فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز آخرت کے دلائل-6 تفہیم القران جلد چہارم-آخرت
فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز
آخرت کے دلائل-6
تفہیم القران جلد چہارم-آخرت
صفحہ 577، 578
سورہ جاثیہ موضوع مضمون
عقیدہ آخرت کے متعلق کفار کے جاہلانہ
خیالات پر کلام کیا گیا ہے۔وہ کہتے تھے کہ زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے، اس کے
بعد کوئی دوسرے زندگی نہیں ہے۔ ہم گردش ایام سے بس اسی طرح مرتے ہیں جس طرح ایک
گھڑی چلتے چلتے رک جائے۔ موت کے بعد کوئی روح باقی نہیں رہتی جسے قبض کیا جاتا ہو
اور پھر کسی وقت دوبارہ لا کر انسانی جسم میں پھونک دیا جائے۔ اس چیز کا اگر تمہیں
دعویٰ ہے تو ہمارے مرے ہوئے آبا و اجداد کو زندہ کر کے دکھاؤ۔ اس کے جواب میں اللہ
تعالیٰ نے پے در پے چند دلائل ارشاد فرمائے ہیں:
ایک یہ کہ تم یہ بات کسی علم کی بنا
پر نہیں کہہ رہے ہو بلکہ محض گمان کی بنیاد پر اتنا بڑا حکم لگا بیٹھے ہو۔ کیا فی
الواقع تمہیں یہ علم ہے کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے اور روحیں قبض نہیں
کی جاتیں بلکہ فنا ہو جاتی ہیں؟
دوسرے یہ کہ تمہارے اس دعوے کی بنیاد
زیادہ سے زیادہ بس یہ ہے کہ تم نے کسی مرنے والے کو اٹھ کر دنیا میں آتے نہیں دیکھا
ہے۔ کیا یہ بات اتنا بڑا دعویٰ کر دینے کے لیے کافی ہے کہ مرنے والے پھر کبھی نہیں
اٹھیں گے؟ کیا تمہارے تجربے اور مشاہدے میں کسی چیز کا نہ آنا یہ معنی رکھتا ہے کہ
تمہیں اس چیز کے نہ ہونے کا علم حاصل ہے؟
تیسرے یہ کہ یہ بات سراسر عقل اور
انصاف کے خلاف ہے کہ نیک اور بد، فرمانبردار اور نافرمان، ظالم اور مظلوم، آخر کار
سب یکساں کر دیے جائیں، کسی بھلائی کا کوئی اچھا نتیجہ اور کسی برائی کا کوئی برا
نتیجہ نہ نکلے، نہ کسی مظلوم کی داد رسی ہو اور نہ کوئی ظالم اپنے کیے کی سزا
پائے، بلکہ سب ایک ہی انجام سے دوچار ہوں۔ خدا کی اس کائنات کے متعلق جس نے یہ
تصور قائم کیا ہے اس نے بڑا ہی غلط تصور قائم کیا ہے۔ اس تصور کو ظالم اور بد کار
لوگ تو اس لیے اختیار کرتے ہیں کہ وہ اپنے افعال کا برا نتیجہ نہیں دیکھنا چاہتے،
لیکن خدا کی یہ خدائی اندھیر نگری نہیں ہے بلکہ یہ ایک برحق نظام ہے جس میں نیک و
بد کو بالآخر یکساں کر دینے کا ظلم ہر گز نہیں ہو سکتا۔
چوتھے یہ کہ انکار آخرت کا عقیدہ
اخلاق کے لیے سخت تباہ کن ہے۔ اس کو اختیار وہی لوگ کرتے ہیں جو اپنے نفس کے بندے
بنے ہوئے ہیں، اور اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں بندگیٔ نفس کی کھلی چھوٹ مل جائے۔ پھر
جب وہ اس عقیدے کو اختیار کر لیتے ہیں تو یہ انہیں گمراہ سے گمراہ تر کرتا چلا
جاتا ہے، یہاں تک کہ ان
کی اخلاقی حِس بالکل مردہ ہو جاتی ہے اور ہدایت کے تمام دروازے ان کے لیے بند ہو
جاتے ہیں۔
یہ دلائل دینے کے بعد اللہ تعالیٰ
پورے زور کے ساتھ فرماتا ہے کہ جس طرح تم آپ سے آپ زندہ نہیں ہو گئے ہو، بلکہ
ہمارے زندہ کرنے سے زندہ ہوئے ہو، اسی طرح تم آپ سے آپ نہیں مر جاتے، بلکہ ہمارے
موت دینے سے مرتے ہو، اور ایک وقت یقیناً ایسا آنا ہے جب تم سب بیک وقت جمع کیے
جاؤ گے۔ اس بات کو اگر آج تم اپنی جہالت و نادانی سے نہیں مانتے تو نہ مانو، جب وہ
وقت آ جائے گا تو تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ اپنے خدا کے حضور پیش ہو
اور تمہاری پورا نامہ اعمال بے کم و کاست تیار ہے جو تمہارے ایک ایک کرتوت کی
شہادت دے رہا ہے۔ اس وقت تم کو معلوم ہو جائے گا کہ عقیدہ آخرت کا یہ انکار اور اس
کا یہ مذاق جو تم اُڑا رہے ہو، تمہیں کس قدر مہنگا پڑا ہے۔
فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز
آخرت کے دلائل-6
فہرست موضوعات تفہیم القران جلد
چہارم-آخرت
صفحہ 587، 588
سورہ جاثیہ آیات 21، 22
اَمۡ حَسِبَ الَّذِيۡنَ اجۡتَـرَحُوا
السَّيِّاٰتِ اَنۡ نَّجۡعَلَهُمۡ كَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ
سَوَآءً مَّحۡيَاهُمۡ وَمَمَاتُهُمۡ ؕ سَآءَ مَا يَحۡكُمُوۡنَ ﴿45:21﴾ وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ
وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ وَلِتُجۡزٰى كُلُّ نَفۡسٍۢ بِمَا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا
يُظۡلَمُوۡنَ ﴿45:22﴾ سورہ جاثیہ آیات
21، 22
. کیا وہ لوگ جنہوں
نے بُرائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم اُنہیں اور ایمان لانے
والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کر دیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں
ہو جائے؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں۔ . اللہ نے تو آسمانوں اور زمین کو
برحق پیدا کیا ہے اور اس لیے کیا ہے کہ ہر متنفّس کو اُس کی کمائی کا بدلہ دیا
جائے ۔ لوگوں پر ظلم ہر گز نہ کیا جائے گا۔
بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے
ہیں۔
27. یہ
آخرت کے بر حق ہونے پر اخلاقی استدلال ہے۔ اخلاق میں خیر و شر اور اعمال میں نیکی
و بدی کے فرق کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اچھے اور برے لوگوں کا انجام یکساں نہ ہو،
بلکہ اچھوں کو ان کی اچھائی کا اچھا بدلہ ملے اور برے اپنی برائی کا برا بدلہ
پائیں۔یہ بات اگر نہ ہو، اور نیکی و بدی کا نتیجہ ایک ہی جیسا ہو تو سرے سے اخلاق
میں خوبی و زشتی کی تمیز ہی بے معنی ہو جاتی ہے اور خدا پر بے انصافی کا الزام
عائد ہوتا ہے۔جو لوگ دنیا میں بدی کی راہ چلتے ہیں وہ تو ضرور یہ چاہتے ہیں کہ
کوئی جزا و سزا نہ ہو، کیونکہ یہ تصور ہی ان کے عیش کو منغّص کر دینے والا ہے۔لیکن
خداوند عالم کی حکمت اور اس کے عدل سے یہ بات بالکل بعید ہے کہ وہ نیک و بد سے ایک
جیسا معاملہ کرے اور کچھ نہ دیکھے کہ مومن صالح نے دنیا میں کس طرح زندگی بسر کی
ہے اور کافر و فاسق یہاں کیا گل کھلاتا رہا ہے۔ ایک شخص عمر بھر اپنے اوپر اخلاق کی
پابندیاں لگائے رہا۔ حق والوں کے حق ادا کرتا رہا۔ نا جائز فائدوں اور لذتوں سے
اپنے آپ کو محروم کیے رہا۔ اور حق و صداقت کی خاطر طرح طرح کے نقصانات برداشت کرتا
رہا۔ دوسرے شخص نے اپنی خواہشات ہر ممکن طریقے سے پوری کیں، نہ خدا کا حق پہچانا
اور نہ بندوں کے حقوق پر دست درازی کرنے سے باز آیا۔ جس طرح سے بھی اپنے لیے فائدے
اور لذتیں سمیٹ سکتا تھا، سمیٹتا چلا گیا۔ کیا خدا سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ان
دونوں قسم کے آدمیوں کی زندگی کے اس فرق کو وہ نظر انداز کر دے گا؟ مرتے دم تک جن
کا جینا یکساں نہیں رہا ہے، موت کے بعد اگر ان کا انجام یکساں ہو تو خدا کی خدائی
میں اس سے بڑھ کر اور کیا بے انصافی ہو سکتی ہے؟
مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم
القرآن، جلد دوم،یونس،حواشی،9،10
اِنَّهٗ يَـبۡدَؤُا الۡخَـلۡقَ ثُمَّ
يُعِيۡدُهٗ
بے شک پیدائش کی ابتداء وہی کرتا ہے،
پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا،
9. یہ
فقرہ دعوے اور دلیل دونوں کا مجموعہ ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ خدا دوبارہ انسان کو پیدا
کرے گا اور اس پر دلیل یہ دی گئی ہے کہ اسی نے پہلی مرتبہ انسان کو پیدا کیا ۔ جو
شخص یہ تسلیم کرتا ہو کہ خدا نے خلق کی ابتدا کی ہے ( اور اس سے بجز اُن دہریوں کے
جو محض پادریوں کے مذہب سے بھاگنے کے لیے خلقِ بے خالق جیسے احمقانہ نظریے کو
اوڑھنے پر آمادہ ہو گئے اور کون انکار کر سکتا ہے) وہ اس بات کو ناممکن یا بعید از
فہم قرار نہیں دے سکتا کہ وہی خدا اس خلق کا پھر اعادہ کرے گا۔
لِيَجۡزِىَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا
وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالۡقِسۡطِؕ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَهُمۡ شَرَابٌ مِّنۡ
حَمِيۡمٍ وَّعَذَابٌ اَلِيۡمٌۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡفُرُوۡنَ ﴿10:4﴾
تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے
نیک اعمال کیے ان کو پورے انصاف کے ساتھ جزا دے، اور جنہوں نے کُفر کا طریقہ اختیار
کیا وہ کھولتا ہوا پانی پئیں اور دردناک سزا بُھگتیں اُس انکارِحق کی پاداش میں جو
وہ کرتے رہے۔
10. یہ وہ ضرورت ہے جس کی بنا پر اللہ
تعالیٰ انسان کو دوبارہ پیدا کرے گا ۔ اوپر جو دلیل دی گئی ہے وہ یہ بات ثابت کرنے
کے لیے کافی تھی کہ خلق کا اعادہ ممکن ہے اور اسے مُستبعَد سمجھنا درست نہیں ہے ۔
اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ اعادۂ خلق ، عقل و انصاف کی روسے ضروری ہے اور یہ
ضرورت تخلیقِ ثانیہ کے سوا کسی دوسرے طریقے سے پوری نہیں ہو سکتی۔ خدا کو اپنا
واحد رب مان کر جو لوگ صحیح بندگی کا رویہ اختیار کریں وہ اس کے مستحق ہیں کہ انہیں
اپنے اس بجا طرزِ عمل کی پوری پوری جزا ملے۔ اور جولو گ حقیقت سے انکار کر کے اس
کے خلاف زندگی بسر کریں وہ بھی اس کے مستحق ہیں کہ وہ اپنے اس بے جا طرزِ عمل کا
برا نتیجہ دیکھیں ۔ یہ ضرورت اگر موجود ہ دنیوی زندگی میں پوری نہیں ہو رہی ہے
(اور ہر شخص جوہٹ دھرم نہیں ہے جانتا ہے کہ نہیں ہو رہی ہے) تو اسے پورا کرنے کے لیے
یقینًا دوبارہ زندگی ناگزیر ہے۔
Comments
Post a Comment