اللہ تعالٰی کے احکام کو کھیل بنانا اپنے اوپر ظلم کرنا ہے

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللہ  تعالٰی کے احکام کو کھیل بنانا اپنے اوپر ظلم کرنا ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – احکام القرآن – صفحہ 177

سورہ بقرہ آیت 231

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١ٞ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌؒ۰۰۲۳

اور جب تم عورتوں کو طلاق دیدو اور ان کی عدّت پوری ہونے کو آجائے، تو یا بھلے طریقے سے انہیں روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کردو۔ محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا کہ یہ زیادتی ہو گی اور جو ایسا کرے گا، وہ درحقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا۔ اللہ کی آیات کا کھیل نہ بناؤ۔ بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے کس نعمت عظمٰی سے تمہیں سرفراز کیا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہےکہ جو کتاب اور حکمت اس نے تم پر نازل کی ہے، اس کا احترام ملحوظ رکھو۔ اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے۔

وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهٖ

وہ تمہیں نصیحت کرتا ہےکہ جو کتاب اور حکمت اس نے تم پر نازل کی ہے، اس کا احترام ملحوظ رکھو

یعنی اس حقیقت کو فراموش نہ کر دو کہ اللہ ہنے تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے کر دُنیا کی رہنمائی کے  عظیم الشان منصب پر مامور کیا ہے۔ تم”اُمّتِ وَسَط“ بنائے گئے ہو۔ تمہیں نیکی اور راستی کا گواہ بنا کر کھڑا کیا گیا ہے۔ تمہارا یہ کام نہیں ہے کہ حیلہ بازیوں سے آیاتِ الہٰی کا کھیل بنا ؤ ، قانون کے الفاظ سے رُوحِ قانون کے خلاف ناجائز فائدے اُٹھا ؤ اور دُنیا کو راہِ راست دکھانے کے بجائے خود اپنے گھروں میں ظالم اور بد راہ بن کر رہو۔

تعمیل احکام میں وہ نہیں کرنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ نے بیان نہ کیا ہو

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – احکام القرآن – صفحہ 507،  508

سورہ مائدہ آیت 101

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْـَٔلُوْا عَنْ اَشْيَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْـَٔلُوْا عَنْهَا حِيْنَ يُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ۰۰۱۰۱

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں، لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پُوچھوگے جب کہ قرآن نازل ہورہا ہو تو وہ تم  پرکھول دی جائیں گی۔ اب تک جو کچھ تم نے کیا اُسے اللہ نے معاف کردیا، وہ درگزر کرنے والا اور بُردبار ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض لوگ عجیب عجیب قسم کے فضول سوالات کیا کرتے تھے جن کی نہ دین کے کسی معاملہ میں ضرورت ہوتی تھی اور نہ دُنیا ہی کے کسی معاملہ میں۔ مثلاً ایک موقع پر ایک صاحب بھرے مجمع میں آپ ؐ  سے پُوچھ بیٹھے کہ”میرا اصلی باپ کون ہے؟“ اسی طرح بعض لوگ احکامِ  شرع میں غیر ضروری پُوچھ گچھ کیا کرتے تھے ، اور خواہ مخواہ پُوچھ پُوچھ کر ایسی چیزوں کا تعیّن کرا نا چاہتے تھے جنہیں شارع نے مصلحتاً غیر معیّن رکھا ہے۔ مثلاً قرآن میں مُجملاً یہ حکم دیا گیا تھا کہ حج تم پر فرض کیا گیا ہے۔ ایک صاحب نے حکم سُنتے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا” کیا ہر سال فرض کیا گیا ہے؟“ آپ ؐ نے کچھ جواب نہ دیا ۔ اُنہوں نے پھر پُوچھا۔ آپ ؐ پھر خاموش ہوگئے۔ تیسری مرتبہ پُوچھنے پر آپ ؐ نے فرمایا”تم پر افسوس ہے ۔ اگر میری زبان سے ہاں نِکل جائے تو حج ہر سال فرض قرار پائے۔ پھر تم ہی لوگ اس کی پیروی نہ کر سکو گے اور نا فرمانی کرنے لگو گے“۔ ایسے ہی لا یعنی اور غیر ضروری سوالات سے اس آیت میں منع کیا گیا ہے۔

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی لوگوں کو کثرتِ سوال سے اور خواہ مخواہ ہر بات کی کھوج لگانے سے منع فرماتے رہے تھے۔ چنانچہ حدیث میں ہے إِنَّ أَعْظَمَ المُسْلِمِينَ جُرْمًا، مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ، فَحُرِّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ ۔ ” مسلمانوں کے حق میں سب سے بڑا مجرم وہ شخص ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق سوال چھیڑا جو لوگوں پر حرام نہ کی گئی تھی اور پھر محض اس کے سوال چھیڑنے کی بدولت وہ چیز حرام ٹھیرائی گئی“۔ ایک دُوسری حدیث میں ہے (إِنَّ اللهَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلا تُضَيِّعُوهَا، وَحَدَّ حُدُودَاً فَلا تَعْتَدُوهَا وَحَرَّمَ أَشْيَاءَ فَلا تَنْتَهِكُوهَا، وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ رَحْمَةً لَكُمْ غَيْرَ نِسْيَانٍ فَلا تَبْحَثُوا عَنْهَا ۔” اللہ نے کچھ فرائض تم پر عائد کیے ہیں ، انہیں ضائع نہ کرو  ۔ کچھ چیزوں کو حرام کیا ہے ان کے پاس نہ پھٹکو۔ کچھ حُدُود مقرر کی ہیں ، ان سے تجاوز نہ کرو۔ اور کچھ چیزوں کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے بغیر اس کے کہ اُسے بھُول لاحق ہوئی ہو، لہٰذا ان کی کھوج نہ لگاؤ“۔  ان دونوں حدیثوں میں ایک اہم حقیقت  پر متنبّہ کیا گیا ہے ۔ جن اُمُور کو شارع نے مجملاً بیان کیا ہے اور ان کی تفصیل نہیں بتائی، یا جو احکام برسبیلِ اجمال دیے ہیں اور مقدار یا تعداد یا دُوسرے تعیّنات کا ذکر نہیں کیا ہے ، ان میں اجمال اور عدمِ تفصیل کی وجہ یہ نہیں ہے کہ شارع سے بھُول ہو گئی، تفصیلات بتانی چاہیے تھیں مگر نہ بتائیں، بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ شارع ان امور کی تفصیلات کو محدُود نہیں کرنا چاہتا اور احکام میں لوگوں کے لیے وسعت رکھنا چاہتا ہے۔ اب جو شخص خواہ مخواہ سوال پر سوال نکال کر تفصیلات اور تعینات اور تقیدات بڑھانے کی کوشش کرتا ہے ، اور اگر شارع کے کلام سے یہ چیزیں کسی طرح نہیں نکلتیں تو قیاس سے ، اِستنباط سے کِسی نہ کسی طرح مجمل کو مفصّل، مطلَق کو مقَیَّد، غیر معیّن کو معیّن بنا کر ہی چھوڑتا ہے ، وہ درحقیقت مسلمانوں کو بڑے خطرے میں ڈالتا ہے ۔ اس لیے کہ ما بعد الطبیعی اُمُور میں جتنی تفصیلات زیادہ ہوں گی، ایمان لانے والے کے لیے اتنے ہی زیادہ اُلجھن کے مواقع  بڑھیں گے، اور احکام میں جتنی قیُود زیادہ ہوں گی پَیروی کرنے والے کے لیے خلاف ورزی ِ حکم کے امکانات بھی اسی قدر زیادہ ہوں گے۔

اللہ تعالٰی ہی قوانین میں نرمی کرنے والا ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – احکام القرآن – صفحہ 355

سورہ نساء آیت 43

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآىِٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَيْدِيْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا۰۰۴۳

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاوٴ۔ نماز اُس وقت پڑھنی چاہیے جب تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو۔ اور اسی طرح جَنابت کی حالت میں بھی نماز کے قریب نہ جاوٴ جب تک کہ غسل نہ کرلو، اِلّا یہ کہ راستہ سے گزرتے ہو۔ اور اگر کبھی ایسا ہو کہ تم بیمار ہو، یا سفر میں ہو، یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کرکے آئے، یا تم نے عورتوں سے لَمس کیا ہو، اور پھر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرلو، بے شک اللہ نرمی سے کام لینے والا اور بخشش فرمانے والا ہے۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاوٴ۔

 

یہ شراب کے متعلق دُوسرا حکم ہے۔ پہلا حکم وہ تھا جو سُورہٴ بقرہ (آیت ۲١۹) میں گزرا۔ اُس میں صرف یہ ظاہر  کر کے چھوڑ دیا گیا  تھا کہ شراب بُری چیز ہے ، اللہ کو پسند نہیں۔ چنانچہ مسلمانوں میں سے ایک گروہ اس کے بعد ہی شراب سے پرہیز کر نے لگا تھا۔ مگر بہت سے لوگ اسے بدستور استعمال کرتے رہے تھے حتّٰی کہ بسااوقات نشے کی حالت ہی میں نماز پڑھنے کھڑے ہو جاتے تھے اور کچھ کا کچھ پڑھ جاتے تھے۔ غالباً ۴ہجری کی ابتدا میں یہ دُوسرا حکم آیا اور نشے میں نماز پڑھنے کی ممانعت کر دی گئی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ لوگوں نے اپنے شراب پینے کے اوقات بدل دیے اور ایسے اوقات میں شراب پینی چھوڑ دی جن میں یہ اندیشہ ہوتا کہ کہیں نشہ ہی کی حالت میں نماز کا وقت نہ آجائے۔ اس کے  کچھ مدّت بعد شراب کی قطعی حُرمت کا وہ حکم آیا جو سُورہٴ مائدہ آیت  ۹۰۔۹١ میں ہے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشین  کر لینی چاہیے کہ آیت میں سُکر یعنی نشہ کا لفظ ہے۔ اس لیے یہ حکم صرف شراب کے لیے خاص نہ تھا بلکہ ہر نشہ آور چیز کے لیے عام تھا۔ اور اب بھی اس کا حکم باقی ہے۔ اگرچہ نشہ آور اشیاء کا استعمال بجائے خود حرام ہے ، لیکن نشہ کی حالت میں نماز پڑھنا دوہرا عظیم تر گناہ ہے۔

حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ

نماز اُس وقت پڑھنی چاہیے جب تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو

اسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی ہے کہ جب کسی  شخص پر نیند کا غلبہ ہو رہا ہو اور وہ نماز پڑھنے میں بار بار اُونگھ جاتا ہو تو اُسے نماز چھوڑ کر سو جانا چاہیے۔ بعض لوگ اس آیت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ  جو شخص  نماز کی عربی عبارات کا مطلب نہیں سمجھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔ لیکن علاوہ اس کے کہ یہ ایک بے جا تشدّد ہے ، خود قرآن کے الفاط بھی اس کا ساتھ نہیں دیتے ۔ قرآن میں حتٰی تفقھو ا یا  حتٰی تفھمُو ا ما تقولون بلکہ حتٰی تعلمو ا ماتقولون فرمایا ہے۔ یعنی  نماز میں آدمی کو اتنا ہوش رہنا چاہیے کہ وہ یہ جانے کہ وہ کیا چیز اپنی زبان سے ادا کر رہا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ کھڑا تو ہو نماز  پڑھنے اور  شروع کر دے کوئی غسِل۔

وَ لَا جُنُبًا

جَنابت کی حالت

جَنابت کے اصل معنی دُوری اور بیگانگی کے ہیں۔ اسی سے لفظ اجنبی نکلا ہے ۔ اصطلاحِ شرع میں جنابت سے مراد وہ نجاست  ہے جو قضاء شہوت سے یا خواب میں ماٴدّہ خارج ہونے سے لاحق ہوتی ہے ، کیونکہ اس کی وجہ سے آدمی طہارت سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔

وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا

اور اسی طرح جَنابت کی حالت میں بھی نماز کے قریب نہ جاوٴ جب تک کہ غسل نہ کرلو، اِلّا یہ کہ راستہ سے گزرتے ہو

فقہاء اور مفسّرین میں سے ایک گروہ نے اس  آیت کا مفہوم یہ سمجھا ہے کہ  جنابت کی حالت میں مسجد میں نہ جانا چاہیے  اِلّا یہ کہ کسی کام کے لیے مسجد میں سے گزرنا ہو۔ اسی رائے کو عبداللہ بن مسعود، انس بن مالک، حسن بصری اور ابراہیم نَخعَی وغیرہ حضرات نے اختیار کیا ہے۔ دُوسرا گروہ اس سے سفر مراد لیتا ہے۔ یعنی اگر آدمی حالتِ سفر میں ہو اور جنابت لاحق ہوجائے تو تیمم کیا جا سکتا ہے۔ رہا مسجد کا معاملہ ، تو اس  گروہ کی رائے میں جُنُبی کے لیے وضو  کر کے مسجدمیں بیٹھنا جائز ہے ۔ یہ رائے حضرت علی ؓ ، ابن عباس ؓ ، سعید بن جُبَیر اور بعض دوسرے حضرات نے اختیار فرمائی ہے۔ اگرچہ اس امر میں قریب قریب سب کا اتفاق ہے کہ اگر آدمی حالتِ سفر میں ہو اور جنابت لاحق ہو جائے  اور نہانا ممکن نہ ہو تو تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا ہے ۔ لیکن پہلا گروہ اِس مسئلہ کو حدیث سے اخذ کرتا ہے اور دُوسرا گروہ اس روایت کی بنیاد قرآن کی مندرجہٴ بالا آیت پر رکھتا ہے۔

وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآىِٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ

اور اگر کبھی ایسا ہو کہ تم بیمار ہو، یا سفر میں ہو، یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کرکے آئے، یا تم نے عورتوں سے لَمس کیا ہو

اس امر میں اختلاف ہے کہ لَمس یعنی چھُونے سے کیا مراد ہے۔ حضرات علی، ابن عباس ، ابو موسیٰ اشعری، اُبَی ابنِ کعب، سعید بن جُبَیر، حَسَن بصری اور متعدد ائمہ کی رائے  ہے کہ اس سے مراد مباشرت ہے اور اسی  رائے کو امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب اور امام  سُفیان ثوری نے اختیار کیا ہے۔ بخلاف اس کے حضرت عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ ابن ِ عمر  کی رائے ہے اور بعضی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر ابنِ خطاب کی بھی یہی رائے ہے کہ اس سے مراد چھونا یا ہاتھ لگانا ہے اور اسی رائے کو امام شافعی ؒ نے اختیار کیا ہے۔ بعض ائمہ نے بیچ کا مسلک بھی اختیار کیا ہے ۔ مثلاً اما م مالک ؒ کی رائے ہے کہ اگر عورت یا مرد ایک دُوسرے کو جذبات شہوانی کے ساتھ ہاتھ لگائیں تو ان کا وضو ساقط ہو جائے گا اور نماز کے لیے انہیں نیا وضو کرنا ہوگا، لیکن اگر جذبات شہوانی کے بغیر ایک کا جسم دُوسرے  سے مَس ہو جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَيْدِيْكُمْ١ؕ

اور پھر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرلو

حکم کی تفصیلی صُورت یہ ہے کہ اگر آدمی بے وضو ہے یا اُسے غسل کی حاجت ہے اور پانی نہیں ملتا تو تیمم کر کے نماز پڑھ سکتا ہے۔ اگر مریض ہے اور غسل یا وضو کرنے سے اس کو نقصان کا اندیشہ ہے تو پانی موجود ہونے کے باوجود تیمم کی اجازت سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔

 

تیمم کے معنی قصد کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب پانی نہ ملے یا پانی ہو اور اس کا  استعمال ممکن نہ ہو تو پاک مٹی کا قصد کرو۔

 

تیمم کے طریقے میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے ۔ ایک گروہ کے نزدیک ا س کا طریقہ یہ ہے کہ ایک دفعہ مٹی پر ہاتھ مار کر مُنہ پر پھیر لیا جائے، پھر دُوسری  دفعہ ہاتھ مار کر کُہنیوں تک ہاتھوں پر پھیر لیا جائے۔ امام ابو حنیفہ ، امام شافعی ، امام مالک اور اکثر فقہا  ء کا یہی مذہب ہے ، اور صحابہ و تابعین میں سے حضرت علی، عبداللہ بن عمر، حَسَن بصری، شَعبِی اور سالم بن عبداللہ وغیرہم اس کے قائل تھے۔ دوسرے گروہ کے نزدیک صرف ایک دفعہ ہی ہاتھ مارنا کافی ہے۔ وہی ہاتھ منہ پر بھی پھیر لیا جائے اور اسی کو کلائی تک ہاتھوں پر بھی پھیر لیا جائے۔ کہنیوں تک مسح کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ عطاء اور مکحول اور اَوزاعی اور احمد ابن حنبل رحمہم اللہ کا مذہب ہے اور عموماً حضراتِ اہلِ حدیث اسی کے قائل ہیں۔

 

تیمم کے لیے ضروری نہیں کہ زمین ہی پر ہاتھ مار ا جائے۔ اس غرض کے لیے ہر گرد آلود چیز اور ہر وہ چیز جو خُشک اجزاء  ارضی پر مشتمل ہو  کافی ہے۔

 

بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس طرح مٹی پر ہاتھ مار کر مُنہ اور ہاتھوں پر پھیر لینے سے آخر طہارت کس طرح حاصل ہو سکتی ہے۔ لیکن درحقیقت یہ آدمی میں طہارت کی حِس اور نماز کا احترام قائم رکھنے کے لیے ایک اہم نفسیاتی تدبیر ہے۔ اس سے فائدہ یہ ہے کہ آدمی خواہ کتنی ہی مدّت تک پانی استعمال کرنے پر قادر نہ ہو، بہر حال اس کے اندر طہارت کا احساس برقرار رہے گا، پاکیزگی کے جو قوانین شریعت میں مقرر کر دیے گئے ہیں ان کی پابندی وہ برابر کرتا رہے گا، اور اس کے ذہن سے قابلِ نماز ہونے کی حالت اور قابلِ نماز نہ ہونے کی حالت کا فرق و امتیاز کبھی محو نہ ہو سکے گا۔

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں