آخرت میں مجرمین کا کوئی ایسا شفیع نہ ہوگا جس کی بات لازماً مانی جائے۔

 

آخرت میں مجرمین کا کوئی ایسا شفیع نہ ہوگا جس کی بات لازماً مانی جائے۔

تفہیم القرآن جلد چہارم -آخرت-صفحہ376

سورہ زمر آیات 43،44

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا يَمْلِكُوْنَ شَيْـًٔا وَّ لَا يَعْقِلُوْنَ۰۰۴۳قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۰۰۴۴

کیا اُس خدا کو چھوڑ کر اِن لوگوں نے دُوسروں کو شفیع بنا رکھا ہے؟  ان سے کہو، کیا وہ شفاعت کریں گے خواہ اُن کے اختیار میں کچھ نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی نہ ہوں؟ کہو، شفاعت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا  وہی مالک ہے۔ پھر اُسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو۔

اُس خدا کو چھوڑ کر اِن لوگوں نے دُوسروں کو شفیع بنا رکھا ہے

 

سورة الزمر حاشیہ نمبر٦۲

یعنی ایک تو ان لوگوں نے اپنے طور پر خود ہی یہ فرض کرلیا کہ کچھ ہستیاں اللہ کے ہاں بڑی زور آور ہیں جن کی سفارش کسی طرح ٹل نہیں سکتی، حالانکہ ان کے سفارشی ہونے پر نہ کوئی دلیل، نہ اللہ تعالیٰ نے کبھی یہ فرمایا کہ ان کو میرے ہاں یہ مرتبہ حاصل ہے ، اور نہ اُن ہستیوں نے کبھی یہ دعویٰ کیا کہ ہم اپنے زور سے تمہارے سارے کام بنوا دیا کریں گے۔ اس پر مزید حماقت ان لوگوں کی یہ ہے کہ اصل مالک کو چھوڑ کر ان فرضی سفارشیوں ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں اور ان کی ساری نیاز مندیاں  اُنہی کے لیے وقف ہیں۔

شفاعت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔

سورة الزمر حاشیہ نمبر٦۳

یعنی کسی کا یہ زور نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں خود سفارشی بن کر اُٹھ ہی سکے ، کجا کہ اپنی سفارش منوالینے کی طاقت بھی اُس میں ہو۔ یہ بات تو بالکل اللہ کے اختیار میں ہے کہ جسے چاہے سفارش کی اجازت دے اور جسے چاہے نہ دے۔ اور جس کے حق میں چاہے کسی کو سفارش کرنے دے اور جس کے حق میں چاہے نہ کرنے دے۔ (شفاعت کے اسلامی عقیدے اور مشرکانہ عقیدے کا فرق سمجھنے کے لیے حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں : تفہیم القرآن جلد اوّل، ص 194۔543۔ جلد دوم۔ صفحات 262۔275۔276۔356۔368۔ 449۔ 556۔557۔562۔ جلد سوم، صفحات 126۔127۔155۔156۔252۔ جلد چہارم، السّبا، حاشیہ 40)۔

 

 

 

 

 

آخرت میں مجرمین کا کوئی ایسا شفیع نہ ہوگا جس کی بات لازماً مانی جائے۔

تفہیم القرآن جلد چہارم -آخرت-صفحہ400

سورہ مومن آیت 18

وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِيْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ حَمِيْمٍ وَّ لَا شَفِيْعٍ يُّطَاعُؕ۰۰۱۸

اے نبیؐ ، ڈرا دو اِن لوگوں کو اُس دن سے جو قریب آلگا ہے۔ جب کلیجے مُنہ کو آرہے ہوں گے اور لوگ چُپ چاپ غم کے گھُونٹ پیے کھڑے ہوں گے۔ ظالموں کا نہ کوئی مشفق دوست ہوگا 31 اور نہ کوئی شفیع جس کی بات مانی جائے

اے نبیؐ ، ڈرا دو اِن لوگوں کو اُس دن سے جو قریب آلگا ہے

 

سورة المومن حاشیہ نمبر۳۰

قرآن مجید میں لوگوں کو بار بار یہ احساس دلایا گیا ہے کہ قیامت ان سے کچھ دور نہیں ہے کہ بلکہ قریب ہی لگی کھڑی ہے اور ہر لمحہ آسکتی ہے۔ کہیں فرمایا اَتیٰ اَمْرُاللہِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ(النحل:1)۔ کہیں ارشاد ہوا اِقْتَرَبَلِلنَّاسِ حِسَابُھُمْ وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوْنَ (الانبیاء :1) کہیں متنبہ کیا گیا  اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ (القمر:1)۔ کہیں فرمایا گیا اَزِفَتِ الْاٰ زِفَۃُ لَیْسَ لَھَا مِنْ دُوْنِ اللہِ کَاشِفَۃٌ  (النجم:57)۔ ان ساری باتوں سے مقصود لوگوں کو متنبہ کرنا ہے کہ قیامت کو دور کی چیز سمجھ کر بے خوف نہ رہیں اور سنبھلنا ہے تو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر سنبھل جائیں۔

ظالموں کا نہ کوئی مشفق دوست ہوگا

 

سورة المومن حاشیہ نمبر۳١

اصل میں لفظ حَمَیْم استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد کسی شخص کا ایسا دوست ہے جو اس کو پٹتے دیکھ کر جوش میں آۓ اور اسے بچانے کے لیے دوڑے۔

اور نہ کوئی شفیع جس کی بات مانی جائے

 

 سورة المومن حاشیہ نمبر۳۲

یہ بات برسبیل تنزل، کفار کے عقیدہ شفاعت کی تردید کرتے ہوۓ فرمائی گئی   ہے۔ حقیقت میں تو وہاں ظالموں کا کوئی شفیع سرے سے ہو گا ہی نہیں، کیونکہ شفاعت کی اجازت اگر مل  بھی سکتی ہے  تو اللہ کے نیک بندوں کو مل سکتی ہے، اور اللہ کے نیک بندے کبھی کافروں اور مشرکوں اور فساق و فجار کے دوست نہیں ہو سکتے کہ وہ انہیں بچانے کے لیے سفارش کا خیال بھی کریں۔ لیکن چونکہ کفار و مشرکین اور گمراہ لوگوں کا بالعموم یہ عقیدہ رہا ہے، اور آج بھی ہے، کہ ہم جن بزرگوں کے دامن گرفتہ ہیں وہ کبھی ہمیں دوزخ میں نہ جانے دیں گے بلکہ اَڑ کر کھڑے ہو جائیں گے اور بخشوا کر ہی چھوڑیں گے، اس لیے فرمایا گیا کہ وہاں ایسا شفیع کوئی بھی نہ ہو گا جس کی بات مانی جاۓ اور جس کی سفارش اللہ کو لازماً قبول ہی کرنی پڑے۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں