نیت کے مطابق اجر

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نیت کے مطابق اجر

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم

إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ جس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول کے لیے ہے، اور جس کی ہجرت حصول دنیا کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔

 

یہ حدیث اصلاح و تربیت کے باب کی نہایت اہم حدیث ہے۔ حضور کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ نیک اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے۔ اگر نیت ٹھیک ہے تو اس کا ثواب ملے گا، ورنہ نہیں ملے گا کوئی عمل چاہے وہ دیکھنے میں نیک ہو۔ اُس کا اجر آخرت میں صرف اسی صورت میں ملے گا جب کہ وہ خدا کی خوشنودی کے لیے کیا گیا ہو۔ اگر اس عمل کا محرک دنیا طلبی ہو ، اگر اسے کسی اپنی دنیا دی غرض پوری کرنے کے لیے انجام دیا گیا ہو تو آخرت کے بازار میں اُس کی کوئی قیمت نہ لگے گی، اس کا یہ عمل وہاں کھوٹا سکہ قرار پائے گا۔ اس حقیقت کو آپ نے ہجرت کی مثال دے کر واضح کیا کہ دیکھو ہجرت کتنا بڑا نیکی کا کام ہے۔ لیکن اگر کوئی خدا و رسول کے لیے نہیں بلکہ اپنی دنیادی غرض پوری کرنے کے لیے ہجرت ( ترک وطن کر تا ہے تو آخرت میں اُسے اِس عمل کا جو بظاہر بہت بڑی نیکی ہے، کچھ ثواب نہ ملے گا بلکہ الٹا اس پر جعل سازی اور فریب دہی کا مقدمہ قائم ہوگا۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں