آخرت میں سب نافرمان اور ان کے معبود گھیر لائے جائیں گے اور جہنم واصل کئے جائیں گے
آخرت
میں سب نافرمان اور ان کے معبود گھیر لائے جائیں گے اور جہنم واصل کئے جائیں گے
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد چہارم-آخرت-صفحہ283، 285
سورہ صفّٰت آیات22تا35
اُحْشُرُوا
الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَۙ۰۰۲۲مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِيْمِ۰۰۲۳وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْـُٔوْلُوْنَ۠ۙ۰۰۲۴مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ۰۰۲۵بَلْ هُمُ
الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ۠۰۰۲۶
وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ
يَّتَسَآءَلُوْنَ۰۰۲۷قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ
الْيَمِيْنِ۰۰۲۸قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَۚ۰۰۲۹وَ مَا كَانَ
لَنَا عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِيْنَ۰۰۳۰فَحَقَّ
عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآىِٕقُوْنَ۰۰۳۱فَاَغْوَيْنٰكُمْ۠ اِنَّا
كُنَّا غٰوِيْنَ۰۰۳۲فَاِنَّهُمْ يَوْمَىِٕذٍ فِي الْعَذَابِ
مُشْتَرِكُوْنَ۰۰۳۳اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِيْنَ۰۰۳۴اِنَّهُمْ
كَانُوْۤا اِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ
يَسْتَكْبِرُوْنَ۠ۙ۰۰۳۵
(حکم ہوگا)گھیر لاوٴ
سب ظالموں اور ان کے ساتھیوں اور اُن کے معبُودوں کو جن کی وہ خدا کو چھوڑ
کر بندگی کیا کرتے تھے ، پھر ان سب کو جہنّم کا راستہ دکھاوٴ۔ اور ذرا اِنہیں
ٹھہراوٴ اِن سے کچھ پوچھنا ہے۔” کیا ہوگیا تمہیں، اب کیوں ایک دُوسرے کی مدد نہیں
کرتے؟ ارے، آج تو یہ اپنے آپ کو (اور ایک دُوسرے کو)حوالے کیے دے رہے ہیں۔“ اس کے بعد یہ ایک دُوسرے کی طرف مُڑیں گے اور باہم تکرار
شروع کر دیں گے۔ (پیروی کرنے والے اپنے پیشواوٴں سے )کہیں گے،” تم ہمارے پاس سیدھے
رُخ سے آتے تھے۔“ وہ جواب دیں گے” نہیں،
بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہ تھے۔ ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا، تم خود ہی سرکش
لوگ تھے۔ آخر کار ہم اپنے ربّ کے اِس فرمان کے مستحق ہوگئے کہ ہم عذاب کا مزا
چکھنے والے ہیں۔ سو ہم نے تم کو بہکایا، ہم خود بہکے ہوئے تھے۔“
اِس طرح وہ سب اُس
روز عذاب میں مشترک ہوں گے۔ ہم مجرموں کے
ساتھ یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔
گھیر لاوٴ سب ظالموں
سورة الصفت حاشیہ
نمبر١۴
ظالم سے مراد صرف وہی
لوگ نہیں ہیں جنہوں نے دوسروں پر ظلم کیا ہو، بلکہ قرآن کی اصطلاح میں ہر وہ شخص
ظالم ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بغاوت و سرکشی اور نافرمانی کی راہ اختیار
کی ہو۔
ان کے ساتھیوں
سورة الصفت حاشیہ
نمبر١۵
اصل میں لفظ ’’
ازواج‘‘ استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد ان کی وہ بیویاں بھی ہو سکتی ہیں جو اس
بغاوت میں ان کی رفیق تھیں ، اور وہ سب لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو انہی کی طرح باغی و
سرکش اور نافرمان تھے ۔ علاوہ بریں اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ایک ایک قسم
کے مجرم الگ الگ جتھوں کی شکل میں جمع کیے جائیں گے ۔
جن کی وہ خدا کو چھوڑ
کر بندگی کیا کرتے تھے
سورة الصفت حاشیہ
نمبر١٦
اس جگہ معبودوں سے مراد دو قسم کے معبود ہیں ۔ ایک، وہ انسان
اور شیاطین جن کی اپنی خواہش اور کوشش یہ تھی کہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ان کی بندگی
کریں ۔ دوسرے وہ اصنام اور شجر و حجر وغیرہ جن کی پرستش دنیا میں کی جاتی رہی ہے ۔
ان میں سے پہلی قسم کے معبود تو خود مجرمین
میں شامل ہوں گے اور انہیں سزا کے طور پر جہنم کا راستہ دکھایا جائے گا۔ اور دوسری
قسم کے معبود اپنے پرستاروں کے ساتھ اس لیے جہنم میں ڈالے جائیں گے کہ وہ انہیں دیکھ
کر ہر وقت شرمندگی محسوس کریں اور اپنی حماقتوں کا ماتم کرتے رہیں ۔ ان کے علاوہ ایک
تیسری قسم کے معبود وہ بھی ہیں جنہیں دنیا میں پوجا تو گیا ہے مگر خود ان کا اپنا
ایما ہر گز نہ تھا کہ ان کی پرستش کی جائے ، بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ انسانوں کو
غیر اللہ کی پرستش سے منع کرتے رہے ، مثلاً فرشتے ، انبیا ء اور اولیاء ۔ اس قسم
کے معبود ظاہر ہے کہ ان معبودوں میں شامل نہ ہوں گے جنہیں اپنے پرستاروں کے ساتھ
جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا۔
حوالے کیے
دے رہے ہیں
سورة الصفت حاشیہ
نمبر١۷
پہلا فقرہ مجرمین کو
خطاب کر کے ارشاد ہو گا۔ اور دوسرا فقرہ ان عام حاضرین کی طرف رخ کر کے فرمایا
جائے گا جواس وقت جہنم کی طرف مجرمین کی روانگی کا منظر دیکھ رہے ہوں گے ۔ یہ فقرہ
خود بتا رہا ہے کہ اس وقت حالت کیا ہو گی ۔ بڑے ہیکڑ مجرمین کے کَس بَل نکل چکے
ہوں گے اور کسی مزاحمت کے بغیر وہ کان دبائے جہنم کی طرف جا رہے ہوں گے ۔ کہیں کوئی
ہز میجسٹی دھکے کھا رہے ہوں گے اور دربار یوں میں سے کوئی ’’ اعلیٰ حضرت ‘‘ کو
بچانے کے لیے آگے نہ بڑھے گا۔ کہیں کوئی فاتح عالَم اور ڈکٹیٹر انتہائی ذلت کے
ساتھ چلا جا رہا ہو گا اور اس کا لشکر جرّار خود اسے سزا کے لیے پیش کر دے گا۔ کہیں
کوئی پیر صاحب یا گرو جی یا ہولی فادر واصل بجہنم
ہو رہے ہوں گے اور مُریدوں میں سے کسی کو یہ فکر نہ ہو گی کہ حضرتِ والا کی
توہین نہ ہونے پائے ۔ کہیں کوئی لیڈر صاحب کسمپرسی کے عالم میں جہنم کی طرف رواں دواں
ہوں گے اور دنیا میں جو لوگ ان کی کبریائی کے جھنڈے اٹھائے پھرتے تھے وہ سب وہاں
ان کی طرف سے نگاہیں پھیر لیں گے ۔ حد یہ ہے کہ جو عاشق دنیا میں اپنے معشوق پر
جان چھڑکتے تھے انہیں بھی اس کے حال بد کی کوئی پروا نہ ہو گی۔ اس حالت کا نقشہ کھینچ
کر اللہ تعالیٰ دراصل یہ بات ذہن نشین کرانا چاہتا ہے کہ دنیا میں انسان اور انسان
کے جو تعلقات اپنے رب سے بغاوت پر مبنی ہیں وہ کس طرح آخرت میں ٹوٹ کر رہ جائیں گے
، اور یہاں جو لوگ ہمچو ما دیگرے نیست کے
غرور میں مبتلا ہیں ، وہاں ان کا تکبر کس طرح خاک میں مل جائے گا۔
تم ہمارے
پاس سیدھے رُخ سے آتے تھے۔
سورة الصفت حاشیہ
نمبر١۸
اصل الفاظ ہیں کُنْتُمْ تَأ تُوْ نَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ۔ ’’ تم ہمارے پاس یمین کی راس سے آتے تھے ۔‘‘ یمین کا لفظ
عربی زبان میں متعدد مفہومات کے لیے بولا جاتا ہے ۔ اگر اس کو قوت و طاقت کے معنی
میں لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ ہم کمزور تھے اور تم ہم پر غالب تھے ، اس لیے تم
اپنے زور سے ہم کو گمراہی کی طرف کھینچ لے گئے ۔ اگر اس کو خیر اور بھلائی کے معنی
میں لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ تم نے خیر خواہ بن کر ہمیں دھوکا دیا۔ تم ہمیں یقین
دلاتے رہے کہ جس راہ پر تم ہمیں چلا رہے ہو یہی حق اور بھلائی کی راہ ہے ۔ اس لیے
ہم تمہارے فریب میں آ گئے ۔اور اگر اسے قَسم کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ
ہو گا کہ تم نے قَسمیں کھا کھا کر ہمیں اطمینان دلایا تھا کہ حق وہی ہے جو تم پیش
کر رہے ہو۔
عذاب میں
مشترک ہوں گے
سورة الصفت حاشیہ
نمبر۲۰
یعنی پیرو بھی اور پیشوا
بھی، گمراہ کرنے والے بھی اور گمراہ ہونے والے بھی، ایک ہی عذاب میں شریک ہوں گے ۔
نہ پیروؤں کا یہ عذر مسموع ہو گا کہ و ہ خود گمراہ نہیں ہوئے تھے بلکہ کیا گیا تھا۔ اور
نہ پیشواؤں کی اِس معذرت کو قبول کیا جائے گا کہ گمراہ ہونے والے خود ہی راہ راست
کے طالب نہ تھے ۔
آخرت میں سب نافرمان
اور ان کے معبود گھیر لائے جائیں گے اور جہنم واصل کئے جائیں گے
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد چہارم-آخرت-صفحہ449
سورہ حم سجدہ آیت 19
وَ يَوْمَ
يُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ۰۰۱۹
اور ذرا اُس وقت کا خیال
کرو جب اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ
نمبر۲۳
اصل مدعا یہ کہنا ہے
کہ جب وہ اللہ کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے گھیر لاٴئے جائیں گے۔ لیکن اس مضمون
کو ان الفاظ میں بین کیا گیا ہے کہ دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لاٴئے جائیں گے۔
کیونکہ ان انجام آخر کار دوزخ ہی میں جانا ہے۔
Comments
Post a Comment