بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

یتیموں سے حسن سلوک

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – اخلاقی تعلیمات – صفحہ  ۹۰

سورہ بقرہ آیت ۸۳

وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا وَّ ذِي الْقُرْبٰى وَ الْيَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِيْنِ

ماں باپ کے ساتھ، رشتے داروں کے ساتھ ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا

یتیموں سے حسن سلوک

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – اخلاقی

تعلیمات – صفحہ ۱۳۷

سورہ بقرہ آیت ۱۷۷

لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِيّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَ الْيَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِيْنَ وَ ابْنَ السَّبِيْلِ١ۙ وَ السَّآىِٕلِيْنَ۠ وَ فِي الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِيْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ۰۰۱۷۷

نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف ، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یومِ آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی  ہوئی  کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے  اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر ، مسکینوں اور مسا فروں پر، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰة دے۔ اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اسے وفا کریں، اور تنگدستی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ یہ ہیں راستباز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔

یتیموں سے حسن سلوک

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۱۶۴

سورہ بقرہ آیت ۲۱۵

يَسْـَٔلُوْنَكَ مَا ذَا يُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَ الْاَقْرَبِيْنَ وَ الْيَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِيْنِ وَ ابْنِ السَّبِيْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ۰۰۲۱۵

لوگ پوچھتے ہیں ہم کیا خرچ کریں؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر ، رشتے داروں پر، یتیموں او ر مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو۔ اور جو بھلائی  بھی تم کرو گے، اللہ اس سے باخبر ہو گا۔

یتیموں سے حسن سلوک

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۱۶۷

سورہ بقرہ آیت ۲۲۰

وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْيَتٰمٰى ١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۰۰۲۲۰

پوچھتے ہیں: یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ کہو : جس طرز عمل میں ان کے لیے بھلائی ہو ، وہی اختیار کرنا بہتر ہے۔ اگر تم اپنا اور ان کا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ آخر  وہ تمہارے بھائی بند ہی تو ہیں ۔  برائی کرنے والے اور بھلائی کرنے والے، دونوں کا حال اللہ پر روشن ہے۔اللہ چاہتا تو اس معاملہ میں تم پر سختی کرتا مگر وہ صاحب اختیار ہونے کے ساتھ صاحب حکمت بھی ہے۔

اس آیت کے نزول سے پہلے قرآن میں یتیموں کے حقوق کے حفاظت کے متعلق بار بار سخت احکام آچکے تھے اور یہاں تک فرما دیا گیا تھا کہ ”یتیم کے مال کے پاس نہ پھٹکو“۔ اور یہ کہ ” جو لوگ یتیموں کا مال ظلم کے ساتھ کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں۔“ ان شدید احکام کی بنا پر وہ لوگ، جن کی تربیت میں یتیم بچے تھے، اس قدر خوف زدہ ہوگئے تھے کہ انہوں نے ان کا کھانا پینا تک اپنے سے الگ کر دیا تھا اور اس احتیاط پر بھی انہیں ڈر تھا کہ کہیں یتیموں کے مال کا کوئی حصّہ ان کے مال میں نہ مِل جائے۔ اسی لیے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ان بچوں کے ساتھ ہمارے معاملے کی صحیح صُورت کیا ہے۔

یتیموں سے حسن سلوک

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۳۱۹

سورہ نساء آیت ،۲

وَ اٰتُوا الْيَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيْثَ بِالطَّيِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِيْرًا۰۰۲وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ۰۰۳وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِيْٓـًٔا مَّرِيْٓـًٔا۰۰۴وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِيْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِيٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِيْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا۰۰۵وَ ابْتَلُوا الْيَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَيْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ يَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ۠١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِيْرًا فَلْيَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَيْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَيْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِيْبًا۰۰۶ وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْيَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِيْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا۰۰۸وَ لْيَخْشَ الَّذِيْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَيْهِمْ١۪ فَلْيَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْيَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًا۰۰۹اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًاؒ۰۰۱۰

یتیموں کے مال اُن کو واپس دو

یعنی جب تک وہ بچّے ہیں ، اُن کے مال اُنہی کے مفاد پر خرچ کرو اور جب بڑے ہو جائیں تو جو ان کا حق ہے وہ انہیں واپس کر دو۔

اچھے مال کو بُرے مال سے نہ بدل لو

جامع فقرہ ہے جس کا ایک مطلب یہ ہے کہ  حلال کی کمائی کے بجائے حرام خوری نہ کرنے لگو، اور دُوسرا مطلب یہ ہے کہ یتیموں کے اچھّے مال کو اپنے بُرے مال سے نہ بدل لو۔

اور اُن کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھا جاوٴ، یہ بہت بڑا گناہ ہے۔

 

اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں اُن میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو۔

اس کے تین مفہوم اہلِ تفسیر نے بیان کیے ہیں:

 

(١) حضرت عائشہ ؓ اس کی تفسیر میں فرماتی ہیں کہ زمانہٴ جاہلیت میں جو یتیم بچّیاں لوگوں کی سرپرستی میں ہوتی تھیں اُن کے مال اور اُن کے حُسن و جمال کی وجہ سے ، یا اس خیال سے کہ ان کا کوئی سردھرا تو ہے نہیں، جس طرح ہم چاہیں گے دبا کر رکھیں گے ، وہ ان کے ساتھ خود نکاح کر لیتے تھے اور پھر اُن پر ظلم کیا کرتے تھے ۔ اس پر ارشاد ہوا کہ اگر تم کو اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں کے ساتھ انصاف نہ کر سکو گے تو دُوسری عورتیں دُنیا میں موجود ہیں ، ان میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان کے ساتھ نکاح کر لو۔ اسی سُورة میں اُنیسویں رکوع کی پہلی آیت اس تفسیر کی تائید کرتی ہے۔

 

(۲) ابن عباس ؓ اور ان کے شاگرد عِکرِمہ اس کی تفسیر یہ بیان کرتے ہیں کہ جاہلیت میں نکاح کی کوئی حد نہ تھی۔ ایک ایک شخص دس دس بیویاں کر لیتا تھا۔ اور جب اس کثرتِ ازدواج سے مصارف بڑھ جاتے تھے تو مجبُور ہو کر اپنے یتیم بھتیجوں، بھانجوں اور دُوسرے بے بس عزیزوں کے حقوق  پر دست درازی کرتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نکاح کے لیے چار کی حد مقرر کر دی اور فرمایا کہ ظلم و بے انصافی سے بچنے کی صُورت یہ ہے کہ ایک سے لے کر چار تک اتنی بیویاں کرو جن کے ساتھ تم عدل پر قائم رہ سکو۔

 

(۳)سَعید بن جُبَیر اور قَتَادَہ اور بعض دُوسرے مفسّرین کہتے ہیں کہ جہاں تک یتیموں کا  معاملہ ہے اہلِ جاہلیت بھی ان کے ساتھ بے انصافی کرنے کو اچھی  نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔ لیکن عورتوں کے معاملہ میں اُن کے ذہن عدل و انصاف کے تصوّر  سے خالی تھے۔ جتنی چاہتے تھے شادیاں کر لیتے تھے اور پھر اُن کے ساتھ ظلم و جور سے پیش آتے تھے۔ اِس پر ارشاد ہوا کہ اگر تم یتیموں کےساتھ بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو عورتوں کے ساتھ بھی بے انصافی کرنے سے ڈرو ۔ اوّل تو چار  سے زیادہ نکاح ہی نہ کرو، اور اس چار کی حد میں بھی بس اتنی بیویاں رکھو جن کے ساتھ انصاف کر سکو۔

 

آیت کے الفاظ ان تینوں تفسیروں کے متحمل ہیں اور عجب نہیں کہ تینوں مفہُوم مراد ہوں۔ نیز اس کا ایک مفہُوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر تم یتیموں کے ساتھ ویسے انصاف نہیں کر سکتے تو   اُن عورتوں سے نکاح کر لو جن کے ساتھ یتیم بچے ہوں۔

لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ اُن کے ساتھ عدل نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو یا اُن عورتوں کو زوجیّت میں لاوٴ جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں، بے انصافی سے بچنے کے لیے یہ زیادہ قرین ِصواب ہے۔

 

 

 

اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں۔

یعنی جب وہ سنِ بلوغ کے قریب پہنچ رہےہوں تو دیکھتے رہو کہ اُن کا عقلی نشونما کیسا ہے اور ان میں اپنے معاملات کو خود اپنی ذمّہ داری پر چلانے کی صلاحیت کس حد تک پیدا ہو رہی ہے۔

پھر اگر تم اُن کے اندر اہلیت پاوٴ تو اُن کے مال اُن کے حوالے کردو۔

مال ان کے حوالہ کرنے کے لیے  دو شرطیں عائد کی گئی ہیں: ایک بلوغ، دوسرے رُشد، یعنی مال کے صحیح استعمال کی اہلیت۔ پہلی شرط کے متعلق تو فقہائے اُمّت میں اتفاق ہے۔ دُوسری شرط کے بارے میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی رائے یہ ہے کہ اگر سنِّ  بُلوغ کو پہنچنے پر یتیم میں رُشد نہ پایا جائے تو ولی یتیم کو زیادہ سے زیادہ سات سال اور انتظام کر نا چاہیے ۔ پھر خواہ رُشد پایا جائے یا نہ پایا جائے ، اس کا مال اس کے حوالہ کر دینا چاہیے۔ اور امام ابو یوسف ، امام محمد اور امام شافعی رحمہم اللہ  کے رائے یہ ہے کہ مال حوالہ کیے جانے کے لیے بہر حال رُشد کا پایا جانا ناگزیر ہے۔ غالباً موخّر الذکر حضرات کی رائے کے مطابق یہ بات زیادہ قرینِ صواب ہو گی کہ اس معاملہ میں قاضیِ شرع سے رُجوع  کیا جائے اور اگر قاضی پر ثابت ہو جائے کہ اس میں رُشد نہیں پایا جاتا تو وہ اس کے معاملات کی نگرانی کے لیے خود کوئی مناسب انتظام کر دے۔

 ایسا کبھی نہ کرنا کہ حدِّ انصاف سے تجاوز کرکے اِس خوف سے اُن کے مال جلدی جلدی کھا جاوٴ کہ وہ بڑے ہو کر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے۔ یتیم کا جو سر پرست مال دار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے اور جو غریب ہو وہ معروف طریقہ سے کھائے۔

یعنی اپنا حق الخدمت اس حد تک لے کہ ہر غیر جانبدار معقول آدمی اس کو مناسب تسلیم کرے۔ نیز یہ کہ جو کچھ بھی حق الخدمت وہ لے چوری چھُپے نہ لے بلکہ علّانیہ متعین کر کے لے اور اس  کا حساب رکھے۔

 پھر جب اُن کے مال اُن کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پر گواہ بنالو، اور حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے۔

 

 

اور جب تقسیم کے موقع پر کنبہ کے لوگ اور یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور اُن کے ساتھ بھلے مانسوں کی سی بات کرو۔

خطاب میّت کے وارثوں سے ہے اور انہیں ہدایت فرمائی جارہی ہے کہ میراث کی تقسیم کے موقع پر جو دُور نزدیک کے رشتہ دار اور کنبہ کے غریب و مسکین لوگ اور یتیم بچّے آجائیں ان کے ساتھ تنگ دلی نہ برتو۔ میراث میں ازرُوئے شرع اُن کا حصّہ نہیں ہے تو نہ سہی، وُسعتِ قلب سے کام لے کر ترکہ  میں سے اُن کو بھی کچھ نہ کچھ دے دو، اور ان  کے ساتھ وہ دل شکن باتیں نہ کرو جو ایسے مواقع پر بالعمُوم چھوٹے دل کے کم ظرف لوگ کیا کرتے ہیں۔

 

 

لوگوں کو اس بات کا خیال کرکے ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے بے بس اولاد چھوڑتے تو مرتے وقت انہیں اپنے بچّوں کے حق میں کیسے کچھ اندیشے لاحق ہوتے۔ پس چاہیے کہ وہ خدا کا خوف کریں اور راستی کی بات کریں۔ جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں درحقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنّم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے۔

حدیث میں آیا ہے کہ جنگِ اُحُد کے بعد حضرت سعد بن رَبیع   ؓ  کی بیوی اپنی دو بچیوں کو لیے ہوئے  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور انہوں نے عرض کیا کہ ” یا رسول اللہ! یہ سعد ؓ کی بچیاں ہیں جو آپ ؐ کے ساتھ اُحُد میں شہید ہوئے ہیں۔ ان کے چچا نے پُوری جائداد پر قبضہ کر لیا ہے اور ان کے لیے ایک حبہّ  تک نہیں چھوڑا ہے ۔ اب بھلا ان بچیوں سے کون نکاح کرے گا“۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔

 

یتیموں سے حسن سلوک

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۳۵۱

سورہ نساء آیت ۳۶

وَّ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا وَّ بِذِي الْقُرْبٰى وَ الْيَتٰمٰى

ماں باپ کے ساتھ نیک برتاوٴ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آوٴ

یتیموں سے حسن سلوک

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۴۰۱

سورہ نساء آیت ۱۲۷

وَ يَسْتَفْتُوْنَكَ۠ فِي النِّسَآءِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ١ۙ وَ مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ فِيْ يَتٰمَى النِّسَآءِ الّٰتِيْ لَا تُؤْتُوْنَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ وَ الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ١ۙ وَ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلْيَتٰمٰى بِالْقِسْطِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِهٖ عَلِيْمًا۰۰۱۲۷

لوگ تم سے عورتوں کے معاملہ میں فتویٰ  پوچھتے ہیں۔ کہو اللہ تمہیں ان کے معاملہ میں فتویٰ دیتا ہے، اور ساتھ ہی وہ  احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم اس کتاب میں سنائے جارہے ہیں۔ یعنی وہ احکام جو ان یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں جن کے حق تم ادا  نہیں کرتے اور جن کے نکاح کرنے سے  تم باز رہتے ہو(یا لالچ کی بنا ء پر تم خود ان سے  نکاح کر لینا چاہتے ہو)، اور وہ احکام جو ان بچّوں کے متعلق ہیں جو بیچارے کوئی زور نہیں رکھتے۔ اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے  کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو، جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ جائے گی۔

یتیموں سے حسن سلوک

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۵۹۹

سورہ انعام آیت ۱۵۲

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ حَتّٰى يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ

اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاوٴ مگر ایسے طریقہ سے جو بہترین ہو یہاں تک کہ وہ اپنے سنِ رُشد کو پہنچ جائے

یعنی ایسا طریقہ جو زیادہ سے زیادہ بے غرضی، نیک نیتی اور یتیم کی خیر خواہی پر مبنی ہو، اور جس  پر خدا اور خلق کسی کی طرف سے بھی تم اعتراض کے مستحق نہ ہو۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں