اہل حاجت کی آگے بڑھ کر مدد کرنے کی اہمیت
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ۰۰۱
اہل حاجت کی آگے بڑھ کر مدد کرنے کی
اہمیت
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۲۰۹
سورہ بقرہ آیت ۲۷۲
وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ
خَيْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ۠١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ
اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ يُّوَفَّ اِلَيْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا
تُظْلَمُوْنَ۰۰۲۷۲
اور خیرات میں جو مال تم خرچ کرتے ہو
وہ تمہارے اپنے لیے بھلاہے۔ آخر تم اسی لیے تو خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل
ہو۔ تو جو کچھ مال تم خیرات کروگے، اس کا پُورا
پُورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تمہاری
حق تلفی ہرگز نہ ہوگی۔
ابتدا میں مسلمان اپنے غیر مسلم رشتے
داروں اور عام غیر مسلم اہلِ حاجت کی مدد کرنے میں تامّل کرتے تھے۔ ان کا خیال یہ
تھا کہ صرف مسلمان حاجت مندوں ہی کی مدد کرنا انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ اس آیت میں
ان کی یہ غلط فہمی دُور کی گئی ہے۔ ارشاد الہٰی کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے
دلوںمیں ہدایت اُتار دینے کی ذمّہ داری تم پر نہیں ہے۔ تم حق بات پہنچا کر اپنی
ذمہ داری سے سُبکدوش ہوچکے۔ اب یہ اللہ کے اختیار میں ہے کہ ان کو بصیرت کا نُور
عطا کرے یا نہ کرے۔ رہا دُنیوی مال و متاع سے اُن کی حاجتیں پُوری کرنا، تو اس میں
تم محض اس وجہ سے تامّل نہ کرو کہ اُنہوں نے ہدایت قبول نہیں کی ہے۔ اللہ کی رضا
کے لیے جس حاجت مند انسان کی بھی مدد کرو گے، اس کا اجر اللہ تمہیں دے گا۔
بدحالی میں بھی باوقار رہنا
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۲۰۹
لِلْفُقَرَآءِ الَّذِيْنَ
اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ ضَرْبًا فِي الْاَرْضِ١ٞيَحْسَبُهُمُ
الْجَاهِلُ اَغْنِيَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِيْمٰىهُمْ١ۚ لَا
يَسْـَٔلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ
اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌؒ۰۰۲۷
خاص طور پر مدد کے مستحق وہ تنگ دست
لوگ ہیں جو اللہ کے کام میں ایسے گھِر گئے ہیں کہ اپنی ذاتی کسبِ معاش کے لیے زمین
میں کوئی دَوڑ دھوپ نہیں کر سکتے۔ان کی خودداری دیکھ کرنا واقف آدمی گمان کرتا ہے
کہ یہ خوش حال ہیں۔ تم ان کے چہروں سے ان کی اندرونی حالت پہچان سکتے ہو۔ مگر وہ ایسے
لوگ نہیں ہیں کہ لوگوں کے پیچھے پڑکر کچھ مانگیں۔ اُن کی اعانت میں جو کچھ مال تم خرچ کروگےوہ اللہ سے پوشیدہ نہ رہےگا
اِس گروہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا
کے دین کی خدمت میں اپنے آپ کو ہمہ تن وقف کر دیتے ہیں اور سارا وقت دینی خدمات میں
صرف کر دینے کی وجہ سے اس قابل نہیں رہتے کہ اپنی معاش پیدا کرنے کے لیے کوئی
جدوجہد کر سکیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس قسم کے رضا کاروں کا
مستقل گروہ تھا، جو تاریخ میں اصحابِ صُفّہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تین چار سو آدمی
تھے، جو اپنے اپنے گھر بار چھوڑ کر مدینے آگئے تھے۔ ہمہ وقت حضور کے ساتھ رہتے
تھے۔ ہر خدمت کے لیے ہر وقت حاضر تھے۔ حضور جس مہم پر چاہتے انھیں بھیج دیتے تھے،
اور جب مدینے سے باہر کوئی کام نہ ہوتا، اس وقت یہ مدینے ہی میں رہ کر دین کا علم
حاصل کرتے اور دُوسرے بندگانِ خدا کو اس کی تعلیم دیتے رہتے تھے۔ چونکہ یہ لوگ
پُورا وقت دینے والے کارکن تھے اور اپنی ضروریات فراہم کرنے کے لیے اپنے ذاتی
وسائل نہ رکھتے تھے، اِ س لیے اللہ تعالیٰ نے عام مسلمانوں کو توجّہ دلائی کہ خاص
طور پر ان کی مدد کرنا انفاق فی سبیل اللہ کا بہترین مصرف ہے۔
Comments
Post a Comment