احکام خداوندی پر عمل ہی فلاح کا راستہ ہے

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱

احکام خداوندی پر عمل ہی فلاح کا راستہ ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – احکام القرآن – صفحہ 125 سورہ بقرہ آیات 150،  151

وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِيْ عَلَيْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ۰۰۱۵۰كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَ يُزَكِّيْكُمْ وَ يُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ۰۰۱۵۱

اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری  کردوں اور اس توقع پر کہ میرے اس حکم کی پیروی سے تم اسی طرح فلاح کا راستہ پاوٴ گے  جس طرح (تمہیں اس چیز سے فلاح نصیب ہوئی کہ )میں نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا ، جو تمہیں میری آیات سناتا ہے ، تمہارے زندگیوں کو سنوارتا ہے، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ، اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے ، جو تم نہ جانتے تھے۔

وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِيْ عَلَيْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ

اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری  کردوں

نعمت سے مُراد وہی امامت اور پیشوائی کی نعمت ہے، جو بنی اسرائیل سے سَلْب کر کے اس اُمت کو دی گئی تھی۔ دُنیا میں ایک اُمّت کی راست روی کا یہ انتہائی ثمرہ ہے کہ وہ اللہ کے اَمِرتَشْرِیْعِی سے اقوامِ عالم کی رہنما و پیشوا بنائی جائے اور نَوعِ انسانی کو خدا پرستی اور نیکی کے راستے پر چلانے کی خدمت اس کے سپرد کی جائے۔ یہ منصب جس اُمت کو دیا گیا ، حقیقت میں اُس پر اللہ کے فضل و انعام کی تکمیل ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرما رہا ہے کہ تحویلِ قبلہ کا یہ حکم دراصل اس منصب پر تمہاری سرفرازی کا نشان ہے، لہٰذا تمہیں اس لیے بھی ہمارے اس حکم کی پیروی کرنی چاہیے کہ ناشکری و نافرمانی کرنے سے کہیں یہ منصب تم سے چھین  نہ لیا جائے۔ اس کی پیروی کر و گے، تو یہ نعمت تم پر مکمل کر دی جائے گی۔

اور اس توقع پر کہ

یعنی اس حکم کی پیروی کرتے ہوئے یہ اُمید رکھو۔  یہ شاہانہ اندازِ بیان ہے۔ بادشاہ کا اپنی شان ِ بے نیازی کے ساتھ کسی نوکر سے یہ کہہ دینا  کہ ہماری طرف سے فلاں عنایت و مہربانی کے اُمیدوار رہو، اس بات کے لیے بالکل کافی ہوتا ہے کہ وہ ملازم اپنے گھر شادیانے بجوادے اور اسے مبارکبادیاں دی جانے لگیں۔

اہل ایمان کو حکم خداوندی پر کیوں عمل کرنا چاہیے۔

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – احکام القرآن – صفحہ 124  سورہ بقرہ آیت 150

وَ حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ

اور جہاں سے بھی تمہارا گزر ہو ، اپنا رُخ مسجدِ حرام ہی کی طرف پھیراکرو ، اور جہاں بھی تم ہو، اُسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجّت نہ ملے ۔

یعنی ہمارے اس حکم کی پُوری پابندی کرو۔ کبھی ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی شخص مقررہ سَمْت کے سوا کسی دُوسری سَمْت کی طرف نماز پڑھتے دیکھا جائے۔ ورنہ تمہارے دُشمنوں کو تم پر یہ اعتراض کرنے کا موقع مل جائے گا کہ کیا خوب اُمّتِ وَسَط ہے، کیسے اچھے حق پرستی کے گواہ بنے ہیں، جو یہ بھی کہتے  جاتے ہیں کہ یہ حکم ہمارے ربّ کی طرف سے آیا ہے اور پھر اس کی خلاف ورزی بھی کیے جاتے ہیں۔

احکام خداوندی پر عمل نہ کرنے والوں کی مثال

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – احکام القرآن – صفحہ 133،  134

سورہ بقرہ آیت 170

وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَيْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَيْـًٔا وَّ لَا يَهْتَدُوْنَ۰۰۱۷۰

ان سے  جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل کیےہیں ان کی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اسی طریقے کی پیروی کریں گےجس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔  اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہ راست نہ پائی ہو تو کیا پھر بھی یہ انہیں  کی پیروی کیے چلے جائیں گے؟

ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے

یعنی ان پابندیوں کے لیے ان کے پاس کوئی سَنَد اور کوئی حجّت اس کے سوا نہیں ہے کہ باپ دادا سے یُوں ہی ہوتا چلا آیا ہے۔ نادان سمجھتے ہیں کہ کسی طریقے کی پیروی کے لیے یہ حجّت بالکل کافی ہے۔

احکام خداوندی پر عمل نہ کرنے والے خیانت کرتے ہیں

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – احکام القرآن – صفحہ 145 سورہ بقرہ آیت 187

عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ فَالْـٰٔنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ

اللہ کو معلوم ہوگیا کہ تم لوگ چُپکے چُپکے اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے ، مگر اُس نے تمہارا قصُور معاف کر دیا اور تم سے درگزر فرمایا۔ اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ شب باشی کرو اور جو لُطف اللہ نے تمہارے لیے جائز کردیا ہے ، اُسے حاصل کرو۔

ابتدا میں اگرچہ اس قسم کا کوئی صاف حکم موجود نہ تھا کہ رمضان کی راتوں میں کوئی شخص اپنی بیوی سے مباشرت نہ کرے، لیکن لوگ اپنی جگہ یہی سمجھتے تھے کہ ایسا کر نا جائز نہیں ہے۔ پھر اس کے ناجائز یا مکروہ ہونے کا خیال دل میں لیے ہوئے بسا اوقات اپنی بیویوں کے پاس چلے جاتے تھے۔ یہ گویا اپنے ضمیر کے ساتھ خیانت کا ارتکاب تھا اور اس سے اندیشہ تھا کہ ایک مجرمانہ اور گناہ گارانہ ذہنیت اُن کے اندر پرورش پاتی رہے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے اس خیانت پر تنبیہ فرمائی اور پھر ارشاد فرمایا کہ یہ فعل تمہارے لیے جائز ہے۔ لہٰذا اب اسے بُرا فعل سمجھتے ہوئے نہ کرو، بلکہ اللہ کی اجازت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے قلب و ضمیر کی پوری طہارت کے ساتھ کرو۔

احکام خداوندی پر عمل کی بنیاد ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – احکام القرآن – صفحہ 173 سورہ بقرہ آیت 228

وَ الْمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا يَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ يَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِيْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِيْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌؒ۰۰۲۲

جن عورتوں کو طلاق دی گئی  ہو ، وہ تین مرتبہ ایّام ِ ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں اور ان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے ان کے رحم  میں جو کچھ  خَلق فرمایا ہو، اسے چھپائیں۔ انھیں ہرگز  ایسا نہ کرنا چاہیے، اگر وہ اللہ اور روزِ آخر  پر ایمان رکھتی ہیں۔ ان کے شوہر  تعلقات درست کر لینے پر آمادہ ہوں، تو وہ اس عدّت کے دوران میں انھیں پھر اپنی زوجیّت میں واپس لے لینے کے حق دار ہیں۔

 

عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مَردوں کے حقوق ان پر ہیں۔ البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے۔ اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم ودانا موجود ہے۔

اللہ تعالٰی کے احکام کی خلاف ورزی سے بچو

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – احکام القرآن – صفحہ 55 سورہ بقرہ آیت 16

اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى ١۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ۰۰۱۶

وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بد لے گمراہی خریدلی ہے، مگر یہ سودا ان کے لئے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہر گز صحیح راستے پر نہیں ہیں۔

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں