اللہ تعالٰی اپنے احکام نہایت وضاحت سے بیان کرتا ہے تاکہ انسان یوں ہی نہ بھٹکتا رہے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
اللہ تعالٰی اپنے احکام نہایت وضاحت
سے بیان کرتا ہے تاکہ انسان یوں ہی نہ بھٹکتا رہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– احکام القرآن – صفحہ 432 سورہ نساء آیت 176
يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ
اَنْ تَضِلُّوْا
اللہ تمہارے لیے احکام کی توضیح کرتا
ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو
اللہ تعالٰی نے اپنے احکام نہایت وضاحت سے بیان کردئے ہیں
،بہترین رویہ جواز کی آخری حدود سے دور رہنا ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– احکام القرآن – صفحہ 147 سورہ بقرہ آیت 187
تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ
فَلَا تَقْرَبُوْهَا
یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں، ان
کے قریب نہ پھٹکنا
یہ نہیں فرمایا کہ ان حدوں سے تجاوز
نہ کرنا، بلکہ یہ فرمایا کہ ان کے قریب نہ پھٹکنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس مقام سے
معصیت کی حد شروع ہوتی ہے، عین اسی مقام کے آخری کناروں پر گھومتے رہنا آدمی کے لیے خطرناک ہے۔ سلامتی اس میں ہے
کہ آدمی سرحد سے دُور ہی رہے تاکہ بھُولے سے بھی قدم اس کے پار نہ چلا جائے۔ یہی
مضمون اُس حدیث میں بیان ہوا ہے ، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
لِکل ملکٍ حِمیٰ و ان حمی اللہ محار مہ، فمن رتع حول الحمی، یوشک ان یقع فیہ۔ عربی زبان میں حِمیٰ اُس چراگاہ کو کہتے ہیں،
جسے کوئی رئیس یا بادشاہ پبلک کے لیے ممنوع کر دیتا ہے۔ اس استعارے کو استعمال کرتے ہوئے حضور ؐ فرماتے ہیں کہ”ہر بادشاہ کی ایک حِمیٰ ہوتی ہے اور اللہ کی حِمیٰ اُس کی وہ حدیں ہیں، جن سے اس نے حرام و حلال
اور طاعت و معصیت کا فرق قائم کیا ہے۔ جو جانور حِمیٰ کے گِرد ہی چرتا رہے گا، ہو سکتا ہے کہ ایک روز
وہ حِمیٰ کے اندر داخل ہو جائے۔“ افسوس
ہے کہ بہت سے لوگ جو شریعت کی رُوح سے
ناواقف ہیں ، ہمیشہ اجازت کی آخری حدوں تک ہی جانے پر اصرار کرتے ہیں اور بہت سے
علما و مشائخ بھی اسی غرض کے لیے سندیں ڈھونڈ کر جواز کی آخری حدیں انھیں بتایا
کرتے ہیں، تاکہ وہ اُس باریک خطِ امتیاز ہی پر گھُومتے رہیں، جہاں اطاعت اور معصیت
کے درمیان محض بال برابر فاصلہ رہ جاتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ بکثرت لوگ معصیت
اور معصیت سے بھی بڑھ کر ضلالت میں مبتلا ہو رہے ہیں، کیونکہ ان باریک سرحدی خطوط
کی تمیز اور ان کے کنارے پہنچ کر اپنے آپ کو قابو میں رکھنا ہر ایک کے بس کا کام
نہیں ہے۔
شرعی رعایتیں
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– احکام القرآن – صفحہ 154
سورہ بقرہ آیت 196
وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ
الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ١ۚ وَ
لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ
مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ
اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ
بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ
يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ
تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِي
الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ
شَدِيْدُ الْعِقَابِؒ۰۰۱۹
اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج اور عمرے کی نیت کر و، تو اسے پورا کرو، اور اگر کہیں گر جاؤ تو جو قربانی میسر آئے،
اللہ کی جناب میں پیش کرو، اور اپنےسر نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ
جائے۔مگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اس بناء پر اپنا سر
منڈوالے، تو اسے چاہیے کہ فدیہ کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔ پھر
اگر تمہیں امن نصیب ہو جا ئے (اور تم حج سے پہلے مکہ پہنچ جاؤ )، تو جو شخص تم میں سے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھائے ، وہ حسب مقدور قربانی
دے، اور اگر قربانی میسر نہ ہو ، تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر ، اس طرح پورے دس روزے رکھ
لے۔ یہ رعایت ان لوگو ں کے لیے ہے ، جن کے گھر بار مسجد حرام کے قریب نہ ہوں ۔اور
اللہ کے ان احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا
ہے۔
مسافر اور بیمار کے لیے رعایتں
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– احکام القرآن – صفحہ 354، 355
اللہ تعالٰی کی مقرر حدود سے تجاوز
کرنے والے ظالق ہیں
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– احکام القرآن – صفحہ 175
سورہ بقرہ آیت 229
وَ مَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ
اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۰۰۲۲۹
اور جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوز کریں،
وہی ظالم ہیں۔
احکام خداوندی میں حسن اخلاق کی ترغیب
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– احکام القرآن –صفحہ 168
سورہ بقرہ آیت 220
فِي
الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْيَتٰمٰى ١ؕ قُلْ
اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ
يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ
اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۰۰۲۲۰
پوچھتے ہیں: یتیموں
کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ کہو : جس طرز عمل میں ان کے لیے بھلائی ہو ، وہی اختیار
کرنا بہتر ہے۔ اگر تم اپنا اور ان کا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو، تو اس میں کوئی
مضائقہ نہیں۔ آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی
تو ہیں ۔ برائی کرنے والے اور بھلائی کرنے
والے، دونوں کا حال اللہ پر روشن ہے۔اللہ چاہتا تو اس معاملہ میں تم پر سختی کرتا
مگر وہ صاحب اختیار ہونے کے ساتھ صاحب حکمت بھی ہے۔
قُلْ
اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ
کہو :
جس طرز عمل میں ان کے لیے بھلائی ہو ، وہی اختیار کرنا بہتر ہے
اس آیت کے نزول سے
پہلے قرآن میں یتیموں کے حقوق کے حفاظت کے متعلق بار بار سخت احکام آچکے تھے اور یہاں
تک فرما دیا گیا تھا کہ ”یتیم کے مال کے پاس نہ پھٹکو“۔ اور یہ کہ ” جو لوگ یتیموں
کا مال ظلم کے ساتھ کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں۔“ ان شدید احکام کی
بنا پر وہ لوگ، جن کی تربیت میں یتیم بچے تھے، اس قدر خوف زدہ ہوگئے تھے کہ انہوں
نے ان کا کھانا پینا تک اپنے سے الگ کر دیا تھا اور اس احتیاط پر بھی انہیں ڈر تھا
کہ کہیں یتیموں کے مال کا کوئی حصّہ ان کے مال میں نہ مِل جائے۔ اسی لیے انہوں نے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ان بچوں کے ساتھ ہمارے معاملے کی صحیح
صُورت کیا ہے۔
Comments
Post a Comment