باطل کے مقابلے میں ثابت قدمی کی تلقین
بِسْمِ
اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
باطل کے مقابلے میں
ثابت قدمی کی تلقین
فہرست موضوعات –
تفہیم القرآن جلد اول – اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۲۹۳
سورہ آل عمران آیت ۱۴۶
وَ كَاَيِّنْ
مِّنْ نَّبِيٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّيُّوْنَ كَثِيْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ
اَصَابَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ
اللّٰهُ يُحِبُّ الصّٰبِرِيْنَ۰۰۱۴۶
اس سے پہلے کتنے ہی نبی ایسے گز ر چکے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت
سے خدا پرستوں نے جنگ کی۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ان سے وہ دل
شکستہ نہیں ہوئے، انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی ، وہ (باطل کے آگے ) سرنگوں نہیں ہوئے۔ ایسے ہی صابروں کو
اللہ پسند کرتا ہے۔
وَ مَا
اسْتَكَانُوْا
وہ
(باطل کے آگے ) سرنگوں نہیں ہوئے۔
یعنی اپنی قلتِ تعداد
اور بے سروسامانی ، اور کفار کی کثرت اور زور آوری دیکھ کر اُنھوں نے باطل پرستوں
کے آگے سَپر نہیں ڈالی۔
Comments
Post a Comment