اقامت دین کےلیے مزاحمت ناگزیر ہے

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اقامت دین کےلیے مزاحمت ناگزیر ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – اقامت دین – صفحہ 574

سورہ انعام آیت 112

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا يَفْتَرُوْنَ۰۰۱۱۲

اور ہم نے تو اسی طرح ہمیشہ شیطان انسانون اور شیطان جِنوں کو ہر نبی کا دُشمن بنایا ہے جو ایک دُوسرے پر خوش آیند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القا کرتے رہے ہیں۔ اگر تمہارے رب کی مشیَّت یہ ہوتی کہ وہ ایسا نہ کریں تو وہ کبھی نہ کرتے۔

يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا

جو ایک دُوسرے پر خوش آیند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القا کرتے رہے ہیں

یعنی آج اگر شیاطینِ جِن و انس متفق ہو کر تمہارے مقابلہ میں ایڑی چوڑی  کا زور لگارہے ہیں تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جو تمہارے ہی ساتھ پیش آرہی ہو۔ ہر زمانہ میں ایسا ہی ہوتاآیا ہے کہ جب کوئی پیغمبر دُنیا کو راہِ راست دکھانے کے لیے اُٹھا تو تمام شیطانی قوتیں اس کے مِشن کا ناکام  کرنے کے لیے کمر بستہ ہو گئیں۔

 

”خوش آیند باتوں“ سے مراد وہ تمام چالیں اور تدبیریں اور شکوک و شبہات و اعتراضات ہیں جن سے یہ لوگ عوام کو داعیِ حق اور اس کی دعوت کے خلاف بھڑکانے اور اکسانے کا کام لیتے ہیں۔ پھر ان سب کو بحیثیت مجموعی دھوکے اور فریب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ حق سے لڑنے کے لیے جو ہتھیار بھی مخالفین حق استعمال کرتے ہیں وہ نہ صرف دُوسروں کے لیے بلکہ خود ان کے لیے بھی حقیقت کے اعتبار سے محض ایک دھوکا ہوتے ہیں اگرچہ بظاہر وہ ان کو نہایت مفید اور کامیاب ہتھیار نظر آتے ہیں۔

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں