وقوع آخرت پر اخلاقی استدلال
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن سیریز
تفہیم القران جلد
چہارم
وقوع آخرت پر اخلاقی
استدلال
صفحہ 587
سورہ جاثیہ آیت 21
اَمۡ حَسِبَ الَّذِيۡنَ
اجۡتَـرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنۡ نَّجۡعَلَهُمۡ كَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا
الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَآءً مَّحۡيَاهُمۡ وَمَمَاتُهُمۡ ؕ سَآءَ مَا يَحۡكُمُوۡنَ ﴿45:21﴾ سورہ جاثیہ آیت 21
- کیاوہ لوگ جنہوں نے
بُرائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم اُنہیں اور ایمان لانے والوں
اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کر دیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو
جائے؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں۔
بہت بُرے حکم ہیں جو یہ
لوگ لگاتے ہیں۔
27. یہ آخرت کے بر حق
ہونے پر اخلاقی استدلال ہے۔ اخلاق میں خیر و شر اور اعمال میں نیکی و بدی کے فرق
کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اچھے اور برے لوگوں کا انجام یکساں نہ ہو، بلکہ اچھوں کو
ان کی اچھائی کا اچھا بدلہ ملے اور برے اپنی برائی کا برا بدلہ پائیں۔یہ بات اگر نہ
ہو، اور نیکی و بدی کا نتیجہ ایک ہی جیسا ہو تو سرے سے اخلاق میں خوبی و زشتی کی
تمیز ہی بے معنی ہو جاتی ہے اور خدا پر بے انصافی کا الزام عائد ہوتا ہے۔جو لوگ دنیا
میں بدی کی راہ چلتے ہیں وہ تو ضرور یہ چاہتے ہیں کہ کوئی جزا و سزا نہ ہو، کیونکہ
یہ تصور ہی ان کے عیش کو منغّص کر دینے والا ہے۔لیکن خداوند عالم کی حکمت اور اس
کے عدل سے یہ بات بالکل بعید ہے کہ وہ نیک و بد سے ایک جیسا معاملہ کرے اور کچھ نہ
دیکھے کہ مومن صالح نے دنیا میں کس طرح زندگی بسر کی ہے اور کافر و فاسق یہاں کیا
گل کھلاتا رہا ہے۔ ایک شخص عمر بھر اپنے اوپر اخلاق کی پابندیاں لگائے رہا۔ حق
والوں کے حق ادا کرتا رہا۔ نا جائز فائدوں اور لذتوں سے اپنے آپ کو محروم کیے رہا۔
اور حق و صداقت کی خاطر طرح طرح کے نقصانات برداشت کرتا رہا۔ دوسرے شخص نے اپنی
خواہشات ہر ممکن طریقے سے پوری کیں، نہ خدا کا حق پہچانا اور نہ بندوں کے حقوق پر
دست درازی کرنے سے باز آیا۔ جس طرح سے بھی اپنے لیے فائدے اور لذتیں سمیٹ سکتا
تھا، سمیٹتا چلا گیا۔ کیا خدا سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ان دونوں قسم کے آدمیوں
کی زندگی کے اس فرق کو وہ نظر انداز کر دے گا؟ مرتے دم تک جن کا جینا یکساں نہیں
رہا ہے، موت کے بعد اگر ان کا انجام یکساں ہو تو خدا کی خدائی میں اس سے بڑھ کر
اور کیا بے انصافی ہو سکتی ہے؟(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد
دوم،یونس،حواشی،9،10
سورہ یونس حواشی
9، 10
9. یہ فقرہ دعوے اور دلیل دونوں کا مجموعہ ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ خدا دوبارہ انسان
کو پیدا کرے گا اور اس پر دلیل یہ دی گئی ہے کہ اسی نے پہلی مرتبہ انسان کو پیدا کیا
۔ جو شخص یہ تسلیم کرتا ہو کہ خدا نے خلق کی ابتدا کی ہے ( اور اس سے بجز اُن دہریوں
کے جو محض پادریوں کے مذہب سے بھاگنے کے لیے خلقِ بے خالق جیسے احمقانہ نظریے کو
اوڑھنے پر آمادہ ہو گئے اور کون انکار کر سکتا ہے) وہ اس بات کو ناممکن یا بعید از
فہم قرار نہیں دے سکتا کہ وہی خدا اس خلق کا پھر اعادہ کرے گا۔
10. یہ وہ ضرورت ہے
جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ انسان کو دوبارہ پیدا کرے گا ۔ اوپر جو دلیل دی گئی ہے
وہ یہ بات ثابت کرنے کے لیے کافی تھی کہ خلق کا اعادہ ممکن ہے اور اسے مُستبعَد
سمجھنا درست نہیں ہے ۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ اعادۂ خلق ، عقل و انصاف کی
روسے ضروری ہے اور یہ ضرورت تخلیقِ ثانیہ کے سوا کسی دوسرے طریقے سے پوری نہیں ہو
سکتی۔ خدا کو اپنا واحد رب مان کر جو لوگ صحیح بندگی کا رویہ اختیار کریں وہ اس کے
مستحق ہیں کہ انہیں اپنے اس بجا طرزِ عمل کی پوری پوری جزا ملے۔ اور جولو گ حقیقت
سے انکار کر کے اس کے خلاف زندگی بسر کریں وہ بھی اس کے مستحق ہیں کہ وہ اپنے اس
بے جا طرزِ عمل کا برا نتیجہ دیکھیں ۔ یہ ضرورت اگر موجود ہ دنیوی زندگی میں پوری
نہیں ہو رہی ہے (اور ہر شخص جوہٹ دھرم نہیں ہے جانتا ہے کہ نہیں ہو رہی ہے) تو اسے
پورا کرنے کے لیے یقینًا دوبارہ زندگی ناگزیر ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو
سورۂ اعراف ، حاشیہ نمبر ۳۰ و سورۂ ہود ، حاشیہ نمبر ۱۰۵)۔
سورہ ہود حاشیہ 105
105. یعنی تاریخ کے اِن واقعات میں ایک ایسی نشانی ہے جس پر اگر انسان غور کرے تو
اسے یقین آجائے گا کہ عذاب آخرت ضرور پیش آنے والا ہے اور اس کے متعلق پیغمبروں کی
دی ہوئی خبر سچی ہے ۔ نیز اس کی نشانی سے وہ یہ بھی معلوم کر سکتا ہے کہ عذاب آخرت
کیسا سخت ہو گا اور یہ علم اس کے دل میں خوف پیدا کر کے اسے سیدھا کردے گا۔
اب رہی یہ بات کہ تاریخ
میں وہ کیا چیز ہے جو آخرت اور اس کے عذاب کی علامت کہی جا سکتی ہے ، تو ہر وہ شخص
اسے بآسانی سمجھ سکتا ہے جو تاریخ کو محض واقعات کا مجموعہ ہی نہ سمجھتا ہو بلکہ
ان واقعات کی منطق پر بھی کچھ غور کرتا ہو اور ان سے نتائج بھی اخذ کرنے کا عادی
ہو۔ ہزار ہا برس کی انسانی تاریخ میں قوموں اورجماعتوں کا اٹھنا اور گرنا جس تسلسل
اور باضابطگی کے ساتھ رونما ہوتا رہا ہے ، اور پھر اس گرنے اور اُٹھنے میں جس طرح
صریحًا کچھ اخلاقی اسباب کا ر فرما رہے ہیں ، اور گرنے والی قومیں جیسی جیسی عبرت
انگیز صورتوں سے گری ہیں ، یہ سب کچھ اس حقیقت کی طرف کھلا اشارہ ہے کہ انسان اس
کائنات میں ایک ایسی حکومت کا محکوم ہے جو محض اندھے طبعیاتی قوانین پر فرنروائی
نہیں کر رہی ہے ، بلکہ اپنا ایک معقول اخلاقی قانون رکھتی ہے جس کے مطابق وہ اخلاق
کی ایک خاص حد سے اوپر رہنے والوں کو جزا دیتی ہے ، اس سے نیچے اترنے والوں کو کچھ
مدت تک ڈھیل دیتی رہتی ہے، اور جب وہ اس سے بہت زیادہ نیچے چلے جاتے ہیں تو پھر
انہیں گرا کر ایسا پھینکتی ہے کہ وہ ایک داستان عبرت بن کر رہ جاتے ہیں ۔ ان
واقعات کا ہمیشہ ایک ترتیب کے ساتھ رونما ہوتے رہنا اس امر میں شبہ کرنے کی ذرہ
برابر گنجائش نہیں چھوڑتا کہ جزا اور مُکافات اس سلطنتِ کائنات کا ایک مستقل قانون
ہے۔
پھر جو عذاب مختلف
قوموں پر آئے ہیں اُن پر مزید غور کرنے سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ ازروئے انصاف
قانونِ جزا و مُکافات کے جو اخلاقی تقاضے ہیں وہ ایک حد تک تو ان عذابوں سے ضرور
پورے ہوئے ہیں مگر بہت بڑی حد تک ابھی تشنہ ہیں۔ کیونکہ دنیا میں جو عذاب آیا اس
نے صرف اُس نسل کو پکڑا جو عذاب کے وقت موجود تھی۔ وہیں وہ نسلیں جو شرارتوں کے بیج
بو کر اور ظلم و بدکاری کی فصلیں تیار کر کے کٹائی سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو چکی
تھیں اور جن کے کرتوتوں کا خمیازہ بعد کی نسلوں کو بھگتنا پڑا، وہ تو گویا قانون
مکافات کے عمل سے صاف ہی بچ نکلی ہیں۔ اب اگر ہم تاریخ کے مطالعہ سے سلطنت کائنات
کے مزاج کو ٹھیک ٹھیک سمجھ چکے ہیں تو ہمارا یہ مطالعہ ہی اس بات کی شہادت دینے کے
لیے کافی ہے کہ عقل اور انصاف کی رو سے قانون مکافات کے جو اخلاقی تقاضے ابھی تشنہ
ہیں ،ا ن کو پورا کرنے کے لیے یہ عادل سلطنت یقینًا پھر ایک دوسرا عالم برپا کرے گی
اور وہاں تمام ظالموں کو ان کے کرتوتوں کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور وہ بدلہ
دنیا کے اِن عذابوں سے بھی زیادہ سخت ہو گا ۔
کیاوہ لوگ جنہوں نے
بُرائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم اُنہیں اور ایمان لانے والوں
اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کر دیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو
جائے؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں۔ سورہ جاثیہ آیت 21
سورہ النحل،حاشیہ،35،
15. یہاں تک آفاق اور
اَنفُس کی بہت سی نشانیاں جو پے در پے بیان کی گئی ہیں ان سے یہ ذہن نشین کرنا
مقصود ہے کہ انسان اپنے وجود سے لے کر زمین اور آسمان کے گوشے گوشے تک جدھر چاہے
نظر دوڑا کر دیکھ لے ، ہر چیز پیغمبر کے بیان کی تصدیق کر رہی ہے اور کہیں سے بھی
شرک کی۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ ساتھ دہریت کی بھی ۔۔۔۔۔۔ تائید میں کوئی شہادت فراہم نہیں
ہوتی ۔ یہ ایک حقیر بوند سے بولتا چالتااور حجّت و استدلال کرتا انسان بنا کھڑا
کرنا۔ یہ اُس کی ضرورت کے عین مطابق بہت سے جانور پیدا کرنا جن کے بال اور کھال ،
خون اور دودھ ، گوشت اور پیٹھ، ہر چیز میں انسانی فطرت کے بہت سے مطالبات کا ، حتیٰ
کہ اس کے ذوق جمال کی مانگ تک کا جواب موجود ہے۔ یہ آسمان سے بارش کا انتظام ، اور
یہ زمین میں طرح طرح کے پھلوں اور غلّوں اور چاروں کی روئیدگی کا انتظام ، جس کے
بے شمار شعبے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کھاتے چلے جاتےہیں اور پھر انسان کی
بھی فطری ضرورتوں کے عین مطابق ہیں۔ یہ رات اور دن کی باقاعدہ آمدو رفت ، اور یہ
چاند اور سورج اور تاروں کی انتہائی منظم حرکات ، جن کا زمین کی پیداوار اور انسان
کی مصلحتوں سے اِتنا گہرا ربط ہے۔ یہ زمین میں سمندروں کا وجود اور یہ اُن کے اندر
انسان کی بہت سی طبعی اور جمالی طلبوں کا جواب۔ یہ پانی کا چند مخصوص قوانین سے
جکڑا ہوا ہونا، اور پھر اس کے یہ فائدے کہ انسان سمندر جیسی ہولناک چیز کا سینہ چیرتا
ہوا اس میں اپنے جہاز چلا تا ہے اور ایک ملک سے دوسرے ملک تک سفر اور تجارت کرتا
پھرتا ہے۔ یہ دھرتی کے سینے پر پہاڑوں کے اُبھار او ر یہ انسان کی ہستی کے لیے اُن
کے فائدے۔ یہ سطح زمین کی ساخت سے لےکر آسمان کی بلند فضاؤں تک بے شمار علامتوں
اور امتیازی نشانوں کا پھیلاؤ اور پھر اس طرح ان کا انسان کے لیے مفید ہونا۔ یہ
ساری چیزیں صاف شہادت دے رہی ہیں کہ ایک ہی ہستی نے یہ منصوبہ سوچا ہے، اُسی نے
اپنے منصوبے کے مطابق ان سب کو ڈیزائن کیا ہے، اُسی نے اِ س ڈیزائن پر ان کو پیدا
کیا ہے، وہی ہر آن اس دنیا میں نِت نئی چیزیں بنا بنا کر اس طرح لا رہا ہےکہ مجموعی
اسکیم اور اس نظم میں ذرا فرق نہیں آتا، اور وہی زمین سے لے کر آسمانوں تک اس عظیم
الشان کارخانے کو چلا رہا ہے۔ ایک بے وقوف یا ایک ہٹ دھرم کے سوا اور کون یہ کہہ
سکتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک اتفاقی حادثہ ہے؟ یا یہ کہ اس کمال درجۂ منظم، مربوط
اور متناسب کائنات کے مختلف کام یا مختلف اجزا مختلف خداؤں کے آفریدہ اور مختلف
خداؤں کے زیرِ انتظام ہیں؟
کیاوہ لوگ جنہوں نے
بُرائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم اُنہیں اور ایمان لانے والوں
اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کر دیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو
جائے؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں۔ سورہ جاثیہ آیت 21
جلد سوم،الحج،حاشیہ،9،
9. اِن آیات میں انسان کی پیدائش کے مختلف اطوار، زمین پر بارش کے اثرات ، اور
نباتات کی پیداوار کو پانچ حقیقتوں کی نشان دہی کرنے والے دلائل قرار دیا گیا ہے:
(۱)یہ کہ اللہ ہی حق ہے،
(۲) یہ کہ وہ مُردوں کو زندہ کر تا ہے،
(۳) یہ کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے،
(۴) یہ کہ قیامت کی گھڑی آکر رہے گی، اور
(۵) یہ کہ اللہ ضرور اُن سب لوگوں کو زندہ کر کے اُٹھائے گا جو
مر چکے ہیں۔
اب دیکھیے کہ یہ آثار
ان پانچوں حقیقتوں کی کس طرح نشان دہی کرتے ہیں۔
پورے نظامِ کائنات کو
چھوڑ کر آدمی صرف اپنی ہی پیدائش پر غور کرے تو معلوم ہو جائے کہ ایک ایک انسان کی
ہستی میں اللہ کی حقیقی اور واقعی تدبیر ہر وقت بالفعل کا ر فرما ہے اور ہر ایک کے
وجود اور نشونما کا ایک ایک مرحلہ اس کے ارادی فیصلے پر ہی طے ہوتا ہے ۔ کہنے والے
کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایک لگے بندھے قانون پر ہو رہا ہے جس کو ایک اندھی بہری بے
علم و بے ارادہ فطرت چلا رہی ہے۔ لیکن وہ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو انہیں نظر آئے
کہ ایک ایک فرد انسانی جس طرح وجود میں آتا ہے اور پھر جس طرح وہ وجود کے مختلف
مراحل سے گزرتا ہے اس میں ایک حکیم و قادرِ مطلق ہستی کا ارادی فیصلہ کس شان سے
کام کر رہا ہے۔ آدمی جو غذا کھاتا ہے اس میں کہیں انسانی تخم موجود نہیں ہوتا، نہ
اُس میں کوئی چیز ایسی ہوتی ہے جو نفسِ انسانی کے خواص پیدا کرتی ہو۔ یہ غذا جسم میں
جا کر کہیں بال، کہیں گوشت اور کہیں ہڈی بنتی ہے ، اور ایک خاص مقام پر پہنچ کر یہی
اُس نطفے میں تبدیل ہو جاتی ہے جس کے اندر انسان بننے کی استعداد رکھنے والے تخم
موجود ہوتے ہیں ۔ ان تخموں کی کثرت کا حال یہ ہے کہ ایک وقت میں ایک مرد سے جتنا
نطفہ خارج ہوتا ہے اُس کے اندر کئی کروڑ تخم پائے جاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک بیضۂ
انثٰی سے مِل کر انسان بن جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر یہ کسی حکیم و قدیر اور
حاکمِ مطلق کا فیصلہ ہے جو ان بے شمار امیدواروں میں سے کسی ایک کو کسی خاص وقت پر
چھانٹ کر بیضۂ انثٰی سے ملنے کا موقع دیتا ہے اور اس طرح استقرارِ حمل رونما ہوتا
ہے ۔ پھر استقرار کے وقت مرد کے تخم اور عورت کے بیضی خلیے (Egg cell) کے
ملنے سے جو چیز ابتداءً بنتی ہے وہ اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ خوردبین کے بغیر نہیں دیکھی
جا سکتی ۔ یہ حقیر سی چیز ۹ مہینے اور چند روز میں رحم کے اندر پرورش پا کر جن بے شمار
مرحلوں سے گزرتی ہوئی ایک جیتے جاگتے انسان کی شکل اختیار کرتی ہے اُن میں سے ہر
مرحلے پر غور کرو تو تمہارا دل گواہی دے گا کہ یہاں ہر آن ایک حکیمِ فعّال کا ارادی
فیصلہ کام کرتا رہا ہے۔ وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کسے تکمیل کو پہنچانا ہے اور کسے خون
کے لوتھڑے ، یا گوشت کی بوٹی، یا نا تمام بچے کی شکل میں ساقط کر دینا ہے ۔ وہی فیصلہ
کرتا ہے کہ کس کو زندہ نکالنا ہے اور کس کو مردہ۔ کس کو معمولی انسان کی صورت و ہیئت
میں نکالنا ہے اور کسے اَن گنت غیر معمولی صورتوں میں سے کوئی صورت دے دینی ہے۔ کس
کو صحیح و سالم نکالنا ہے اور کسے اندھا، بہرا، گُونگا یا ٹُنڈا اور لُنجا بنا کر
پھینک دینا ہے۔ کس کو خوبصورت بنانا ہے اور کسے بدصورت ۔ کس کو مرد بنانا ہے اور
کس کو عورت۔ کس کو اعلیٰ درجے کی قوتیں اور صلاحیتیں دے کر بھیجنا ہے اور کسے
کوَدن اورکُند ذہن پیدا کرنا ہے۔ یہ تخلیق و تشکیل کا عمل، جو ہر روز کروڑوں
عورتوں کے رحموں میں ہو رہا ہے ، اِس کے دَوران میں کسی وقت کسی مرحلے پر بھی ایک
خدا کے سوا دنیا کی کوئی طاقت ذرّہ برابر اثر انداز نہیں ہو سکتی، بلکہ کسی کو یہ
بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کس پیٹ میں کیا چیز بن رہی ہے اور کیا بن کر نکلنے والی
ہے۔ حالانکہ انسانی آبادیوں کی قسمت کے کم از کم ۹۰ فیصدی
فیصلے انہی مراحل میں ہوجاتے ہیں اور یہیں افراد ہی کے نہیں ، قوموں کے ، بلکہ پوری
نوع ِ انسانی کے مستقبل کی شکل بنائی اور بگاڑی جاتی ہے۔ اس کے بعد جو بچے دنیا میں
آتے ہیں ، ان میں سے ہر ایک کے بارے میں یہ فیصلہ کون کرتا ہے کہ کسے زندگی کا
پہلا سانس لیتے ہی ختم ہو جانا ہے، کسے بڑھ کر جوان ہونا ہے ، اور کس کو قیامت کے
بوریے سمیٹنے ہیں؟ یہاں بھی ایک غالب ارادہ کار فرما نظر آتا ہے اور غور کیا جائے
تو محسوس ہوتا ہے کہ اُس کی کارفرمائی کسی عالمگیر تدبیر و حکمت پر مبنی ہے جس کے
مطابق وہ افراد ہی کی نہیں، قوموں اور ملکوں کی قسمت کے بھی فیصلے کر رہا ہے۔ یہ
سب کچھ دیکھ کر بھی اگر کسی کو اس امر میں شک ہے کہ اللہ”حق “ہے اور صرف اللہ ہی
”حق“ ہے تو بے شک وہ عقل کا اندھا ہے۔
دوسری بات جو پیش
کردہ آثار سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ”اللہ مُردوں کو زندہ کرتا ہے“۔ لوگوں کو
تو یہ سُن کر اچنبھا ہوتا ہے کہ اللہ کسی وقت مُردوں کو زندہ کرے گا ، مگر وہ آنکھیں
کھول کر دیکھیں تو انہیں نظر آئے کہ وہ تو ہر وقت مُردے جِلا رہا ہے۔ جن مادّوں سے
آپ کا جسم بنا ہے اورجن غذاؤں سے وہ پرورش پاتا ہے اُن کا تجزیہ کر کے دیکھ لیجیے۔
کوئلہ، لوہا، چونا، کچھ نمکیات، کچھ ہوائیں، اور ایسی ہی چند چیزیں اور ہیں۔ ان میں
سے کسی چیز میں بھی حیات اور نفسِ انسانی کے خواص موجود نہیں ہیں۔ مگر انہی مردہ ،
اور بے جان مادوں کو جمع کرکے آپ کو جیتا جاگتا وجود بنا دیا گیا ہے۔ پھر انہی
مادّوں کی غذا آپ کے جسم میں جاتی ہے اور وہاں اس سے مَردوں میں وہ تخم اور عورتوں
میں وہ بیضی خلیے بنتے ہیں جن کے ملنے سے آپ ہی جیسے جیتے جاگتے انسان روز بن بن
کر نکل رہے ہیں۔ اس کے بعد ذرا اپنے گردو پیش کی زمین پر نظر ڈالیے۔ بے شمار مختلف
چیزوں کے بیج تھے جن کو ہواؤں اور پرندوں نے جگہ جگہ پھیلا دیا تھا، اور بے شمار
مختلف چیزوں کی جڑیں تھیں جو جگہ جگہ پیوندِ خاک ہوئی پڑی تھیں۔ ان میں کہیں بھی
نباتی زندگی کا کوئی ظہور موجود نہ تھا۔ آپ کے گردوپیش کی سوکھی زمین ان لاکھوں
مُردوں کی قبر بنی ہوئی تھی۔ مگر جونہی کہ پانی کا ایک چھینٹا پڑا، ہر طرف زندگی
لہلہانے لگی، ہر مُردہ جڑ اپنی قبر سے جی اُٹھی، اور ہر بے جان بیج ایک زندہ پودے
کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ احیائے اموات کا عمل ہر برسات میں آپ کی آنکھوں کے سامنے
ہوتا ہے۔
تیسری چیز جو ان
مشاہدات سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ”اللہ ہر چیز پر قادر ہے“۔ ساری کائنات کو
چھوڑ کر صرف اپنی اِسی زمین کو لے لیجیے ، اور زمین کے بھی تمام حقائق و اقعات کو
چھوڑ کر صرف انسان اور نباتات ہی کی زندگی پر نظر ڈال کر دیکھ لیجیے۔ یہاں اُس کی
قدرت کے جو کرشمے آپ کو نظر آتے ہیں کیا انہیں دیکھ کر کوئی صاحبِ عقل آدمی یہ بات
کہہ سکتا ہے کہ خدابس وہی کچھ کر سکتا ہے جو آج ہم اسے کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور
کل اگر وہ کچھ اور کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا؟ خدا تو خیر بہت بلند و برتر ہستی ہے
، انسان کے متعلق پچھلی صدی تک لوگوں کے یہ اندازے تھے کہ یہ صرف زمین ہی پر چلنے
والی گاڑی بنا سکتا ہے ، ہوا پر اڑنے والی گاڑیاں بنانا اس کی قدرت میں نہیں ہے۔
مگر آج کے ہوائی جہازوں نے بتا دیا ہے کہ انسان کے”امکانات“ کی حدیں تجویز کرنے میں
ان کے اندازے کتنے غلط تھے۔ اب اگر کوئی شخص خدا کے لیے اُس کے صرف آج کے کام دیکھ
کر امکانات کی کچھ حدیں تجویز کردیتا ہے اورکہتا ہے کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے اس کے
سوا وہ کچھ نہیں کر سکتا ، تو وہ صرف اپنے ہی ذہن کی تنگی کا ثبوت دیتا ہے، خد ا کی
قدرت بہر حال اس کی باندھی ہوئی حدوں میں بند نہیں ہو سکتی۔
چوتھی اور پانچویں
بات، یعنی یہ کہ ”قیامت کی گھڑی آکر رہے گی“ اور یہ کہ ”اللہ ضرور ان سب لوگوں کو
زندہ کر کے اُٹھائے گا جو مر چکے ہیں“،اُن تین مقدمات کا عقلی نتیجہ ہے جو اوپر بیان
ہوئے ہیں۔ اللہ کے کاموں کو اس کی قدرت کے پہلو سے دیکھیے تو دل گواہی دےگا کہ وہ
جب چاہے قیامت بر پا کر سکتا ہے اور جب چاہے اُن سب مرنے والوں کو پھر سے زندہ کر
سکتا ہے جن کو پہلے وہ عدم سے وجود میں لایا تھا۔ اور اگر اُس کے کاموں کو اس کی
حکمت کے پہلو سے دیکھیے تو عقل شہادت دے گی کہ دونوں کام بھی وہ ضرور کر کے رہے گا
کیونکہ ان کے بغیر حکمت کے تقاضے پورے نہیں ہوتے اور ایک حکیم سے یہ بعید ہے کہ وہ
ان تقاضوں کو پور ا نہ کرے۔ جو محدود سی حکمت و دانائی انسان کو حاصل ہے اس کا یہ
نتیجہ ہم دیکھتے ہیں کہ آدمی اپنا مال یا جائداد یا کاروبار جس کے سپرد بھی کرتا
ہے اس سے کسی نہ کسی وقت حساب ضرور لیتا ہے۔ گویا امانت اور محاسبے کے درمیان ایک
لازمی عقلی رابطہ ہے جس کو انسان کی محدود حکمت بھی کسی حال میں نظر انداز نہیں
کرتی۔ پھرا سی حکمت کی بنا پر آدمی اِرادی اور غیر اِرادی افعال کے درمیان فرق
کرتا ہے ، اِرادی افعال کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری کا تصوّر وابستہ کرتا ہے، افعال میں
نیک اور بد کی تمیز کرتا ہے ، اچھے افعال کا نتیجہ تحسین اور انعام کی شکل میں دیکھنا
چاہتا ہے ، اور بُرے افعال پر سزا کا تقاضا کرتا ہے ، حتٰی کہ خود ایک نظام ِ
عدالت اِس غرض کے لیے وجود میں لاتا ہے۔ یہ حکمت جس خالق نے انسان میں پیدا کی ہے
، کیا باور کیا جا سکتا ہے کہ وہ خود اس حکمت سے عاری ہو گا؟ کیا مانا جا سکتا ہے
کہ اپنی اتنی بڑی دنیا اتنے سروسامان اور اس قدر اختیارات کے ساتھ انسان کے سپرد
کر کے وہ بھُول گیا ہے، اس کا حساب وہ کبھی نہ لے گا؟ کیا کسی صحیح الدماغ آدمی کی
عقل یہ گواہی دے سکتی ہے کہ انسان کے جو بُرے اعمال سزا سے بچ نکلے ہیں ، یا جن
برائیوں کی متناسب سزا اسے نہیں مل سکی ہے ان کی باز پرس کے لیے کبھی عدالت قائم
نہ ہوگی ، اور جو بھلائیاں اپنے منصفانہ انعام سے محروم رہ گئی ہیں وہ ہمیشہ محروم
ہی رہیں گی؟ اگر ایسا نہیں ہے تو قیامت اور زندگی بعدِ موت خدائے حکیم کی حکمت کا
ایک لازمی تقاضا ہے جس کا پورا ہونا نہیں بلکہ نہ ہونا سراسر بعید از عقل ہے۔
کیاوہ لوگ جنہوں نے
بُرائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم اُنہیں اور ایمان لانے والوں
اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کر دیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو
جائے؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں۔ سورہ جاثیہ آیت 21
النمل ،حاشیہ،86،
86. اس مختصر سے فقرے میں آخرت کی دو زبر دست دلیلیں بھی ہیں اور نصیحت بھی۔
پہلی دلیل یہ ہے کہ
دنیا کی جن قوموں نے بھی آخرت کو نظر انداز کیا ہے وہ مجرم بنے بغیر نہیں رہ سکی ہیں
۔ وہ غیر ذمہ دار بن کر ہیں۔ انہوں نے ظلم و ستم ڈھائے۔ وہ فسق و فجور میں غرق ہو
گئیں۔ اور اخلاق کی تباہی نے آخر کار ان کو برباد کر کے چھوڑا۔ یہ تاریخ انسانی کا
مسلسل تجربہ، جس پر زمین میں ہر طرف تباہ شدہ قوموں کے آثار شہادت دے رہے ہیں، صاف
ظاہر کرتا ہے کہ آخرت کے ماننے اور نہ ماننے کا نہایت گہرا تعلق انسانی رویے کی
صحت اور عدم صحت سے ہے۔ اس کو مانا جائے تو رویہ درست رہتا ہے ، نہ مانا جائے تو
رویہ غلط ہو جاتا ہے ۔ یہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ اس کانہ ماننا صریح حقیقت کے
خلاف ہے ، اسی وجہ سے یہ گاڑی پٹڑی سے اتر جاتی ہے۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ
تاریخ کے اس طویل تجربے میں مجرم بن جانے والی قوموں کا مسلسل تباہ ہونا اس حقیقت
پر صاف دلالت کر رہا ہے کہ یہ کائنات بے شعور طاقتوں کی اندھی بہری فرمانروائی نہیں
ہے بلکہ یہ ایک حکیمانہ نظام ہے جس کے اندر ایک اٹل قانون مکافات کام کر رہا ہے ۔
جس کی حکومت انسانی قوموں کے ساتھ سراسر اخلاقی بنیادوں پر معاملہ کر رہی ہے ۔ جس
میں کسی قوم کو بد کر داریوں کی کھلی چھوٹ نہیں دی جاتی کہ ایک دفعہ عروج پاجانے
کے بعد وہ ابد الآ باد تک دادِ عیش دیتی رہے اور ظلم و ستم کے ڈنکے بجائے چلی
جائے۔ بلکہ ایک خاص حد کو پہنچ کر ایک زبر دست ہاتھ آگے بڑھتا ہے اور اس کو بامِ
عروج سے گرا کر قعِر مذلت میں پھینک دیتا ہے ۔اس حقیقت کو جو شخص سمجھ لے وہ کبھی
اس امر میں شک نہی کر سکتا کہ یہی قانونِ مکافات اس دنیوی زندگی کے بعد ایک دوسرے
عالم کا تقاضا کرتا ہے جہاں افراد کا اور قوموں کا اور بحیثیت مجموعی پوری نوع
انسانی کا انصاف چُکا یا جائے۔ کیونکہ محض ایک ظالم قوم کے تباہ ہوجانے سے تو
انصاف کے سارے تقاضے پورے نہیں ہو گے ۔ اس سے اُن مظلوموں کی تو کوئی داد رسی نہیں
ہوئی جن کی لاشوں پر انہوں نے اپنی عظمت کا قصر بنا یا تھا۔ اس سے ان ظالموں کوتو
کوئی سزا نہیں ملی جو تباہی کے آنے سے پہلے مزے اڑا کر جا چکے تھے۔ اس سے ان
بدکاروں پر بھی کوئی مواخذہ نہیں ہو ا جو پشت درپشت اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے
گمراہیوں اور بد اخلاقیوں کی میراث چھوڑتے چلے گئے تھے۔ دنیا میں عذاب بھیج کر تو
صرف اُن کی آخری نسل کے مزید ظلم کیا سلسلہ توڑ دیا گیا ۔ ابھی عدالت کا اصل کام
تو ہوا ہی نہیں کہ ہر ظالم کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے اور ہر مظلوم کے نقصان کی
تلافی کی جائے، اور اُن سب لوگوں کو انعام دیا جائے جو بدی کے اِس طوفان میں راستی
پر قائم اور اصلاح کے لیے کوشاں رہے اور عمر بھی اِس راہ میں اذیتیں سہتے رہے۔ یہ
سب لازماً کسی وقت ہونا چاہیے، کیونکہ دنیا میں قانونِ مکافات کی مسلسل کار فرمائی
کائنات کی فرمانروا حکومت کا یہ مزاج اور طریقہ کار صاف بتا رہی ہے کہ وہ انسانی
اعمال کو ان کی اخلاقی قدر کے لحاظ سے تولتی اور ان کی جزا و سزا دیتی ہے۔
ان دودلیلوں کے ساتھ
اس آیت میں نصیحت کا پہلو یہ ہے کہ پچھلے مجرموں کا انجام دیکھ کر اس سے سبق لو
اور انکار آخرت کے اُسی احمقانہ عقیدے پر اصرار نہ کیے چلے جاؤ جس نے اُنہیں مجرم
بنا کر چھوڑا تھا۔
کیاوہ لوگ جنہوں نے
بُرائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم اُنہیں اور ایمان لانے والوں
اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کر دیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو
جائے؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں۔ سورہ جاثیہ آیت 21
الروم،حواشی،6تا8،
6. اس فقرے میں آخرت کی دو مزید دلیلیں دی گئی ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر
انسان اپنے وجود سے باہر کے نظامِ کائنات کو بنظرِ غور دیکھے تو اسے دو حقیقتیں
نمایاں نظر آئیں گی:
ایک یہ کہ یہ کائنات
برحق بنائی گئی ہے۔ یہ کسی بچے کا کھیل نہیں ہے کہ محض دل بہلانے کے لیے اس نے ایک
بے ڈھنگا سا گھروندا بنا لیا ہو جس کی تعمیر اور تخریب دونوں ہی بے معنی ہوں۔ بلکہ
یہ ایک سنجیدہ نظام ہے ، جس کا ایک ایک ذرّہ اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ اسے کمال
درجہ حکمت کے ساتھ بنایا گیا ہے، جس کی ہر چیز میں ایک قانون کار فرما ہے، جس کی
ہر شے با مقصد ہے۔ انسان کا سارا تمدّن اور اس کی پوری معیشت اور اس کے تمام علوم
و فنون خود اس بات پر گواہ ہیں۔ دنیا کی ہر چیز کے پیچھے کام کرنے والے قوانین کو
دریافت کر کے اور ہر شے جس مقصد کے لیے بنائی گئی ہے اسے تلاش کر کے ہی انسان یہاں
یہ سب کچھ تعمیر کر سکا ہے۔ ورنہ ایک بے ضابطہ اور بے مقصد کھلونے میں اگر ایک
پُتلے کی حیثیت سے اس کو رکھ دیا گیا ہو تا تو کسی سائنس اور کسی تہذیب و تمدّن کا
تصوّر تک نہ کیا جا سکتا تھا۔ اب آخر یہ بات تمہاری عقل میں کیسے سماتی ہے کہ جس
حکیم نے اِس حکمت اور مقصدیت کے ساتھ یہ دنیا بنائی ہے اور اس کے اندر تم جیسی ایک
مخلوق کو اعلیٰ درجہ کی ذہنی و جسمانی طاقتیں دے کر، اختیارات دے کر، آزادیٔ
انتخاب دے کر، اخلاق کی حِس دے کر اپنی دنیا کا بے شمار سروسامان تمہارے حوالے کیا
ہے، اس نے تمہیں بے مقصد ہی پیدا کر دیا ہوگا؟ تم دنیا میں تعمیر و تخریب، اور نیکی
و بدی، اور ظلم و عدل، اور راستی و ناراستی کے سارے ہنگامے برپا کر نے کے بعد بس یونہی
مر کر مٹی میں مل جاؤ گے اور تمہارے کسی اچھے اور بُرے کام کا کوئی نتیجہ نہ
ہوگا؟ تم اپنے ایک ایک عمل سے اپنی اور اپنے جیسے ہزاروں انسانوں کی زندگی پر اور
دنیا کی بے شمار اشیاء پر بہت سے مفید یا مضر اثرات ڈال کر چلے جاؤ گے اور تمہارے
مرتے ہی یہ سارا دفترِ عمل بس یونہی لپیٹ کر دریا بُرد کر دیا جائے گا؟ دوسری حقیقت
جو اس کائنات کے نظام کا مطالعہ کرنے سے صاف نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں کسی چیز
کے لیے بھی ہمیشگی نہیں ہے۔ ہر چیز کے لیے عمر مقرر ہے جسے پہنچنے کے بعد وہ ختم
ہو جاتی ہے۔ اور یہی معاملہ بحیثیت مجموعی پوری کائنات کا بھی ہے۔ یہاں جتنی طاقتیں
کام کر رہی ہیں وہ سب محدود ہیں۔ ایک وقت تک ہی وہ کام کر رہی ہیں ، اور کسی وقت
پر انہیں لامحالہ خرچ ہوجانا اور اس نظام کو ختم ہو جانا ہے۔ قدیم زمانے میں تو
علم کی کمی کے باعث اُن فلسفیوں اور سائنسدانوں کی بات کچھ چل بھی جاتی تھی جو دنیا
کو ازلی و ابدی قرار دیتے تھے۔ مگر موجودہ سائنس نے عالَم کے حدوث و قِدَم کی اُس
بحث میں ، جو ایک مدّتِ دراز سے دہریوں اور خداپرستوں کے درمیان چلی آرہی تھی، قریب
قریب حتمی طور پر اپنا ووٹ خداپرستوں کے حق میں ڈال دیا ہے۔ اب دہریوں کے لیے عقل
اور حکمت کا نام لے کر یہ دعویٰ کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے کہ دنیا ہمیشہ
سے ہے اور ہمیشہ رہے گی اور قیامت کبھی نہ آئے گی۔ پرانی مادّہ پرستی کا سارا
انحصار اس تخیل پر تھا کہ مادہ فنا نہیں ہو سکتا، صرف صورت بدلی جا سکتی ہے، مگر
ہر تغیّر کے بعد مادّہ مادّہ ہی رہتاہے اور اس کی مقدار میں کوئی کمی و بیشی نہیں
ہوتی۔ اس بنا پر یہ نتیجہ نکالا جاتا تھا کہ اس عالَمِ مادّی کی نہ کوئی ابتدا ہے
نہ انتہا۔ لیکن اب جوہری توانائی (Atomic Energy
) کے انکشافات نے اس پورے تخیل کی
بساط اُلٹ کر رکھ دی ہے۔ اب یہ بات کھل گئی ہے کہ قوّت مادّے میں تبدیل ہوتی ہے
اور مادّہ پھر قوت میں تبدیل ہو جاتا ہے حتیٰ کہ نہ صورت باقی رہتی ہے نہ ہیولیٰ۔
اب حَرکیاتِ حرارت کے دوسرے قانون (Second Law of
Thermo-Dynamics ) نے یہ ثابت کر دیا
ہے کہ یہ عالَم مادّی نہ ازلی ہو سکتا ہے نہ ابدی۔ اس کو لازمًا ایک وقت شروع اور
ایک وقت ختم ہونا ہی چاہیے۔ اس لیے سائنس کی بنیاد پر اب قیامت کا انکار ممکن نہیں
رہا ہے۔ اور ظاہر بات ہے کہ جب سائنس ہتھیار ڈال دے تو فلسفہ کِن ٹانگوں پر اُٹھ
کر قیامت کا انکار کرے گا؟
7
کیاوہ لوگ جنہوں نے
بُرائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم اُنہیں اور ایمان لانے والوں
اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کر دیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو
جائے؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں۔ سورہ جاثیہ آیت 21
8. یہ آخرت کے حق میں
تاریخی استدلال ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ آخرت کا انکار دنیا میں دوچار آدمیوں ہی نے تو
نہیں کیا ہے۔ انسانی تاریخ کے دوران کثیر التعداد انسان اس مرض میں مبتلا ہوتے رہے
ہیں۔ بلکہ پوری پوری قومیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے یا تو اس کا انکار کیا ہے ، یا
اس سے غافل ہو کر رہی ہیں، یا حیات بعد الموت کے متعلق ایے غلط عقیدے ایجاد کر لیے
ہیں جن سے آخرت کا عقیدہ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر تاریخ کا مسلسل تجربہ یہ
بتاتا ہے کہ انکارِ آخرت جس صور ت میں بھی کیا گیا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ
لوگوں کے اخلاق بگڑے ، وہ اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھ کر شتر بے مہار بن گئے،
انہوں ظلم و فساد اور فسق و فجور کی حد کر دی، اور اسی چیز کی بدولت قوموں پر قومیں
تباہ ہوتی چلی گئیں۔ کیا ہزاروں سال کی تاریخ کا یہ تجربہ، جو پے در پے انسانی
نسلوں کو پیش آتا رہا ہے، یہ ثابت نہیں کرتا کہ آخرت ایک حقیقت ہے جس کا انکار
انسان کے لیے تباہ کن ہے؟ انسان کششِ ثقل کا اسی لیے تو قائل ہے کہ تجربے اور
مشاہدے سے اس نے مادّی اشیاء کو ہمیشہ زمین کی طرف گرتے دیکھا ہے۔ انسان نے زہر کو
زہر اسی لیے تو مانا ہے کہ جس نے بھی زہر کھایا وہ ہلاک ہوا۔ اسی طرح جب آخرت کا
انکار ہمیشہ انسان کے لیے اخلاقی بگاڑ کاموجب ثابت ہوا ہے تو کیا یہ تجربہ یہ سبق
دینے کے لیے کافی نہیں ہے کہ آخرت ایک حقیقت ہے اور اس کو نظر انداز کر کے دنیا میں
زندگی بسر کرنا غلط ہے؟
کیاوہ لوگ جنہوں نے
بُرائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم اُنہیں اور ایمان لانے والوں
اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کر دیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو
جائے؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں۔ سورہ جاثیہ آیت 21
جلد چہارم، تفسیر
سورہ،صٓ، آیت 28۔ حاشیہ نمبر 30)
30. یعنی کیا تمہارے
نزدیک یہ بات معقول ہے کہ نیک اور بد دونوں آخر کار یکساں ہو جائیں؟ کیا یہ تصور
تمہارے لیے اطمینان بخش ہے کہ کسی نیک انسان کو اس کی نیکی کا کوئی صلہ اور کسی بد
آدمی کو اس کی بدی کا کوئی بدلہ نہ ملے؟ ظاہر بات ہے کہ اگر آخرت نہ ہو اور اللہ تعالیٰ
کی طرف سے کوئی محاسبہ نہ اور انسانی افعال کی کوئی جزا و سزا نہ ہو تو اس سے اللہ
کی حکمت اور اس کے عدل دونوں کی نفی ہو جاتی ہے اور کائنات کا پورا نظام ایک اندھا
نظام بن کر رہ جاتا ہے ۔ اس مفروضے پر تو دنیا میں بھلائی کے لیے کوئی محرّک اور
بُرائی سے روکنے کے لیے کوئی مانع سرے سے باقی ہی نہیں رہ جا تا ہے ۔ خدا کی خدائی
اگر معاذاللہ ایسی ہی اندھیر نگری ہو تو پھر وہ شخص بے وقوف ہے جو اس زمین پر تکلیفیں
اُٹھا کر خود صالح زندگی بسر کرتا ہے اور خلقِ خدا کی اصلاح کے لیے کام کرتا ہے ،
اور وہ شخص عقلمند ہے جو ساز گار مواقع پا کر ہر طرح کی زیادتیوں سے فائدے سمیٹے
اور ہر قسم کے فسق و فجور سے لطف اندوز ہوتا ہے ۔
Comments
Post a Comment