مظاہر کائنات ثابت کرتے ہیں کہ جب خالق و منتظم اللہ تعالٰی کی ذات ہے تو پھر شرک کی کوئی بنیاد نہیں ہے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
مظاہر کائنات ثابت کرتے
ہیں کہ جب خالق و منتظم اللہ تعالٰی کی
ذات ہے تو پھر شرک کی کوئی بنیاد نہیں ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– توحید
صفحہ 527
سورہ انعام آیات
13، 14
وَ لَهٗ مَا
سَكَنَ فِي الَّيْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۰۰۱۳قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ
وَ هُوَ يُطْعِمُ وَ لَا يُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّيْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ
مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۰۰۱۴
رات کے اندھیرے اور
دن کے اُجالے میں جو کچھ ٹھیرا ہُوا ہے، سب اللہ کا ہے اور وہ سب کچھ سُنتا اور
جانتا ہے، کہو، اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنالوں؟ اُس خدا
کو چھوڑ کر جو زمین و آسمان کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے روزی لیتا نہیں
ہے؟ کہو مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب
سے پہلے میں اُس کے آگے سرِ تسلیم خم کروں (اور تاکید کی گئی ہے کہ کوئی شرک کرتا
ہے تو کرے) تُو بہرحال مشرکوں میں شامل نہ ہو
جو روزی
دیتا ہے روزی لیتا نہیں ہے
اس میں ایک لطیف تعریض
ہے۔ مشرکوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا
خدا بنا رکھا ہے وہ سب اپنے ان بندوں کو رزق دینے کے بجائے اُلٹا ان سے رزق پانے
کے محتاج ہیں۔ کوئی فرعون خدائی کے ٹھاٹھ نہیں جما سکتا جب تک اس کے بندے اسے ٹیکس
اور نذرانے نہ دیں۔ کسی صاحبِ قبر کی شانِ معبُودیّت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اس کے پرستار
اس کا شاندار مقبرہ تعمیر نہ کریں۔ کسی دیوتا کا درباِ رِ خدا وندی سج نہیں
سکتا جب تک اس کے پُجاری اس کا مجسّمہ بنا کر کسی عالی شان مندر میں نہ رکھیں اور
اس کو تزئین و آرائش کے سامانوں سے آراستہ نہ کریں۔ سارے بناؤٹی خدا بیچا رے خود
اپنے بندوں کے محتاج ہیں ۔ صرف ایک خداوندِ عالم ہی وہ حقیقی خدا ہے جس کی خدائی
آپ اپنے بل بوتے پر قائم ہے اور جو کسی کی مدد کا محتاج نہیں بلکہ سب اسی کے محتاج
ہیں۔
مظاہر کائنات ثابت کرتے
ہیں کہ جب خالق و منتظم اللہ تعالٰی کی
ذات ہے تو پھر شرک کی کوئی بنیاد نہیں ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– توحید
صفحہ537تا539
سورہ انعام آیات 38، 39
وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي
الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ
مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ۰۰۳۸وَ الَّذِيْنَ
كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِي الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ يَّشَاِ اللّٰهُ
يُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ يَّشَاْ يَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۰۰۳۹
زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا
میں پروں سے اُڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو، یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں،
ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، پھر یہ سب اپنے ربّ کی
طرف سمیٹے جاتے ہیں۔ مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو
جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں، تاریکیوں میں پڑے ہوئےہیں۔ اللہ جسے
چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے۔
مگر جو لوگ ہماری نشانیوں
کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں،
تاریکیوں میں پڑے ہوئےہیں
مطلب یہ ہے کہ اگر تمہیں محض تماش بینی
کا شوق نہیں ہے بلکہ فی الواقع یہ معلوم کرنے کے لیے نشانی دیکھنا چاہتے ہو کہ یہ
نبی جس چیز کی طرف بُلا رہا ہے وہ امرِ حق ہے یا نہیں ، تو آنکھیں کھول کر دیکھو ،
تمہارے گردو پیش ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں ۔ زمین کے جانوروں
اور ہوا کے پرندوں کی کسی ایک نوع کو لے
کر اس کی زندگی پر غور کرو۔ کس طرح اس کی ساخت ٹھیک ٹھیک اس کے مناسبِ حال بنائی
گئی ہے۔ کس طرح اس کی جبلّت میں اس کی فطری
ضرورتوں کے عین مطابق قوتیں و دیعت کی گئی ہیں۔ کس طرح اس کی رزق رسانی کا
انتطام ہو رہا ہے۔ کس طرح اس کی ایک تقدیر
مقرر ہے جس کے حُدُودسے وہ نہ آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے۔ کس طرح ان میں
سے ایک ایک جانور اور ایک ایک چھوٹے سے
چھوٹے کیڑے کی اُسی مقام پر جہاں وہ ہے،
خبر گیری ، نگرانی، حفاظت اور رہمنائی کی جارہی ہے ۔ کس طرح اس سے ایک مقرر اسکیم کے مطابق کام لیا جا رہا ہے۔ کس طرح
اسے ایک ضابطہ کا پابند بنا کر رکھا گیا ہے اور کس طرح اس کی پیدائش ، تناسُل ،
اور موت کا سلسلہ پُوری باقاعدگی کے ساتھ چل
رہا ہے۔ اگر خدا کی بے شمار نشانیوں
میں سے صرف اِسی ایک نشانی پر غور کرو تو
تمہیں معلوم ہو جائے کہ خدا کی توحید اور اس کی صفات کا جو تصوّر یہ پیغمبر
تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے اور اس تصوّر کے مطابق دُنیا میں زندگی بسر
کرنے کے لیے جس رویّہ کی طرف تمہیں دعوت دے رہا ہے وہ عین حق ہے۔ لیکن تم لوگ نہ
خود اپنی آنکھیں کھول کر دیکھتے ہو نہ کسی سمجھانے والے کی بات سُنتے ہو۔ جہالت کی
تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہو اور چاہتے ہو کہ عجائبِ قدرت کے کرشمے دکھا کر تمہارا دل
بہلایا جائے۔
اللہ جسے چاہتا ہے
بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے۔
خدا کا بھٹکانا یہ ہے کہ ایک جہالت
پسند انسان کو آیاتِ الہٰی کے مطالعہ کی توفیق
نہ بخشی جائے ، اور ایک متعصّب غیر حقیقت پسند طالب علم اگر آیاتِ الہٰی کا
مشاہدہ کرے بھی تو حقیقت رسی کے نشانات اس کی آنکھ سے اوجھل رہیں اور غلط فہمیوں میں
اُلجھا نے والی چیزیں اسے حق سے دُور اور
دُور تر کھینچتی چلی جائیں۔ بخلاف اس کے اللہ کی ہدایت یہ ہے کہ ایک طالبِ حق کو علم کے ذرائع سے
فائدہ اُٹھانے کی توفیق بخشی جائے اور اللہ کی آیات میں اسے حقیقت تک پہنچنے کے
نشانات ملتے چلے جائیں۔ ان تینوں کیفیات کی بکثرت مثالیں آئے دن ہمارے سامنے آتی
رہتی ہیں ۔ بکثرت انسان ایسے ہیں جن کے سامنے آفاق اور اَنفُس میں اللہ کی بے شمار
نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں مگر وہ جانوروں کی طرح انہیں دیکھتے ہیں اور کوئی سبق حاصل
نہیں کرتے۔ اور بہت سے انسان ہیں جو حیوانیات(Zoology)، نباتیات(Botany)،
حیَاتیات(Biology)،
ارضیات(Geology)،
فلکیات(Astronomy)،
عضویات (Physiology)،
علم التشریح(Anatomy) اور
سائنس کی دُوسری شاخوں کا مطالعہ کرتے ہیں ، تاریخ ، آثارِ قدیمہ اور عُلُومِ
اجتماع (Social Science) کی تحقیق کرتے ہیں
اور ایسی ایسی نشانیاں ان کے مشاہدے میں آتی ہیں جو قلب کو ایمان سے لبریز کر دیں۔
مگر چونکہ وہ مطالعہ کا آغاز ہی تعصّب کے ساتھ کرتے ہیں اور ان کے پیشِ نظر دنیا
اور اس کے فوائد و منافع کے سوا کچھ نہیں ہوتا اس لیے اس مشاہدے کے دَوران میں ان
کو صداقت تک پہنچانے والی کوئی نشانی نہیں ملتی، بلکہ جو نشانی بھی سامنے آتی ہے
وہ انھیں اُلٹی دہریّت ، الحاد، مادّہ پرستی اور نیچر یّت ہی کی طرف کھینچ لے جاتی
ہے۔ ان کے مقابلہ میں ایسے لوگ بھی ناپید
نہیں ہیں جو آنکھیں کھول کر اس کارگاہِ عالم کو دیکھتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ :
برگِ
درختانِ سبز در نَظَرِ ہوشیار
ہر ورقے دفریست معرفتِ کردگار
مظاہر کائنات ثابت کرتے
ہیں کہ جب خالق و منتظم اللہ تعالٰی کی
ذات ہے تو پھر شرک کی کوئی بنیاد نہیں ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– توحید
صفحہ 547، 548
سورہ انعام آیات 63، 64
قُلْ مَنْ يُّنَجِّيْكُمْ
مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْيَةً١ۚ
لَىِٕنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ۰۰۶۳قُلِ اللّٰهُ
يُنَجِّيْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ۰۰۶۴
اے محمد ؐ ! اِن سے پوچھو، صَحرا اور
سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے؟ کون ہے جس سے تم (مصیبت کے
وقت) گِڑ گِڑا گِڑ گِڑا کر اور چُپکے
چُپکے دُعائیں مانگتے ہو؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے تُو نے ہم کو
بچالیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے؟ ۔۔۔۔کہو، اللہ
تمہیں اُس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے پھر تم دُوسروں کو اُس کا شریک ٹھیراتے
ہو
یعنی یہ حقیقت کہ تنہا اللہ ہی قادرِ
مطلق ہے، اور وہی تمام اختیارات کا مالک اور تمہاری بھَلائی اور بُرائی کا مختارِ
کُل ہے ، اور اسی کے ہاتھ میں تمہاری قسمتوں کی باگ دوڑ ہے ، اِس کی شہادت تو
تمہارے اپنے نفس میں موجود ہے ۔ جب کوئی
سخت وقت آتا ہے اور اسباب کے سر رشتے ٹوٹتے نظر آتے ہیں تو اس وقت تم بے اختیار
اُسی کی طرف رجوع کرتے ہو۔ لیکن اس کھُلی
علامت کے ہوتے ہوئے بھی تم نے خدائی میں بلا دلیل و حجّت اور بلا ثبُوت دُوسروں کو
اس کا شریک بنا رکھا ہے۔ پلتے ہو اس کے رزق پر اور اَن داتا بناتے ہو دُوسروں کو ۔
مدد پاتے ہو اس کے فضل و کرم سے اور حامی و ناسر ٹھیراتے ہو دُوسروں کو۔ غلام ہو
اس کے اور بندگی بجا لاتے ہو دُوسروں کی۔ مشکل کشائی کرتا ہے وہ ، بُرے وقت پر
گِڑگِڑ اتے ہو اس کے سامنے، اور جب وہ وقت گزر جاتا ہے تو تمہارے مشکل کشا بن جاتے
ہیں دُوسرے اور نذریں اور نیازیں چڑھنے لگتی ہیں دُوسروں کے نام کی۔
مظاہر کائنات ثابت کرتے
ہیں کہ جب خالق و منتظم اللہ تعالٰی کی
ذات ہے تو پھر شرک کی کوئی بنیاد نہیں ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– توحید
صفحہ 556
سورہ انعام آیات 76تا78
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ
الَّيْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّيْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ
اُحِبُّ الْاٰفِلِيْنَ۰۰۷۶فَلَمَّا
رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّيْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَىِٕنْ
لَّمْ يَهْدِنِيْ رَبِّيْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّيْنَ۰۰۷۷فَلَمَّا رَاَ
الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّيْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ
قَالَ يٰقَوْمِ اِنِّيْ بَرِيْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ۰۰۷۸
چنانچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اُس
نے ایک تارا دیکھا۔ کہا یہ میرا رب ہے۔ مگر جب وہ ڈوب گیا تو بولا ڈوب جانے والوں
کا تو میں گرویدہ نہیں ہوں۔ پھر جب چاند چمکتا نظر آیا تو کہا یہ ہے میرا رب۔ مگر
جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرے رب نے میری رہنمائی نہ کی ہوتی تو میں بھی
گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا ہوتا۔ پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا
رب، یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی ڈوبا تو ابراہیم ؑ پکار اُٹھا ”اے برادران
ِقوم ! میں اُن سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھیراتے ہو
مظاہر کائنات ثابت کرتے
ہیں کہ جب خالق و منتظم اللہ تعالٰی کی
ذات ہے تو پھر شرک کی کوئی بنیاد نہیں ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– توحید
صفحہ 565
سورہ انعام آیت 95
اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ
وَ النَّوٰى ١ؕ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ
الْحَيِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ۰۰۹۵
دانے اورگھٹلی کو پھاڑنے والا اللہ
ہے۔ وہی زندہ کو مُردہ سے نکالتا ہے اور وہی مُردہ کو زندہ سے خارج کرتا ہے۔ یہ
سارے کام تو کرنے والا اللہ ہے، پھر تم کدھر بہکے چلے جا رہے ہو؟
مظاہر کائنات ثابت کرتے
ہیں کہ جب خالق و منتظم اللہ تعالٰی کی
ذات ہے تو پھر شرک کی کوئی بنیاد نہیں ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– توحید
صفحہ 567
سورہ انعام آیات 99، 100
وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ
طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّيْتُوْنَ وَ
الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَيْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ
اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ يَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكُمْ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۰۰۹۹وَ جَعَلُوْا
لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِيْنَ وَ بَنٰتٍۭ
بِغَيْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يَصِفُوْنَؒ۰۰۱۰۰
اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا،
پھر اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی نباتات اُگائی، پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا
کیے، پھر ان سے تہ بر تہ چڑھے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے
گچھے کے گچھے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جُھکے پڑتے ہیں، اور انگور، زیتون اور انار
کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دُوسرے سے ملتے جُلتے بھی ہیں اور پھر ہر ایک کی خصُوصیات
جُدا جُدا بھی ہیں۔ یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پَھل آنے اور پھر اُن کے پکنے
کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو، اِن چیزوں میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو
ایمان لاتے ہیں۔ اِس پر بھی لوگوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھیرا دیا، حالانکہ وہ
اُن کا خالق ہے، اور بے جانے بوجھے اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تصنیف کردیں،
حالانکہ وہ پاک اور بالاتر ہے اُن باتوں سے جو یہ لوگ کہتے ہیں۔
Comments
Post a Comment