مشرکوں کے الٰہوں اور ان کے اولیا کی کوئی حیثیت نہ ہوگی
مشرکوں کے الٰہوں اور
ان کے اولیا کی کوئی حیثیت نہ ہوگی
تفہیم القرآن جلد
چہارم صفحہ 401
سورہ مومن آیات
15تا20
رَفِيْعُ
الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ
يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِۙ۰۰۱۵يَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا يَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ١ؕ
لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ۰۰۱۶اَلْيَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ١ؕ
اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ۰۰۱۷وَ
اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ
كٰظِمِيْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ حَمِيْمٍ وَّ لَا شَفِيْعٍ يُّطَاعُؕ۰۰۱۸يَعْلَمُ خَآىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَ مَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ۰۰۱۹وَ اللّٰهُ يَقْضِيْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا
يَقْضُوْنَ بِشَيْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُؒ۰۰۲۰
وہ بلند درجوں والا،
مالکِ عرش ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے رُوح نازل کردیتا
ہے تاکہ وہ ملاقات کے دن سے خبردار کر دے۔
وہ دن جبکہ سب لوگ بے پردہ ہوں گے، اللہ سے ان کی کوئی بات بھی چھُپی ہوئی نہ ہوگی۔
(اُس روز پکار کر پُوچھا جائے گا)آج بادشاہی کس کی ہے؟ (سارا عالم پکار اُٹھے
گا)اللہ واحد قہّار کی۔ (کہا جائے گا)آج ہر متنفّس کو اُس کی کمائی کا بدلہ دیا
جائے گا جو اس نے کی تھی۔ آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ اور اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔ اے نبیؐ ، ڈرا دو اِن لوگوں کو اُس دن سے جو قریب
آلگا ہے۔ جب کلیجے مُنہ کو آرہے ہوں گے
اور لوگ چُپ چاپ غم کے گھُونٹ پیے کھڑے ہوں گے۔ ظالموں کا نہ کوئی مشفق دوست
ہوگا اور نہ کوئی شفیع جس کی بات مانی
جائے۔ اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں نے چھُپا رکھے ہیں۔ اور
اللہ ٹھیک ٹھیک بےلاگ فیصلہ کر ے گا۔ رہے وہ جن کو (یہ مشرکین)اللہ کو چھوڑ کر
پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ کرنے والے نہیں ہیں ۔ بلاشبہ اللہ ہی سب کچھ
سُننے اور دیکھنے والا ہے۔ ؏۲
وہ بلند
درجوں والا
سورة المومن حاشیہ
نمبر۲۳
یعنی تمام موجودات سے
اس کا مقام بدر جہا بلند ہے۔ کوئی ہستی بھی جو اس کائنات میں موجود ہے، خواہ وہ
کوئی فرشتہ ہو یا نبی یا ولی، یا اور کوئی مخلوق، اس کا مقام دوسری مخلوقات کے
مقابلے میں چاہے کتنا ہی ارفع و اشرف ہو، مگر اللہ تعالیٰ کے بلند ترین مقام سے اس
کے قریب ہونے تک کا تصور نہیں کیا جا سکتا کجا کہ خدائی صفات و اختیارات میں اس کے
شریک ہونے کا گمان کیا جا سکے۔
مالکِ عرش ہے
سورة المومن حاشیہ
نمبر۲۴
یعنی ساری کائنات کا
بادشاہ فرمانروا ہے۔ کائنات کے تخت سلطنت کا مالک ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد
دوم، صفحات 36۔262۔ 441۔ جلد سوم، ص 87)
اپنے بندوں
میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے رُوح
نازل کردیتا ہے
سورة المومن حاشیہ
نمبر۲۵
روح سے مراد وحی اور
نبوت ہے (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد دوم،
صفحات 524۔ 639) اور یہ ارشاد کہ اللہ
اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے یہ روح نازل کرتا ہے، اس معنی میں ہے کہ
اللہ کے فضل پر کسی کا اجارہ نہیں ہے۔ جس طرح کوئی شخص یہ اعتراض کرنے کا حق نہیں
رکھتا کہ فلاں شخص کو حسن کیوں دیا گیا اور فلاں شخص کو حافظہ یا ذہانت کی غیر
معمولی قوت کیوں عطا کی گئی، اسی طرح کسی کو یہ اعتراض کرنے کا بھی حق نہیں ہے کہ
منصب نبوت کے لیے فلاں شخص ہی کو کیوں چنا گیا اور جسے ہم چاہتے تھے اسے کیوں نہ
نبی بنایا گیا۔
ملاقات کے
دن
سورة المومن حاشیہ
نمبر۲٦
یعنی جس روز تمام
انسان اور جن اور شیاطین بیک وقت اپنے رب کے سامنے جمع ہوں گے اور ان کے اعمال کے
سارے گواہ بھی حاضر ہوں گے۔
آج بادشاہی
کس کی ہے
سورة المومن حاشیہ
نمبر۲۷
یعنی دنیا میں تو بہت
سے بر خود غلط لوگ اپنی بادشاہی و جبّاری
کے ڈنکے پیٹتے رہے، اور بہت سے احمق ان کی بادشاہیاں اور کبریائیاں مانتے رہے، اب
بتاؤ کہ بادشاہی فی الواقع کس کی ہے؟ اختیارات کا اصل مالک کون ہے؟ اور حکم کس کا
چلتا ہے؟ یہ ایسا مضمون ہے جسے اگر کوئی شخص گوش ہوش سے سنے تو خواہ وہ کتنا ہی
بڑا بادشاہ یا آمر مطلق بنا بیٹھا ہو، اس کا زہرہ آب ہو جاۓ اور ساری جبّاریت
کی ہوا اس کے دماغ سے نکل جاۓ۔ اس موقع پر تاریخ کا یہ واقعہ قابل ذکر ہے کہ سامانی
خاندان کا فرمانروا نصر بن احمد(331۔301) جب نیشاپور میں داخل ہوا تو اس نے ایک
دربار منعقد کیا اور تخت پر بیٹھنے کے بعد فرمائش کی کہ کاروائی کا افتتاح قرآن مجید
کی تلاوت سے ہو۔ یہ سن کر ایک بزرگ آگے بڑھے اور انہیں نے یہی رکوع تلاوت کیا۔ جس
وقت وہ اس آیت پر پہنچے تو نصر پر ہیبت طاری ہو گئی۔ لرزتا ہوا تخت سے اُترا، تاج سرسے اُتار کر سجدے میں گر گیا اور بولا اے رب،
بادشاہی تیری ہی ہے نہ کہ میری۔
آج کسی پر
کوئی ظلم نہ ہوگا
سورة المومن حاشیہ
نمبر۲۸
یعنی کسی نوعیت کا
ظلم بھی نہ ہو گا۔ واضح رہے کہ جزاء کے معاملہ میں ظلم کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی اجر کا مستحق ہو اور
وہ اس کو نہ دیا جاۓ۔ دوسرے یہ کہ وہ جتنے اجر کا مستحق ہو اس سے کم دیا جاۓ۔ تیسرے یہ کہ
وہ سزا کا مستحق نہ ہو مگر اسے سزا د ےڈالی جاۓ۔ چوتھے یہ کہ
جو سزا کا مستحق ہو اسے سزا نہ دی جاۓ۔ پانچویں یہ کہ جو سزا کا مستحق ہو ا سے زیادہ سزا دے دی
جاۓ۔ چھٹے یہ کہ مظلوم منہ دیکھتا رہ جاۓ اور ظالم اس کی
آنکھوں کی سامنے صاف بر ی ہو جاۓ۔ ساتویں یہ کہ ایک کے گناہ میں دوسرا پکڑ لیا جاۓ۔ اللہ تعالیٰ
کے ارشاد کا منشا یہ ہے کہ ان تمام نوعیتوں میں سے کسی نوعیت کا ظلم بھی اس کی
عدالت میں نہ ہونے پاۓ گا۔
اور اللہ
حساب لینے میں بہت تیز ہے۔
سورة المومن حاشیہ
نمبر۲۹
مطلب یہ ہے کہ اللہ
کو حساب لینے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔ وہ جس طرح کائنات کی ہر مخلوق کو بیک وقت
رزق دے رہا ہے اور کسی کی رزق رسانی کے انتظام میں اس کو ایسی مشغولیت نہیں ہوتی
کہ دوسروں کو رزق دینے کی اسے فرصت نہ ملے، وہ جس طرح کائنات کی ہر چیز کو بیک وقت
دیکھ رہا ہے، ساری آوازوں کو بیک وقت سن رہا ہے، تمام چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے
بڑے معاملات کی بیک وقت تدبیر کر رہا ہے، اور کوئی چیز اس کی توجہ کو اس طرح جذب نہیں کر لیتی کہ اسی وقت وہ دوسری
چیزوں کی طرف توجہ نہ کر سکے، اسی طرح وہ ہر ہر فرد کا بیک وقت محاسبہ بھی کر لے
گا اور ایک مقدمے کی سماعت کرنے میں اسے ایسی مشغولیت لاحق نہ ہو گی کہ اسی وقت
دوسرے بے شمار مقدمات کی سماعت نہ کر سکے۔ پھر اس کی عدالت میں اس بنا پر بھی کوئی
تاخیر نہ ہو گی کہ واقعات مقدمہ کی تحقیق اور اس کے لیے شہادتیں فراہم ہونے میں
وہاں کوئی مشکل پیش آۓ۔ حاکم عدالت براہ راست خود تمام حقائق سے واقف ہو گا۔ ہر
فریق مقدمہ اس کے سامنے بالکل بے نقاب ہو گا۔ اور واقعات کی کھلی کھلی ناقابل
انکار شہادتیں چھوٹی سے چھوٹی جزئی تفصیلات تک کے ساتھ بلا تاخیر پیش ہو جائیں گی۔
اس لیے ہر مقدمے کا فیصلہ جھٹ پٹ ہو جاۓ گا۔
ڈرا دو اِن
لوگوں کو اُس دن سے جو قریب آلگا ہے
سورة المومن حاشیہ
نمبر۳۰
قرآن مجید میں لوگوں
کو بار بار یہ احساس دلایا گیا ہے کہ قیامت ان سے کچھ دور نہیں ہے کہ بلکہ قریب ہی
لگی کھڑی ہے اور ہر لمحہ آسکتی ہے۔ کہیں فرمایا اَتیٰ اَمْرُاللہِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ(النحل:1)۔ کہیں ارشاد ہوا اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُھُمْ وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوْنَ (الانبیاء :1) کہیں متنبہ کیا گیا اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ
الْقَمَرُ (القمر:1)۔ کہیں فرمایا
گیا اَزِفَتِ الْاٰ زِفَۃُ لَیْسَ لَھَا مِنْ دُوْنِ
اللہِ کَاشِفَۃٌ (النجم:57)۔ ان ساری باتوں سے مقصود لوگوں کو
متنبہ کرنا ہے کہ قیامت کو دور کی چیز سمجھ کر بے خوف نہ رہیں اور سنبھلنا ہے تو ایک
لمحہ ضائع کیے بغیر سنبھل جائیں۔
ظالموں کا
نہ کوئی مشفق دوست ہوگا
سورة المومن حاشیہ
نمبر۳١
اصل میں لفظ حَمَیْم
استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد کسی شخص کا ایسا دوست ہے جو اس کو پٹتے دیکھ کر جوش
میں آۓ اور اسے بچانے کے لیے دوڑے۔
نہ کوئی شفیع
جس کی بات مانی جائے
سورة المومن حاشیہ
نمبر۳۲
یہ بات برسبیل تنزل،
کفار کے عقیدہ شفاعت کی تردید کرتے ہوۓ فرمائی گئی ہے۔
حقیقت میں تو وہاں ظالموں کا کوئی شفیع سرے سے ہو گا ہی نہیں، کیونکہ شفاعت کی
اجازت اگر مل بھی سکتی ہے تو اللہ کے نیک بندوں کو مل سکتی ہے، اور اللہ
کے نیک بندے کبھی کافروں اور مشرکوں اور فساق و فجار کے دوست نہیں ہو سکتے کہ وہ
انہیں بچانے کے لیے سفارش کا خیال بھی کریں۔ لیکن چونکہ کفار و مشرکین اور گمراہ
لوگوں کا بالعموم یہ عقیدہ رہا ہے، اور آج بھی ہے، کہ ہم جن بزرگوں کے دامن گرفتہ
ہیں وہ کبھی ہمیں دوزخ میں نہ جانے دیں گے بلکہ اَڑ کر کھڑے ہو جائیں گے اور بخشوا
کر ہی چھوڑیں گے، اس لیے فرمایا گیا کہ وہاں ایسا شفیع کوئی بھی نہ ہو گا جس کی
بات مانی جاۓ اور جس کی سفارش اللہ کو لازماً قبول ہی کرنی پڑے۔
بلاشبہ
اللہ ہی سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا ہے
سورة المومن حاشیہ
نمبر۳۳
یعنی تمہارے معبودوں
کی طرح وہ کوئی اندھا بہرا خدا نہیں ہے جسے کچھ پتہ نہ ہو کہ جس آدمی کے معاملے کا
وہ فیصلہ کر رہا ہے اس کے کیا کرتوت تھے۔
Comments
Post a Comment