اللہ تعالٰی سے براہ راست دعا و استغاثہ کرنا

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللہ تعالٰی سے براہ راست دعا و استغاثہ کرنا

فہرست موضوعات --  تفہیم القرآن جلد اول  -- توحید

صفحہ 144 سورہ بقرہ آیت 186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ١ؕ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَ لْيُؤْمِنُوْا بِيْ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ۰۰۱۸۶

اور اے نبیؐ ، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُ نھیں بتا دو کہ میں  اُن سے قریب ہی ہوں۔پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے ، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ لہٰذا انھیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں ،یہ بات تم اُنھیں سُنادو شاید کہ وہ راہِ راست پالیں

فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَ لْيُؤْمِنُوْابِيْ

لہٰذا انھیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں

یعنی اگر چہ تم مجھے دیکھ نہیں سکتے اور نہ اپنے حواس سے مجھ کو محسوس کر سکتے ہو ، لیکن یہ خیال نہ کرو کہ میں تم سے  دُور ہوں۔ نہیں، میں اپنے ہر بندے سے اتنا قریب ہوں کہ جب وہ چاہے ، مجھ سے عرض معرُوض کر سکتا ہے، جتّٰی کہ دل ہی دل میں وہ جو کچھ مجھ سے گزارش کرتا ہے میں اُسے بھی سُن لیتا ہوں اور صرف سُنتا ہی نہیں، فیصلہ بھی صادر کرتا ہوں۔ جن بے حقیقت اور بے اختیار ہستیوں کو تم نے اپنی نادانی سے الٰہ اور ربّ قرار دے رکھا ہے ، اُن کے پاس تو تمہیں دَوڑ دَوڑ کر جانا پڑتا ہے اور پھر بھی نہ وہ تمہاری شنوائی کر سکتے ہیں اور نہ ان میں یہ طاقت ہے کہ تمہاری درخواستوں پر کو ئی فیصلہ صادر کر سکیں۔ مگر میں کائنات  بے پایاں کا فرماں روا ئے مطلق، تمام اختیارات اور تمام طاقتوں کا مالک، تم سے اتنا قریب ہوں کہ تم خود بغیر کسی واسطے اور وسیلے اور سفارش کے براہِ راست ہر وقت اور ہر جگہ مجھ تک اپنی عرضیاں پہنچا سکتے ہو۔ لہٰذا تم اپنی اس نادانی کو چھوڑ دو کہ ایک ایک بے اختیار بناوٹی خدا کے  در پر مارے مارے پھرتے ہو۔ میں جو دعوت تمہیں دے رہا ہوں ، اس پر لبیک کہہ کر میرا دامن پکڑ لو، میری طرف رُجوع کرو، مجھ پر بھروسہ کرو اور میری بندگی و اطاعت میں آجا ؤ ۔

لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ

یہ بات تم اُنھیں سُنادو شاید کہ وہ راہِ راست پالیں

۱۸۹- یعنی تمہارے ذریعے سے یہ حقیقتِ حال معلوم کر کے اُن کی آنکھیں کھُل جائیں اور وہ اس صحیح رویّے کی طرف آجائیں ، جس میں ان کی اپنی ہی بھلائی ہے۔

توحید کے داعین بے خوفی اور اطمینان کے حقدار ہیں ، جبکہ مشرکین بے اطمینانی اور خوف کے سزاوار ہیں

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – توحید

صفحہ 559   سورہ انعام آیت 81،  82

وَ كَيْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ عَلَيْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَيُّ الْفَرِيْقَيْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ۰۰۸۱اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ يَلْبِسُوْۤا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَؒ۰۰۸۲

اور آخر میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈروں جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں  شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لیے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ہے؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بے خوفی و اطمینان کا مستحق ہے؟ بتاوٴ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو۔ حقیقت میں تو امن انہی کے لیے ہے اور راہِراست پر وہی ہیں جو ایمان لائے اور جنھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا “۔

یہ پُوری تقریر اس بات پر شاہد ہے کہ وہ قوم اللہ فاطر السّمٰوات و الارض کی ہستی کی منکر نہ تھی بلکہ اس کا اصلی جُرم  اللہ کے ساتھ دُوسروں کو خدائی صفات  اور خدا وندانہ حقوق میں شریک قرار دینا تھا۔ اوّل تو حضرت ابراہیم ؑ خود ہی فرما رہے ہیں کہ تم اللہ ساتھ دُوسری چیزوں کو شریک کرتے ہو۔ دوسرے جس طرح آپ ان لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے اللہ کا ذکر فرماتے ہیں، یہ اندازِ بیان صرف اُنہی لوگوں کے مقابلہ میں اختیار  کیا جاسکتا ہے جو اللہ کے نفسِ وجود سے منکر نہ ہوں۔ لہٰذا اُن مفسّرین کی رائے درست نہیں ہے جنھوں نے اس مقام پر اور حضرت ابراہیم ؑ کے سلسلہ میں دُوسرے مقامات پر قرآن کے  بیانات کی تفسیر اس مفروضہ پر کی ہے کہ قومِ ابراہیم ؑ اللہ کی منکر یا اس سے ناواقف تھی اور صرف اپنے معبُودوں ہی کو خدائی کا بالکلّیہ مالک سمجھتی تھی۔

 

آخری آیت میں یہ جو فقرہ ہے کہ ”جنھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا“، اس میں لفظ  ظلم سے بعض صحابہ کو غلط فہمی ہوئی تھی کہ شاید اس سے مراد معصیت ہے ۔لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تصریح فرمادی کہ دراصل یہاں ظلم سے مراد شرک ہے۔ لہٰذا اس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ کو مانیں اور اپنے اس ماننے کو کسی مشرکانہ عقیدہ و عمل سے آلودہ نہ کریں، امن صرف اُنہی کے لیے ہے اور وہی راہِ راست پر ہیں۔

اللہ تعالٰی کے سوا کوئی اور خدا کیونکر ہوسکتا ہے جو تمام کائنات کا خالق و رب ہےاور اس کی اطاعت پر تمام نظام چل رہا ہے۔

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – توحید

صفحہ 606 سورہ انعام آیت 164

قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ

کہو، کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے؟

یعنی کائنات کی ساری چیزوں کا ربّ تو اللہ ہے، میرا ربّ کوئی اور کیسے ہو سکتا ہے ؟ کس طرح یہ بات معقول ہو سکتی ہے کہ ساری کائنات تو اللہ کی اطاعت کے نظام پر چل رہی ہو ، اور کائنات کا ایک جزء ہونے کی حیثیت سے میرا اپنا وجود بھی اُسی نظام پر عامل ہو، مگر میں اپنی شعُوری و اختیاری زندگی کے لیے کوئی اور ربّ تلاش کروں؟ کیا پوری کائنات کے خلاف میں اکیلا ایک دُوسرے رُخ پر چل پڑوں؟

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں