اللہ کا وعدہ برحق اور سچا ہے ، آخرت کے آنے میں کوئی شک نہیں

 

اللہ کا وعدہ برحق اور سچا ہے ، آخرت کے آنے میں کوئی شک نہیں

فہرست موضوعات تفہیم القران جلد چہارم

صفحہ 26   سورہ لقمان آیت 33

اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ سورہ لقمان آیت 33

فی الواقع اللہ کا وعدہ سچّا ہے۔ 

60. اللہ کے وعدے سے مراد یہ وعدہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے اور ایک روز اللہ کی عدالت قائم ہو کر رہے گی جس میں ہر ایک کو اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی ہو گی۔

اللہ کا وعدہ برحق اور سچا ہے ، آخرت کے آنے میں کوئی شک نہیں

فہرست موضوعات تفہیم القران جلد چہارم

صفحہ 593   سورہ جاثیہ آیت 32

وَاِذَا قِيۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّالسَّاعَةُ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا قُلۡتُمۡ مَّا نَدۡرِىۡ مَا السَّاعَةُ ۙ اِنۡ نَّـظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحۡنُ بِمُسۡتَيۡقِنِيۡنَ‏ ﴿45:32﴾سورہ جاثیہ آیت 32

اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ بر حق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں ، تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہوتی ہے، ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں، یقین ہم کو نہیں ہے۔

44. اس سے پہلے آیت 24 میں جن لوگوں کا ذکر گزر چکا ہے وہ آخرت کا قطعی اور کھلا انکار کرنے والے تھے۔ اور یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اس کا یقین نہیں رکھتے اگر چہ گمان کی حد تک اس کے امکان سے منکر نہیں ہیں۔ بظاہر ان دونوں گروہوں میں اس لحاظ سے بڑا فرق ہے کہ ایک بالکل منکر ہے اور دوسرا اس کے ممکن ہونے کا گمان رکھتا ہے۔ لیکن نتیجے اور انجام کے لحاظ سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اس لیے کہ آخرت کے انکار اور اس پر یقین نہ ہونے کے اخلاقی نتائج بالکل ایک جیسے ہیں۔ کوئی شخص خواہ آخرت کو نہ مانتا ہو، یا اس کا یقین نہ رکھتا ہو،دونوں صورتوں میں لازماً وہ خدا کے سامنے اپنی جواب دہی کے احساس سے خالی ہو گا، اور یہ عدم احساس اس کو لازماً فکر و عمل کی گمراہیوں میں مبتلا کر کے رہے گا۔ صرف آخرت کا یقین ہی دنیا میں آدمی کے رویے کو درست رکھ سکتا ہے۔ یہ اگر نہ ہو تو شک اور انکار، دونوں اسے ایک ہی طرح کی غیر ذمہ دارانہ روش پر ڈال دیتے ہیں۔ اور چونکہ یہی غیر ذمہ دارانہ روش آخرت کی بد انجامی کا اصل سبب ہے، اس لیے دوزخ میں جانے سے نہ انکار کرنے والا بچ سکتا ہے، نہ یقین نہ رکھنے والا۔

 

اللہ کا وعدہ برحق اور سچا ہے ، آخرت کے آنے میں کوئی شک نہیں

فہرست موضوعات تفہیم القران جلد چہارم

صفحہ 612   سور ہ احقاف آیت 17

وَالَّذِىۡ قَالَ لِـوَالِدَيۡهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِىۡۤ اَنۡ اُخۡرَجَ وَقَدۡ خَلَتِ الۡقُرُوۡنُ مِنۡ قَبۡلِىۡ ۚ وَهُمَا يَسۡتَغِيۡثٰنِ اللّٰهَ وَيۡلَكَ اٰمِنۡ ۖ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ  ۖۚ فَيَقُوۡلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ‏ ﴿46:17﴾ سور ہ احقاف آیت 17

اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا” اُف، تنگ کردیا تُم نے، کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد پھر قبر سے نکالا جاوٴں گا؟ حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں (اُن میں سے تو کوئی اُٹھ کر نہ آیا)۔“ ماں اور باپ اللہ کی دوہائی دے کر کہتے ہیں” ارے بدنصیب، مان جا، اللہ کا وعدہ سچا ہے۔“ مگر وہ کہتا ہے” یہ سب اگلے وقتوں کی فرسُودہ کہانیاں ہیں۔“

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں