آخرت میں پیشوا اور پیرو عذاب میں مشترک ہوں گے
آخرت میں پیشوا اور پیرو عذاب میں
مشترک ہوں گے
فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد
چہارم-آخرت-صفحہ285
سورہ صفّٰت آیات 27تا33
وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى
بَعْضٍ يَّتَسَآءَلُوْنَ۰۰۲۷قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ
تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْيَمِيْنِ۰۰۲۸قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا
مُؤْمِنِيْنَۚ۰۰۲۹وَ
مَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِيْنَ۰۰۳۰فَحَقَّ
عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآىِٕقُوْنَ۰۰۳۱فَاَغْوَيْنٰكُمْ۠
اِنَّا كُنَّا غٰوِيْنَ۰۰۳۲فَاِنَّهُمْ
يَوْمَىِٕذٍ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ۰۰۳۳
۔“ اس کے بعد یہ ایک دُوسرے کی طرف
مُڑیں گے اور باہم تکرار شروع کر دیں گے۔ (پیروی کرنے والے اپنے پیشواوٴں سے )کہیں
گے،” تم ہمارے پاس سیدھے رُخ سے آتے تھے۔“
وہ جواب دیں گے” نہیں، بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہ تھے۔ ہمارا تم پر
کوئی زور نہ تھا، تم خود ہی سرکش لوگ تھے۔ آخر کار ہم اپنے ربّ کے اِس فرمان کے
مستحق ہوگئے کہ ہم عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں۔ سو ہم نے تم کو بہکایا، ہم خود
بہکے ہوئے تھے۔“
اِس طرح وہ سب اُس روز عذاب میں مشترک
ہوں گے۔ ہم مجرموں کے ساتھ یہی کچھ کیا
کرتے ہیں۔
تم ہمارے پاس سیدھے رُخ سے
آتے تھے۔
سورة الصفت حاشیہ نمبر١۸
اصل الفاظ ہیں کُنْتُمْ تَأ تُوْ
نَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ۔ ’’ تم ہمارے پاس یمین کی راس سے آتے تھے ۔‘‘ یمین کا لفظ
عربی زبان میں متعدد مفہومات کے لیے بولا جاتا ہے ۔ اگر اس کو قوت و طاقت کے معنی
میں لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ ہم کمزور تھے اور تم ہم پر غالب تھے ، اس لیے تم
اپنے زور سے ہم کو گمراہی کی طرف کھینچ لے گئے ۔ اگر اس کو خیر اور بھلائی کے معنی
میں لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ تم نے خیر خواہ بن کر ہمیں دھوکا دیا۔ تم ہمیں یقین
دلاتے رہے کہ جس راہ پر تم ہمیں چلا رہے ہو یہی حق اور بھلائی کی راہ ہے ۔ اس لیے ہم
تمہارے فریب میں آ گئے ۔اور اگر اسے قَسم کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ
ہو گا کہ تم نے قَسمیں کھا کھا کر ہمیں اطمینان دلایا تھا کہ حق وہی ہے جو تم پیش
کر رہے ہو۔
عذاب میں مشترک ہوں گے
سورة الصفت حاشیہ نمبر۲۰
یعنی پیرو بھی اور پیشوا بھی، گمراہ
کرنے والے بھی اور گمراہ ہونے والے بھی، ایک ہی عذاب میں شریک ہوں گے ۔ نہ پیروؤں
کا یہ عذر مسموع ہو گا کہ و ہ خود گمراہ نہیں ہوئے تھے بلکہ کیا گیا تھا۔ اور
نہ پیشواؤں کی اِس معذرت کو قبول کیا جائے گا کہ گمراہ ہونے والے خود ہی راہ راست
کے طالب نہ تھے ۔
Comments
Post a Comment