آخرت کا آنا یقینی ہے
آخرت کا آنا یقینی ہے
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحات 26، 27
سورہ لقمان آیت 33
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا
يَوْمًا لَّا يَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١ٞ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ
عَنْ وَّالِدِهٖ شَيْـًٔا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ
الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا١ٙ وَ لَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ۰۰۳۳ سورہ لقمان آیت 33
لوگو ! بچو اپنے ربّ کے غضب سے اور ڈرو اُس دن سے جبکہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی
طرف سے بدلہ نہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کی طرف سے کچھ بدلہ دینے والا
ہوگا۔ فی الواقع اللہ کا وعدہ سچّا ہے۔ پس یہ دُنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکہ باز تم کو اللہ کے معاملے میں
دھوکہ دینے پائے۔
نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کی طرف
سے کچھ بدلہ دینے والا ہوگا
اس
رکوع کو چھاپیں
سورة
لُقمٰن حاشیہ نمبر۵۹
یعنی
دوست ، لیڈر ،پیر اور اسی طرح کے دوسرے لوگ تو پھر بھی دور کا تعلق رکھنے والے ہیں
، دنیا میں قریب ترین تعلق اگر کوئی ہے تو وہ اولاد اور والدین کا ہے ۔ مگر وہاں
حالت یہ ہو گی کہ بیٹا پکڑا گیا ہو تو باپ آگے بڑھ کر یہ نہیں کہے گا کہ اسکے گناہ
میں مجھے پکڑ لیا جائے ، اور باپ کی شامت آ رہی ہو تو بیٹے میں یہ کہنے کی ہمت نہیں
ہو گی کےاس کے بدلے مجھے جہنم میں بھیج دیا جائے ۔ اس حالت میں یہ توقع کرنے کی کیا
گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ کوئی دوسرا شخص وہاں کسی کے کچھ کام آئے گا ۔ لہٰذا
نادان ہے وہ شخص جو دنیا میں دوسروں کی خاطر اپنی عاقبت خراب کرتا ہے ، یا کسی کے
بھروسے پر گمراہی اور گناہ کا راستہ اختیار کرتا ہے ۔ اس مقام پر آیت نمبر ۱۵ کا مضمون بھی نگاہ میں رہنا چاہیے جس میں اولاد
کو تلقین کی گئی تھی کہ دُنیوی زندگی کے معاملات میں والدین کی خدمت کرنا تو بے شک
ہے مگر دین و اعتقاد کے معاملے میں والدین کے کہنے پر گمراہی قبول کر لینا ہر گز
صحیح نہیں ہے ۔
فی الواقع اللہ کا وعدہ سچّا ہے
سورة لُقمٰن حاشیہ نمبر٦۰
اللہ کے وعدے سے مراد یہ وعدہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے اور ایک روز اللہ کی
عدالت قائم ہو کر رہے گی جس میں ہر ایک کو اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی ہو گی۔
پس یہ دُنیا کی زندگی تمہیں دھوکے
میں نہ ڈالے
سورة لُقمٰن حاشیہ نمبر٦١
دنیا کی زندگی سطح بین انسانوں کو مختلف قسم کی غلط فہمیوں میں مبتلا کرتی ہے
، کوئی یہ سمجھتا ہے کہ جینا اور مرنا جو کچھ ہے بس اسی دنیا میں ہے ، اس کے بعد
کوئی دوسری زندگی نہیں ہے ، لہٰذا جتنا کچھ بھی تمہیں کرنا ہے بس یہیں کر لو، کوئی
اپنی دولت اور طاقت اور خوشحالی کے نشے میں بدمست ہو کر اپنی موت کو بھول جاتا ہے
اور اس خیال خام میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اُس کا عیش اور اس کا اقتدار لازوال ہے ۔
کوئی اخلاقی و روحانی مقاصد کو فراموش کر کے صرف مادّی فوائد اور لذتوں کو مقصُود
بالذات سمجھ لیتا ہے اور ’’ معیار زندگی ‘‘ کی بلندی کے سوا کسی دوسرے مقصد کو کوئی
اہمیت نہیں دیتا خواہ نتیجے میں اس کا معیار آدمیت کتنا ہی پست ہوتا چلا جائے ۔
کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ دنیوی خوشحالی ہی حق و باطل کا اصل معیار ہے ،ہر وہ طریقہ
حق ہے جس پر چل کر یہ نتیجہ حاصل ہو اور اس کے برعکس جو کچھ بھی ہے باطل ہے ۔کوئی
اسی خوشحالی کو مقبول بارگاہ الٰہی ہونے کی علامت سمجھتا ہے اور یہ قاعدۂ کلّیہ
بنا کر بیٹھ جاتا ہے کہ جس کی دنیا خوب بن رہی ہے ، خواہ کیسے ہی طریقوں سے بنے ،
وہ خدا کا محبوب ہے ، اور جس کی دنیا خراب ہے ، چاہے وہ حق پسندی و راست بازی ہی کی
بدولت خراب ہو، اس کی عاقبت بھی خراب ہے ۔ یہ اور ایسی ہی جتنی غلط فہمیاں بھی ہیں،
ان سب کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں’’ دُنیوی زندگی کے دھوکے ‘‘ سے تعبیر فرمایا
ہے ۔
اور نہ دھوکہ باز تم کو اللہ کے
معاملے میں دھوکہ دینے پائے
سورة لُقمٰن حاشیہ نمبر٦۲
الغرور (دھوکے باز ) سے مراد شیطان بھی ہو سکتا ہے ، کوئی انسان یا انسانوں کا
کوئی گروہ بھی ہو سکتا ہے ، انسان کا اپنا نفس بھی ہو سکتا ہے ، اور کوئی دوسری چیز
بھی ہو سکتی ہے ۔ کسی شخصِ خاص یا شئے خاص کا تعیّن کیے بغیر اس وسیع المعنی لفظ
کو اس کی مطلق صورت میں رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ مختلف لوگوں کے لیے فریب خوردگی کے
بنیادی اسباب مختلف ہوتے ہیں۔ جس شخص نے خاص طور پر جس ذریعہ سے بھی وہ اصل فریب
کھایا ہو جس کے اثر سے اس کی زندگی کا رُخ صحیح سمت سے غلط سمت میں مڑ گیا وہی اس
کے لیے الغرور ہے ۔
’’اللہ کے معاملے میں دھوکا دینے ‘‘کے الفاظ بھی بہت وسیع ہیں جن میں بے شمار
مختلف قسم کے دھوکے آ جاتے ہیں ۔ کسی کو اس کا ’’ دھوکے باز ‘‘ یہ یقین دلاتا ہے
کہ خدا سرے سے ہے ہی نہیں ۔ کسی کو یہ سمجھاتا ہے کہ خدا اس دنیا کو بنا کر الگ جا
بیٹھا ہے اور اب یہ دُنیا بندوں کے حوالے ہے ۔ کسی کو اس غلط فہمی میں ڈالتا ہے کہ
خدا کے کچھ پیارے ایسے ہیں جن کا تقرب حاصل کر لو تو جو کچھ بھی تم چاہو کرتے رہو،
بخشش تمہاری یقینی ہے ۔ کسی کو اس دھوکے میں مبتلا کرتا ہے کہ خدا تو غفور الرحیم
ہے ، تم گناہ کرتے چلے جاؤ، وہ بخشتا چلا جائے گا ۔ کسی کو جبر کا عقیدہ سمجھاتا
ہے اور اس غلط فہمی میں ڈال دیتا ہے تم تو مجبور ہو، بدی کرتے ہو تو خدا تم سے
کراتا ہے اور نیکی سے دور بھاگتے ہو تو خدا ہی تمہیں اس کی توفیق نہیں دیتا۔ اس
طرح کے نہ معلوم کتنے دھوکے ہیں جو انسان خدا کے بارے میں کھا رہا ہے ، اور اگر
تجزیہ کر کے دیکھا جائے تو آخر کار تمام گمراہیوں اور گناہوں اور جرائم کا بنیادی
سبب یہی نکلتا ہے کہ انسان نے خدا کے بارے میں کوئی نہ کوئی دھوکا کھایا ہے تب ہی
اس سے کسی اعتقادی ضلالت یا اخلاقی بے راہ روی کا صدور ہوا ہے ۔
آخرت کا آنا یقینی ہے
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحہ 220 سورہ
فاطر آیت 5
يٰۤاَيُّهَا
النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوةُ
الدُّنْيَا١ٙ وَ لَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ۰۰۵ سورہ فاطر آیت 5
لوگو، اللہ کا وعدہ یقیناً
بر حق ہے ، لہٰذا دنیا کی زندگی تمہیں
دھوکے میں نہ ڈالے ۔ اور نہ وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے
پائے۔
لوگو، اللہ کا وعدہ یقیناً بر حق ہے
سورة فاطر حاشیہ نمبر١۰
وعدے سے مراد آخرت کا
وعدہ ہے جس کی طرف اوپر کے اس فقرے میں اشارہ کیا گیا تھا کہ تمام معاملات آخر کار
اللہ کے حضور پیش ہونے والے ہیں۔
لہٰذا دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے
سورة فاطر حاشیہ نمبر١١
یعنی اس دھوکے میں کہ جو کچھ ہے بس یہی دنیا ہے،
اس کے بعد کوئی آخرت نہیں ہے جس میں اعمال کا حساب ہونے والا ہو۔ یا اس دھوکے میں
کہ اگر کوئی آخرت ہے بھی تو جو اس دنیا میں مزے کر رہا ہے وہ وہاں بھی مزے کرے گا۔
اور نہ وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے
پائے
سورة فاطر حاشیہ نمبر١۲
’’ بڑے دھوکے باز‘‘ سے مراد یہاں شیطان ہے، جیسا
کہ آگے کا فقرہ بتا رہا ہے۔ اور ’’ اللہ کے بارے میں‘‘ دھوکا دینے سے مراد یہ ہے
کہ وہ کچھ لوگوں کو تو یہ باور کرائے کہ خدا سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ اور کچھ
لوگوں کو اس غلط فہمی میں ڈالے کہ خدا ایک
دفعہ دنیا کو حرکت دے کر الگ جا بیٹھا ہے، اب اسے اپنی بنائی ہوئی اس کائنات سے
عملاً کوئی سروکار نہیں ہے۔ اور کچھ لوگوں کو یہ چکر دے کہ خدا کائنات کا انتظام
تو بے شک کر رہا ہے، مگر اس نے انسانوں کی رہنمائی کرنے کا کوئی ذمہ نہیں لیا ہے،
اس لیے یہ وحی و رسالت محض ایک ڈھکوسلا ہے۔ اور کچھ لوگوں کو یہ جھوٹے بھروسے
دلائے کہ اللہ بڑا غفور رحیم ہے، تم خواہ کتنے ہی گناہ کرو، وہ بخش دے گا، اور اس
کے کچھ پیارے ایسے ہیں کہ ان کا دامن تھام لو تو بیڑا پار ہے۔
آخرت کا آنا یقینی ہے
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحات 417، 418 سورہ مؤمن آیت 59
اِنَّ
السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا
يُؤْمِنُوْنَ۰۰۵۹ سورہ مؤمن آیت 59
یقیناً قیامت کی گھڑی
آنے والی ہے ، اس کے آنے میں کوئی شک نہیں، مگر اکثر لوگ نہیں مانتے۔
سورة المومن حاشیہ
نمبر٦٦
یعنی جب واقعہ یہ ہے
کہ رسول تمہارے پاس بینات لے کر آ چکے تھے اور تم اس بنا پر سزا پاکر یہاں آۓ ہو کہ تم نے ان
کی بات ماننے سے انکار(کفر)کر دیا تھا، تو اب ہمارے لیے تمہارے حق میں اللہ تعالیٰ
سے کوئی دعا کرنا کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے، کیونکہ ایسی دعا کے لیے کوئی نہ کوئی
عذر تو ہونا چاہیے، اور تم اپنی طرف سے ہر معذرت کی گنجائش پہلے ہی ختم کر چکے ہو۔ اس حالت میں تم خود دعا کرنا چاہو تو
کر دیکھو۔ مگر ہم یہ پہلے ہی تمہیں بتاۓ دیتے ہیں کہ تمہاری طرح کفر کر
کے جو لوگ یہاں آۓ ہوں ان کی دعا بالکل لا حاصل ہے۔
آخرت کا آنا یقینی ہے
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحہ 481 سورہ شوری آیت 7
وَ تُنْذِرَ
يَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَيْبَ فِيْهِ سورہ شوری آیت 7
اور جمع ہونے کے دن
سے ڈرا دو جس کے آنے میں کوئی شک نہیں
سورة الشوریٰ حاشیہ
نمبر١۰
یعنی انہیں یہ بھی
بتا دو کہ یہ تباہی و بربادی صرف دنیا ہی تک محدود نہیں ہے بلکہ آگے وہ دن بھی آنا
ہے جب اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو جمع کر کے ان کا حساب لے گا۔ دنیا میں اگر کوئی
شخص اپنی گمراہی و بد عملی کے برے نتائج سے
بچ بھی نکلا تو اس دن بچاؤ کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اور بڑا ہی بد قسمت ہے وہ
جو یہاں بھی خراب ہو اور وہاں بھی اس کی شامت آئے۔
Comments
Post a Comment