فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز تفہیم القران جلد چہارم-آخرت آخرت کے دلائل-3

 

فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز

تفہیم القران جلد چہارم-آخرت

آخرت کے دلائل-3

صفحہ 366

سورہ زمر آیات 19تا21

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِي النَّارِۚ۰۰۱۹لٰكِنِ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِيَّةٌ١ۙ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا يُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِيْعَادَ۰۰۲۰اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ يَنَابِيْعَ فِي الْاَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِي الْاَلْبَابِؒ۰۰۲۱ سورہ زمر آیات 19تا21

(اے نبیؐ )اُس شخص کو کون بچا سکتا ہے جس پر عذاب کا فیصلہ چَسپَاں ہو چکا ہو؟    کیا تم اُسے بچا سکتے ہو جو آگ میں گر چکا ہوِ البتہ جو لوگ اپنے ربّ سے ڈر کر رہے اُن کے لیے بلند عمارتیں ہیں منزل پر منزل بنی ہوئی، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے ، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاوٴں  کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا، پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں، پھر وہ کھیتیاں پک کر سُوکھ جاتی ہیں، پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑ گئیں ، پھر آخر کار اللہ اُن کو بھُس بنا دیتا ہے ۔ درحقیقت اِس میں ایک سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے۔

جس پر عذاب کا فیصلہ چَسپَاں ہو چکا ہو

سورة الزمر حاشیہ نمبر۳۷

یعنی جس نے اپنے آپ کو خدا کے عذاب کا مستحق بنا لیا ہو اور اللہ نے فیصلہ کر لیا ہو کہ اسے اب سزا دینی ہے۔

درحقیقت اِس میں ایک سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے

سورة الزمر حاشیہ نمبر١

یہ اس سورہ کی مختصر تمہید ہے جس میں بس یہ  بتانے پر اکتفا کیا گیا ہے کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا اپنا کلام نہیں ہے ، جیسا کہ منکرین کہتے ہیں ، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو اس نے خود نازل فرمایا ہے۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا ذکر کر کے سامعین کو دو حقیقتوں پر متنبہ کیا گیا ہے تاکہ وہ اس کلام کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھیں بلکہ اس کی اہمیت محسوس کریں۔ ایک یہ کہ جس خدا نے اسے نازل کیا ہے وہ عزیز ہے ، یعنی ایسا زبردست ہے کہ اس کے ارادوں اور فیصلوں کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی اور کسی کی یہ مجال نہیں ہے کہ اس کے مقابلہ میں ذرہ برابر بھی مزاحمت کر سکے۔ دوسرے یہ کہ وہ حکیم ہے ، یعنی جو ہدایت وہ اس کتاب میں دے رہا ہے وہ سراسر دانائی پر مبنی ہے اور صرف ایک جاہل و نادان آدمی ہی اس سے منہ موڑ سکتا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، السجدہ، حاشیہ نمبر 1۔)

 

سورة السجدۃ حاشیہ نمبر۱

قرآن مجید کی متعدّد سُورتیں اس طرح کے کسی نہ کسی تعارفی فقرہ سے شروع ہوتی ہیں جس سے مقصود آغاز کلام ہی میں یہ بتانا ہوتا ہے کہ یہ کلام کہاں سے آ رہا ہے ۔ یہ بظاہر اُسی طرز کا ایک تمہیدی فقرہ ہے جیسے ریڈیو پر اعلا ن کرنے والا پروگرام کے آغاز میں کہتا ہے کہ ہم فلاں اسٹیشن سے بول رہے ہیں ۔ لیکن ریڈیو کے اس معمولی سے اعلان کے برعکس قرآن مجید کی کسی سورت کا آغاز جب اس غیر معمولی اعلان سے ہوتا ہے کہ یہ پیغام فرمانروائے کائنات کی طرف سے آ رہا ہے تو یہ محض مصدر کلام کا بیان ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ اس میں ایک بہت بڑا دعویٰ ، ایک عظیم چیلنج اور ایک سخت اِنذار بھی شامل ہوتا ہے ۔اس لئے کہ وہ چھوٹتے ہی اِتنی بڑی خبر دیتا ہے کہ یہ ا نسانی کلام نہیں ہے ، خدا وندِ عالم کا کلام ہے ۔یہ اعلان فوراً ہی یہ بھاری سوال آدمی کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے کہ اس دعوے کو تسلیم کروں یا نہ کروں ۔ تسلیم کرتا ہو ں تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے آگے سرِ اطاعت جھکا دینا ہو گا، پھر میرے لیے اس کے مقابلہ میں کوئی آزادی باقی نہیں رہ سکتی ۔ تسلیم نہیں کرتا تو لا محالہ یہ خطرۂ عظیم مول لیتا ہوں کہ اگر واقعی یہ خداوندِ عالَم کا کلام ہے تو اسے رد کرنے کا نتیجہ مجھ کو ابدی شقاوت و بد بختی کی صورت میں دیکھنا پڑے گا۔ اِس بِنا پر یہ تمہیدی فقرہ مجرد اپنی اس غیر معمولی نوعیت ہی کی بنا پر آدمی کو مجبور کر دیتا ہے کہ چوکنّا ہو کر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اِس کلام کو سنے اور یہ فیصلہ کرے کہ اس کو کلامِ الہٰی ہونے کی حیثیت سے تسلیم کرنا ہے یا نہیں ۔

 

یہاں صرف اتنی بات کہنے پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے کہ یہ کتاب ربّ العالمین کی طرف سے نازل ہوئی ہے ، بلکہ مزید براں پورے زور کے ساتھ یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ لَا رَیْبَ فِیْہِ ،   بیشک یہ خدا کی کتاب ہے ، اس کے مَنَزَّل مِنَ اللہ  ہونے میں قطعاً کسی شک کی گنجائش نہیں ہے اس تاکیدی فقرے کو اگر نزولِ قرآن کے واقعاتی پس منظر اور خود قرآن کے اپنے سیاق میں دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اندر دعوے کے ساتھ دلیل بھی مضمر ہے ، اور یہ دلیل مکّہ معظّمہ کے اُن باشندوں سے پوشیدہ نہ تھی جن کے سامنے یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا ۔ اس کتاب کے پیش کرنے والے کی پوری زندگی اُن کے سامنے تھی ، کتاب پیش کرنے سے پہلے کی بھی اور اس کے بعد کی بھی ۔ وہ جانتے تھے کہ جو شخص اس دعوے کے ساتھ یہ کتاب پیش کر رہا ہے وہ ہماری قوم کا سب سے زیادہ راستباز ،سنجیدہ اور پاک سیرت ہے ۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ دعوائے نبوّت سے ایک دن پہلے تک بھی کسی نے اُس سے وہ باتیں کبھی نہ سُنی تھیں جو نبوّت کے بعد یکایک اُس نے بیان کرنی شروع کر دیں ۔ وہ اس کتاب کی زبان اور طرز بیان میں اور خود محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان اور طرز بیان میں نمایاں فرق پاتے تھے اور اس بات کو بداہتًا جانتے تھے کہ ایک ہی شخص کے دو اسٹائل اتنے صریح فرق کے ساتھ نہیں ہو سکتے ۔ وہ اس کتاب کے انتہائی معجزانہ ادب کو بھی دیکھ رہے تھے اور اہل زبان کی حیثیت سے خود جانتے تھے کہ ان کے سارے ادیب اور شاعر اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہیں ۔ وہ اس سے بھی واقف  تھے کہ ان کی قوم کے شاعروں ، کاہنوں اور خطیبوں کے کلام میں اور اس کلام میں کتنا عظیم فرق ہے اور جو پاکیزہ مضامین اس کلام میں بیان کئے جا رہے ہیں وہ کتنے بلند پایہ ہیں ۔ انہیں اس کتاب میں ،اور اس کے پیش کرنے والے کی دعوت میں کہیں دور دور بھی اُس خود غرضی کا ادنیٰ شائبہ تک نظر نہیں آتا تھا جس سے کسی جھوٹے مدّعی کاکام اور کلام کبھی خالی نہیں ہو سکتا۔وہ خوردبین لگا کر بھی اس امر کی نشا ن دہی نہیں کر سکتے تھے کہ نبوّت کا یہ دعویٰ کر کے محمد صلی اللہ علیہ و سلم اپنی ذات کے لئے یا اپنے خاندان کے لئے یا اپنی قوم کے لئے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کام میں ان کی اپنی کیا غرض پوشیدہ ہے ۔ پھر وہ یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ اس دعوت کی طرف ان کی قوم کے کیسے لوگ کھِنچ رہے ہیں اور اس سے وابستہ ہو کر ان کی زندگیوں میں  کتنا بڑا انقلاب واقع ہو رہا ہے ۔ یہ ساری باتیں مل جل کر خود دلیل دعویٰ بنی ہوئی تھیں اِسی لئے اس پس منظر میں یہ کہنا بالکل کافی تھا کہ اس کتاب کا ربّ العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہونا ہر شک و شبہ سے بالا تر ہے ۔ اس پر کسی دلیل کے اضافے کی کوئی حاجت نہ تھی ۔

فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز

آخرت کے دلائل

فہرست موضوعات تفہیم القران جلد چہارم-آخرت

صفحہ  401،  402

سورہ مؤمن آیت 18

وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْاٰزِفَةِ سورہ مؤمن آیت18

اے نبیؐ ، ڈرا دو اِن لوگوں کو اُس دن سے جو قریب آلگا ہے

سورة المومن حاشیہ نمبر۳۰

قرآن مجید میں لوگوں کو بار بار یہ احساس دلایا گیا ہے کہ قیامت ان سے کچھ دور نہیں ہے کہ بلکہ قریب ہی لگی کھڑی ہے اور ہر لمحہ آسکتی ہے۔ کہیں فرمایا اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ۠ (النحل:1)۔ آگیا اللہ کا فیصلہ، اب اس کے لیے جلدی نہ مچاوٴ

کہیں ارشاد ہوا اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ (الانبیاء :1) قریب آگیا ہے لوگوں کے حساب کا وقت ،  اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں۔

 کہیں متنبہ کیا گیا  اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ (القمر:1)۔   قیامت کی گھڑی قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا

کہیں فرمایا گیا اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ۰۰۵۷لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ (النجم:57)۔ ۔ آنے والی گھڑی قریب آلگی ہے، اللہ کے سوا کوئی اُس کو ہٹانے والا نہیں

 ان ساری باتوں سے مقصود لوگوں کو متنبہ کرنا ہے کہ قیامت کو دور کی چیز سمجھ کر بے خوف نہ رہیں اور سنبھلنا ہے تو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر سنبھل جائیں۔

فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز

آخرت کے دلائل

فہرست موضوعات تفہیم القران جلد چہارم-آخرت

صفحہ 414

سورہ مؤمن آیات 48تا50

قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِيْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْعِبَادِ۰۰۴۸وَ قَالَ الَّذِيْنَ فِي النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ۰۰۴۹قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِيْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى ١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍؒ۰۰۵۰ سورہ مؤمن آیات 48تا50

وہ بڑے بننے والے جواب دیں گے”ہم سب یہاں ایک حال میں ہیں، اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکا ہے۔“  پھر یہ دوزخ میں پڑے ہوئے لوگ جہنّم کے اہل کاروں سے کہیں گے”اپنے ربّ سے دعا کرو کہ ہمارے عذاب میں بس ایک دن کی تخفیف کر دے۔“ وہ پوچھیں گے” کیا تمہارے پاس تمہارے رسُول بیّنات لے کر نہیں آتے رہے تھے؟“وہ کہیں گے”ہاں۔“ جہنّم کے اہل کار بولیں گے”پھر تو تم ہی دُعا کرو ، اور کافروں کی دُعا اکارت ہی جانے والی ہے۔

اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکا ہے۔“

سورة المومن حاشیہ نمبر٦۵

یعنی ہم اور تم، دونوں ہی سزا یافتہ ہیں، اور اللہ کی عدالت سے جس کو جو سزا ملنی تھی مل چکی ہے۔ اس کے فیصلے کو بدلنا، یا اس کی دی ہوئی سزا میں کمی بیشی کر دینا اب کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔

اور کافروں کی دُعا اکارت ہی جانے والی ہے۔

سورة المومن حاشیہ نمبر٦٦

یعنی جب واقعہ یہ ہے کہ رسول تمہارے پاس بینات لے کر آ چکے تھے اور تم اس بنا پر سزا پاکر یہاں آۓ ہو کہ تم نے ان کی بات ماننے سے انکار(کفر)کر دیا تھا، تو اب ہمارے لیے تمہارے حق میں اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرنا کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے، کیونکہ ایسی دعا کے لیے کوئی نہ کوئی عذر تو ہونا چاہیے، اور تم اپنی طرف سے ہر معذرت کی گنجائش پہلے ہی ختم کر  چکے ہو۔ اس حالت میں تم خود دعا کرنا چاہو تو کر دیکھو۔ مگر ہم یہ پہلے ہی تمہیں بتاۓ دیتے ہیں کہ تمہاری طرح کفر کر کے جو لوگ یہاں آۓ ہوں ان کی دعا بالکل لا حاصل ہے۔

فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز

آخرت کے دلائل

فہرست موضوعات تفہیم القران جلد چہارم-آخرت

صفحہ 417،  418

سورہ مؤمن آیات 57تا59

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۰۰۵۷وَ مَا يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَ الْبَصِيْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِيْٓءُ١ؕ قَلِيْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ۰۰۵۸اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ۰۰۵۹ سورہ مؤمن آیات 57تا59

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کو پیدا کرنے کی بہ نسبت یقیناً زیادہ بڑا کام ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ اور یہ نہیں ہو سکتا کہ اندھا اور بینا یکساں ہو جائے اور ایماندار و صالح اور بدکار  برابر ٹھہریں۔ مگر تم لوگ کم ہی کچھ سمجھتے ہو۔ یقیناً قیامت کی گھڑی آنے والی ہے ، اس کے آنے میں کوئی شک نہیں، مگر اکثر لوگ نہیں مانتے۔

مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

سورة المومن حاشیہ نمبر۷۹

یہ امکان آخرت کی دلیل ہے۔ کفار کا خیال تھا کہ مرنے کے بعد انسان کا دوبارہ جی اٹھنا غیر ممکن ہے۔ اس کے جواب میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں وہ در حقیقت نادان ہیں۔ اگر عقل سے کام لیں تو ان کے لیے یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہ ہو کہ جس خدا نے یہ عظیم الشان کائنات بنائی ہے اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کر دینا کوئی دشوار کام نہیں ہو  سکتا۔

مگر تم لوگ کم ہی کچھ سمجھتے ہو

سورة المومن حاشیہ نمبر۸۰

یہ وجوب آخرت کی دلیل ہے۔ اوپر کے فقرے میں بتایا گیا تھا کہ آخرت ہو  سکتی ہے، اس کا ہونا غیر ممکن نہیں ہے۔ اور اس فقرے میں بتایا جا رہا ہے کہ آخرت ہونی چاہیے، عقل اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہو، اور اس کا ہونا نہیں بلکہ نہ ہونا خلاف عقل و انصاف ہے۔ آخر کوئی معقول آدمی اس بات کو کیسے درست مان سکتا ہے کہ جو لوگ دنیا میں اندھوں کی طرح جیتے ہیں  اور اپنے برے اخلاق و اعمال سے خدا کی زمین کو فساد سے بھر دیتے ہیں وہ اپنی اس غلط روش کا کوئی برا انجام نہ دیکھیں، اور اسی طرح وہ لوگ بھی جو دنیا میں آنکھیں کھول کر چلتے ہیں اور ایمان لا کر نیک عمل کرتے ہیں اپنی اس اچھی کار کردگی کا کوئی اچھا نتیجہ دیکھنے سے محروم رہ جائیں؟ یہ بات اگر صریحاً خلاف عقل و انصاف ہے تو پھر یقیناً انکار آخرت کا عقیدہ بھی عقل و انصاف کے خلاف ہی ہونا چاہیے، کیونکہ آخرت نہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ نیک و بد دونوں آخر کار مر کر مٹی ہو جائیں اور ایک ہی انجام سے دوچار ہوں۔ اس صورت میں صرف عقل و انصاف ہی کا خون نہیں ہوتا بلکہ خلاق کی بھی جڑ کٹ جاتی ہے۔ اس لیے کہ اگر نیکی اور بدی کا انجام یکساں ہے تو پھر بد بڑا عقل مند ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے دل کے سارے ارمان نکال گیا اور نیک سخت بے وقوف ہے کہ خواہ مخواہ اپنے اوپر طرح طرح کی اخلاقی پابندیاں عائد کیے رہا۔

مگر اکثر لوگ نہیں مانتے

یہ وقوع آخرت کا قطعی حکم ہے جو استدلال کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف علم ہی کی بنا پر لگایا جا سکتا ہے، اور کلام وحی کے سوا کسی دوسرے کلام میں یہ بات اس قطعیت کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتی۔ وحی کے بغیر محض عقلی استدلال سے جو کچھ کہا جا سکتا ہے وہ بس اسی قدر ہے کہ آخرت ہو سکتی ہے، اور اس کو ہونا چاہیے۔ اس سے آگے بڑھ کر یہ کہنا کہ آخرت یقیناً ہو گی اور ہو کر رہے گی، یہ صرف اس ہستی کے کہنے کی بات ہے جسے معلوم ہے کہ آخرت ہو گی، اور وہ ہستی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قیاس و استدلال کے بجائے خالص علم پر دین کی بنیاد اگر قائم ہو سکتی ہے تو وہ صرف وحی الہیٰ کے ذریعہ ہی سے ہو سکتی ہے۔

فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز

آخرت کے دلائل

فہرست موضوعات تفہیم القران جلد چہارم-آخرت

صفحہ 429،  430

سورہ مؤمن آیات 78تا81

ِۚ فَاِذَا جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ قُضِىَ بِالۡحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ اَللّٰهُ الَّذِىۡ جَعَلَ لَكُمُ الۡاَنۡعَامَ لِتَرۡكَبُوۡا مِنۡهَا وَمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ‏ ﴿40:79﴾ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبۡلُغُوۡا عَلَيۡهَا حَاجَةً فِىۡ صُدُوۡرِكُمۡ وَعَلَيۡهَا وَعَلَى الۡفُلۡكِ تُحۡمَلُوۡنَؕ‏ ﴿40:80﴾ وَيُرِيۡكُمۡ اٰيٰتِهٖ ۖ فَاَىَّ اٰيٰتِ اللّٰهِ تُنۡكِرُوۡنَ‏ ﴿

پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے مطابق فیصلہ کر دیا گیا اور اُس وقت غلط کار لوگ خسارے میں پڑ گئے

. اللہ ہی نے تمہارے لیے یہ مویشی جانور بنائے ہیں تاکہ ان میں سے کسی پر تم سوار ہو اور کسی کا گوشت کھاوٴ۔. ان کے اندر تمہارے لیے اور بھی بہت سے منافع ہیں۔ وہ اس کام بھی آتے ہیں کہ تمہارے دلوں میں جہاں جانے کی حاجت ہو وہاں تم اُن پر پہنچ سکو۔ اُن پر بھی اور کشتیوں پر بھی تم سوار کیے جاتے ہو۔. اللہ اپنی یہ نشانیاں تمہیں دکھا رہا ہے ، آخر تم اُس کی کِن کِن نشانیوں کا انکار کرو گے۔

 

اُس وقت غلط کار لوگ خسارے میں پڑ گئے

. یعنی معجزہ کبھی کھیل کے طور پر نہیں دکھایا گیا ہے۔ وہ تو ایک فیصلہ کن چیز ہے۔ اس کے ظاہر ہو جانے کے بعد جب کوئی قوم نہیں مانتی تو پھر اس کا خاتمہ کر دیا جاتا ہے۔ تم محض تماش بینی کے شوق میں معجزے کا مطالبہ کر رہے ہو، مگر تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ اس طرح دراصل تم خود تقاضے کر کر کے اپنی شامت بلا رہے ہو۔ یہ کفار کے اس مطالبہ کا دوسرا جواب ہے، اور اس کی تفصیلات اس سے پہلے قرآن میں متعدد مقامات پر گزر چکی ہیں (ملاحظہ ہو جلد دوم، الحجر حواشی،5،30،بنی اسرائیل،حواشی،68،69،جلد سوم،الانبیاء،حواشی،7،8،الفرقان،حاشیہ،33،الشعراء،حاشیہ،49)

نشانیوں کا انکار کرو گے

. مطلب یہ ہے کہ اگر تم محض تماشا دیکھنے اور دل بہلانے کے لیے معجزے کا مطالبہ نہیں کر رہے ہو، بلکہ تمہیں صرف یہ اطمینان کرنے کی ضرورت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم جن باتوں کو ماننے کی دعوت تمہیں دے رہے ہیں (یعنی توحید اور آخرت) وہ حق ہیں یا نہیں، تو اس کے لیے خدا کی یہ نشانیاں بہت کافی ہیں جو ہر وقت تمہارے مشاہدے اور تجربے میں آ رہی ہیں۔ حقیقت کو سمجھنے کے لیے ان نشانیوں کے ہوتے کسی اور نشانی کی کیا حاجت رہ جاتی ہے۔ یہ معجزات کے مطالبے کا تیسرا جواب ہے۔ یہ جواب بھی اس سے پہلے متعدد مقامات پر قرآن میں دیا گیا ہے اور ہم اس کی تشریح اچھی طرح کر چکے ہیں (ملاحظہ ہو جلد اول، الانعام حواشی،26،27،۔ جلد دوم یونس حاشیہ،105،الرعد حواشی،15تا20۔ جلد سوم، الشعراء،حواشی،3،4،5)۔

اللہ ہی نے تمہارے لیے یہ مویشی جانور بنائے ہیں تاکہ ان میں سے کسی پر تم سوار ہو اور کسی کا گوشت کھاوٴ

زمین پر جو جانور انسان کی خدمت کر رہے ہیں، خصوصاً گائے، بیل، بھینس، بھیڑ، بکری، اونٹ اور گھوڑے، ان کو بنانے والے نے ایسے نقشے پر بنایا ہے کہ یہ بآسانی انسان کے پالتو خادم بن جاتے ہیں، اور ان سے اس کی بے شمار ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ ان پر سواری کرتا ہے۔ ان سے بار برداری کا کام لیتا ہے۔ انہیں کھیتی باڑی کے کام میں استعمال کرتا ہے۔ ان کا دودھ نکال کر اسے پیتا بھی ہے اور اس سے دہی، لسّی،مکھن، گھی، کھویا، پنیر، اور طرح طرح کی مٹھائیاں بناتا ہے۔ ان کا گوشت کھاتا ہے۔ ان کی چربی استعمال کرتا ہے۔ ان کے اون اور بال اور کھال اور آنتیں اور ہڈی اور خون اور گوبر، ہر چیز اسکے کام آتی ہے۔ کیا یہ اس بات کا کھلا ثبوت نہیں ہے کہ انسان کے خالق نے زمین پر اس کو پیدا کرنے سے بھی پہلے اس کی ان بے شمار ضروریات کو سامنے رکھ کر یہ جانور اس خاص نقشے پر پیدا کر دیے تھے تاکہ وہ ان سے فائدہ اٹھائے؟

پھر زمین کا تین چوتھائی حصّہ پانی سے لبریز ہے اور صرف ایک چوتھائی خشکی پر مشتمل ہے۔ خشک حصوں کے بھی بہت سے چھوٹے اور بڑے رقبے ایسے ہیں جن کے درمیان پانی حائل ہے۔ کرہ زمین کے ان خشک علاقوں پر انسانی آبادیوں کا پھیلنا اور پھر ان کے درمیان سفر و تجارت کے تعلقات کا قائم ہونا اس کے بغیر ممکن نہ تھا کہ پانی اور سمندروں اور ہواؤں کو ایسے قوانین کا پابند بنایا جاتا جن کی بدولت جہاز رانی کی جا سکتی، اور زمین پر وہ سر و سامان پیدا کیا جاتا جسے استعمال کر کے انسان جہاز سازی پر قادر ہوتا۔ کیا یہ اس بات کی صریح علامت نہیں ہے کہ ایک ہی قادر مطلق ربّ رحیم و حکیم ہے جس نے انسان اور زمین اور پانی اور سمندروں اور ہواؤں اور ان تمام چیزوں کو جو زمین پر ہیں اپنے خاص منصوبے کے مطابق بنایا ہے۔ بلکہ اگر انسان صرف جہاز رانی ہی کے نقطہ نظر سے دیکھے تو اس میں تاروں کے مواقع اور سیاروں کی باقاعدہ گردش سے جو مدد ملتی ہے وہ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ زمین ہی نہیں، آسمان کا خالق بھی وہی ایک رب کریم ہے۔

 

اس کے بعد اس بات پر بھی غور کیجیے کہ جس خدائے حکیم نے اپنی اتنی بے شمار چیزیں انسان کے تصرف میں دی ہیں اور اس کے مفاد کے لیے یہ کچھ سر و سامان فراہم کیا ہے، کیا بسلامتی ہوش و حواس آپ اس کے متعلق یہ گمان کر سکتے ہیں کہ وہ معاذاللہ ایسا آنکھ کا اندھا اور گانٹھ کا پورا ہو گا کہ وہ انسان کو یہ سب کچھ دے کر کبھی اس سے حساب نہ لے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں