سود خواری اور انفاق سے دو الگ الگ قسم کی سیرتیں بنتی ہیں

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سود خواری اور انفاق سے دو الگ الگ قسم کی سیرتیں بنتی ہیں

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۲۸۸

سورہ آل عمران آیات ۱۳۰تا ۱۳۴

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۰۰۱۳۰وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِيْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَۚ۰۰۱۳۱وَ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ۰۰۱۳۲وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَۙ۰۰۱۳۳الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَ الْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَۚ۰۰۱۳۴

اے لوگو جو ایما ن لائے ہو ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سُود کھانا چھوڑ دو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے۔ اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے مہیا کی گئی ہے اور اللہ اور رسول  کا حکم مان لو ، توقع ہے کہ تم پر  رحم کیا جائے گا۔ دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ ان خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی ہے جو ہر حال میں  اپنے مال  خرچ کر تے ہیں خواہ بدحال ہوں یا خوش حال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں۔۔۔۔ ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً

اے لوگو جو ایما ن لائے ہو ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سُود کھانا چھوڑ دو

اُحُد کی شکست کا بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمان عین کامیابی کے موقع پر مال کی طمع سے مغلوب ہو گئے اور اپنے کام کو تکمیل تک پہنچانے کے بجائے غنیمت لُوٹنے میں لگ گئے۔ اس لیے حکیمِ مطلق نے اس حالت کی اصلاح کے لیے زرپرستی کے سرچشمے پر بند باندھنا ضروری سمجھا اور حکم دیا کہ سُود خواری سے باز آ ؤ جس میں آدمی رات دن اپنے نفع کے بڑھنے اور چڑھنے کا حساب لگاتا رہتا ہے اور جس کی وجہ سے آدمی کے اندر روپے کی حرص بے حد بڑھتی چلی جاتی ہے۔

وَ اللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَۚ۰۰۱۳۴

ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔

(سُود خواری جس سوسائٹی میں  موجود ہوتی ہے  اس کے اندر سُود خواری کی وجہ سے دو قسم کے اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ سُود لینے والوں میں حرص و طمع ، بُخل اور خود غرضی ۔ اور سُود دینے والوں میں نفرت، غصّہ اور بُغض و حسد۔ اُحُد کی شکست میں ان دونوں قسم کی بیماریوں کا کچھ نہ کچھ حصّہ شامل تھا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بتاتا ہے کہ سُود خواری سے فریقین میں جو اخلاقی اوصاف پیدا ہوتے ہیں ان کے بالک برعکس انفاق فی سبیل اللہ سے یہ دُوسری قسم کے اوصاف پیدا ہوا کرتے ہیں، اور اللہ کی بخشش اور اس کی جنت اسی دُوسری قسم کے اوصاف سے حاصل ہو سکتی ہے نہ کہ پہلی قسم کے اوصاف سے۔(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سُورہٴ بقرہ، حاشیہ نمبر ۳۲۰)

غلطی کے بعد فوری ندامت اور اصلاح کی روش

فہرست موضوعات -- تفہیم القرآن جلد اول  -- اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۲۸۹

سورہ آل عمران آیت ۱۳۵

وَ الَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا۠ لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ يُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ۰۰۱۳۵

اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہو جا تا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کر کے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انھیں یاد آجاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کہ معافی چاہتے ہیں۔۔۔۔ کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کر سکتا ہو۔۔۔۔اور وہ دیدہ ود انستہ اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے

غلطی کے بعد فوری ندامت اور اصلاح کی روش

فہرست موضوعات -- تفہیم القرآن جلد اول  -- اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۳۶۸

سورہ نساء آیت ۶۴

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِيْمًا۰۰۶۴

(انہیں بتاوٴ کہ)ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ اذنِ خداوندی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے۔ اگر انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوتا کہ جب یہ اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے تھے تو تمہارے پاس آجاتے اور اللہ سے معافی مانگتے، اور رسول بھی ان کے لیے معافی کی درخواست کرتا، تو یقیناً اللہ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ

(انہیں بتاوٴ کہ)ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ اذنِ خداوندی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے۔

یعنی خدا کی طرف سے رسُول اس لیے نہیں آتا ہے کہ بس اس کی رسالت پر ایمان لے آؤ اور پھر اطاعت  جس کی چاہو کرتے رہو۔ بلکہ رسُول کے آنے کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ زندگی کا جو قانون وہ لے کر آیا ہے ، تمام قوانین کو چھوڑ کر صرف اسی کی پیروی کی جائے اور خدا کی طرف سے جو احکام وہ دیتا ہے ، تمام احکام کو چھوڑ کر صرف انہی پر عمل کیا جائے۔ اگر کسی نے یہی نہ کیا تو پھر اس کا محض رسُول کو رسُول مان لینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

 

غلطی کے بعد فوری ندامت اور اصلاح کی روش

فہرست موضوعات -- تفہیم القرآن جلد اول  -- اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۳۹۵

سورہ نساء آیت ۱۱۰

وَ مَنْ يَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۰۰۱۱۰

اگر کوئی شخص بُرا فعل کر گزرے یا اپنے نفس پر ظلم کر جائے اور اس کے بعد اللہ سے درگزر کی درخواست کرے تو اللہ کو درگزر کرنے والا اور رحیم پائے گا۔

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں