آخرت میں اللہ تعالٰی بتادے گا کہ کون کیا کرکے آیا ہے
آخرت
میں اللہ تعالٰی بتادے گا کہ کون کیا کرکے آیا ہے
فہرست موضوعات- تفہیم القران جلد چہارم-آخرت-صفحہ17
سورہ لقمان آیت 15
وَ اِنْ
جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا
تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوْفًا١ٞ وَّ اتَّبِعْ سَبِيْلَ
مَنْ اَنَابَ اِلَيَّ١ۚ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا
كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۰۰۱۵
لیکن اگر وہ تجھ پر
دباوٴ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہر گز نہ مان۔ دُنیا میں ان کے
ساتھ نیک برتاوٴ کر تا رہ مگرپیروی اُس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا
ہے ۔ پھر تم سب کو پلٹنا میری ہی طرف ہے ،
اُس وقت میں تمہیں بتادوں گا کہ تم کیسے عمل کرتے رہے ہو۔
آخرت میں
اللہ تعالٰی بتادے گا کہ کون کیا کرکے آیا ہے
فہرست موضوعات- تفہیم القران جلد چہارم-آخرت-صفحہ21
سورہ لقمان آیت 23
وَ مَنْ
كَفَرَ فَلَا يَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا
عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۰۰۲۳
اب جو کفر کرتا ہے اس
کا کفر تمہیں غم میں مبتلا نہ کرے ، انھیں پلٹ
کر آنا تو ہماری ہی طرف ہے، پھر ہم انھیں بتادیں گے کہ وہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں۔ یقیناً اللہ سینوں کے
چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔
آخرت میں
اللہ تعالٰی بتادے گا کہ کون کیا کرکے آیا ہے
فہرست موضوعات- تفہیم القران جلد چہارم-آخرت-صفحہ361
سورہ زمر آیت 7
اِنْ
تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا يَرْضٰى لِعِبَادِهِ
الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا يَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ
وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا
كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۰۰۷
اگر تم کُفر کرو تو
اللہ تم سے بے نیاز ہے ، لیکن وہ اپنے
بندوں کے لیے کُفر کو پسند نہیں کرتا، اور
اگر تم شکر کرو تو اسے وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے۔ کوئی بوجھ اُٹھانے والا کسی دُوسرے کا بوجھ نہ
اُٹھائے گا۔
آخر کار تم سب کو
اپنے ربّ کی طرف پلٹنا ہے ، پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو، وہ تو
دلوں کا حال تک جانتا ہے۔
آخرت میں
اللہ تعالٰی بتادے گا کہ کون کیا کرکے آیا ہے
فہرست موضوعات- تفہیم القران جلد چہارم-آخرت-صفحہ467
سورہ حم سجدہ آیات
49، 50
لَا
يَسْـَٔمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَيْرِ١ٞ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ
فَيَـُٔوْسٌ قَنُوْطٌ۰۰۴۹وَ لَىِٕنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ
ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَيَقُوْلَنَّ هٰذَا لِيْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ
قَآىِٕمَةً١ۙ وَّ لَىِٕنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّيْۤ اِنَّ لِيْ عِنْدَهٗ
لَلْحُسْنٰى ١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ۠ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١ٞ وَ
لَنُذِيْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِيْظٍ۰۰۵۰
انسان کبھی بھلائی کی
دُعا مانگتے نہیں تھکتا، اور جب کوئی آفت
اس پر آجاتی ہے تو مایوس و دل شکستہ ہوجاتا ہے، مگر جونہی کہ سخت وقت گزر جانے کے بعد ہم اسے اپنی رحمت کا مزا
چکھاتے ہیں ، یہ کہتا ہے کہ”میں اِسی کا مستحق ہوں، اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت کبھی آئے گی، لیکن
اگر واقعی میں اپنے ربّ کی طرف پلٹایا گیا تو وہاں بھی مزے کروں گا۔“ حالانکہ کُفر
کرنے والوں کو لازماً ہم بتا کر رہیں گے کہ وہ کیا کر کے آئے ہیں اور انہیں ہم بڑے
گندے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔
انسان کبھی
بھلائی کی دُعا مانگتے نہیں تھکتا
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ
نمبر٦۵
بھلائی سے مراد ہے
خوشحالی، کشادہ رزق، تندرستی، بال بچوں کی خیر وغیرہ۔ اور انسان سے مراد یہاں نوع
انسانی کا ہر فرد نہیں ہے، کیونکہ اس میں تو انبیاء اور صلحاء بھی آ جاتے ہیں جو
اس صفت سے مبرا ہیں جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔بلکہ اس مقام پر وہ چھچورا اور کم ظرف
انسان مراد ہے جو برا وقت آنے پر گڑگڑانے لگتا ہے اور دنیا کا عیش پاتے ہی آپے سے
باہر ہو جاتا ہے۔ چونکہ نوع انسانی کی اکثریت اسی کمزوری میں مبتلا ہے اس لیے اسے
انسان کی کمزوری قرار دیا گیا ہے۔
یہ کہتا ہے
کہ”میں اِسی کا مستحق ہوں
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ
نمبر٦٦
یعنی یہ سب کچھ مجھے
اپنی اہلیت کی بنا پر ملا ہے اور میرا حق یہی ہے کہ میں یہ کچھ پاؤں ۔
Comments
Post a Comment