آخرت میں مجرمین کو کوئی جائے پناہ نہ ملے گی
آخرت میں مجرمین کو
کوئی جائے پناہ نہ ملے گی
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد چہارم -آخرت-صفحہ467
سورہ حم سجدہ آیات
47، 48
اِلَيْهِ
يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ
مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ يَوْمَ
يُنَادِيْهِمْ اَيْنَ شُرَكَآءِيْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ
شَهِيْدٍۚ۰۰۴۷وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ
ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِيْصٍ۰۰۴۸
اُس ساعت کا علم اللہ ہی کی طرف راجع ہوتا ہے، وہی اُن سارے پھَلوں کو جانتا ہے جو اپنے
شگوفوں میں سے نکلتے ہیں، اُسی کو معلوم ہے کہ کونسی مادہ حاملہ ہوئی ہے اور کس نے
بچہ جنا ہے۔ پھر جس روز وہ ان لوگوں کو
پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک؟ یہ کہیں گے، ”ہم عرض کر چکے ہیں، آج ہم میں سے
کوئی اس کی گواہی دینے والا نہیں ہے۔“ اُس
وقت وہ سارے معبُود ان سے گم ہو جائیں گے جنہیں یہ اِس سے پہلے
پُکارتے تھے، اور یہ لوگ سمجھ لیں گے
کہ ان کے لیے اب کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
گواہی دینے
والا نہیں ہے
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ
نمبر٦۳
یعنی اب ہم پر حقیقت
کھل چکی ہے اور ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ جو کچھ ہم سمجھے بیٹھے تھے وہ سراسر غلط
تھا۔ اب ہمارے درمیان کوئی ایک شخص بھی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ خدائی میں کوئی
دوسرا بھی آپ کا شریک ہے۔’’ ہم عرض کر چکے ہیں ‘‘ کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں کہ
قیامت کے روز بار بار ہر مرحلے میں کفار سے کہا جائے گا کہ دنیا میں تم خدا کے
رسولوں کا کہا ماننے سے انکار کرتے رہے، اب بولو حق پر وہ تھے یا تم؟ اور ہر موقع پر کفار اس بات کا اعتراف
کرتے چلے جائیں گے کہ واقعی حق وہی تھا جو انہوں نے بتایا تھا اور غلطی ہماری تھی
کہ اس علم کو چھوڑ کر اپنی جہالتوں پر اصرار کرتے رہے۔
جنہیں یہ
اِس سے پہلے پُکارتے تھے
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ
نمبر٦۴
یعنی مایوسی کے عالم
میں یہ لوگ ہر طرف نظر دوڑائیں گے کہ عمر بھر جن کی سیوا کرتے رہے، شاید ان میں سے کوئی مدد کو آئے اور ہمیں خدا کے
عذاب سے چھڑا لے، یا کم از کم ہماری سزا ہی کم کرا دے، مگر کسی طرف سے کوئی مددگار
بھی ان کو نظر نہ آئے گا۔
آخرت میں مجرمین کو
کوئی جائے پناہ نہ ملے گی
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد چہارم -آخرت-صفحہ514
اِسْتَجِيْبُوْا
لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ
مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ۰۰۴۷
مان لو اپنے ربّ کی
بات قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی کوئی صُورت
اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ اُس دن
تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہو گی اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے
والا ہوگا۔
ٹلنے کی
کوئی صُورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔
سورة الشوریٰ حاشیہ
نمبر۷۲
یعنی نہ اللہ خود اسے
ٹالے گا اور نہ کسی دوسرے میں یہ طاقت ہے کہ ٹال سکے۔
نہ کوئی
تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہوگا
سورة الشوریٰ حاشیہ
نمبر۷۳
اصل الفاظ ہیں : مَا
لَکُمْ مِنْ نَّکِیْرٍ ۔ اس فقرے کے کئی مفہوم اور بھی ہیں۔ ایک یہ کہ تم اپنے
کرتوتوں میں سے کسی کا انکار نہ کر سکو
گے۔ دوسرے یہ کہ تم بھیس بدل کر کہیں چھپ
نہ سکو گے۔ تیسرے یہ کہ تمہارے ساتھ جو کچھ بھی کیا جائے گا اس پرتم کوئی احتجاج اور
اظہار ناراضی نہ کر سکو گے۔ چوتھے یہ کہ تمہارے بس میں نہ ہو گا کہ جس حالت میں تم
مبتلا کیے گئے ہو اسے بدل سکو۔
Comments
Post a Comment