آخرت میں متقین کے سوا سب ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے
آخرت میں متقین کے
سوا سب ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے
فہرست موضوعات -تفہیم
القرآن جلد چہارم-آخرت-صفحہ549
سورہ زخرف 66،67
هَلْ
يَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا
يَشْعُرُوْنَ۰۰۶۶اَلْاَخِلَّآءُ يَوْمَىِٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ
اِلَّا الْمُتَّقِيْنَؕؒ۰۰۶۷
کیا یہ لوگ اب بس اِسی
چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک اِن پر قیامت آجائے اور اِنہیں خبر بھی نہ ہو؟ وہ دن جب
آئے گا تو متّقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دُوسرے کے دشمن ہو جائیں گے۔
سورۃ الزخرف حاشیہ نمبر۵۹
دوسرے الفاظ میں صرف
وہ دو ستیاں باقی رہ جائیں گی جو دنیا میں نیکی اور خدا ترسی پر قائم ہیں۔ دوسرے
تمام دوستیاں دشمنی میں تبدیل ہو جائیں گی، اور آج گمراہی ، ظلم و ستم اور معصیت میں جو لوگ ایک دوسرے کے یار و مدد گار
بنے ہوئے ہیں ، کل قیامت کے روز وہی ایک دوسرے پر الزام ڈالنے اور اپنی جان چھڑانے
کی کوشش کر رہے ہوں گے ۔ یہ مضمون قرآن مجید میں بار بار جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے
تاکہ ہر شخص اسی دنیا میں اچھی طرح سوچ لے کہ کن لوگوں کا ساتھ دینا اس کے لیے مفید
ہے اور کن کا ساتھ تباہ کن ۔
Comments
Post a Comment