کائنات میں ہر طرف توحید کی نشانیاں بکھری پڑی ہیں ، لیکن اللہ تعالٰی جس کو چاہتا ہے ہدایت کی توفیق دیتاہے

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کائنات میں ہر طرف توحید کی نشانیاں بکھری پڑی ہیں ، لیکن اللہ تعالٰی جس کو چاہتا ہے ہدایت کی توفیق دیتاہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – توحید

صفحہ 536،  537

سورہ انعام آیات 36تا38

اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَؐ۰۰۳۶وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ يُّنَزِّلَ اٰيَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۰۰۳۷وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ۰۰۳۸ وَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِي الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ يَّشَاِ اللّٰهُ يُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ يَّشَاْ يَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۰۰۳۹

دعوتِ حق پر لبیک وہی لوگ کہتے ہیں جو سُننے والے ہیں، رہے مُردے،تو انہیں تو اللہ بس قبروں ہی سے اُٹھائے گا اور پھر وہ (اس کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے) واپس لائے جائیں گے۔

 

یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس نبی پر اس کے ربّ کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اُتری؟ کہو، اللہ نشانی اتارنے کی پُوری قدرت رکھتا ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مُبتلا ہیں۔ زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اُڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو، یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں، ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، پھر یہ سب اپنے ربّ کی طرف سمیٹے جاتے ہیں۔ مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو  جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں، تاریکیوں میں پڑے ہوئےہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے۔

سُننے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے ضمیر زندہ ہیں ، جنہوں نے اپنی عقل و فکر کو معطّل نہیں کر دیا ہے، اور جنھوں نے اپنے دل کے دروازوں پر تعصّب اور جمُود کے قفل نہیں چڑھا دیے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں مُردہ وہ لوگ ہیں جو لکیر کے فقیر بنے اندھوں کی طرح چلے جا رہے ہیں اور اس لکیر سے ہٹ کر کوئی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، خواہ وہ صریح حق ہی کیوں نہ ہو۔

 

نشانی سے مراد محسوس معجزہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ معجزہ نہ دکھائے جانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم اس کو دکھانے سے عاجز ہیں بلکہ اس کی وجہ کچھ اَور ہے جسے یہ لوگ محض اپنی نادانی سے  نہیں سمجھتے۔

 

مطلب یہ ہے کہ اگر تمہیں محض تماش بینی کا شوق نہیں ہے بلکہ فی الواقع یہ معلوم کرنے کے لیے نشانی دیکھنا چاہتے ہو کہ یہ نبی جس چیز کی طرف بُلا رہا ہے وہ امرِ حق ہے یا نہیں ، تو آنکھیں کھول کر دیکھو ، تمہارے گردو پیش ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں ۔ زمین کے جانوروں اور  ہوا کے پرندوں کی کسی ایک نوع کو لے کر اس کی زندگی پر غور کرو۔ کس طرح اس کی ساخت ٹھیک ٹھیک اس کے مناسبِ حال بنائی گئی ہے۔ کس طرح اس کی جبلّت  میں اس کی فطری ضرورتوں کے عین مطابق قوتیں و دیعت کی گئی ہیں۔ کس طرح اس کی رزق رسانی کا انتطام  ہو رہا ہے۔ کس طرح اس کی ایک تقدیر مقرر ہے جس کے حُدُود وہ نہ آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے۔ کس طرح ان میں سے ایک ایک جانور   اور ایک ایک چھوٹے سے چھوٹے   کیڑے کی اُسی مقام پر جہاں وہ ہے، خبر گیری ، نگرانی، حفاظت اور رہمنائی کی جارہی ہے ۔ کس طرح اس سے ایک  مقرر اسکیم کے مطابق کام لیا جا رہا ہے۔ کس طرح اسے ایک ضابطہ کا پابند بنا کر رکھا گیا ہے اور کس طرح اس کی پیدائش ، تناسُل ، اور موت کا سلسلہ پُوری باقاعدگی کے ساتھ چل  رہا ہے۔ اگر خدا کی بے شمار  نشانیوں میں سے  صرف اِسی ایک نشانی پر غور کرو تو تمہیں معلوم ہو جائے کہ خدا کی توحید اور اس کی صفات کا جو تصوّر  یہ پیغمبر  تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے اور اس تصوّر کے مطابق دُنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے جس رویّہ کی طرف تمہیں دعوت دے رہا ہے وہ عین حق ہے۔ لیکن تم لوگ نہ خود اپنی آنکھیں کھول کر دیکھتے ہو نہ کسی سمجھانے والے کی بات سُنتے ہو۔ جہالت کی تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہو اور چاہتے ہو کہ عجائبِ قدرت کے کرشمے دکھا کر تمہارا دل بہلایا جائے۔

دعوت ابراہیمی اور اس کی زد

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – توحید

صفحہ 556

سورہ انعام آیت 78

يٰقَوْمِ اِنِّيْ بَرِيْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ۰۰۷۸

اے برادران ِقوم ! میں اُن سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھیراتے ہو

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مسلک توحید تھا

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – توحید

صفحہ 605

سورہ انعام آیت 161

قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ١ۚ۬ دِيْنًا قِيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا١ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۰۰۱۶۱

اے محمد ؐ ! کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں، ابراہیم ؑ  کا طریقہ جسے یکسُو ہوکر اُس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔

ابراہیم ؑ  کا طریقہ

”ابراہیم ؑ کا طریقہ“ یہ اس راستے کی نشان دہی  کے لیے مزید ایک تعریف ہے۔ اگرچہ اس کو موسیٰ ؑ کا طریقہ یا عیسیٰ ؑ کا طریقہ بھی کہا جا سکتا تھا، مگر حضرت موسیٰ ؑ کی طرف دُنیا نے یہودیّت کو اور حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف مسیحیت کو منسُوب کر رکھا ہے، اس لیے ”ابراہیم ؑ کا طریقہ“ فرمایا۔ حضرت ابراہیم ؑ کو یہُودی اور عیسائی ، دونوں گروہ بر حق تسلیم کرتے ہیں، اور دونوں یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ یہودیّت اور عیسائیّت کی پیدائش سے بہت پہلے گزر چکے تھے۔ نیز مشرکینِ عرب بھی ان کو راست رَ و مانتے تھے اور اپنی جہالت کے باوجود کم از کم اتنی بات انھیں بھی تسلیم تھی کہ کعبہ کی بنا رکھنے والا پاکیزہ انسان خالص خدا پرست تھا نہ کہ بُت پرست۔

نمرود کے سامنے ابراہیم علیہ السلام دلائل توحید

تفہیم القرآن جلد اول صفحہ 198،  199

سورہ بقرہ آیت 258

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِيْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّيَ الَّذِيْ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْيٖ وَ اُمِيْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ يَاْتِيْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِيْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَۚ۰۰۲۵۸

کیا تم نے اس شخص کے حال  پر غور نہیں کیا ، جس نے ابراہیم ؑ سے جھگڑا کیا تھا؟ جھگڑا اس بات پر کہ ابراہیمؑ  کا رب کون ہے، اور اس بنا پر کہ اس شخص کو اللہ نے حکومت دے رکھی تھی۔ جب ابراہیم ؑ نے کہا کہ”میرا رب وہ ہے، جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے،” تو اس نے جواب دیا:”زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے۔”   ابراہیم ؑ نےکہا  :” اچھا، اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے،  تو ذرا اسے مغرب سے نکال لا۔” یہ سن کر وہ منکر ِ حق ششدر رہ گیا، مگراللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھایا کرتا۔

کیا تم نے اس شخص کے حال  پر غور نہیں کیا ، جس نے ابراہیم ؑ سے جھگڑا کیا تھا

اس شخص سے مُراد نمرُود ہے، جو حضرت ابراہیم ؑ کے وطن(عراق) کا بادشاہ  تھا۔ جس واقعے کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے ، اس کی طرف کوئی اشارہ بائیبل میں نہیں ہے۔ مگر تَلْموُد میں یہ پُورا واقعہ موجود ہے اور بڑی حد تک قرآن کے مطابق ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کا باپ نمرُود کے ہاں سلطنت کے سب سے بڑے عہدے  دار (Chief Officer Of  The State ) کا منصب رکھتا تھا۔  حضرت ابراہیم ؑنے جب کھُلم کھُلا شرک کی مخالفت اور توحید کی تبلیغ شرُوع کی اور بُت خانے میں گھُس کر بُتوں کو توڑ ڈالا، تو اُن کے باپ نے خود ان کا مقدمہ بادشاہ کے دربار میں پیش کیا اور پھر وہ گفتگو ہُوئی ، جو یہاں بیان کی گئی ہے۔

جھگڑا اس بات پر کہ ابراہیمؑ  کا رب کون ہے، اور اس بنا پر کہ اس شخص کو اللہ نے حکومت دے رکھی تھی

یعنی اس جھگڑنے میں جو بات ما بِہ   ِ النّزاع تھی، وہ یہ تھی کہ ابراہیم ؑ اپنا ربّ کس کو مانتے ہیں۔ اور یہ نزاع اس وجہ سے پیدا ہوئی تھی کہ اُس جھگڑنے والے شخص، یعنی نمرود کو خدا نے حکومت عطا کر رکھی تھی۔ اِن دو فقروں میں جھگڑے کی نوعیّت کی طرف جو اشارہ کیا گیا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے حسبِ ذیل حقیقتوں پر نگاہ رہنی ضروری ہے:

(۱) قدیم ترین زمانے سے آج تک تمام مشرک سوسائیٹیوں کی یہ مشترک خصُوصیّت رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ربّ الارباب اور خدائے خدائیگان کی حیثیت سے تو مانتے ہیں، مگر صرف اسی کو ربّ اور تنہا اُسی کو خدا اور معبُود نہیں مانتے۔

(۲)خدائی کو مشرکین نے ہمیشہ دو حصّوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک فوق الفطری (Supernatural ) خدائی، جو سلسلہء اسباب پر حکمراں ہے اور جس کی طرف انسان اپنی حاجات اور مشکلات میں دستگیری کے لیے رُجوع کرتا ہے ۔ اس خدائی میں وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اَرواح اور فرشتوں اور جِنوں اور سیّاروں اور دُوسری بہت سی ہستیوں کو شریک ٹھیراتے ہیں ، ان سے دُعائیں مانگتے ہیں، ان کے سامنے مراسِم پرستش بجا لاتے ہیں، اور ان کے آستانوں پر نذر و نیاز پیش کرتے ہیں۔ دوسری تمدّنی اور سیاسی معاملات کی خدائی( یعنی حاکمیّت)، جو قوانینِ حیات مقرر کر نے کی مجاز اور اطاعتِ امر کی مستحق ہو، اور جسے دُنیوی معاملات میں فرماں روائی کے مطلق اختیارات حاصل ہوں۔ اِس دُوسری قسم کی خدائی کو دُنیا کے تمام مشرکین نے قریب قریب ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ سے سلب کر کے، یا اس کے ساتھ، شاہی خاندانوں اور مذہبی اور سوسائیٹی کے اگلے پچھلے بڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اکثر شاہی خاندان اِسی دُوسرے معنی میں خدائی کے مدّعی ہوئے ہیں ، اور اسے مستحکم کرنے کے لیے اُنہوں نے بالعموم پہلے معنی والے خدا ؤ ں کی اولاد ہونے کا دعویٰ کیا ہے، اور مذہبی طبقے اس معاملے میں ان کے ساتھ شریک ِ سازش رہے ہیں۔

(۳) نمرود کا دعوائے خدائی بھی اسی دُوسری قسم کا تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے وجود کا منکر نہ تھا۔ اس کا دعویٰ یہ نہیں تھا کہ زمین و آسمان کا خالق اور کائنات کا مدبّر وہ خود ہے۔ اس کا کہنا یہ  نہیں تھا کہ اسبابِ عالم کے پُورے سلسلے پر اسی کی حکومت چل رہی ہے۔ بلکہ اسے دعویٰ اس امر کا تھا کہ اِس ملکِ عراق کا اور اس کے باشندوں کا حاکمِ مطلق مَیں ہوں، میری زبان قانون ہے، میرے اوپر کوئی بالاتر اقتدار نہیں ہے جس کے سامنے میں جواب دہ ہوں، اور عراق کا ہر وہ باشندہ باغی و غدّار ہے جو اس حیثیت سے مجھے اپنا ربّ نہ مانے یا میرے سوا کسی اَور کو ربّ تسلیم کرے۔

 

(۴) ابراہیم ؑ نے جب کہا کہ میں صرف ایک ربّ العالمین ہی کو خدا اور معبُود اور ربّ مانتا ہوں، اور اس کے سوا سب کو خدائی اور ربوبیّت کا قطعی طور پر منکر ہوں، تو سوال صرف یہی پیدا نہیں ہوا کہ قومی مذہب اور مذہبی معبُودوں کے بارے میں ان کا یہ نیا عقیدہ کہاں تک قابلِ برداشت ہے، بلکہ یہ سوال بھی اُٹھ کھڑا ہوا کہ قومی ریاست اور اس کے مرکزی اقتدار پر اس عقیدے کی جو زَد پڑتی ہے، اُسے کیونکر نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ جُرمِ بغاوت کے الزام میں نمرُود کے سامنے پیش کیے گئے۔

اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں،انسانوں کے اقرار و انکار سے اس کی خدائی میں کوئی فرق نہیں پڑتا

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – توحید

سورہ نساء آیت 87

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَيَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيْثًاؒ۰۰۸۷

اللہ وہ ہے جس کےسوا کوئی خدا نہیں ہے، وہ تم سب کو اس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں، اور اللہ کی بات سے بڑھ کر سچی بات اور کس کی ہو سکتی ہے

اللہ چاہے تو غلط کار اقوام کو دوسری قوم سے بدل ڈالے  کیوں کہ اللہ ہی کائنات کا واحد مالک اور کار ساز ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – توحید

سورہ نساء آیت 132،  133

وَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا۰۰۱۳۲اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّهَا النَّاسُ وَ يَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى ذٰلِكَ قَدِيْرًا۰۰۱۳۳

ہاں اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں  کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور کارسازی کے لیے بس وہی کافی ہے ۔  اگر وہ چاہے تو تم  لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے، اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے۔

 

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں