توحید کا انکار حبط اعمال پر منتج ہوتا ہے

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

توحید کا انکار حبط اعمال پر منتج ہوتا ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – توحید

صفحہ 282   سورہ آل عمران آیات 116،  117

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَيْـًٔا١ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۱۱۶مَثَلُ مَا يُنْفِقُوْنَ فِيْ هٰذِهِ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيْحٍ فِيْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ۰۰۱۱۷

رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کا رویّہ اختیار کیا تو اللہ کے مقا بلہ میں ان کو نہ ان کا مال کچھ کام دے گا نہ اولاد، وہ تو آگ میں جانے والے لوگ ہیں اورآگ ہی میں ہمیشہ  رہیں  گے۔  جو کچھ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی میں خرچ کر رہے ہیں اس کی مثال اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور وہ ان لوگوں کی کھیتی پر چلے جنھوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا ہے اور اسے برباد کر کے رکھ دے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا درحقیقت یہ خود اپنےاوپر ظلم کر رہے ہیں۔

مَثَلُ مَا يُنْفِقُوْنَ فِيْ هٰذِهِ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيْحٍ فِيْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ

جو کچھ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی میں خرچ کر رہے ہیں اس کی مثال اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور وہ ان لوگوں کی کھیتی پر چلے جنھوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا ہے اور اسے برباد کر کے رکھ دے

اِس مثال میں کھیتی سے مراد یہ کشتِ حیات ہے جس کی فصل آدمی کو آخرت میں کاٹنی ہے ۔ ہَوا سے مراد وہ اُوپری جذبہٴ خیر ہے جس کی بنا پر کفار رفاہِ عام کے کاموں اور خیرات وغیرہ میں دولت صرف کرتے ہیں ۔ اور پالے سے مراد صحیح ایمان اور ضابطہٴ خداوندی  کی پیروی کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ان کی پوری زندگی غلط ہو کر رہ گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس تمثیل سے یہ بتا نا چاہتا ہے کہ جس طرح ہوا کھیتیوں کی پرورش کے لیے مفید ہے لیکن اگر اسی ہوا میں پالا ہو تو کھیتی کو پرورش کرنے کے بجائے اسے تباہ  کر ڈالتی ہے ، اسی طرح  خیرات بھی اگرچہ انسان کے مزرعہٴ آخرت کو پرورش کرنے والی چیز ہے ، مگر جب اس کے  اند رکفر کا زہر ملا ہو ا ہو تو یہی خیرات مفید ہونے کے بجائے اُلٹی مہلک بن جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان کا مالک اللہ ہے ، اور اُس مال کا مالک بھی اللہ  ہی ہے جس میں انسان تصرف کر رہا ہے ، اور یہ مملکت بھی اللہ ہی کی ہے جس کے اند ر رہ کر انسان کام کر رہا ہے ۔ اب اگر اللہ کا یہ غلام  اپنے مالک کے اقتدارِ اعلیٰ  کو تسلیم نہیں کرتا، یا اس کی بندگی کے ساتھ کسی اَور کی ناجائز بندگی  بھی شریک کرتا ہے ، اور اللہ کے مال اور اس کی مملکت میں تصرف کرتے ہوئے  اس کے قانون و ضابطہ کی اطاعت نہیں کرتا ، تو اس کے یہ تمام تصرفات ازسر تا پا جُرم بن جاتے ہیں۔ اجر ملنا کیسا وہ  تواِس کا مستحق ہے کہ اِن تمام حرکات کے لیے اس پر فوجداری کا مقدمہ قائم کیا جائے۔ اُ س کی خیرات کی مثال ایسی ہے جیسے ایک نوکر اپنے آقا کی اجازت کے بغیر اس کا خزانہ کھولے اور جہاں جہاں اپنی دانست میں مناسب سمجھے خرچ کر ڈالے۔

اللہ تعالٰی پاک اور ناپاک کو چھانٹ کر الگ کردیتا ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – توحید

صفحہ 305 سورہ آل عمران آیت 179

مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ

اللہ مومنوں کو اس حالت میں ہرگز نہ رہنے دے گا جس میں تم اس وقت پائے جاتے ہو ۔ وہ پاک  لوگوں کو ناپاک لوگوں  سے الگ  کرکے رہے گا۔

مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَيْهِ

اللہ مومنوں کو اس حالت میں ہرگز نہ رہنے دے گا جس میں تم اس وقت پائے جاتے ہو

  یعنی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی جماعت کو اس حال میں دیکھنا پسند نہیں کرتا کہ ان کے درمیان سچے اہلِ ایمان اور منافق ، سب خلط ملط رہیں۔

صرف اللہ تعالٰی پر ہی بھروسہ کرنا کافی ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – توحید

صفحہ 376  سورہ نساء آیت 81

وَ يَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١ٞ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَيَّتَ طَآىِٕفَةٌ مِّنْهُمْ غَيْرَ الَّذِيْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا۰۰۸۱

وہ منہ پر کہتے ہیں کہ ہم مطیعِ فرمان ہیں۔ مگر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ راتوں کو جمع ہوکر تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے۔ اللہ ان کی یہ ساری سرگوشیاں لکھ رہا ہے۔ تم ان کی پروا نہ کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو، وہی بھروسہ کے لیے کافی ہے۔

ہر طرف سے منہ موڑ کر خدا کی طرف یکسو ہوجانا

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – توحید

صفحہ 558 سورہ  انعام آیت 79

اِنِّيْ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِيْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَۚ۰۰۷۹

میں نے تو یکسُو ہو کر اپنا رُخ اُس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمانون کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔“

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں