آخرت میں گمراہ پیشوا اور پیرو ایک دوسرے کو مجرم ٹھیرائیں گے

 

آخرت میں گمراہ پیشوا اور پیرو ایک دوسرے کو مجرم ٹھیرائیں گے

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد چہارم-آخرت-صفحہ204تا206

سورہ سبا آیات 31تا33

وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ ا۟لْقَوْلَ١ۚ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِيْنَ۰۰۳۱قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِيْنَ۰۰۳۲وَ قَالَ الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ۠ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِيْۤ اَعْنَاقِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ يُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۳۳

یہ کافر کہتے ہیں کہ ” ہم ہرگز اِس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے  ۔“ کاش تم دیکھو اِن کا حال اُس وقت جب یہ ظالم اپنے ربّ کے حضُور کھڑے ہوں گے۔ اُس وقت یہ ایک دُوسرے پر الزام دھریں گے۔ جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ ” اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے  ۔“ وہ بڑے بننے والے ان دبے ہوئے لوگوں کو جواب دیں گے” کیا ہم نے تمہیں اُس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی؟نہیں، بلکہ تم خود مجرم تھے  ۔“ وہ دبے ہوئے لوگ ان بڑے بننے والوں سے کہیں گے” نہیں، بلکہ شب و روز کی مکّاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کُفر کریں اور دُوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہرائیں  ۔“ آخر کار جب یہ لوگ عذاب دیکھیں گے تو اپنے دلوں میں پچھتائیں گے اور ہم اِن مُنکرین کے گلوں میں طَوق ڈال دیں گے ۔ کیا لوگوں کو اِس کے سوا اور کوئی بدلہ دیا جا سکتا ہے کہ جیسے اعمال اُن کے تھے ویسی ہی جزا وہ پائیں؟

 

ہم ہرگز اِس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے

سورة سبا حاشیہ نمبر۵۰

مراد ہیں کفار عرب جو کسی آسمانی کتاب کو نہیں مانتے تھے۔

اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے

 

 

سورة سبا حاشیہ نمبر۵١

یعنی عوام  الناس، جو آج دنیا میں اپنے لیڈروں، سرداروں، پیروں اور حاکموں کے پیچھے آنکھیں بند کیے چلے جا رہے ہیں، اور ان کے خلاف کسی ناصح کی بات پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، یہی عوام جب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ حقیقت کیا تھی اور ان کے یہ پیشوا انہیں کیا باور کرا رہے تھے، اور جب انہیں یہ پتہ چل جائے گا کہ ان رہنماؤں کی پیروی انہیں کس انجام سے دوچار کرنے والی ہے، تو یہ اپنے ان بزرگوں پر پلٹ پڑیں گے اور چیخ چیخ کر کہیں گے کہ کم بختو، تم نے ہمیں گمراہ کیا، تم ہماری ساری مصیبتوں کے ذمہ دار ہو، تم ہمیں نہ  بہکاتے تو ہم خدا کے رسولوں کی بات مان لیتے۔

بلکہ تم خود مجرم تھے

 

سورة سبا حاشیہ نمبر۵۲

یعنی وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس ایسی کوئی طاقت نہ تھی جس سے ہم چند انسان تم کروڑوں انسانوں کو زبردستی اپنی پیروی پر مجبور کر دیتے۔ اگر تم ایمان لانا چاہتے تو ہماری سرداریوں اور پیشوائیوں اور حکومتوں کا تختہ اُلٹ سکتے تھے۔ ہماری فوج تو تم ہی تھے۔ ہماری دولت اور طاقت کا سر چشمہ تو تمہارے ہی ہاتھ میں تھا۔ تم نذرانے اور ٹیکس نہ دیتے تو ہم مفلس تھے۔ تم ہمارے ہاتھ پر بیعت نہ کرتے تو ہماری پیری ایک دن نہ چلتی۔ تم زندہ باد کے نعرے نہ مارتے تو کوئی ہمارا پوچھنے والا نہ ہوتا۔ تم ہماری فوج بن کر دنیا بھر سے ہمارے لیے لڑنے پر تیار نہ ہوتے تو ایک انسان پر بھی ہمارا بس نہ چل سکتا تھا۔ اب کیوں نہیں مانتے کہ دراصل تم خود اس راستے پر نہ چلنا چاہتے تھے جو رسولوں نے تمہارے سامنے پیش کیا تھا۔ تم اپنی اغراض اور خواہشات کے بندے تھے اور تمہارے نفس کی یہ مانگ رسولوں کی بتائی ہوئی راہ تقویٰ کے بجائے ہمارے ہاں پوری ہوتی تھی۔ تم حرام و حلال سے بے نیاز ہو کر عیشِ دنیا کے طالب تھے اور وہ ہمارے پاس ہی تمہیں نظر آتا تھا۔تم ایسے پیروں کی تلاش میں تھے جو تمہیں ہر طرح کے گناہوں کی کھلی چھوٹ دیں اور کچھ نذرانہ لے کر خدا کے ہاں تمہیں  بخشوا دینے کی خود ذمہ داری لے لیں۔ تم ایسے پنڈتوں اور مولویوں کے طلب گار تھے جو ہر شرک اور ہر بدعت اور تمہارے نفس کی  ہر دل پسند چیز کو عین حق ثابت کر کے تمہارا دل خوش کریں اور اپنا کام بنائیں۔ تم کو ایسے جعل سازوں کی ضرورت تھی جو خدا کے دین کو بدل کر تمہاری خواہشات کے مطابق ایک نیا دین گھڑیں۔ تم کو ایسے لیڈر درکار تھے جو کسی نہ کسی طرح تمہاری دنیا بنا دیں خواہ عاقبت بگڑے یا درست ہو۔ تم کو ایسے حاکم مطلوب تھے جو خود بد کردار اور بد دیانت ہوں اور ان کی سرپرستی میں تمہیں ہر قسم کے گناہوں اور بد کرداریوں کی چھوٹ ملی رہے۔ اس طرح ہمارے اور تمہارے درمیان برابر کا لین دین کا سودا ہوا تھا۔ اب تم کہاں یہ ڈھونگ رچانے چلے ہو کہ گویا تم بڑے معصوم لوگ تھے اور ہم نے زبردستی تمہیں بگاڑ دیا تھا۔

اس کا ہمسر ٹھہرائیں

 

سورة سبا حاشیہ نمبر۵۳

دوسرے الفاظ میں ان عوام کا جواب یہ ہو گا کہ تم اس ذمہ داری میں ہم کو برابر کا شریک کہاں ٹھیرائے دے رہے ہو۔ کچھ یہ بھی یاد ہے کہ تم نے اپنی چال بازیوں، فریب کاریوں اور جھوٹے پروپیگنڈوں سے کیا طلسم باندھ رکھا تھا، اور رات دن خلقِ خدا کو پھانسنے کے لیے کیسے کیسے جتن تم کیا کرتے تھے۔ معاملہ صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ تم نے ہمارے سامنے دنیا پیش کی اور ہم اس پر ریجھ گئے۔ امر واقعہ یہ بھی تو ہے کہ تم شب و روز کی مکاریوں سے ہم کو بے وقوف بناتے تھے اور تم میں سے ہر شکاری روز ایک نیا جال بُن کر طرح طرح کی تدبیروں سے اللہ کے بندوں کو اس میں پھانستا تھا۔

قرآن مجید میں پیشواؤں اور پیروں کے اس جھگڑے کا ذکر مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے آیا ہے۔ تفصیل کے لیے حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں: اعراف، آیات 38۔39۔ ابراہیم، 21۔ القصص، 63۔ الاحزاب، 66۔68۔ المومن، 47۔48۔ حٰم السجدہ، 29۔

آخرت میں گمراہ پیشوا اور پیرو ایک دوسرے کو مجرم ٹھیرائیں گے

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد چہارم-آخرت-صفحہ283

سورہ صفّٰت آیات22تا35

اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَۙ۰۰۲۲مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِيْمِ۰۰۲۳وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْـُٔوْلُوْنَ۠ۙ۰۰۲۴مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ۰۰۲۵بَلْ هُمُ الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ۠۰۰۲۶ وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ يَّتَسَآءَلُوْنَ۰۰۲۷قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْيَمِيْنِ۰۰۲۸قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَۚ۰۰۲۹وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِيْنَ۰۰۳۰فَحَقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآىِٕقُوْنَ۰۰۳۱فَاَغْوَيْنٰكُمْ۠ اِنَّا كُنَّا غٰوِيْنَ۰۰۳۲فَاِنَّهُمْ يَوْمَىِٕذٍ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ۰۰۳۳اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِيْنَ۰۰۳۴اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ يَسْتَكْبِرُوْنَ۠ۙ۰۰۳۵

(حکم ہوگا)گھیر لاوٴ سب ظالموں  اور ان کے ساتھیوں  اور اُن کے معبُودوں کو جن کی وہ خدا کو چھوڑ کر بندگی کیا کرتے تھے ، پھر ان سب کو جہنّم کا راستہ دکھاوٴ۔ اور ذرا اِنہیں ٹھہراوٴ اِن سے کچھ پوچھنا ہے۔” کیا ہوگیا تمہیں، اب کیوں ایک دُوسرے کی مدد نہیں کرتے؟ ارے، آج تو یہ اپنے آپ کو (اور ایک دُوسرے کو)حوالے کیے دے رہے ہیں۔“ اس کے بعد یہ ایک دُوسرے کی طرف مُڑیں گے اور باہم تکرار شروع کر دیں گے۔ (پیروی کرنے والے اپنے پیشواوٴں سے )کہیں گے،” تم ہمارے پاس سیدھے رُخ سے آتے تھے۔“  وہ جواب دیں گے” نہیں، بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہ تھے۔ ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا، تم خود ہی سرکش لوگ تھے۔ آخر کار ہم اپنے ربّ کے اِس فرمان کے مستحق ہوگئے کہ ہم عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں۔ سو ہم نے تم کو بہکایا، ہم خود بہکے ہوئے تھے۔

اِس طرح وہ سب اُس روز عذاب میں مشترک ہوں گے۔  ہم مجرموں کے ساتھ یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔

گھیر لاوٴ سب ظالموں

سورة الصفت حاشیہ نمبر١۴

ظالم سے مراد صرف وہی لوگ نہیں ہیں جنہوں نے دوسروں پر ظلم کیا ہو، بلکہ قرآن کی اصطلاح میں ہر وہ شخص ظالم ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بغاوت و سرکشی اور نافرمانی کی راہ اختیار کی ہو۔

ان کے ساتھیوں

سورة الصفت حاشیہ نمبر١۵

اصل میں لفظ ’’ ازواج‘‘ استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد ان کی وہ بیویاں بھی ہو سکتی ہیں جو اس بغاوت میں ان کی رفیق تھیں ، اور وہ سب لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو انہی کی طرح باغی و سرکش اور نافرمان تھے ۔ علاوہ بریں اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ایک ایک قسم کے مجرم الگ الگ جتھوں کی شکل میں جمع کیے جائیں گے ۔

جن کی وہ خدا کو چھوڑ کر بندگی کیا کرتے تھے

سورة الصفت حاشیہ نمبر١٦

اس جگہ معبودوں  سے مراد دو قسم کے معبود ہیں ۔ ایک، وہ انسان اور شیاطین جن کی اپنی خواہش اور کوشش یہ تھی کہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ان کی بندگی کریں ۔ دوسرے وہ اصنام اور شجر و حجر وغیرہ جن کی پرستش دنیا میں کی جاتی رہی ہے ۔ ان میں سے پہلی قسم کے  معبود تو خود مجرمین میں شامل ہوں گے اور انہیں سزا کے طور پر جہنم کا راستہ دکھایا جائے گا۔ اور دوسری قسم کے معبود اپنے پرستاروں کے ساتھ اس لیے جہنم میں ڈالے جائیں گے کہ وہ انہیں دیکھ کر ہر وقت شرمندگی محسوس کریں اور اپنی حماقتوں کا ماتم کرتے رہیں ۔ ان کے علاوہ ایک تیسری قسم کے معبود وہ بھی ہیں جنہیں دنیا میں پوجا تو گیا ہے مگر خود ان کا اپنا ایما ہر گز نہ تھا کہ ان کی پرستش کی جائے ، بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ انسانوں کو غیر اللہ کی پرستش سے منع کرتے رہے ، مثلاً فرشتے ، انبیا ء اور اولیاء ۔ اس قسم کے معبود ظاہر ہے کہ ان معبودوں میں شامل نہ ہوں گے جنہیں اپنے پرستاروں کے ساتھ جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا۔

حوالے کیے دے رہے ہیں

سورة الصفت حاشیہ نمبر١۷

پہلا فقرہ مجرمین کو خطاب کر کے ارشاد ہو گا۔ اور دوسرا فقرہ ان عام حاضرین کی طرف رخ کر کے فرمایا جائے گا جواس وقت جہنم کی طرف مجرمین کی روانگی کا منظر دیکھ رہے ہوں گے ۔ یہ فقرہ خود بتا رہا ہے کہ اس وقت حالت کیا ہو گی ۔ بڑے ہیکڑ مجرمین کے کَس بَل نکل چکے ہوں گے اور کسی مزاحمت کے بغیر وہ کان دبائے جہنم کی طرف جا رہے ہوں گے ۔ کہیں کوئی ہز میجسٹی دھکے کھا رہے ہوں گے اور دربار یوں میں سے کوئی ’’ اعلیٰ حضرت ‘‘ کو بچانے کے لیے آگے نہ بڑھے گا۔ کہیں کوئی فاتح عالَم اور ڈکٹیٹر انتہائی ذلت کے ساتھ چلا جا رہا ہو گا اور اس کا لشکر جرّار خود اسے سزا کے لیے پیش کر دے گا۔ کہیں کوئی پیر صاحب یا گرو جی یا ہولی فادر واصل بجہنم  ہو رہے ہوں گے اور مُریدوں میں سے کسی کو یہ فکر نہ ہو گی کہ حضرتِ والا کی توہین نہ ہونے پائے ۔ کہیں کوئی لیڈر صاحب کسمپرسی کے عالم میں جہنم کی طرف رواں دواں ہوں گے اور دنیا میں جو لوگ ان کی کبریائی کے جھنڈے اٹھائے پھرتے تھے وہ سب وہاں ان کی طرف سے نگاہیں پھیر لیں گے ۔ حد یہ ہے کہ جو عاشق دنیا میں اپنے معشوق پر جان چھڑکتے تھے انہیں بھی اس کے حال بد کی کوئی پروا نہ ہو گی۔ اس حالت کا نقشہ کھینچ کر اللہ تعالیٰ دراصل یہ بات ذہن نشین کرانا چاہتا ہے کہ دنیا میں انسان اور انسان کے جو تعلقات اپنے رب سے بغاوت پر مبنی ہیں وہ کس طرح آخرت میں ٹوٹ کر رہ جائیں گے ، اور یہاں جو لوگ ہمچو ما دیگرے نیست  کے غرور میں مبتلا ہیں ، وہاں ان کا تکبر کس طرح خاک میں مل جائے گا۔

تم ہمارے پاس سیدھے رُخ سے آتے تھے۔

 

سورة الصفت حاشیہ نمبر١۸

اصل الفاظ ہیں کُنْتُمْ تَأ تُوْ نَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ۔ ’’ تم ہمارے پاس یمین کی راس سے آتے تھے ۔‘‘ یمین کا لفظ عربی زبان میں متعدد مفہومات کے لیے بولا جاتا ہے ۔ اگر اس کو قوت و طاقت کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ ہم کمزور تھے اور تم ہم پر غالب تھے ، اس لیے تم اپنے زور سے ہم کو گمراہی کی طرف کھینچ لے گئے ۔ اگر اس کو خیر اور بھلائی کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ تم نے خیر خواہ بن کر ہمیں دھوکا دیا۔ تم ہمیں یقین دلاتے رہے کہ جس راہ پر تم ہمیں چلا رہے ہو یہی حق اور بھلائی کی راہ ہے ۔ اس لیے ہم تمہارے فریب میں آ گئے ۔اور اگر اسے قَسم کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تم نے قَسمیں کھا کھا کر ہمیں اطمینان دلایا تھا کہ حق وہی ہے جو تم پیش کر رہے ہو۔

عذاب میں مشترک ہوں گے

سورة الصفت حاشیہ نمبر۲۰

یعنی پیرو بھی اور پیشوا بھی، گمراہ کرنے والے بھی اور گمراہ ہونے والے بھی، ایک ہی عذاب میں شریک ہوں گے ۔ نہ پیروؤں کا  یہ عذر مسموع ہو گا کہ و ہ  خود گمراہ نہیں ہوئے تھے بلکہ کیا گیا تھا۔ اور نہ پیشواؤں کی اِس معذرت کو قبول کیا جائے گا کہ گمراہ ہونے والے خود ہی راہ راست کے طالب نہ تھے ۔

آخرت میں گمراہ پیشوا اور پیرو ایک دوسرے کو مجرم ٹھیرائیں گے

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد چہارم-آخرت-صفحہ413

سورہ مومن آیات 47،  48

وَ اِذْ يَتَحَآجُّوْنَ فِي النَّارِ فَيَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِيْبًا مِّنَ النَّارِ۰۰۴۷قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِيْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْعِبَادِ۰۰۴۸

پھر ذرا خیال کرو اُس وقت کا جب یہ لوگ دوزخ میں ایک دُوسرے سے جھگڑ رہے ہوں گے۔ دنیا میں جو لوگ کمزور تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ ” ہم تمہارے تابع تھے، اب کیا یہاں تم نارِ جہنّم کی تکلیف کے کچھ حصّے سے ہم کو بچا لوگے؟“  وہ بڑے بننے والے جواب دیں گے”ہم سب یہاں ایک حال میں ہیں، اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکا ہے

اب کیا یہاں تم نارِ جہنّم کی تکلیف کے کچھ حصّے سے ہم کو بچا لوگے

سورة المومن حاشیہ نمبر٦۴

یہ بات وہ اس امید پر نہیں کہیں گے کہ ہمارے یہ سابق پیشوا یا حاکم یا رہنما  فی الواقع ہمیں عذاب سے بچا سکیں گے یا اس میں کچھ کمی کرا دیں گے۔  اس وقت تو ان پر یہ حقیقت کھل چکی ہو گی کہ یہ لوگ یہاں ہمارے کسی کام آنے والے نہیں ہیں۔ مگر وہ انہیں ذلیل کرنے کے لیے ان سے کہیں گے کہ دنیا میں تو حضور بڑے طنطنے سے اپنی سرداری ہم پر چلاتے تھے، اب یہاں اس آفت سے بھی تو ہمیں بچایئے جو آپ ہی کی بدولت ہم پر آئی ہے۔

اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکا ہے

 

سورة المومن حاشیہ نمبر٦۵

یعنی ہم اور تم، دونوں ہی سزا یافتہ ہیں، اور اللہ کی عدالت سے جس کو جو سزا ملنی تھی مل چکی ہے۔ اس کے فیصلے کو بدلنا، یا اس کی دی ہوئی سزا میں کمی بیشی کر دینا اب کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں