اہل ایمان پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ذمہ داری بحیثیت خیر امت
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
اہل ایمان پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر
کی ذمہ داری بحیثیت خیر امت
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– اقامت دین – صفحہ279
سورہ آل عمران
آیت 110
كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ
اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ
الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ
اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت
و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو
اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ
اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ
اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت
و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے
یہ وہی مضمون جو سورہ ٴ بقرہ
کے سترھویں رکوع میں بیان ہو چکا ہے ۔ نبی ِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے
متبعین کو بتایا جا رہا ہے کہ دُنیا کی امامت و رہنمائی کے جس منصب سے بنی اسرائیل
اپنی نا اہلی کے باعث معزول کیے جا چکے ہیں اس پر اب تم مامور کیے گئے ہو۔ اس لیے
کے اخلاق و اعمال کے لحاظ سے اب تم دنیا میں سب سے بہتر انسانی گروہ بن گئے ہو اور
تم میں وہ صفات پیدا ہو گئی ہیں جو امامتِ عادلہ کے لیے ضروری ہیں ، یعنی نیکی کو
قائم کرنے اور بدی کو مٹانے کا جذبہ و
عمل اور اللہ وحدہ لاشریک کو اعتقاداً و
عملاً اپنا الٰہ اور ربّ تسلیم کرنا۔ لہٰذا اب یہ کام تمہارے سپرد کیا گیا ہے اور
تمہیں لازم ہے کہ اپنی ذمّہ داریوں کو سمجھو اور اُن غلطیوں سے بچو جو تمہارے پیش
رو کر چکے ہیں۔
یہ اُمّتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی
امامت کا اعلان ہے۔ ”اسی طرح“ کا اشارہ دونوں طرف ہے: اللہ کی اُس رہنمائی کی طرف
بھی، جس سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی قبول کرنے والوں کو سیدھی راہ معلوم
ہوئی اور وہ ترقی کرتے کرتے اِس مرتبے پر پہنچے کہ ” اُمّتِ وَسَط“ قرار دیے گئے ،
اور تحویلِ قبلہ کی طرف بھی کہ نادان اسے محض ایک سَمْت سے دُوسری سَمْت کی طرف
پھرنا سمجھ رہے ہیں، حالانکہ دراصل بیت المقدس سے کعبے کی طرف سَمْت قبلہ کا پھرنا
یہ معنی رکھتا ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو دُنیا کی پیشوائی کے منصب سے باضابطہ معزُول کیا اور اُمّتِ محمدیہ کو اس
پر فائز کر دیا۔
”اُمتِ وَسَط“کا
لفظ اس قدر وسیع معنویت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کسی دُوسرے لفظ سے اس کے ترجمے کا
حق ادا نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے مراد ایک ایسا اعلیٰ اور اشرف گروہ ہے، جو عدل و
انصاف اور توسّط کی روش پر قائم ہو، جو دنیا کی قوموں کے درمیان صدر کی حیثیت
رکھتا ہو، جس کا تعلق سب کے ساتھ یکساں حق اور راستی کا تعلق ہواور ناحق، ناروا
تعلق کسی سے نہ ہو۔
پھر یہ جو فرمایا کہ تمہیں”اُمّتِ
وَسَط“ اس لیے بنایا گیا ہے کہ”تم لوگوں
پر گواہ ہو اور رسُول تم پر گواہ
ہو“ تو اس سے مراد یہ ہے کہ آخرت میں جب پوری
نوعِ انسانی کا اکٹھا حساب لیا جائے گا ، اُس وقت رسُول ہمارے ذمّہ دار
نمائندے کی حیثیت سے تم پر گواہی دے گا کہ فکرِ صحیح اور عملِ صالح اور نظامِ عدل
کی جو تعلیم ہم نے اُسے دی تھی ، وہ اس نے تم کو بے کم و کاست پوری کی پوری پہنچا
دی اور عملاً اس کے مطابق کام کر کے دکھا دیا۔ اس کے بعد رسُول کے قائم مقام ہونے
کی حیثیت سے تم کو عام انسانوں پر گواہ کی حیثیت سے اُٹھنا ہوگا اور یہ شہادت دینی ہوگی کہ رسُول نے جو کچھ تمہیں
پہنچایا تھا، وہ تم نے انہیں پہنچانے میں ، اور جو کچھ رسُول نے تمہیں دکھایا تھا
وہ تم نے انہیں دکھانے میں اپنی حد تک کوئی کوتاہی نہیں کی۔
اس طرح کسی شخص یا گروہ کا اس دُنیا میں
خدا کی طرف سے گواہی کے منصب پر مامور ہونا ہی درحقیقت اس کا امامت اور پیشوائی کے
مقام پر سرفراز کیا جانا ہے۔ اس میں جہاں
فضیلت اور سرفرازی ہے وہیں ذمّہ داری کا بہت بڑا بار بھی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ
جس طرح رسُول صلی اللہ علیہ وسلم اس اُمّت کے لیے خدا ترسی ، راست روی، عدالت اور
حق پرستی کی زندہ شہادت بنے، اسی طرح اِس
اُمّت کو بھی تمام دُنیا کے لیے زندہ شہادت بننا چاہیے، حتّٰی کہ اس کے قول اور
عمل اور برتا ؤ ، ہر چیز کو دیکھ کر دُنیا کو معلوم ہو کہ خدا ترسی اس کا نام ہے،
راست روی یہ ہے، عدالت اس کو کہتے ہیں اور حق پرستی ایسی ہوتی ہے۔ پھر اس کے معنی یہ
بھی ہیں کہ جس طرح خدا کی ہدایت ہم تک پہنچانے کے لیے رسُول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی ذمّہ داری بڑی سخت تھی، حتّٰی کہ اگر وہ اِس میں ذرا سی کوتاہی بھی کرتے
تو خدا کے ہاں ماخوذ ہوتے، اُسی طرح دُنیا کے عام انسانوں تک اس ہدایت کو پہنچانے
کی نہایت سخت ذمّہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم خدا کی عدالت میں واقعی اس بات
کی شہادت نہ دے سکے کہ ہم نے تیری ہدایت ،
جو تیرے رسُول کے ذریعے سے ہمیں پہنچی تھی ، تیرے بندوں تک پہنچا دینے میں کوئی
کوتاہی نہیں کی ہے، تو ہم بہت بُری طرح پکڑے جائیں گے اور یہی امامت کا فخر ہمیں
وہاں لے ڈوبے گا۔ ہماری امامت کے دَور میں ہماری واقعی کوتاہیوں کے سبب سے خیال
اور عمل کی جتنی گمراہیاں دُنیا میں پھیلی
ہیں اور جتنے فساد اور فتنے خدا کی زمین میں برپا ہوئے ہیں، اُن سب کے لیے ائمہء شر اور شیاطینِ انس و جِنّ کے ساتھ ساتھ
ہم بھی ماخوذ ہوں گے۔ ہم سے پوچھا جائے گا
کہ جب دُنیا میں معصیت ، ظلم اور گمراہی
کا یہ طوفان برپا تھا، تو تم کہاں مر گئے تھے۔
اہل ایمان پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر
کی ذمہ داری بحیثیت خیر امت
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– اقامت دین – صفحہ 496
سورہ مائدہ آیات 78، 79
لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا
مِنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ١ؕ
ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا يَعْتَدُوْنَ۰۰۷۸كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ
عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ۰۰۷۹
بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی
راہ اختیار کی اُن پر داوٴد ؑ اور عیسٰی ؑ ابنِ مریم ؑ کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ
وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے، انہوں نے ایک دُوسرے کو بُرے افعال
کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا، بُرا
طرز عمل تھا جو اُنہوں نے اختیار کیا۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر موجب
فلاح ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– اقامت دین – صفحہ 278
سورہ آل عمران آیت 104
وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ
اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ
يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۰۰۱۰۴
تم میں کچھ لوگ ایسے ضرو رہی رہنے چاہییں
جو نیکی کی طرف بلائیں ، بھلائی کا حکم دیں، اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ
کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے۔
اقامت دین سے متعلق
ایک غلط فہمی کا ازالہ
فہرست موضوعات –
تفہیم القرآن جلد اول – اقامت دین – صفحہ 510
سورہ مائدہ آیت 105
يٰۤاَيُّهَا
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ
اِذَا اهْتَدَيْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ
بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۰۰۱۰۵
اے لوگو جو ایمان
لائے ہو، اپنی فکر کرو، کسی دُوسرے کی گمراہی سے تمہارا کُچھ نہیں بگڑتا اگر تم
خود راہِ راست پر ہو، اللہ کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں بتادے گا
کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔
يٰۤاَيُّهَا
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ
اِذَا اهْتَدَيْتُمْ
اے لوگو جو
ایمان لائے ہو، اپنی فکر کرو، کسی دُوسرے کی گمراہی سے تمہارا کُچھ نہیں بگڑتا اگر
تم خود راہِ راست پر ہو
یعنی بجائے اس کے کہ آدمی ہر وقت یہ دیکھتا رہے کہ فلاں کیا
کر رہا ہے اور فلاں کے عقیدے میں کیا خرابی
ہے اور فلاں کے اعمال میں کیا بُرائی ہے ، اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ خود کیا کر رہا ہے ۔ اسے فکر اپنے خیالات کی، اپنے
اخلاق اور اعمال کی ہونی چاہیے کہ وہ کہیں خراب نہ ہوں۔ اگر آدمی خود اللہ کی
اطاعت کر رہا ہے، خدا اور بندوں کے جو حقوق اس پر عائد ہوتے ہیں انہیں ادا کر رہا
ہے ، اور راست روی و راست بازی کی مقتضیا
ت پُورے کر رہا ہے، جن میں لازماً امر بالمعروف و نہی عن المنکر بھی شامل ہے، تو یقیناً کسی شخص کی گمراہی و کج روی اس
کے لیے نقصان دہ نہیں ہوسکتی۔
اِس آیت کا یہ منشاء
ہر گز نہیں ہے کہ آدمی بس اپنی نجات کی فکر کرے، دُوسروں کی اصلاح کی فکر نہ کرے۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس غلط فہمی کی تردید کرتے ہوئے اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں:
”لوگو! تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کی غلط تاویل کرتے ہو ۔ میں نے رسُول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ جب لوگوں کا حال یہ ہوجائے کہ وہ
بُرائی کو دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں، ظالم کو ظلم کرتے ہوئے پائیں اور
اس کا ہاتھ نہ پکڑیں ، تو بعید نہیں کہ
اللہ اپنے عذاب میں سب کو لپیٹ لے۔ خدا کی قسم تم کو لازم ہے کہ بھلائی کا حکم دو
اور بُرائی سے روکو، ورنہ اللہ تم پر ایسے لوگوں کو مسلّط کر دے گا جو تم میں سب سے بدتر
ہوں گے اور وہ تم کو سخت تکلیفیں پہنچائیں
گے، پھر تمہارے نیک لوگ خدا سے دُعائیں مانگیں گے مگر وہ قبول نہ ہوں گی۔
Comments
Post a Comment