عقیدۂ آخرت کے اخلاقی نتائج

 

عقیدۂ آخرت کے اخلاقی نتائج

فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد چہارم

صفحہ 528،529

سورہ زخرف آیات 12تا14

وَالَّذِىۡ خَلَقَ الۡاَزۡوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُمۡ مِّنَ الۡفُلۡكِ وَالۡاَنۡعَامِ مَا تَرۡكَبُوۡنَۙ‏ ﴿43:12﴾ لِتَسۡتَوٗا عَلٰى ظُهُوۡرِهٖ ثُمَّ تَذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ رَبِّكُمۡ اِذَا اسۡتَوَيۡتُمۡ عَلَيۡهِ وَتَقُوۡلُوۡا سُبۡحٰنَ الَّذِىۡ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقۡرِنِيۡنَۙ‏  ﴿43:13﴾ وَاِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنۡقَلِبُوۡنَ‏ ﴿43:14﴾ سورہ زخرف آیات 12تا14

وہی جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کیے، اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا ۔ تاکہ تم اُن کی پُشت پر چڑھو اور جب اُن پر بیٹھو تو اپنے ربّ کا احسان یاد کرو اور کہو کہ ” پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے اِن چیزوں کر مسخّر کر دیا ورنہ ہم انہیں قابُو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے ،  - اور ایک روز ہمیں اپنے ربّ کی طرف پلٹنا ہے۔“۱۴

وہی جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کیے

12. جوڑوں سے مراد صرف نوع انسانی کے زن و مرد ، اور حیوانات و نباتات کے نر و مادہ ہی نہیں ہیں، بلکہ دوسری بے شمار چیزیں بھی ہیں جن کو خالق نے ایک دوسرے کا جوڑ بنایا ہے اور جن کے اختلاط یا امتزاج سے دنیا میں نئی نئی چیزیں وجود میں آتی ہیں۔ مثلاً عناصر میں بعض کا بعض سے جوڑ لگتا ہے اور بعض کا بعض سے نہیں لگتا ۔جن کا جوڑ ایک دوسرے سے لگتا ہے ، ان ہی کے ملنے سے طرح طرح کی ترکیبیں واقع ہو رہی ہیں۔ یا مثلاً بجلی میں منفی اور مثبت بجلیاں ایک دوسرے کا جوڑ ہیں اور ان کی باہمی کشش ہی دنیا میں عجیب عجیب کرشموں کی موجب بن رہی ہے ۔ یہ اور دوسرے ان گنت جوڑ ے جو قسم قسم کی مخلوقات کے اندر اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں ، ان کی ساخت ، اور انکی باہمی مناسبتوں ، اور ان کے تعامل کی گوناگوں شکلوں، اور ان کے ملنے سے پیدا ہونے والے نتائج پر اگر انسان غور کرے تو اس کا دل یہ گواہی دیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ سارا کارخانہ عالم کسی ایک ہی زبردست صانع حکیم کا بنا یا ہوا ہے ، اور اسی کی تدبیر سے یہ چل رہا ہے ۔ صرف ایک عقل کا اندھا ہی یہ فرض کر سکتا ہے کہ یہ سب کچھ کسی حکیم کے بغیر ہوا اور ہو رہا ہے ، یا اس میں ایک سے زیادہ خداؤں کی دخیل کاری کا کوئی امکان ہے ۔

پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے اِن چیزوں کر مسخّر کر دیا ورنہ ہم انہیں قابُو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے

13. یعنی زمین کی تمام مخلوقات میں سے تنہا انسان کو کشتیاں اور جہاز چلانے اور سواری کے لیے جانور استعمال کرنے کی یہ مقدرت اللہ تعالیٰ نے اس لیے تو نہیں دی تھی کہ وہ غلے کی بوریوں کی طرح ان پر لد جائے اور کبھی نہ سوچے کہ آخر وہ کون ہے جس نے ہمارے لیے بحر ذخّار میں کشتیاں دوڑانے کے امکانات پیدا کیے ، اور جس نے جانوروں کی بے شمار اقسام میں سے بعض کو اس طرح پیدا کیا کہ وہ ہم سے بدر جہا زیادہ طاقتور ہونے کے باوجود ہمارے تابع فرمان بن جاتے ہیں اور ہم ان پر سوار ہو کر جدھر چاہتے ہیں انہیں لیے پھرتے ہیں ۔ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانا اور نعمت دینے والے کو فراموش کر دینا ، دل کے مردہ اور عقل و ضمیر کے بے حس ہونے کی علامت ہے ۔ ایک زندہ اور حساس قلب و ضمیر رکھنے والا انسان تو ان سواریوں پر جب بیٹھے گا تو اس کا سر احساس نعمت اور شکر نعمت کے جذبے سے لبریز ہو جائے گا۔ وہ پکار اٹھے گا کہ پاک ہے وہ ذات جس نے میرے لیے ان چیزوں کو مسخر کیا۔ پاک ہے اس سے کہ اس کی ذات و صفات اور اختیارات میں کوئی اس کا شریک ہو۔ پاک ہے اس کمزوری سے کہ اپنی خدائی کا کام خود چلانے سے وہ عاجز ہو اور دوسرے مدد گار خداؤں کی اسے حاجت پیش آئے ۔ پاک ہے اس سے کہ میں ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے میں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کروں۔

 

اس آیت کے منشا کی بہترین عملی تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے وہ اذکار ہیں جو سواریوں پر بیٹھتے وقت آپؐ کی زبان مبارک پر جاری ہوتے تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ حضورؐ جب سفر پر جانے کے لیے سواری پر بیٹھتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے ، پھر یہ آیت پڑھتے ، اور اس کے بعد یہ دعا مانگا کرتے تھے ۔ : اللھم انی اسأ لُکَ فی سفری ھٰذا لابرَّ و التقویٰ ، ومن العمل ماترضیٰ ، اللھم ھون لناالسفر، واطْو،لَنا البعید ، اللھم انت الصاحب فی السفر ، الخلیفۃُ فی الاھل، اللھم اَصْحِبْا فی سفر نا واخْلُفْنَا فی اھلنا (مسند احمد ، مسلم، ابوداؤد نسائی ، دارمی، ترمذی) ۔ ’’ خدایا میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے اس سفر میں مجھے نیکی اور تقویٰ اور ایسے عمل کی توفیق دے جو تجھے پسند ہو۔ خدایا ہمارے لیے سفر کو آسان کر دے اور لمبی مسافت کو لپیٹ دے ، خدایا تو ہی سفر کا ساتھی اور ہمارے پیچھے ہمارے اہل و عیال کا نگہبان ہے ، خدایا ہمارے سفر میں ہمارے ساتھ اور پیچھے ہمارے گھر والوں کی خبر گیری فرما۔‘‘

 

حضرت علی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بسم اللہ کہہ کر رکاب میں پاؤں رکھا ، پھر سوار ہونے کے بعد فرمایا : الحمد للہ ، سبحان الذی سخر لنا ھٰذا .......... ، پھر تین مرتبہ الحمد للہ اور تین دفعہ اللہ اکبر کہا ، پھر فرمایا سبحانک، لا اِلٰہ الا انت ، قد ظلمتُ نفسی فاغفرلی۔ اس کے بعد آپ ہنس دیے ۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ آپ ہنسے کس بات پر ؟ فرمایا ، بندہ جب ربِّ اغْفِرْ لِیْ کہتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کو اس کی یہ بات بڑی پسند آتی ہے ، وہ فرماتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا مغفرت کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ (احمد، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی وغیرہ) ۔

 

ایک صاحب ابو مجلز بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں جانور پر سوار ہوا اور میں نے آیت سُبحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا پڑھی۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا اس طرح کرنے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے ؟میں نے عرض کیا پھر کیا کہوں ؟ فرمایا کہو کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں اسلام کی ہدایت دی، شکر ہے اس کا کہ اس نے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو بھیج کر ہم پر احسان فرمایا ، شکر ہے اس کا کہ اس نے ہمیں اس بہترین امت میں داخل کیا جو خلق خدا کے لیے نکالی گئی ہے ، اس کے بعد یہ آیت پڑھو(ابن جریر ۔ احکام القرآن للجصّاص)۔

اور ایک روز ہمیں اپنے ربّ کی طرف پلٹنا ہے۔

14. مطلب یہ ہے کہ ہر سفر پر جاتے ہوئے یاد کر لو کہ آگے ایک بڑا اور آخری سفر بھی درپیش ہے ۔ اس کے علاوہ چونکہ ہر سواری کو استعمال کرنے میں یہ امکان بھی ہوتا ہے کہ شاید کوئی حادثہ اسی سفر کو آدمی کا آخری سفر بنا دے ، اس لیے بہتر ہے کہ ہر مرتبہ وہ اپنے رب کی طرف واپسی کو یاد کر کے چلے تاکہ اگر مرنا ہی ہے تو بے خبر نہ مرے ۔

 

یہاں تھوڑی دیر ٹھیر کر ذرا اس تعلیم کے اخلاقی نتائج کا بھی اندازہ کر لیجیے ۔ کیا آپ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ جو شخص کسی سواری پر بیٹھتے وقت سمجھ بوجھ کر پورے شعور کے ساتھ اس طرح اللہ کو اور اس کے حضور اپنی واپسی اور جواب دہی کو یاد کر کے چلا ہو وہ آگے جا کر کسی فسق و فجور یا کسی ظلم ستم کا مرتکب ہوگا ؟ کیا کسی فاحشہ سے ملاقات کے لیے ، یا کسی کلب میں شراب خوری اور قمار بازی کے لیے جاتے وقت بھی کوئی شخص یہ کلمات زبان سے نکال سکتا ہے یا ان کا خیال کر سکتا ہے ؟ کیا کوئی حاکم یا سرکاری افسر، یا تاجر، جو یہ کچھ سوچ کر اور اپنے منہ سے کہہ کر گھر سے چلا ہو، اپنی جائے عمل پر پہنچ کر لوگوں کے حق مار سکتا ہے ؟ کیا کوئی سپاہی بے گناہوں کا خون بہانے اور کمزوروں کی آزادی پر ڈاکہ مارنے کے لیے جاتے وقت بھی اپنے ہوائی جہاز یا ٹینک پر قدم رکھتے ہوئے یہ الفاظ زبان پر لا سکتا ہے ؟ اگر نہیں، تو یہی ایک چیز ہراس نقل و حرکت پر بند باندھ دینے کے لیے کافی ہے جو معصیت کے لیے ہو۔

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں