فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز آخرت کے دلائل-7-ا تفہیم القران جلد چہارم-آخرت
فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز
آخرت کے دلائل-7-ا
تفہیم القران جلد چہارم-آخرت
صفحہ590تا592
سورہ جاثیہ آیات 25تا27
وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا
بَيِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتُوۡا بِاٰبَآئِنَاۤ
اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ﴿45:25﴾ قُلِ اللّٰهُ يُحۡيِيۡكُمۡ ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ
ثُمَّ يَجۡمَعُكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ وَلٰكِنَّ
اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴿45:26﴾ وَلِلّٰهِ مُلۡكُ
السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ وَيَوۡمَ
تَقُوۡمُ السَّاعَةُ يَوۡمَـئِذٍ يَّخۡسَرُ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿45:27﴾
اور جب ہماری واضح آیات انہیں سُنائی
جاتی ہیں تو اِن کے پاس کوئی حجّت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ اُٹھا لاوٴ ہمارے باپ
داد کو اگر تم سچے ہو۔ 26. اے نبیؐ، اِن سے کہو، اللہ ہی تمہیں زندگی بخشتا ہے،
پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے، پھر وہی تم کو اُس قیامت کے دن جمع کر ے گا جس کے آنے
میں کوئی شک نہیں، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
۲۷ - زمین
اور آسمانوں کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے،۴۰ اور جس روز قیامت کی گھڑی آکھڑی ہوگی اُس
دن باطل پرست خسارے میں پڑ جائیں گے۔
اُٹھا لاوٴ ہمارے باپ داد
کو اگر تم سچے ہو۔
36.
دوسرے الفاظ میں ان کی اس حجت کا مطلب یہ تھا کہ جب کوئی
ان سے یہ کہے کہ موت کے بعد دوسری زندگی ہو گی تو اسے لازماً قبر سے ایک مردہ اٹھا
کر ان کے سامنے لے آنا چاہیے۔ اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو وہ یہ نہیں مان سکتے
کہ مرے ہوئے انسان کسی وقت از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جانے والے ہیں۔ حالانکہ یہ
بات سرے سے کسی نے بھی ان سے نہیں کہی تھی کہ اس دنیا میں متفرق طور پر وقتاً
فوقتاً مردوں کو دوبارہ زندہ کیا جاتا رہے گا۔ بلکہ جو کچھ کہا گیا تھا وہ یہ تھا
کہ قیامت کے بعد اللہ تعالیٰ بیک وقت تمام انسانوں کو از سر نو زندہ کرے گا اور ان
سب کے اعمال کا محاسبہ کر کے جزا اور سزا کا فیصلہ فرمائے گا۔
پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے
37.
یہ جواب ہے ان کی اس بات کا کہ موت گردش ایام سے آپ ہی
آپ آ جاتی ہے۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ نہ تمہیں زندگی اتفاقاً ملتی ہے، نہ
تمہاری موت خود بخود واقع ہو جاتی ہے۔ ایک خدا ہے جو تمہیں زندگی دیتا ہے اور وہی
اسے سلب کرتا ہے۔
پھر وہی تم کو اُس قیامت کی
دن جمع کر ے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں
38.
یہ جواب ہے ان کی اس بات کا کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا
کو۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ یہ اب نہیں ہو گا، اور متفرق طور پر نہیں ہو گا،
بلکہ ایک دن سب انسانوں کے جمع کرنے کے لیے مقرر ہے۔
اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
39.
یعنی جہالت اور قصور فکر و نظر ہی لوگوں کے انکار آخرت
کا اصل سبب ہے، ورنہ حقیقت میں تو آخرت کا ہونا نہیں بلکہ، اس کا نہ ہونا بعید از
عقل ہے۔ کائنات کے نظام اور خود اپنے وجود پر کوئی شخص صحیح طریقہ سے غور کرے تو
اسے خود محسوس ہو جائے گا کہ آخرت کے آنے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔
فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز
آخرت کے دلائل-7
تفہیم القران جلد چہارم-آخرت
صفحہ 600
سورہ احقاف آیات 1، 2
،3
حٰمٓ ﴿46:1﴾ تَنۡزِيۡلُ الۡكِتٰبِ مِنَ
اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَكِيۡمِ ﴿46:2﴾ مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ
وَمَا بَيۡنَهُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّىؕ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا
عَمَّاۤ اُنۡذِرُوۡا مُعۡرِضُوۡنَ ﴿46:3﴾سورہ
احقاف آیات 1تا3
حٰ مٓ،. اِس کتاب کا نزول اللہ زبردست
اور دانا کی طرف سے ہے۔. ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن
کے درمیان ہیں برحق، اور ایک مدّتِ خاص کے تعیّن کے ساتھ پیدا کیا ہے۔2 مگر یہ
کافر لو گ اُس حقیقت سے مُنہ موڑے ہوئے ہیں جس سے ان کو خبر دار کیا گیا ہے۔
اِس کتاب کا نزول اللہ
زبردست اور دانا کی طرف سے ہے
1.
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد چہارم، سورۃ الزمر، حاشیہ
1، اور سورۃ الجاثیہ، حاشیہ 1،۔ اس کے ساتھ سورۃ السجدہ، حاشیہ نمبر ایک بھی نگاہ
میں رہے تو اس تمہید کی روح سمجھنے میں آسانی ہو گی۔
سورہ زمر حاشیہ نمبر 1
یہ اس سورہ کی
مختصر تمہید ہے جس میں بس یہ بتانے پر اکتفا کیا گیا ہے کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ
و سلم کا اپنا کلام نہیں ہے ، جیسا کہ منکرین کہتے ہیں ، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا
کلام ہے جو اس نے خود نازل فرمایا ہے۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا ذکر
کر کے سامعین کو دو حقیقتوں پر متنبہ کیا گیا ہے تاکہ وہ اس کلام کو کوئی معمولی چیز
نہ سمجھیں بلکہ اس کی اہمیت محسوس کریں۔ ایک یہ کہ جس خدا نے اسے نازل کیا ہے وہ
عزیز ہے ، یعنی ایسا زبردست ہے کہ اس کے ارادوں اور فیصلوں کو نافذ ہونے سے کوئی
طاقت روک نہیں سکتی اور کسی کی یہ مجال نہیں ہے کہ اس کے مقابلہ میں ذرہ برابر بھی
مزاحمت کر سکے۔ دوسرے یہ کہ وہ حکیم ہے ، یعنی جو ہدایت وہ اس کتاب میں دے رہا ہے
وہ سراسر دانائی پر مبنی ہے اور صرف ایک جاہل و نادان آدمی ہی اس سے منہ موڑ سکتا
ہے۔
سورہ
جاثیہ حاشیہ نمبر 1
1.
یہ اس سورے کی مختصر تمہید ہے جس میں سامعین کو دو باتوں سے خبردار کیا گیا ہے۔ ایک
یہ کہ یہ کتاب محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی اپنی تصنیف نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی
طرف سے ان پر نازل ہو رہی ہے۔ دوسرے یہ کہ اسے وہ خدا نازل کر رہا ہے جو زبردست بھی
ہے اور حکیم بھی۔ اس کا زبردست ہونا اس بات کا متقاضی ہے کہ انسان اس کے فرمان سے
سرتابی کی جرأت نہ کرے، کیونکہ نافرمانی کر کے وہ اس کی سزا سے کسی طرح بچ نہیں
سکتا۔ اور اس کا حکیم ہونا اس کا متقاضی ہے کہ انسان پورے اطمینان کے ساتھ برضا و
رغبت اس کی ہدایات اور اس کے احکام کی پیروی کرے، کیونکہ اس کی کسی تعلیم کے غلط یا
نا مناسب یا نقصان دہ ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
سورة
السجدۃ حاشیہ نمبر۱
قرآن
مجید کی متعدّد سُورتیں اس طرح کے کسی نہ کسی تعارفی فقرہ سے شروع ہوتی ہیں جس سے
مقصود آغاز کلام ہی میں یہ بتانا ہوتا ہے کہ یہ کلام کہاں سے آ رہا ہے ۔ یہ بظاہر
اُسی طرز کا ایک تمہیدی فقرہ ہے جیسے ریڈیو پر اعلا ن کرنے والا پروگرام کے آغاز میں
کہتا ہے کہ ہم فلاں اسٹیشن سے بول رہے ہیں ۔ لیکن ریڈیو کے اس معمولی سے اعلان کے
برعکس قرآن مجید کی کسی سورت کا آغاز جب اس غیر معمولی اعلان سے ہوتا ہے کہ یہ پیغام
فرمانروائے کائنات کی طرف سے آ رہا ہے تو یہ محض مصدر کلام کا بیان ہی نہیں ہوتا
بلکہ اس کے ساتھ اس میں ایک بہت بڑا دعویٰ ، ایک عظیم چیلنج اور ایک سخت اِنذار بھی
شامل ہوتا ہے ۔اس لئے کہ وہ چھوٹتے ہی اِتنی بڑی خبر دیتا ہے کہ یہ ا نسانی کلام
نہیں ہے ، خدا وندِ عالم کا کلام ہے ۔یہ اعلان فوراً ہی یہ بھاری سوال آدمی کے
سامنے لا کھڑا کرتا ہے کہ اس دعوے کو تسلیم کروں یا نہ کروں ۔ تسلیم کرتا ہو ں تو
ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے آگے سرِ اطاعت جھکا دینا ہو گا، پھر میرے لیے اس کے
مقابلہ میں کوئی آزادی باقی نہیں رہ سکتی ۔ تسلیم نہیں کرتا تو لا محالہ یہ خطرۂ
عظیم مول لیتا ہوں کہ اگر واقعی یہ خداوندِ عالَم کا کلام ہے تو اسے رد کرنے کا نتیجہ
مجھ کو ابدی شقاوت و بد بختی کی صورت میں دیکھنا پڑے گا۔ اِس بِنا پر یہ تمہیدی
فقرہ مجرد اپنی اس غیر معمولی نوعیت ہی کی بنا پر آدمی کو مجبور کر دیتا ہے کہ
چوکنّا ہو کر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اِس کلام کو سنے اور یہ فیصلہ کرے کہ اس کو
کلامِ الہٰی ہونے کی حیثیت سے تسلیم کرنا ہے یا نہیں ۔
یہاں
صرف اتنی بات کہنے پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے کہ یہ کتاب ربّ العالمین کی طرف سے
نازل ہوئی ہے ، بلکہ مزید براں پورے زور کے ساتھ یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ لَا رَیْبَ
فِیْہِ ، بیشک یہ خدا کی کتاب ہے ، اس کے
مَنَزَّل مِنَ اللہ ہونے میں قطعاً کسی شک
کی گنجائش نہیں ہے اس تاکیدی فقرے کو اگر نزولِ قرآن کے واقعاتی پس منظر اور خود
قرآن کے اپنے سیاق میں دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اندر دعوے کے ساتھ دلیل
بھی مضمر ہے ، اور یہ دلیل مکّہ معظّمہ کے اُن باشندوں سے پوشیدہ نہ تھی جن کے
سامنے یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا ۔ اس کتاب کے پیش کرنے والے کی پوری زندگی اُن کے
سامنے تھی ، کتاب پیش کرنے سے پہلے کی بھی اور اس کے بعد کی بھی ۔ وہ جانتے تھے کہ
جو شخص اس دعوے کے ساتھ یہ کتاب پیش کر رہا ہے وہ ہماری قوم کا سب سے زیادہ
راستباز ،سنجیدہ اور پاک سیرت ہے ۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ دعوائے نبوّت سے ایک دن
پہلے تک بھی کسی نے اُس سے وہ باتیں کبھی نہ سُنی تھیں جو نبوّت کے بعد یکایک اُس
نے بیان کرنی شروع کر دیں ۔ وہ اس کتاب کی زبان اور طرز بیان میں اور خود محمد صلی
اللہ علیہ و سلم کی زبان اور طرز بیان میں نمایاں فرق پاتے تھے اور اس بات کو
ہدائتہً جانتے تھے کہ ایک ہی شخص کے دو اسٹائل اتنے صریح فرق کے ساتھ نہیں ہو سکتے
۔ وہ اس کتاب کے انتہائی معجزانہ ادب کو بھی دیکھ رہے اور اہل زبان کی حیثیت سے
خود جانتے تھے کہ ان کے سارے ادیب اور شاعر اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہیں ۔ وہ
اس سے بھی واقف تھے کہ ان کی قوم کے
شاعروں ، کاہنوں اور خطیبوں کے کلام میں اور اس کلام میں کتنا عظیم فرق ہے اور جو
پاکیزہ مضامین اس کلام میں بیان کئے جا رہے ہیں وہ کتنے بلند پایہ ہیں ۔ انہیں اس
کتاب میں ،اور اس کے پیش کرنے والے کی دعوت میں کہیں دور دور بھی اُس خود غرضی کا
ادنیٰ شائبہ تک نظر نہیں آتا جس سے کسی جھوٹے مدّعی کاکام اور کلام کبھی خالی نہیں
ہو سکتا۔وہ خوردبین لگا کر بھی اس امر کی نشا ن دہی نہیں کر سکتے تھے کہ نبوّت کا یہ
دعویٰ کر کے محمد صلی اللہ علیہ و سلم اپنی ذات کے لئے یا اپنے خاندان کے لئے یا
اپنی قوم کے لئے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس کام میں ان کی اپنی کیا غرض پوشیدہ
ہے ۔ پھر وہ یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ اس دعوت کی طرف ان کی قوم کے کیسے لوگ کھِنچ
رہے ہیں اور اس سے وابستہ ہو کر ان کی زندگیوں میں کتنا بڑا انقلاب واقع ہو رہا ہے ۔ یہ ساری باتیں
مل جل کر خود دلیل دعویٰ بنی ہوئی تھیں اِسی لئے اس پس منظر میں یہ کہنا بالکل کافی
تھا کہ اس کتاب کا ربّ العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہونا ہر شک و شبہ سے بالا تر
ہے ۔ اس پر کسی دلیل کے اضافے کی کوئی حاجت نہ تھی ۔
فہرست
موضوعات تفہیم القران سیریز
آخرت
کے دلائل-7
تفہیم
القران جلد چہارم-آخرت
صفحہ
600
سورہ
احقاف آیات 1، 2 ،3
حٰمٓ
﴿46:1﴾ تَنۡزِيۡلُ الۡكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَكِيۡمِ ﴿46:2﴾ مَا
خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَاَجَلٍ
مُّسَمًّىؕ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَمَّاۤ اُنۡذِرُوۡا مُعۡرِضُوۡنَ ﴿46:3﴾سورہ
احقاف آیات 1تا3
حٰ
مٓ،. اِس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے۔. ہم نے زمین اور
آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق، اور ایک مدّتِ خاص
کے تعیّن کے ساتھ پیدا کیا ہے۔2 مگر یہ کافر لو گ اُس حقیقت سے مُنہ موڑے ہوئے ہیں
جس سے ان کو خبر دار کیا گیا ہے۔
ایک مدّتِ خاص کے تعیّن کے
ساتھ پیدا کیا ہےسورہ
احقاف آیت 2
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ انعام
حاشیہ 46
46.
قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ نے زمین
اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے یا حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ ارشاد بہت وسیع
معانی پر مشتمل ہے۔
اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ زمین اور
آسمانوں کی تخلیق محض کھیل کے طور پر نہیں ہوئی ہے۔ یہ ایشورجی کی لِیلا نہیں ہے۔ یہ
کسی بچے کا کھلونا نہیں ہے کہ محض دل بہلانے کے لیے وہ اس سے کھیلتا رہے اور پھر یونہی
اُسے توڑ پھوڑ کر پھینک دے ۔ دراصل یہ ایک نہایت سنجیدہ کام ہے جو حکمت کی بنا پر
کیا گیا ہے، ایک مقصدِ عظیم اس کے اندر کارفرما ہے ، اور اس کا ایک دَور گزر جانے
کے بعد ناگزیر ہے کہ خالق اُس پُورے کام کا حساب لے جو اُس دَور میں انجام پایا ہو
اور اسی دَور کے نتائج پر دُوسرے دَور کی بُنیاد رکھے۔ یہی بات ہے جو دُوسرے مقامات
پر یوں بیان کی گئی ہے: رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ
ھٰذَا بَا طِلاً۔”اے ہمارے ربّ، تُو نے یہ سب کچھ فضول
پیدا نہیں کیا ہے“۔ اور وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآ
ءَ وَالْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ۔”
ہم نے آسمان و زمین اور ان چیزوں کو جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں کھیل کے طور پیدا
نہیں کیا ہے“۔ اور اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ
عَبَثًا وَّ اَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُر ْجَعُوْنَ۔”
تو کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمھیں یونہی فضول پیدا کیا ہے اور تم ہماری
طرف واپس نہ لائے جاؤ گے“ ؟
دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے یہ سارا
نظام ِ کائنات حق کی ٹھوس بُنیادوں پر قائم کیا ہے ۔ عدل اور حکمت اور راستی کے
قوانین پر اس کی ہر چیز مبنی ہے۔ باطل کے لیے فی الحقیقت اس نظام میں جڑ پکڑنے اور
بار آور ہونے کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یہ اَور بات ہے کہ اللہ باطل پرستوں کو
موقع دیدے کہ وہ اگر اپنے جھُوٹ اور ظلم اور ناراستی کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو
اپنی کوشش کر دیکھیں۔ لیکن آخر کار زمین باطل کے ہر بیج کو اُگل کر پھینک دے گی
اور آخری فرد حساب میں ہر باطل پرست دیکھ لے گا کہ جو کوششیں اس نے اس شجرِ خبیث کی
کاشت اور آبیاری میں صرف کیں وہ سب ضائع ہو گئیں۔
تیسرا مطلب یہ ہے کہ خدا نے اس ساری
کائنات کو بربنائے حق پیدا کیا ہے اور اپنے ذاتی حق کی بنا پر ہی وہ اس پر فرماں
روائی کر رہا ہے۔ اس کا حکم یہاں اس لیے چلتا ہے کہ وہی اپنی پیدا کی ہوئی کائنات
میں حکمرانی کا حق رکھتا ہے۔ دُوسروں کا حکم اگر بظاہر چلتا نظر بھی آتا ہے تو اس
سے دھوکا نہ کھاؤ، فی الحقیقت نہ ان کا حکم چلتا ہے، نہ چل سکتا ہے ، کیونکہ
کائنات کی کسی چیز پر بھی ان کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ اس پر اپنا حکم چلائیں۔
ایک مدّتِ خاص کے تعیّن کے
ساتھ پیدا کیا ہےسورہ احقاف آیت 2
سورہ یونس حاشیہ 11
11. یہ عقیدہ ٔ آخرت کی تیسری دلیل
ہے۔ کائنات میں اللہ تعالیٰ کے جو کام ہر طر ف نظر آرہے ہیں ، جن کے بڑے بڑے
نشانات سورج اور چاند، اور لیل و نہار کی گردش کی صورت میں ہر شخص کے سامنے موجود
ہیں، ان سے اس بات کا نہایت واضح ثبوت ملتا ہے کہ اس عظیم الشان کار گاہِ ہستی کا
خالق کوئی بچہ نہیں ہے جس نے محض کھیلنے کے لیے یہ سب کچھ بنایا ہو اور پھر دل بھر
لینے کے بعد یونہی اس گھروندے کو توڑ پھوڑ ڈالے ۔ صریح طور پر نظر آرہا ہے کہ اس
کے ہر کام میں نظم ہے ، حکمت ہے ، مصلحتیں ہیں ، اور ذرے ذرے کی پیدائش میں ایک
گہری مقصدیت پائی جاتی ہے۔ پس جب وہ حکیم ہے اور اس کی حکمت کے آثار و علائم
تمہارے سامنے علانیہ موجود ہیں ، تو اس سے تم کیسے یہ توقع رکھ سکتے ہو کہ وہ
انسان کو عقل اور اخلاقی حس اور آزادانہ ذمہ داری اور تصرف کے اختیارات بخشنے کے
بعداس کے کارنامۂ زندگی کا حساب کبھی نہ لے گا۔اور عقلی اور اخلاقی ذمہ داری کی
بنا پر جزا و سزا کا جو استحقاق لازمًا پیدا ہوتا ہے اسے یونہی مہمل چھوڑ دے گا۔
ایک مدّتِ خاص کے تعیّن کے ساتھ پیدا کیا ہےسورہ احقاف آیت 2
سورہ الحجر،حاشیہ،47
47. یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی
تسکین و تسلّی کے لیے فرمائی جارہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اِس وقت بظاہر باطل کا جو
غلبہ تم دیکھ رہے ہو اور حق کے راستہ میں جن مشکلات اور مصائب سے تمہیں سابقہ پیش
آرہا ہے، اس سے گھبراؤ نہیں ۔ یہ ایک عارضی کیفیت ہے ، مستقل اور دائمی حالت نہیں
ہے۔ اِس لیے زمین و آسمان کا یہ پورا نظام حق پر تعمیر ہوا ہے نہ کہ باطل پر ۔
کائنات کی فطرت حق کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے نہ کہ باطل کے ساتھ۔ لہٰذا یہاں اگر قیام
و دوام ہے تو حق کے لیے نہ کہ باطل کے لیے ۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ
ابراہیم حواشی ۲۵ – ۲۶ – ۳۵
تا ۳۹)۔
ایک مدّتِ خاص کے تعیّن کے
ساتھ پیدا کیا ہےسورہ احقاف آیت 2
سورہ نحل حاشیہ 6
6. دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے
کہ شرک کی نفی اور توحید کا اثبات جس کی دعوت خدا کے پیغمبر دیتے ہیں، اسی کی
شہادت زمین وآسمان کا پورا کارخانۂ تخلیق دے رہا ہے۔ یہ کارخانۂ کوئی خیالی
گورکھ دھندا نہیں ہے ، بلکہ ایک سراسر مبنی بر حقیقت نظام ہے۔ اس میں تم جس طرف
چاہو نگاہ اُٹھا کر دیکھ لو ، شرک کی گواہی کہیں سے نہ ملے گی، اللہ کے سوا دوسرے
کی خدائی کہیں چلتی نظر نہیں آئے گی، کسی چیز کی ساخت یہ شہادت نہ دے گی کہ اس کا
وجود کسی اور کا بھی رہینِ منت ہے ۔ پھر جب یہ ٹھوس حقیقت پر بنا ہوا نظام خالص
توحید پر چل رہا ہے تو آخر تمہارے اِس شرک کا سکہ کس جگہ رواں ہو سکتا ہے جبکہ اس
کی تہ میں وہم و گمان کے سوا واقعیت کا شائبہ تک نہیں ہے؟ ۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد آثارِ
کائنات سے اور خود انسان کے اپنے وجود سے وہ شہادتیں پیش کی جاتی ہیں جو ایک طرف
توحید پر اور دوسری طرف رسالت پر دلالت کرتی ہیں۔
ایک مدّتِ خاص کے تعیّن کے
ساتھ پیدا کیا ہےسورہ احقاف آیت 2
سورہ انبیاء حاشیہ 15تا 17
15.
یہ تبصرہ ہے اُن کے اُس پورے نظریۂ حیات پر جس کی وجہ
سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر توجہ نہ کرتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ
انسان دنیا میں بس یونہی آزاد چھوڑ دیا گیا ہے ۔ جو کچھ چاہے کرے اور جس طرح چاہے
جیے، کوئی باز پرس اس سے نہیں ہونی ہے۔ کسی کو اسے حساب نہیں دینا ہے۔ چند روز کی
بھلی بُری زندگی گزار کر سب کو بس یونہی فنا ہو جانا ہے۔ کوئی دوسری زندگی نہیں ہے
جس میں بھلائی کی جزا اور بُرائی کی سزا ہو۔ یہ خیال در حقیقت اِس بات کا ہم معنی
تھا کہ کائنات کا یہ سارا نظام محض کسی کھلنڈر ے کا کھیل ہے جس کا کوئی سنجیدہ
مقصد نہیں ہے۔ اور یہی خیال دعوتِ پیغمبر سے ان کی بے اعتنائی کا اصل سبب تھا۔
سورہ انبیاء حاشیہ 16
16.
یعنی ہمیں کھیلنا ہی ہوتا تو کھلونے بنا کر ہم خود ہی
کھیل لیتے۔ اِس صورت میں یہ ظلم تو ہر گز نہ کیا جاتا کہ خواہ مخواہ ایک ذی حِس ،
ذی شعور، ذمہ دار مخلوق کو پیدا کر ڈالا جاتا، اُس کے درمیان حق و باطل کی یہ
کشمکش اور کھینچا تانیاں کرائی جاتیں، اور محض اپنے لطف و تفریح کے لیے ہم دوسروں
کو بلاوجہ تکلیفوں میں ڈالتے۔ تمہارے خدا نے یہ دنیا کچھ رومی اکھاڑے(Colosseum ) کے طور پر نہیں بنائی ہے
کہ بندوں کو درندوں سے لڑوا کر اور ان کی بوٹیاں نچوا کر خوشی کے ٹھٹھے لگائے۔
ایک مدّتِ خاص کے تعیّن کے
ساتھ پیدا کیا ہےسورہ احقاف آیت 2
سورہ انبیاء حاشیہ 17
17. یعنی ہم بازی گر نہیں ہیں ، نہ
ہمارا کام کھیل تماشا کرنا ہے۔ ہماری یہ دنیا ایک سنجیدہ نظام ہے جس میں کوئی باطل
چیز نہیں جم سکتی۔ باطل یہاں جب بھی سراُٹھا تا ہے، حقیقت سے اس کا تصادم ہو کر
رہتا ہے اور آخر کار وہ مٹ کر ہی رہتا ہے۔ اس دنیا کو اگر تم تماشا گاہ سمجھ کر جیو
گے ، یا حقیقت کے خلاف باطل نظریات پر کام کرو گے تو نتیجہ تمہاری اپنی ہی تباہی
ہو گا۔ نوع انسانی کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لو کہ دنیا کو محض ایک تماشا گاہ ، محض ایک
خوانِ یغما، محض ایک عیش کدہ سمجھ کر جینے والی، اور انبیاء کی بتائی ہوئی حقیقت
سے منہ موڑ کر باطل نظریات پر کام کرنے والی قومیں پے در پے کس انجام سے دوچار ہوتی
رہی ہیں ۔ پھر یہ کونسی عقلمندی ہے کہ جب سمجھانے والا سمجھائے تو اس کا مذاق
اُڑاؤ، اور جب اپنے ہی کیے کرتُوتوں کے نتائج عذاب الہٰی کی صورت میں سر پر آئیں
تو چیخنے لگو کہ”ہائے ہمارے کم بختی، بے شک ہم خطا وار تھے“۔
ایک مدّتِ خاص کے تعیّن کے
ساتھ پیدا کیا ہےسورہ احقاف آیت 2
سورہ مؤمنون حاشیہ 102
102. اصل میں عَبَثًا کا لفظ استعمال
کیا گیا ہے ، جس کا ایک مطلب تو ہے”کھیل کے طور پر“۔ اور دوسرا مطلب ہے”کھیل کے لیے“۔
پہلی صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے،”کیا تم نے یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہیں یونہی
بطور ِ تفریح بنا دیا ہے ، تمہاری تخلیق کی کوئی غرض و غایت نہیں ہے، محض ایک بے
مقصد مخلوق بنا کر پھیلا دی گئی ہے“۔ دوسری صورت میں مطلب یہ ہوگا ،”کیا تم یہ
سمجھتے تھے کہ تم بس کھیل کود اور تفریح اور ایسی لاحاصل مصروفیتوں کے لیے پیدا کیے
گئے ہو جن کا کبھی کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے“۔
ایک مدّتِ خاص کے تعیّن کے
ساتھ پیدا کیا ہےسورہ احقاف آیت 2
سورہ عنکبوت حاشیہ 75
75.
یعنی کائنات کا یہ نظام حق پر قائم ہے نہ کہ باطل پر۔
اس نظام پر جو شخص بھی صاف ذہن کے ساتھ غور کرے گا اس پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ
زمین و آسمان اوہام و تخیلات پر نہیں بلکہ حقیقت و واقعیت پر کھڑے ہیں۔ یہاں اس
امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ہر شخص اپنی جگہ جو کچھ بھی سمجھ بیٹھے اور اپنے وہم
و گمان سے جو فلسفہ بھی گھڑلے وہ ٹھیک بیٹھ جائے۔ یہاں تو صرف وہی چیز کامیاب ہو
سکتی ہے اور قرار و ثبات پا سکتی ہے جو حقیقت اور واقعہ کے مطابق ہو۔ خلاف واقعہ قیاسات
اور مفروضات پر جو عمارت بھی کھڑی کی جائے گی وہ آخر کار حقیقت سے ٹکرا کر پاش پاش
ہو جائے گی۔ یہ نظامِ کائنات صاف شہادت دے رہا ہے کہ ایک خدا اس کا خالق ہے اور ایک
ہی خدا اس کا مالک و مدبّر ہے۔ اس امر واقعی کے خلاف اگر کوئی شخص اس مفروضے پر
کام کرتا ہے کہ اس دنیا کا کوئی خدا نہیں ہے، یا یہ فرض کر کے چلتا ہے کہ اس کے
بہت سے خدا ہیں جو نذر و نیاز کا مال کھا کر اپنے عقید تمندوں کو یہاں سب کچھ کرنے
کی آزادی اور بخیریت رہنے کی ضمانت دے دیتے ہیں ، تو حقیقت اس کے اِن مفروضات کی
بدولت ذرّہ برابر بھی تبدیل نہ ہو گی بلکہ وہ خود ہی کسی وقت ایک صدمۂ عظیم سے
دوچار ہو گا۔
ایک مدّتِ خاص کے تعیّن کے
ساتھ پیدا کیا ہےسورہ احقاف آیت 2
سورہ عنکبوت حاشیہ 76
76. یعنی زمین و آسمان کی تخلیق میں
توحید کی صداقت اور شرک و دہریت کے بطلان پر ایک صاف شہادت موجود ہے، مگر اس شہادت
کو صرف وہی لوگ پاتے ہیں جو انبیاء علیہم السلام کی پیش کی ہوئی تعلیمات کو مانتے
ہیں۔ ان کا انکار کردینے والوں کو سب کچھ دیکھنے پر بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
ایک مدّتِ خاص کے تعیّن کے
ساتھ پیدا کیا ہےسورہ احقاف آیت 2
سورہ لقمان حاشیہ 51
51. یعنی ہر چیز کی جو مدّت مقرر کر دی
گئی ہے اسی وقت تک وہ چل رہی ہے ۔ سورج ہو یا چاند ،یا کائنات کا کوئی اور تارا یا
سیارہ ، ان میں سے کوئی چیز بھی نہ ازلی ہے نہ ابدی ۔ ہر ایک کا ایک وقت آغاز ہے
جس سے پہلے وہ موجود نہ تھی، اور ایک وقت اختتام ہے جس کے بعد وہ موجود نہ رہے گی
۔ اس ذکر سے مقصود یہ جتانا ہے کہ ایسی حادث، اور بے بس چیزیں آخر معبود کیسے ہو
سکتی ہیں۔
ایک مدّتِ خاص کے تعیّن کے
ساتھ پیدا کیا ہےسورہ احقاف آیت 2
سورہ
دخان حاشیہ 34
34. یہ ان کے اعتراض کا دوسرا جواب
ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی حیات بعد الموت اور آخرت کی جزا و سزا کا منکر
ہے وہ دراصل اس کارخانہ عالم کو کھلونا اور اس کے خالق کو نادان بچہ سمجھتا ہے، اسی
بناء پر اس نے یہ رائے قائم کی ہے کہ انسان دنیا میں ہر طرح کے ہنگامے برپا کر کے
ایک روز بس یوں ہی مٹی میں رل مل جائے گا اوراس کے کسی اچھے یا برے کام کا کوئی نتیجہ
نہ نکلے گا۔ حالاں کہ یہ کائنات کسی کھلنڈرے کی نہیں بلکہ ایک خالق حکیم کی بنائی
ہوئی ہے اور کسی حکیم سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی ہے کہ وہ فعل عبث کا ارتکاب کرے
گا۔
ایک مدّتِ خاص کے تعیّن کے
ساتھ پیدا کیا ہےسورہ احقاف آیت 2
سورہ جاثیہ حاشیہ 28
28. یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین اور
آسمان کی تخلیق کھیل کے طور پر نہیں کی ہے بلکہ یہ ایک با مقصد حکیمانہ نظام ہے۔
اس نظام میں یہ بات بالکل ناقابل تصور ہے کہ اللہ کے دئے ہوئے اختیارات اور ذرائع
و وسائل کو صحیح طریقہ سے استعمال کر کے جن لوگوں نے اچھا کارنامہ انجام دیا ہو،
اور انہیں غلط طریقے سے استعمال کر کے جن دوسرے لوگوں نے ظلم و فساد برپا کیا ہو، یہ
دونوں قسم کے انسان آخر کار مر کر مٹی ہو جائیں اور اس موت کے بعد کوئی دوسری زندگی
نہ ہوجس میں انصاف کے مطابق ان کے اچھے اور برے اعمال کا کوئی اچھا یا برا نتیجہ
نکلے۔اگر ایسا ہو تو یہ کائنات ایک کھلنڈرے کا کھلونا ہو گی نہ کہ ایک حکیم کا بنایا
ہوا با مقصد نظام۔
مگر یہ کافر لو گ اُس حقیقت
سے مُنہ موڑے ہوئے ہیں جس سے ان کو خبر دار کیا گیا ہےسورہ احقاف آیت 3
3.
یعنی واقعی حقیقت تو یہ ہے کہ یہ نظام کائنات ایک بے
مقصد کھلونا نہیں بلکہ ایک با مقصد حکیمانہ نظام ہے جس میں لازماً نیک و بد اور
ظالم و مظلوم کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہونا ہے، اور کائنات کا موجودہ نظام دائمی و
ابدی نہیں ہے بلکہ اسکی ایک خاص عمر مقرر ہے جس کے خاتمے پر اسے لازماً درہم برہم
ہو جانا ہے، اور خدا کی عدالت کے لیے بھی ایک وقت طے شدہ ہے جس کے آنے پر وہ ضرور
قائم ہونی ہے، لیکن جن لوگوں نے خدا کے رسول اور اس کی کتاب کو ماننے سے انکار کر
دیا ہے وہ ان حقائق سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ انہیں اس بات کی کچھ فکر نہیں ہے کہ ایک
وقت ایسا آنے والا ہے جب انہیں اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہو گی۔ وہ سمجھتے ہیں
کہ ان حقیقتوں سے خبردار کر کے خدا کے رسول نے ان کے ساتھ کوئی بُرائی کی ہے،
حالانکہ یہ ان کے ساتھ بہت بڑی بھلائی ہے کہ اس نے محاسبے اور باز پرس کا وقت آنے
سے پہلے ان کو نہ صرف یہ بتا دیا کہ وہ وقت آنے والا ہے،بلکہ یہ بھی ساتھ ساتھ بتا
دیا کہ اس وقت ان سے کن امور کی باز پرس ہو گی تاکہ وہ اس کے لیے تیاری کر سکیں۔
آگے کی تقریر سمجھنے کے لیے یہ بات
نگاہ میں رہنی چاہیے کہ انسان کی سب سے بڑی بنیادی غلطی وہ ہے جو وہ خدا کے متعلق
اپنے عقیدے کے تعین میں کرتا ہے۔ اس معاملہ میں سہل انگاری سے کام لے کر کسی گہرے
اور سنجیدہ فکر و تحقیق کے بغیر ایک سر سری یا سُنا سنایا عقیدہ بنا لینا ایسی عظیم
حماقت ہے جو دنیا کی زندگی میں انسان کے پورے رویے کو، اور ابدلآباد تک کے لیے اس
کے انجام کو خراب کر کے رکھ دیتی ہے۔ لیکن جس وجہ سے آدمی اس خطر ناک سہل انگاری میں
مبتلا ہو جاتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیر ذمہ دار اور غیر جواب دہ سمجھ لیتا
ہے اور اس غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے کہ خدا کے بارے میں جو عقیدہ بھی میں اختیار کر
لوں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ یا تو مرنے کے بعد سرے سے کوئی زندگی نہیں ہے
جس میں مجھے کسی باز پرس سے سابقہ پیش آئے، یا اگر ایسی کوئی زندگی ہو اور وہاں
باز پرس بھی ہو تو جن ہستیوں کا دامن میں نے تھام رکھا ہے وہ مجھے انجام بد سے بچا
لیں گی۔ یہی احساس ذمہ داری کا فقدان آدمی کو مذہبی عقیدے کے انتخاب میں غیر سنجیدہ
بنا دیتا ہے اور اسی بنا پر وہ بڑی بے فکری کے ساتھ دہریت سے لے کر شرک کی انتہائی
نا معقول صورتوں تک طرح طرح کے لغو عقیدے خود گھڑتا ہے یا دوسروں کے گھڑے ہوئے عقیدے
قبول کر لیتا ہے۔
فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز
آخرت کے دلائل-7
فہرست موضوعات تفہیم القران جلد
چہارم-آخرت
صفحہ 620
سورہ احقاف آیات 33تا35
اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّ اللّٰهَ
اۨلَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَلَمۡ يَعۡىَ بِخَلۡقِهِنَّ بِقٰدِرٍ
عَلٰۤی اَنۡ يُّحۡیِۦَ الۡمَوۡتٰى ؕ بَلٰٓى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ
﴿46:33﴾ وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَلَى النَّارِ ؕ اَلَيۡسَ هٰذَا
بِالۡحَقِّؕ قَالُوۡا بَلٰى وَرَبِّنَا ؕ قَالَ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا
كُنۡـتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴿46:34﴾
فَاصۡبِرۡ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الۡعَزۡمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسۡتَعۡجِلْ
لَّهُمۡؕ كَاَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡن مَا يُوۡعَدُوۡنَۙ لَمۡ يَلۡبَثُوۡۤا اِلَّا
سَاعَةً مِّنۡ نَّهَارٍ ؕ بَلٰغٌ ۚ فَهَلۡ يُهۡلَكُ اِلَّا الۡقَوۡمُ
الۡفٰسِقُوۡنَ
﴿46:35﴾سورہ احقاف آیات 33تا35
33.
اور کیا اِن لوگوں کو یہ سُجھائی نہیں دیتا کہ جس خدا
نے یہ زمین اور آسمان پیدا کیے ہیں اور ان کو بناتے ہوئے جو نہ تھکا، وہ ضرور اس
پر قادر ہے کہ مُردوں کو جِلا اُٹھائے؟ کیوں نہیں، یقیناً وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا
ہے۔ 34. جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے، اُس وقت اِن سے پوچھا جائے
گا”کیا یہ حق نہیں ہے؟“ یہ کہیں گے”ہاں ، ہمارے ربّ کی قسم (یہ واقعی حق ہے)۔“
اللہ فرمائے گا” اچھا، تو اب عذاب کا مزا چکھو اپنے اُس انکار کی پاداش میں جو تم
کرتے رہے تھے۔“ 35. پس اے نبیؐ، صبر کرو جس طرح اُولو العزم رسُولوں نے صبر کیا ہے
، اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو۔ جس روز یہ لوگ اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا
اِنہیں خوف دلا یا جا رہا ہے تو اِنہیں یُوں معلوم ہوگا کہ جیسے دنیا میں دِن کی ایک
گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ بات پہنچا دی گئی ، اب کیا نافرمان لوگوں کے سوا
اور کوئی ہلاک ہوگا؟
- پس اے نبیؐ، صبر کرو جس
طرح اُولو العزم رسُولوں نے صبر کیا ہے ، اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو سورہ
احقاف 35
37. یعنی جس طرح تمہارے پیش رو انبیاء
اپنی قوم کی بے رخی، مخالفت، مزاحمت اور طرح طرح کی ایذا رسانیوں کا مقابلہ سالہا
سال تک مسلسل صبر اور ان تھک جدوجہد کے ساتھ کرتے رہے اسی طرح تم بھی کرو، اور یہ
خیال دل میں نہ لاؤ کہ یا تو یہ لوگ جلدی سے ایمان لے آئیں یا پھر اللہ تعالیٰ ان
پر عذاب نازل کر دے۔
Comments
Post a Comment