اخلاق میں احسان اور انفاق کی اہمیت
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
اخلاق میں احسان اور انفاق کی اہمیت
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– اخلاق
صفحہ ۱۵۳
سورہ بقرہ آیت ۱۹۵
وَ اَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ
اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ
اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۱۹۵
اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ
کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ احسان کا طریقہ اختیا ر کرو کہ اللہ محسنوں کو پسند کرتا
ہے
وَ اَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ
اللّٰهِ
اللہ کی راہ میں خرچ کرو
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مُراد
اللہ کے دین کو قائم کرنے کی سعی و جہد میں مالی قربانیاں کرنا ہے۔ آیت کا مطلب یہ
ہے کہ اگر تم خدا کے دین کو سربلند کرنے کے لیے اپنا مال خرچ نہ کرو گےا ور اس کے
مقابلے میں اپنے ذاتی مفاد کو عزیز رکھو گے، تو یہ تمہارے لیے دُنیا میں بھی موجب
ِ ہلاکت ہو گا اور آخرت میں بھی۔ دُنیا میں تم کفّار سے مغلوب اور ذلیل ہو کر رہو
گے اور آخرت میں تم سے سخت بار پرس ہو گی۔
وَ اَحْسِنُوْا
احسان کا طریقہ اختیا ر کرو
احسان کا لفظ حُسن سے نِکلا ہے،
جس کے معنی کسی کام کو خوبی کے ساتھ کرنے
کے ہیں۔ عمل کا ایک درجہ یہ ہے کہ آدمی کے سپرد جو خدمت ہو، اُسے بس کردے۔ اور
دُوسرا درجہ یہ ہے کہ اسے خوبی کے ساتھ کرے، اپنی پُوری قابلیت اور اپنے تمام
وسائل اس میں صرف کر دے اور دل و جان سے اس کی تکمیل کی کوشش کرے۔ پہلا درجہ محض
طاعت کا درجہ ہے، جس کے لیے صرف تقویٰ اور خوف کافی ہو جاتا ہے۔ اور دُوسرا درجہ
احسان کا درجہ ہے، جس کے لیے محبت اور گہرا قلبی لگا ؤ درکار ہوتا ہے۔
اخلاق میں احسان اور انفاق کی اہمیت
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– اخلاق
صفحہ ۱۶۴
سورہ بقرہ آیت ۲۱۵
يَسْـَٔلُوْنَكَ مَا ذَا
يُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَ
الْاَقْرَبِيْنَ وَ الْيَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِيْنِ وَ ابْنِ السَّبِيْلِ١ؕ وَ مَا
تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ۰۰۲۱۵
لوگ پوچھتے ہیں ہم کیا خرچ کریں؟ جواب
دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر ، رشتے داروں پر، یتیموں او ر مسکینوں
اور مسافروں پر خرچ کرو۔ اور جو بھلائی بھی
تم کرو گے، اللہ اس سے باخبر ہو گا۔
Comments
Post a Comment