امت وسط ہونے کے اخلاقی تقاضوں کی یاد دہانی
امت وسط ہونے کے اخلاقی تقاضوں کی یاد
دہانی
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۱۷۷
سورہ بقرہ آیت ۲۳۱
وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰيٰتِ
اللّٰهِ هُزُوًا١ٞ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ
عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ
وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌؒ۰۰۲۳
اللہ کی آیات کا کھیل نہ بناؤ۔ بھول
نہ جاؤ کہ اللہ نے کس نعمت عظمٰی سے تمہیں سرفراز کیا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا
ہےکہ جو کتاب اور حکمت اس نے تم پر نازل کی ہے، اس کا احترام ملحوظ رکھو۔ اللہ سے
ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے۔
یعنی اس حقیقت کو فراموش نہ کر دو کہ
اللہ نے تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے کر دُنیا کی رہنمائی کے عظیم الشان منصب پر مامور کیا ہے۔ تم”اُمّتِ
وَسَط“ بنائے گئے ہو۔ تمہیں نیکی اور راستی کا گواہ بنا کر کھڑا کیا گیا ہے۔
تمہارا یہ کام نہیں ہے کہ حیلہ بازیوں سے آیاتِ الہٰی کا کھیل بنا ؤ ، قانون کے
الفاظ سے رُوحِ قانون کے خلاف ناجائز فائدے اُٹھا ؤ اور دُنیا کو راہِ راست دکھانے
کے بجائے خود اپنے گھروں میں ظالم اور بد راہ بن کر رہو۔
مسلمانوں کو امامت عالم دیتے وقت
ہدایت
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۱۲۵
سورہ بقرہ آیات ۱۵۰ تا ۱۵۴
وَ مِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ
فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَيْثُ مَا كُنْتُمْ
فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ
حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ
اخْشَوْنِيْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِيْ عَلَيْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ۰۰۱۵۰كَمَاۤ
اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَ
يُزَكِّيْكُمْ وَ يُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُعَلِّمُكُمْ مَّا
لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ۰۰۱۵۱فَاذْكُرُوْنِيْۤ۠ اَذْكُرْكُمْ وَ
اشْكُرُوْا لِيْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِؒ۰۰۱۵ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۰۰۱۵۳وَ لَا
تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْيَآءٌ
وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ۰۰۱۵۴
اور جہاں سے بھی تمہارا گزر ہو ، اپنا
رُخ مسجدِ حرام ہی کی طرف پھیراکرو ، اور جہاں بھی تم ہو، اُسی کی طرف منہ کرکے
نماز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجّت نہ ملے ۔ ہاں جو ظالم ہیں ، اُن کی
زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی۔ تو اُن
سے تم نہ ڈرو ، بلکہ مجھ سے ڈرو۔ اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں اور اس توقع پر کہ میرے اس حکم کی پیروی
سے تم اسی طرح فلاح کا راستہ پاوٴ گے جس
طرح (تمہیں اس چیز سے فلاح نصیب ہوئی کہ )میں نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک
رسول بھیجا ، جو تمہیں میری آیات سناتا ہے ، تمہاری زندگیوں کو سنوارتا ہے، تمہیں
کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ، اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے ، جو تم نہ جانتے
تھے ۔ لہٰذا تم مجھے یاد رکھو ، میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر ادا کرو ،
کفرانِ نعمت نہ کرو۔ اے لوگو جو ایمان
لائے ہو صبر اور نماز سے مدد لو ۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور جو لوگ
اللہ کی راہ میں مارے جائیں ، انہیں مُردہ نہ کہو ، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ
ہیں ، مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا۔ اور ہم ضرور تمہیں خوف وخطر ،
فاقہ کشی ، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمہاری
آزمائش کریں گے۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے ، تو کہیں کہ
”ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جا نا ہے،“ انھیں خوشخبری دے دو ۔
ان پر ان کے ر ب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں
گی، اس کی رحمت ان پر سایہ کرے گی اور
ایسے ہی لوگ راست رو ہیں۔
تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو ، وہیں
سے اپنا رُخ(نماز کے وقت)مسجدِ حرام کی طرف پھیر دو، کیونکہ یہ تمہارے رب کا بالکل
بر حق فیصلہ ہے اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے
میں تم پر اپنی نعمت پوری
کردوں
نعمت سے مُراد وہی امامت اور پیشوائی
کی نعمت ہے، جو بنی اسرائیل سے سَلْب کر کے اس اُمت کو دی گئی تھی۔ دُنیا میں ایک
اُمّت کی راست روی کا یہ انتہائی ثمرہ ہے کہ وہ اللہ کے اَمِرتَشْرِیْعِی سے
اقوامِ عالم کی رہنما و پیشوا بنائی جائے اور نَوعِ انسانی کو خدا پرستی اور نیکی
کے راستے پر چلانے کی خدمت اس کے سپرد کی جائے۔ یہ منصب جس اُمت کو دیا گیا ، حقیقت
میں اُس پر اللہ کے فضل و انعام کی تکمیل ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرما رہا ہے
کہ تحویلِ قبلہ کا یہ حکم دراصل اس منصب پر تمہاری سرفرازی کا نشان ہے، لہٰذا تمہیں
اس لیے بھی ہمارے اس حکم کی پیروی کرنی چاہیے کہ ناشکری و نافرمانی کرنے سے کہیں یہ
منصب تم سے چھین نہ لیا جائے۔ اس کی پیروی
کر و گے، تو یہ نعمت تم پر مکمل کر دی جائے گی۔
اس توقع پر کہ
یعنی اس حکم کی پیروی کرتے ہوئے یہ
اُمید رکھو۔ یہ شاہانہ اندازِ بیان ہے۔
بادشاہ کا اپنی شان ِ بے نیازی کے ساتھ کسی نوکر سے یہ کہہ دینا کہ ہماری طرف سے فلاں عنایت و مہربانی کے اُمیدوار
رہو، اس بات کے لیے بالکل کافی ہوتا ہے کہ وہ ملازم اپنے گھر شادیانے بجوادے اور
اسے مبارکبادیاں دی جانے لگیں۔
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو
منصب امامت پر مامور کرنے کے بعداب اس
اُمّت کو ضروری ہدایات دی جارہی ہیں۔ مگر تمام دُوسری باتوں
سے پہلے انہیں جس پات پر متنبہ کیا جا رہا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ کوئی پھُولوں
کا بستر نہیں ہے ، جس پر آپ حضرات لِٹائے جارہے ہوں۔ یہ تو ایک عظیم الشّان اور
پُر خطر خدمت ہے، جس کا بار اُٹھانے کے ساتھ ہی تم پر ہر قسم کے مصائب کی بارش ہوگی،
سخت آزمائشوں میں ڈالے جا ؤ گے، طرح طرح
کے نقصانات اُٹھانے پڑیں گے۔ اور جب صبر و ثبات اور عزم و استقلال کے ساتھ ان تمام مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے
خدا کی راہ میں بڑھے چلے جا ؤ گے، تب تم پر عنایات کی بارش ہوگی۔
اللہ صبر کرنے والوں کے
ساتھ ہے
یعنی اِس بھاری خدمت کا بوجھ اُٹھانے کے لیےجس طاقت کی
ضرورت ہے ، وہ تمہیں دو چیزوں سے حاصل ہوگی۔ ایک یہ کہ صبر کی صفت اپنے اندر پرورش
کرو۔ دُوسرے یہ کہ نماز کے عمل سے اپنے آپ کو مضبُوط کرو۔ آگے چل کر مختلف مقامات
پر اس امر کی تشریحات ملیں گی کہ صبر بہت
سے اہم ترین اخلاقی اوصاف کے لیے جامع عنوان ہے۔ اور حقیقت میں یہ وہ کلید
ِ کامیابی ہے، جس کے بغیر کوئی شخص کسی مقصد میں بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح
آگے چل کر نماز کے متعلق بھی تفصیل سے معلوم ہوگا کہ وہ کِس کِس طرح افرادِ مومنین
اور جماعتِ مومنین کو اس کارِ عظیم کے لیے تیار کرتی ہے۔
مگر تمہیں ان کی زندگی کا
شعور نہیں ہوتا
موت کا لفظ اور اس کا تصوّر انسان کے
ذہن پر ایک ہمّت شکن اثر ڈالتا ہے۔ اس لیے اس بات سے منع کیا گیا کہ شُہداء فی سبیل
اللہ کو مُردہ کہا جائے، کیونکہ اس سے
جماعت کے لوگوں میں جذبہء جہاد و قتال اور رُوحِ جاں فروشی کے سرد پڑ جانے کا اندیشہ
ہے۔ اس کے بجائے ہدایت کی گئی کہ اہلِ ایمان اپنے ذہن میں یہ تصوّر جمائے رکھیں کہ
جو شخص خدا کی راہ میں جان دیتا ہے ، وہ حقیقت میں حیاتِ جاوداں پاتا ہے۔ یہ تصوّر
مطابقِ واقعہ بھی ہے اور اس سے رُوحِ شجاعت بھی تازہ ہوتی اور تازہ رہتی ہے۔
اللہ تم لوگوں کے اعمال سے
بے خبر نہیں ہے
کہنے سے مُراد صرف زبان سے یہ الفاظ
کہنا نہیں ہے ، بلکہ دل سے اس بات کا قائل ہونا ہے کہ ”ہم اللہ ہی کے ہیں“، اس لیے
اللہ کی راہ میں ہماری جو چیز بھی قربان ہوئی، وہ گویا ٹھیک اپنے مَصْرَف میں صرف
ہوئی، جس کی چیز تھی اسی کے کام آگئی۔ اور یہ کہ” اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹنا ہے“، یعنی
بہرحال ہمیشہ اس دُنیا میں رہنا نہیں ہے۔ آخر کار، دیر یا سویر ، جانا خدا ہی کے
پاس ہے۔ لہٰذا کیوں نہ اس کی راہ میں جان لڑا کر اس کے حضُور حاضر ہوں۔ یہ اس سے
لاکھ درجہ بہتر ہے کہ ہم اپنے نفس کی پرورش میں لگے رہیں اور اسی حالت میں ، اپنی
موت ہی کے وقت پر کسی بیماری یا حادثے کے شکار ہو جائیں۔
Comments
Post a Comment