں کا مطالعہ کیا، انکے کچھ ذمہ داران کی پارٹی سرگرمیوں کی تقریریں سنیں، اسکے بعد میں حسب ذیل تاثرات تک پہنچا ہوں،
١، کیا ویلفیئر پارٹی ایک نظریاتی جماعت ہے، کیا سیاست کو لیکر اسکا کوئی خاص نظریہ ہے؟ بظاہر ایسا ہی ہے اور انکی تقریروں سے آپ محسوس کریں گے کہ وہ ایک نظریاتی پارٹی ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اگر آپ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ انکا نظریہ ہے کیا تو آپ انکی تقریروں کی بھول بھلیا میں ایسے کھو جائیں گے کہ آپ کو پتا نہیں چلیگا کہ نظریہ کہا ہیں، مثلا انکا دعوا ہے کہ وہ ایک ویلفیئر یا فلاحی ریاست چاہتے ہیں، دنیا میں فلاحی ریاست چاہنے والے وہ پہلے اور آخری گروہ نہیں ہیں لیکن ہندوستان کو ایک فلاحی ریاست میں تبدیل کرنے کے لئے آپ کے واضح مطالبات کیا ہیں، اور کس قسم کی تبدیلیاں برپا کرنا چاہتے ہیں اس پر آپ کو ایک عدد ایسی تحریر یا تقریر نہیں مل سکتی جس سے کسی بھی عام پڑھے لکھے فرد کو ویلفیئر پارٹی کی طرف کشش پیدا ہو، میں پورے دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ انکے حمایتیوں اور ذمہ داران کے سوشل میڈیا اور تحریروں کو دیکھ کر آپ کو ویلفیئر پارٹی کے انکے ذہن میں موجود خد و خال کی بھنک تک نہیں لگ سکتی، اس نظریاتی تنظیم کے اس قدر بے نظریہ ہونے کی صرف دو وجہ ہو سکتی ہیں، پہلے یہ کہ ہندوستان کی عوام اور دانشور انکے پیغام کو ویسا ہی ریسیو کر رہے ہیں جیسا وہ دعوا کرتے ہیں یا انکا نظریات کے نام پر ویلفیئر اسٹیٹ کا سائن بورڈ محض ایک بہانہ ہے اور سائن بورڈ کے اندر کچھ اور خیالات ہیں، ویب سائٹ پر انکا تعارف اور ویژن موجود ہے لیکن آپ اگر یہ پوچھیں کہ وہ کون سے پالیسی ایشوز ہیں جن پر آپ ملک کی موجودہ پالیسی سے الگ متبادل رکھتے ہیں تو آپ کو سخت مایوسی ہو گی، انکے انتخابات کی میں نے تقریریں سنیں، حیرت ہے کہ انتخاب میں حصّہ لینے کی ہمت کیسے ہوتی ہے بغیر کسی انتخابی منشور کے، مثلا اگر آپ ترکی کی اے کے پارٹی کا منشور اور عمل دیکھیں تو انہوںنے دعوا کیا کہ وہ صحت کا نظام بدلنا چاہتے ہیں، وہ تعلیم میں حکومت کا بجٹ بڑھانا چاہتے ہیں، سوشل ویلفیئر میں وہ بوڑھے بچوں اور خواتین کے لئے عملی اسکیمیں لائیں گے، آپ ترکی جائیں اور کسی اردوغان مخالف سے پوچھیں سے کیا اردوغان نے صحت کے میدان میں کوئی اچھا کام کیا ہے؟ کیا تعلیمی ادارے بڑی تعداد میں کھولے ہیں؟ کیا پنشن اسکیم بڑھائی ہیں؟ آپ کو جواب مل جائے گا،
٢. ایک کنفیوژن کی حالت قائم ہے، بہت واضح ہے کہ پارٹی قیادت خود کو جماعت اسلامی سے الگ وجود ہونے کو ثابت کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتی، اگر پارٹی اور جماعت اسلامی میں اس قدر قریب تعلق بنانا کسی مصلحت کا حصّہ ہے تو زیادہ بہتر ہے کہ پڑتی کو باقاعدہ جماعت اسلامی کا شعبہ قرار دے لیں، کم از کم جماعت اسلامی کے متعدد شعبے جیسے مرکزی مکتبہ، مسجد، اسپتال وغیرہ جماعت کی راست نگرانی میں ویلفیئر پارٹی سے زیادہ بہتر طریقے سے چل رہے ہیں، یا پھر جماعت اسلامی کو پارٹی میں ضم کر لینا مناسب ہوگا، جماعت اسلامی اور پارٹی کے درمیان جس قسم کی تعلق باقی رکھا گیا ہے اسے سیاسی خود کشی کے علاوہ کسی اور بہتر لفظ سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، عجیب صورتحال ہے، دنیا کے کس ملک میں کس معقول تحریک میں ایسا ہوتا ہوگا کہ ایک شخص صبح بیدار ہونے کے بعد بحثیت جماعت اسلامی کے ذمہ دار کے ایک نشست میں حصّہ لے، دوپہر میں ویلفیئر پارٹی میں میٹنگ کرے، شام کو مسلم پرسنل لا کی طرف سے ٹی وی پر بحث کرے، رات میں کسی اور گروپ کے ساتھ ڈنر کرے، ایک دن میں آپ آپ اتنے سارے کام اور اتنے سارے کردار ادا نہیں کر سکتے، یہ تخصص کا دور ہے، افراد کے لئے بھی اور تنظیموں کے لئے بھی، ہر تنظیم ہر کام نہیں کر سکتی اور کرنا بھی نہیں چاہئے، ویلفیئر پارٹی ایک سیاسی پارٹی ہے اور اگر وہ جماعت اسلامی والے ہی کام کرنے پر بضد ہے تو زیادہ بہتر ہے کہ خود کو جماعت میں ضم کرکے کرے،
٣. آپ پارٹی کے لئے کارکنان اور لیڈر کہاں سے لائیں گے؟ سیاسی پارٹی کی پہلی ضرورت ہے کہ آپ کے پاس ایک لوکل نیٹ ورک ہو، کم سے کم ان ریاستوں اور علاقوں میں ضرور ہو جہاں پر انتخابی میدان میں حصّہ لینے والے ہیں، میں جماعت کی طلبہ تنظیم کی شوریٰ میں تھا، جماعت اسلامی کے امیر کا طلبہ تنظیم کے ذمہ دار کو تحریری فرمان آیا کہ وہ اپنے ممبران کو ویلفیئر پارٹی میں شامل ہونے کی اجازت دیں، میں نے بحثیت شوریٰ ممبر اس فرمان پر دو اعتراض کیے، پہلا یہ کہ طلبہ تنظیم میں بیک وقت دو تنظیموں میں ممبر ہونے پر دستوری ممانعت ہے، اور اس ممانعت کو صرف ویلفیئر پارٹی کے لئے کھولنا بیحد غیر حکیمانہ عمل ہے، طلبہ تنظیم کے طلبہ یا تو کسی بھی سیاسی گروپ کا حصہ نہ بنیں یا اجازت سبھی پارٹیوں کے لئے عام ہو، خیر اعتراض کے حق میں کئی ممبران جمع ہو گئے، اور تنظیم کے صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس تحریری فرمان کے جواب میں ممبران شوریٰ کے اعتراضات بھیج دیں، لیکن طلبہ تنظیم کے صدر یا تو بیحد بزدل تھے یا وہ جماعت اسلامی کے پریشر میں تھے انہوں نے ایسا کرنے سے منع کر دیا، امیر جماعت نے ایک نمائندہ ممبران شوریٰ کو زبردستی اس فیصلے کی تائید کے لئے مجبور کرنے کے لئے بھیجا، میں نے اور اور کچھ اور ممبران شوری نے اس نشست کا باقاعدہ بائیکاٹ کیا اور اپنی وجوہات سے صدر تنظیم کو مطلع کر دیا، میں نے اس فیصلے کے خلاف خود کو طلبہ تنظیم کی سرگرمیوں سے عملا محدود کرلیا، اور پھر جماعت اسلامی نے طلبہ تنظیم کو اپنے اشاروں پر چلنے والے روبوٹ کی طرح استعمال کرنا شروع کر دیا، یہ وہی امیر جماعت تھے جنہونے اخبارات میں بڑی سرخیوں والا یہ بیان شایع کیا کہ ویلفیئر پارٹی جماعت اسلامی کی پارٹی ہے اور وہ جیسا چاہیں گے ویسا ہوگا، اس بیان کے بعد میں نے پارٹی کے صدر سے کہا کہ یہ بیان پارٹی کے قتل کے مترادف ہے آپ اس پر اپنی صفائی ضرور شایع کریں، لیکن بڑی حیرت اور مایوسی ہوئی کہ پارٹی صدر کو اس قدر نقصان دہ بیان پر کسی بھی قسم کی صفائی دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی،
اس تفصیلی پس منظر کی ضرورت اس لئے پیش ہوئی کہ آپ یہ سمجھ سکیں کہ اس پارٹی میں کاڈر اور ذمہ داران کہاں سے آئین گے، پارٹی کو جماعت اسلامی کا پرائیویٹ لمیٹڈ بنانے میں اس فیصلے کا بہت بڑا کردار ہے، آج آپ دیکھیں مرکز سے لوکل مقام تک پارٹی چلانے کے لئے جماعت اسلامی اور ایس آئ او کے افراد پہلی پسند کیوں ہیں صاف نظر آئیگا، ویلفیئر پارٹی کا موجودہ بحران پارٹی کے اندر نہیں بلکہ جماعت اسلامی ہند کی غیر حکیمانہ مداخلت اور اپنی ذیلی تنظیموں کو خادموں کی طرح رکھنے کی غیر اسلامی خواہش ہے، سارے امیر جماعت اس مداخلت کو پسند نہیں کرتے لیکن کوئی بھی امیر جماعت اس غیر معقول مداخلت کے دروازے کو بند نہیں کرنا چاہتا،
جمہوریت میں ایک کامیاب سیاسی پارٹی کی دو سب سے بڑی شرطیں ہیں، پہلی یہ کہ پارٹی کے پاس ایک ایسا حسین خواب ہو جسکو وہ سچ کر دکھانے کا لوگوں کو یقین دلا سکے اور دوسرا اس پارٹی میں معمولی سے معمولی کارکن کے لئے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے سارے دروازے کھلے ہوں، صحتمند مقابلہ اور خود کو ثابت کر دکھانے کا موقع ہر کارکن کے پاس ہو، صرف اس لئے کہ کوئی جماعت اسلامی کا وفادار ہے یا ایس آئی او کا وفادار ہے اس بنیاد پر سیاسی پارٹی کے مناصب بانٹنا جمہوری سیاست میں کام کرنے والی پارٹی کے لئے بیحد نقصان دہ ہیں، جس پارٹی کا آغاز ہوتے ہی اسے عوام کے درمیان نیے چہروں اور نئی صلاحیتوں کو امید کے راستے دکھانے تھے اس نے اپنے تحریکی اور جماعتی وفاداری کا ثبوت مانگنا شروع کر دیا،
٤. جمہوریت کی سیاسی پارٹیاں اپنی مقبولیت کا ٹیسٹ ملنے والے ووٹ سے کرتی ہیں، اپنی پروگراموں کی بھیڑ سے کرتی ہیں، اپنے حق میں میڈیا میں چھپنے والے مضامین اور بیانات سے کرتی ہیں، اپنے ذریعے اٹھایے گئے مطالبوں اور موقفوں پر عوامی حمایت کے اظہار سے کرتی ہیں، ویلفیئر پارٹی اپنی مقبولیت کا اندازہ کس معیار سے کرتی ہے اس کا علم صرف انکی قیادت کو ہی ہے، لیکن انکے کاموں اور کم کرنے کے طریقوں سے چند حقائق بہت واضح ہیں، ویلفیئر پارٹی کی قیادت اور افراد عوامی شہرت کو غیر ضروری سمجھتی ہے اور مشھور ہونے کے لئے کسی بھی کوشش کو غیر ضروری سمجھتی ہے، پارٹی کی قیادت پارٹی کے موقف کو اور اسکے نظریات کو عوام کو سمجھ میں آ جانے والے اور میڈیا کو متاثر کر دینے والے انداز میں پیش کرنے کو بھی غیر ضروری سمجھتی ہے، ان میں اور اٹھارویں صدی کے ان اسلامی مفکرین میں کوئی فرق نہیں ہے جو یوروپ کی انڈسٹریل اور ٹکنالوجی کی طاقت کا مقابلہ وظیفوں اور اوراد سے کرنا کافی سمجھتے تھے، کئی بار تو آپ کو لگے گا کہ یہ لوگ سیاسی پارٹی نہیں کوئی خانقاہ چلانے آیے ہیں، حالانکہ خانقاہ سے نکلنے والے مولانا اجمل ان سے بدرجہا بہتر سیاسی واقعیت پسندی کے ساتھ میدان عمل میں ہیں، یہ رویہ غالبا اس لئے ہے کیونکہ جماعت اسلامی اور اسکے افراد اس پارٹی کو ویسا ہی دیکھنا چاہتے ہیں جیسے وہ خود ہیں، انھیں یہ سمجھانے والا کوئی نہیں ہے کہ سیاسی عمل اور دعوتی اور تربیتی عمل ایک سیکولر اور جمہوری معاشرے میں الگ الگ ہی رہ سکتے ہیں،
٥. غالبا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ویلفیئر پارٹی ایک خوفزدہ نفسیات کے ساتھ پیدا ہوئی ہے، انکے افراد کے بیانات اور تقریریں سنئے آپکو لگےگا کہ وہ صرف مسلمانوں کا اور مسلمانوں میں بھی محض جماعت اسلامی والوں کو خوش کرنے اور انکی فکری چاپلوسی کے لئے پیدا ہوئے ہیں، انہیں یہ قطعی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ سیاسی پارٹی دستور ہند کی اس دفعہ کے تحت قائم ہوتی ہے جس میں آپ اس ملک کے سبھی عوام اور انکے سبھی مسائل کو حل کرنے اور ان پر واضح موقف رکھنے کے لیے ہوتی ہے، آپ دیکھیں گے کہ ویلفیئر پارٹی کس طرح کے مسائل پر فورا رد عمل کرتی ہے اور کون سے مسائل پر خاموش رہتی ہے، آپ دیگر پارٹیوں سے انکا موازنہ کریں تو واضح ہو جائیگا کہ انکے موقف لینے میں دو رکاوٹیں ہیں، یا تو اس موقف میں مسلمانوں کا کوئی بڑا انٹرسٹ شامل نہیں ہے، یا پھر اس معاملے میں موقف لینے کے لئے انکے پاس ضروری صلاحیت نہیں ہیں، اور یہ دونوں رکاوٹیں بھی انکی ترقی کے لئے نقصاندہ ہیں،
میں دوبارہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ انتخابی سیاست میں اگر ویلفیئر پارٹی پچاس سال تک ایک بھی سیٹ حاصل نہ کرے تب بھی کوئی افسوس کی ضرورت نہیں ہے لیکن اگر یہ پارٹی ایک سال بھی بغیر واضح فکر کے، بغیر ایجنڈا کے، بغیر کسی خواب کے رہتی ہے تو اس کے باقی رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اگر پارٹی کی فکر کا امتیاز کوئی محسوس نہیں کرتا، اسکے موقف کے طاقتور ہونے کو کوئی محسوس نہیں کرتا ، انکے مطالبوں سے کوئی ڈر کر اپنے پارٹی کے وعدے نہیں بدلتا تو پھر ایسی پارٹی کو اپنے کاموں پر نظر ثانی کی ضرورت ہوگی، اگر آپ کی باتوں سے ایک ایک نیے ہندوستان کا خواب سچا ہوتا نہیں لگتا، لوگ آپ کے دکھاے مستقبل میں اپنا مستقبل محفوظ اور مامون محفوظ محسوس نہیں کرتے تو آپ کو اپنے سیاسی مذاکرے میں نظر ثانی کی ضرورت ہوگی !
میں یہ باتیں عوامی سطح پر اس لیے شیر کر رہا ہوں کہ یہ باتیں میں پرائیویٹ مجلسوں میں بھی خوب شیر کر چکا ہوں، اور مجھے جماعتی نظم کی بے حسی پر پورا یقین ہے کہ وہ کبھی ان مسائل کو اپنے درمیان زیر بحث لانا ضروری نہیں سمجھے گی، لیکن اگر آپ کو مصر میں اخوان کی سیاسی پارٹی کی ناکامی اور اخوان کی اپنی سیاسی پارٹی کو ریموٹ کنٹرول کرنے کی حماقت کی بحث کا علم ہو جائے تو شاید آپ دوسروں کو انہیں غلطیوں کو نہ دہرانے کے لئے متوجہ کر سکتے ہیں، اخوان کے مخلص ناقدین میں علا البیومی کے پرانے پوسٹس کو ضرور مطالعہ کریں، اخوانی نوجوانوں کا اپنی قیادت سے سخت اختلافات کا اندازہ شائد ہندوستانی پاکستانی تحریکوں کو نہیں ہے لیکن اگر انہیں دوسروں کی کمزوری اور ناکامی سے سیکھنے کی ضرورت ہے تو إن في ذلك لَعِبْرَةً لِّأُولِي الألباب!
عمیر انس
Comments
Post a Comment