ریا سے بچنے اور خلوص پر کاربند ہونے کی تلقین
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
ریا سے بچنے اور خلوص پر کاربند ہونے
کی تلقین
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۲۰۴
سورہ بقرہ آیات ۲۶۲تا۶۶۵
اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا
مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى ١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ
عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۰۰۲۶۲قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ
خَيْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ يَّتْبَعُهَاۤ اَذًى ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِيٌّ حَلِيْمٌ۰۰۲۶۳يٰۤاَيُّهَا
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ
كَالَّذِيْ يُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ
الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ
فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا يَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَيْءٍ مِّمَّا
كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ۰۰۲۶۴وَ مَثَلُ
الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ
تَثْبِيْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ
فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ
اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۰۰۲۶۵
ایک میٹھا بول اور کسی
ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اس خیرات
سے بہتر ہے، جس کے پیچھےدکھ ہو ۔ اللہ بے
نیاز ہے اور برد باری اس کی صفت ہے۔اے ایمان لانے والو!اپنے صدقات کو احسان جتاکر اور دکھ دے کر اس شخص کی
طرح خاک میں نہ ملا دو ، جو اپنا مال محض
لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہےاور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے، نہ آخرت پر ۔ اس کے
خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک چٹان تھی، جس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی ۔ اس پر
جب زور کا مینہ برسا، تو ساری مٹی بہہ گئ اور صاف چٹان کی چٹان رہ گئی۔ ایسے لوگ
اپنے نزدیک خیرات کرکے جو نیکی کماتے ہیں، اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا، اور
کافروں کو سیدھی راہ دکھا نا اللہ کا دستور نہیں ہے ۔ بخلاف اس کے جو لوگ اپنے مال
محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے دل کے پورے
ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں، ان کےخرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی سطح مرتفع پر ایک باغ ہو۔ اگر زور کی بارش ہو
جائے تو دوگنا پھل لائے، اور اگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پھوارہی اس کے
لیے کافی ہو جائے۔ تم جو کچھ کرتے ہو ، سب اللہ کی نظر میں ہے۔
وَ اللّٰهُ
غَنِيٌّ حَلِيْمٌ
اللہ بے نیاز ہے اور برد
باری اس کی صفت ہے
اس ایک فقرے میں دو باتیں ارشاد ہوئی
ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تمہاری خیرات کا حاجت مند نہیں ہے۔ دُوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ
چونکہ خود بُردبار ہے، اس لیے اُسے پسند بھی وُہی لوگ ہیں ، جو چھچورے اور کم ظرف
نہ ہوں، بلکہ فراخ حوصلہ اور بردبار ہوں۔ جو خدا تم پر زندگی کے اسباب و وسائل کا
بے حساب فیضان کر رہا ہے اور تمہارے قصوروں کے باوجود تمہیں بار بار بخشتا ہے، وہ
ایسے لوگوں کو کیونکر پسند کر سکتا ہے ، جو کسی غریب کو ایک روٹی کھلادیں، تو
احسان جَتا جَتا کر اس کی عزّتِ نفس کو خاک میں ملا دیں۔ اسی بنا پر حدیث میں آتا
ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو قیامت کے روز شرفِ ہمکلامی اور نظر عنایت سے محرُوم
رکھے گا، جو اپنے عطیے پر احسان جَتاتا ہو۔
كَالَّذِيْ يُنْفِقُ مَالَهٗ
رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ
جو اپنا مال محض لوگوں کے
دکھانے کو خرچ کرتا ہےاور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے، نہ آخرت پر ۔
اس کی ریاکاری خود ہی اس بات کی دلیل
ہے کہ وہ خدا اور آخرت پر یقین نہیں رکھتا۔ اُس کا محض لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل
کرنا صریحاً یہ معنی رکھتا ہے کہ خلق ہی اس کی خدا ہے جس سے وہ اجر چاہتا ہے ،
اللہ سے نہ اس کو اجر کی توقع ہے اور نہ اسے یقین ہے کہ ایک روز اعمال کا حساب
ہوگا اور اجر عطا کیے جائیں گے۔
فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ
صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ
اس پر جب زور کا مینہ برسا،
تو ساری مٹی بہہ گئ اور صاف چٹان کی چٹان رہ گئی
اس تمثیل میں بارش سے مراد خیرات ہے۔
چٹان سے مراد اُس نیت اور اُس جذبے کی خرابی ہے، جس کے ساتھ خیرات کی گئی ہے۔ مٹی
کی ہلکی تہہ سے مراد نیکی کی وہ ظاہری شکل ہے، جس کے نیچے نیت کی خرابی چھپی ہوئی
ہے۔ اس توضیح کے بعد مثال اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ بارش کا فطری اقتضا تو یہی ہے کہ اس سے روئیدگی ہو اور کھیتی نشونما پائے ۔ لیکن جب روئیدگی قبول کرنے والی زمین محض
برائے نام اُوپر ہی اُوپر ہو، اور اس اُوپری تہہ کے نیچے نِری پتھر کی ایک چٹان
رکھی ہوئی ہو، تو بارش مفید ہونے کے بجائے اُلٹی مُضِر ہوگی۔ اسی طرح خیرات بھی
اگرچہ بھلائیوں کو نشونما دینے کی قوت رکھتی ہے ، مگر اس کےنافع ہونے کے لیے حقیقی
نیک نیتی شرط ہے۔ نیت نیک نہ ہو تو ابرِ
کرم کا فیضان بجز اس کے کہ محض ضیاعِ مال ہے اَور کچھ نہیں۔
وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي
الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ
کافروں کو سیدھی راہ دکھا
نا اللہ کا دستور نہیں ہے
یہاں” کافر“ لفظ نا شکرے اور منکرِ نعمت کے معنی میں
استعمال ہوا ہے۔ جو شخص اللہ کی دی ہوئی نعمت کو اس کی راہ میں اس کی رضا کے لیے
خرچ کرنے کے بجائے خلق کی خوشنودی کے لیے صرف کرتا ہے، یا اگر خدا کی راہ میں کچھ
مال دیتا بھی ہے ، تو اس کے ساتھ اذِیّت بھی دیتا ہے، وہ دراصل ناشکرا اور اپنے
خدا کا احسان فراموش ہے۔ اور جب کہ وہ خود ہی خدا کی رضا کا طالب نہیں ہے تو اللہ اس سے بے نیاز ہے کہ اسے خواہ مخواہ اپنی رضا کا راستہ
دکھائے۔
فَاِنْ لَّمْ يُصِبْهَا
وَابِلٌ فَطَلٌّ
ایک ہلکی پھوارہی اس کے لیے
کافی ہو جائے
”زور کی بارش“ سے مراد وہ خیرات ہے ،
جو انتہائی جذبہء خیر اور کمال درجے کی نیک نیتی کے ساتھ کی جائے۔اور ایک ہلکی
پھوار سے مراد ایسی خیرات ہے ، جس کے اندر جذبہء خیر کی شدّت نہ ہو۔
وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ
لَهٗ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَآءُ
جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور
اس کے کمسن بچے ابھی کسی لائق نہ ہوں
یعنی اگر تم یہ پسندنہیں کرتے کہ تمہاری عمر بھر کی کمائی ایک ایسے نازک موقع پر تباہ ہوجائے، جبکہ تم
اُس سے فائدہ اُٹھانے کے سب سے زیادہ محتاج ہو اور ازسرِ نو کما ئی کرنے کا موقع بھی باقی نہ رہا
ہو، تو یہ بات تم کیسے پسند کر رہے ہو کہ دُنیا میں مدّت العمر کام کرنے کے بعد آخرت کی زندگی میں تم اِس طرح قدم
رکھو کہ وہاں پہنچ کر یکایک تمہیں معلوم ہو کہ تمہارا پُورا کارنامہء حیات یہاں
کوئی قیمت نہیں رکھتا، جو کچھ تم نے دُنیا کے لیے کمایا تھا، وہ دُنیا ہی میں رہ گیا،
آخرت کے لیے کچھ کما کر لائے ہی نہیں کہ یہاں اُس کے پھل کھا سکو۔ وہاں تمہیں اس
کا کوئی موقع نہ ملے گا کہ ازسرِ نو اب آخرت کے لیے کمائی کرو۔ آخرت کے لیے کام
کرنے کا جو کچھ بھی موقع ہے، اِسی دُنیا میں ہے۔ یہاں اگر تم آخرت کی فکر کیے بغیر
ساری عمر دُنیا ہی کی دُھن میں لگے رہے اور اپنی تمام قوتیں اور کوششیں دُنیوی
فائدے تلاش کرنے ہی میں کھپاتے رہے ، تو آفتابِ زندگی کے غروب ہونے پر تمہاری حالت
بعینہ اُس بڈھے کی طرح حسرت ناک ہوگی، جس کی عمر بھر کی کمائی اور جس کی زندگی کا
سہارا ایک باغ تھا اور وہ باغ عین عالمِ پیری میں اُس وقت جل گیا، جبکہ نہ وہ خود
نئے سرے سے باغ لگا سکتا ہے اور نہ اُس کی اولاد ہی اس قابل ہے کہ اس کی مدد کر
سکے۔
ریا سے بچنے اور خلوص پر کاربند ہونے
کی تلقین
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۳۵۲
سورہ نساء آیت ۳۸
وَ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا
بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ يَّكُنِ الشَّيْطٰنُ لَهٗ قَرِيْنًا فَسَآءَ
قَرِيْنًا۰۰۳۸
اور وہ لوگ بھی اللہ کو ناپسند ہیں جو
اپنے مال محض لوگوں کو دکھانے کےلیے خرچ کرتے ہیں اور درحقیقت نہ اللہ پر ایمان
رکھتے ہیں نہ روزِ آخر پر۔ سچ ہے کہ شیطان جس کا رفیق ہوٴا اُسے بہت ہی بُری رفاقت
میسّر آئی
انفاق کے ساتھ احسان دھرنے کی ممانعت
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۲۰۳
سورہ بقرہ آیت ۲۶۲
اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا
مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى ١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ
عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۰۰۲۶۲
جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ
کرتے ہیں اور خرچ کرکے پھر احسان نہیں جتاتے، نہ دکھ دیتے ہیں ، ان کا اجر ان کے
رب کے پاس ہے اور ان کے لیے کسی رنج اور خوف کا موقع نہیں
یعنی نہ تو اُن کے لیے اس بات کا کوئی
خطرہ ہے کہ ان کا اجر ضائع ہو جائے گا اور نہ کبھی یہ نوبت آئے گی کہ وہ اپنے اس
خرچ پر پشیمان ہوں۔
امانت داری کی تلقین
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۲۲۲
سورہ بقرہ آیت ۲۸۳
فَلْيُؤَدِّ الَّذِي
اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ
اگر تم میں سے کوئی شخص دُوسرے پر
بھروسہ کرکے اس کے ساتھ کوئی معاملہ کرے، تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے ، اسے چاہیے
کہ امانت ادا کرے اور اللہ ، اپنے ربّ سے ڈرے۔
شہادت (گواہی) کو چھپانے کی ممانعت
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۲۲۲
وَ لَا تَكْتُمُوا
الشَّهَادَةَ١ؕ
سورہ بقرہ آیت ۲۸۳
اور شہادت ہرگز نہ چھپاو
شہادت دینے سے گریز کرنا، یا شہادت میں
صحیح واقعات کے اظہار سے پرہیز کرنا، دونو ں پر ”شہادت چھپانے“ کا اطلاق ہوتا ہے۔
شہادت کے معتبر ہونے کے لیے اخلاقی
سیرت کا لحاظ
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۲۲۰
سورہ بقرہ آیت ۲۸۲
وَ اسْتَشْهِدُوْا
شَهِيْدَيْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ يَكُوْنَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَّ
امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا
فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى
پھر اپنے مردوں میں سے دو
آدمیوں کی اس پر گواہی کرالو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں
تاکہ ایک بھول جائے، تو دوسری اُسے یاد
دلائے۔ یہ گواہ ایسے لوگوں میں سے ہونے چاہییں، جن کی گواہی تمہارے درمیان مقبول
ہو۔
“مطلب یہ ہے کہ ہر کس و ناکس گواہ
ہونے کے لیے موزوں نہیں ہے ، بلکہ ایسے لوگوں کو گواہ بنایا جائے جو اپنے اخلاق و
دیانت کے لحاظ سے بالعموم لوگوں کے درمیان قابل اعتماد سمجھے جاتے ہوں۔
اخلاق میں" اپنی اپنی کمائی"
کا اصول
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۲۲۴
سورہ بقرہ آیت ۲۸۶
لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ
عَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ
ہر شخص نے جو نیکی کمائی
ہے، اس کا پھل اسی کے لیے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے، اس کا وبال اسی پر ہے
“یہ اللہ کے قانونِ مجازات کا دُوسرا
قاعدہٴ کلیہ ہے۔ ہر آدمی انعام اُسی خدمت پر پائے گا۔ جو اس نے خود انجام دی ہو۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ
ایک شخص کی خدمات پر دُوسرا انعام پائے۔ اور اسی طرح ہر شخص اسی قصُور میں پکڑا
جائے گا جس کا وہ خود مرتکب ہوا ہو۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک کے قصُور میں دُوسرا
پکڑا جائے۔ ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ ایک آدمی نے کسی نیک کام کی بنا رکھی ہو اور دنیا
میں ہزاروں سال تک اس کام کے اثرات چلتے رہیں اور یہ سب اس کے کارنامے میں لکھے
جائیں ۔ اور ایک دُوسرے شخص نے کسی بُرائی کی بنیاد رکھی ہو اور صدیوں تک دنیا میں
اس کا اثر جاری رہے اور وہ اس ظالمِ اوّل کے حساب میں درج ہوتا رہے۔ لیکن یہ اچھا یا
بُرا، جو کچھ بھی پھل ہوگا، اسی کی سعی اور اسی کے کسب کا نتیجہ ہو گا۔ بہر حال یہ
ممکن نہیں ہے کہ جس بِھلائی یا جس بُرائی میں آدمی کی نیت اور سعی و عمل کا کوئی حصّہ
نہ ہو، اس کی جزا یا سزا اسے مِل جائے۔ مکافاتِ عمل کو ئی قابل انتقال چیز نہیں
ہے۔
Comments
Post a Comment