اسلامی اخلاقیات کا فیصلہ کن سوال
اسلامی اخلاقیات کا
فیصلہ کن سوال
فہرست موضوعات –
تفہیم القرآن جلد اول – اخلاقی تعلیمات – صفحہ ۲۹۲
سورہ آل عمران آیت ۱۴۵
وَ مَا كَانَ
لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ
يُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ يُّرِدْ ثَوَابَ
الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِي الشّٰكِرِيْنَ۰۰۱۴۵
کوئی ذی رُوح اللہ کے
اذن کے بغیر نہیں مر سکتا۔ موت کا وقت تو لکھا
ہوا ہے ۔ جو شخص ثواب دنیا کے ارادہ سے کا م کر ے گا اس کو ہم دنیا ہی میں سے دیں گے، اور جو ثواب آخرت کے
ارادہ سے کام کرے گا وہ آخرت کا ثواب پائے گا اور شکر کرنے والوں کو ہم ان کی جزا ضرور عطا کریں گے
كِتٰبًا
مُّؤَجَّلًا١ؕ
موت کا وقت تو
لکھا ہوا ہے
اس سے یہ بات
مسلمانوں کے ذہن نشین کرنا مقصُود ہے کہ موت کے خوف سے تمہارا بھاگنا فضُول ہے۔
کوئی شخص نہ تو اللہ کے مقرر کیے ہوئے وقت
سے پہلے مر سکتا ہے اور نہ اس کے بعد جی سکتاہے۔لہٰذا تم کو فکر موت سے بچنے کی نہیں بلکہ اس بات کی ہونی چاہیے کہ
زندگی کی جو مُہلت بھی تمہیں حاصل ہے اس میں تمہاری سعی و جہد کا مقصُود کیا ہے،
دُنیا یا آخرت؟
وَ مَنْ
يُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا
اور جو
ثواب آخرت کے ارادہ سے کام کرے گا وہ آخرت کا ثواب پائے گا
. ثواب کے معنی ہیں
نتیجہ ٴ عمل ۔ ثوابِ دُنیا سے مراد وہ فوائد و منافع ہیں جو انسان کو اُس کی سعی و
عمل کے نتیجہ میں اِسی دُنیا کی زندگی میں حاصل ہوں۔ اور ثوابِ آخرت سے مُراد وہ
فوائد و منافع ہیں جو اسی سعی و عمل کے نتیجہ میں آخرت کی پائیدار زندگی میں حاصل ہوں
گے۔ اسلام کے نقطہ ٴ نظر سے انسانی اخلاق کے معاملہ میں فیصلہ کُن سوال یہی ہے کہ
کارزارِ حیات میں آدمی جو دَوڑ دھوپ کر رہا ہے اس میں آیا وہ دُنیوی نتائج پر نگاہ
رکھتا ہے یا اُخروی نتائج پر۔
وَ سَنَجْزِي
الشّٰكِرِيْنَ۰۰۱۴۵
اور شکر
کرنے والوں کو ہم ان کی جزا ضرور عطا کریں گے
”شکر کرنے والوں“سے
مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کی اِس نعمت کے قدر شناس ہوں کہ اُس نے دین کی صحیح تعلیم
دے کر انھیں دنیا اور اس کی محدود زندگی سے بہت زیادہ وسیع ، ایک ناپیدا کنار عالَم کی خبر دی، اور انھیں اس حقیقت
سے آگاہی بخشی کہ انسانی سعی و عمل کے نتائج صرف اس دنیا کی چند سالہ زندگی تک
محدود نہیں ہیں بلکہ اس زندگی کے بعد ایک دُوسرے عالَم تک ان کا سلسلہ دراز ہوتا
ہے۔ یہ وسعتِ نظر اور یہ دُوربینی و عاقبت اندیشی حاصل ہوجانے کے بعد جوشخص اپنی
کوششوں اور محنتوں کو اِس دُنیوی زندگی کے ابتدائی مرحلہ میں بار آور ہوتے نہ دیکھے
، یا ان کا برعکس نتیجہ نکلتا دیکھے ، اور اس کے باوجود اللہ کے بھروسہ پر وہ کام
کرتا چلا جائے جس کے متعلق اللہ نے اسے یقین دلایا ہے کہ بہرحال آخرت میں اس کا نتیجہ
اچھا ہی نکلے گا، وہ شکر گزار بندہ ہے۔ برعکس اس کے جو لوگ اس کے بعد بھی دنیا
پرستی کی تنگ نظری میں مُبتلا رہیں، جن کا حال یہ ہو کہ دنیا میں جن غلط کوششوں کے
بظاہر اچھے نتائج نکلتے نظر آئیں ان کی طرف وہ آخرت کے بُرے نتائج کی پروا کیے بغیر
جھُک پڑیں، اورجن صحیح کوششوں کے یہاں بار
آور ہونے کی اُمید نہ ہو، یا جن سے یہاں نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو، اُن میں آخرت کے
نتائج ِ خیر کی اُمید پر اپنا وقت ، اپنے مال اور اپنی قوتیں صرف کرنے کے لیے تیار
ہوں، وہ ناشکرے ہیں اور اُس علم کے ناقدر شناس ہیں جو اللہ نے انھیں بخشا ہے۔
Comments
Post a Comment