آخرت کی کامیابی ہی عظیم الشان کامیابی ہے، اور انسان کو اسی کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے
آخرت کی کامیابی ہی
عظیم الشان کامیابی ہے، اور انسان کو اسی کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے
تفہیم القرآن جلد
چہارم
صفحہ 289 سورہ صفّٰت
آیات 40تا61
اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ
الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴿37:40﴾ اُولٰٓـئِكَ لَهُمۡ رِزۡقٌ مَّعۡلُوۡمٌۙ ﴿37:41﴾
فَوَاكِهُۚ وَهُمۡ مُّكۡرَمُوۡنَۙ ﴿37:42﴾ فِىۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِۙ
﴿37:43﴾ عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ﴿37:44﴾ يُطَافُ عَلَيۡهِمۡ بِكَاۡسٍ مِّنۡ
مَّعِيۡنٍۢ ۙ ﴿37:45﴾ بَيۡضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ ۖۚ ﴿37:46﴾ لَا فِيۡهَا
غَوۡلٌ وَّلَا هُمۡ عَنۡهَا يُنۡزَفُوۡنَ ﴿37:47﴾ وَعِنۡدَهُمۡ قٰصِرٰتُ
الطَّرۡفِ عِيۡنٌۙ ﴿37:48﴾ كَاَنَّهُنَّ بَيۡضٌ مَّكۡنُوۡنٌ ﴿37:49﴾ فَاَقۡبَلَ
بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ يَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴿37:50﴾ قَالَ قَآئِلٌ مِّنۡهُمۡ
اِنِّىۡ كَانَ لِىۡ قَرِيۡنٌۙ ﴿37:51﴾ يَقُوۡلُ اَءِ نَّكَ لَمِنَ
الۡمُصَدِّقِيۡنَ ﴿37:52﴾ ءَاِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا
ءَاِنَّا لَمَدِيۡنُوۡنَ ﴿37:53﴾ قَالَ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّطَّلِعُوۡنَ ﴿37:54﴾
فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِىۡ سَوَآءِ الۡجَحِيۡمِ ﴿37:55﴾ قَالَ تَاللّٰهِ اِنۡ
كِدْتَّ لَـتُرۡدِيۡنِۙ ﴿37:56﴾ وَلَوۡلَا نِعۡمَةُ رَبِّىۡ لَـكُنۡتُ مِنَ
الۡمُحۡضَرِيۡنَ ﴿37:57﴾ اَفَمَا نَحۡنُ بِمَيِّتِيۡنَۙ ﴿37:58﴾ اِلَّا
مَوۡتَتَـنَا الۡاُوۡلٰى وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ ﴿37:59﴾ اِنَّ هٰذَا
لَهُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴿37:60﴾ لِمِثۡلِ هٰذَا فَلۡيَعۡمَلِ
الۡعٰمِلُوۡنَ ﴿37:61﴾
مگر اللہ کے چیدہ
بندے (اس انجامِ بد سے)محفوظ ہوں گے۔ ۴۱
- ان کے لیے جانا بوجھا رزق ہے، ۴۲ - ہر طرح کی لذیذ چیزیں۔ اور وہ عزّت کے ساتھ رکھے جائیں گے۔ ۴۳ - نعمت
بھری جنّتوں میں، ۴۴ - جہاں تختوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ ۴۵ - شراب
کے چشموں سے ساغر بھر بھر کر ان کے درمیان پھرائے جائیں
گے۔ ۴۶ - چمکتی ہوئی شراب، جو پینے والوں کے لیے لذّت ہوگی۔ ۴۷ - نہ
ان کے جسم کو اس سے کوئی ضرر ہوگا اور نہ ان کی عقل اس سے خراب ہوگی۔ ۴۸ - اور ان کے پاس نگاہیں بچانے والی، خوبصورت آنکھوں والی عورتیں ہوں گی، ۴۹ - ایسی نازک جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھُپی ہوئی جھِلی۔ ۵۰ - پھر وہ ایک دُوسرے کی طرف متوجّہ ہو کر حالات پُوچھیں گے۔ ۵۱ - ان
میں سے ایک کہے گا، ”دُنیا میں میرا ایک ہم نشین تھا ۵۲ - جو
مجھ سے کہا کرتا تھا، کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو؟ ۵۳ - کیا واقعی جب ہم مرچکے ہوں گے اور مٹّی ہو جائں گے اور ہڈیوں
کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو ہمیں جزا و سزا دی جائے گی؟ ۵۴ - اب
کیا آپ لوگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ صاحب اب کہاں ہیں؟ “ ۵۵ - یہ
کہہ کر جُونہی وہ جھکے گا تو جہنّم کی گہرائی میں اس کو دیکھ لے گا ۵۶ - اور
اس سے خطاب کر کے کہے گا” خدا کی قسم ، تُو تو مجھے تباہ ہی کر دینے والا تھا۔ ۵۷ - میرے
ربّ کا فضل شاملِ حال نہ ہوتا تو آج میں بھی اُن لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑے ہوئے
آئے ہیں۔ ۵۸ - اچھا ، تو کیا اب ہم مرنے والے نہیں ہیں ؟ ۵۹ - موت
جو ہمیں آنی تھی وہ بس پہلے آچکی؟ اب ہمیں کوئی عذاب نہیں ہونا؟“ ۶۰ - یقیناً
یہی عظیم الشان کامیابی ہے ۔ ۶۱
- ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے
والوں کو عمل کرنا چاہیے۔
آخرت کی کامیابی ہی
عظیم الشان کامیابی ہے، اور انسان کو اسی کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے
تفہیم القرآن جلد
چہارم
صفحہ 396سورہ مؤمن آيات 7تا9
اَلَّذِيۡنَ
يَحۡمِلُوۡنَ الۡعَرۡشَ وَمَنۡ حَوۡلَهٗ يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ
وَيُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ رَبَّنَا وَسِعۡتَ
كُلَّ شَىۡءٍ رَّحۡمَةً وَّعِلۡمًا فَاغۡفِرۡ لِلَّذِيۡنَ تَابُوۡا وَاتَّبَعُوۡا سَبِيۡلَكَ
وَقِهِمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ ﴿40:7﴾ رَبَّنَا وَاَدۡخِلۡهُمۡ جَنّٰتِ عَدۡنِ
اۨلَّتِىۡ وَعَدْتَّهُمۡ وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ
وَذُرِّيّٰتِهِمۡ ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ۙ ﴿40:8﴾ وَقِهِمُ
السَّيِّاٰتِ ؕ وَمَنۡ تَقِ السَّيِّاٰتِ يَوۡمَـئِذٍ فَقَدۡ رَحِمۡتَهٗ ؕ وَذٰ
لِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴿40:9﴾ سورہ
مؤمن آيات 7تا9
۷ - عرشِ الہٰی کے حامل
فرشتے ، اور وہ جو عرش کے گردو پیش حاضر رہتے ہیں، سب اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ اس
کی تسبیح کر رہے ہیں۔ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں
دُعائے مغفرت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں”اے ہمارے ربّ ، تُو اپنی رحمت اور
اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پس معاف کردے اور عذابِ دوزخ سے بچالے ، اُن
لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ ۸ - اے ہمارے ربّ، اور داخل کر اُن کو ہمیشہ رہنے والی اُن
جنّتوں میں جن کا تُو نے اُن سے وعدہ کیا ہے ۱۰ ،
اور اُن کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں ( اُن کو بھی وہاں اُن
کے ساتھ ہی پہنچا دے ۱۱ )۔ تُو بلاشبہ قادرِ مطلق اور حکیم ہے۔ ۹ - اور
بچا دے اُن کو برائیوں سے ۱۲ ۔ جس کو تُو نے قیامت کے دن بُرائیوں سے ۱۳
بچا دیا اُس پر تُو نے بڑا رحم کیا ، یہی بڑی کامیابی ہے۔“ ؏
عرشِ الہٰی
کے حامل فرشتے ، اور وہ جو عرش کے گردو پیش حاضر رہتے ہیں، سب اپنے ربّ کی حمد کے
ساتھ اس کی تسبیح کر رہے ہیں۔ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے
حق میں دُعائے مغفرت کرتے ہیں۔
6. یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھیوں کی تسلی کے لیے ارشاد ہوئی ہے۔ وہ
اس وقت کفار مکہ کی زبان درازیاں اور چیرہ دستیاں، اور ان کے مقابلہ میں اپنی بے
بسی دیکھ دیکھ کر سخت دل شکستہ ہو رہے تھے۔اس پر فرمایا گیا کہ ان گھٹیا اور رذیل
لوگوں کی باتوں پر تم رنجیدہ کیوں ہوتے ہو، تمہارا مرتبہ تو وہ ہے کہ عرش الہیٰ کے
حامل فرشتے، اور عرش کے گرد و پیش حاضر رہنے والے ملائکہ تک تمہارے حامی ہیں اور
تمہارے حق میں اللہ تعالیٰ کے حضور سفارشیں کر رہے ہیں۔ عام فرشتوں کے بجائے عرش
الٰہی کے حامل اور اس کے گردو پیش رہنے والے فرشتوں کا ذکر یہ تصور دلانے کے لیے کیا
گیا ہے کہ سلطنت خداوند ی کے عام اہل کار تو درکنار وہ ملائکۂ مقربین بھی جو اس
سلطنت کے ستون ہیں اور جنہیں فرمانروائے کائنات کے ہاں قرب کا مقام حاصل ہے،
تمہارے ساتھ گہری دلچسپی و ہمدردی رکھتے ہیں۔پھر یہ جو فرمایا گیا کہ یہ ملائکہ
اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے
ہیں، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایمان کا رشتہ ہی وہ اصل رشتہ ہے جس نے عرشیوں اور
فرشیوں کو ملا کر ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے اور اسی تعلق کی وجہ سے عرش
کے قریب رہنے والے فرشتوں کو زمین پر بسنے والے اُن خاکی انسانوں سے دلچسپی پیدا
ہوئی ہے جو انہی کی طرح اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ فرشتوں کے اللہ پر ایمان رکھنے
کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ کفر کر سکتے تھے، مگر انہوں نے اسے چھوڑ کر ایمان اختیار
کیا، بلکہ اس کا مطلب یہ کہ وہ اللہ وحدہٗ لاشریک ہی کا اقتدار مانتے ہیں، کوئی
دوسری ہستی ایسی نہیں ہے جو انہیں حکم دینے والی ہو اور وہ اس کے آگے سر اطاعت
جھکاتے ہوں۔ یہی مسلک جب ایمان لانے والے انسانوں نے بھی اختیار کر لیا تو اتنے
بڑے اختلافِ جنس اور بُعدِ مقام کے باوجود ان کے اور فرشتوں کے درمیان ہم مشربی کا
مضبوط تعلق قائم ہو گیا۔
وہ کہتے ہیں”اے ہمارے
ربّ ، تُو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے
7. یعنی اپنے بندوں کی کمزوریاں اور لغزشیں اور خطائیں تجھ سے چھپی ہوئی نہیں ہیں،
بے شک تو سب کچھ جانتا ہے مگر تیرے علم کی طرح تیرا دامن رحمت بھی تو وسیع ہے، اس
لیے ان کی خطاؤں کو جاننے کے باوجود ان غریبوں کو بخش دے۔دوسرا مطلب یہ بھی ہو
سکتا ہے کہ بربنائے رحمت ان سب لوگوں کو بخش دے جن کو بربنائے علم تو جانتا ہے کہ
انہوں نے سچے دل سے توبہ کی ہے فی الواقع تیرا راستہ اختیار کر لیا ہے۔
پس معاف
کردے اور عذابِ دوزخ سے بچالے
8. معاف کرنا اور عذاب دوزخ سے بچا لینا اگرچہ صریحاً لازم و ملزوم ہیں اور ایک
بات کا ذکر کر دینے کے بعد دوسری بات کہنے کی بظاہر کوئی حاجت نہیں رہتی۔ لیکن اس
طرز بیان سے دراصل اہل ایمان کے ساتھ فرشتوں کی گہری دلچسپی کا اظہار ہوتا ہے۔
قاعدے کی بات ہے کہ کسی معاملے میں جس شخص کے دل کو لگی ہوئی ہوتی ہے وہ جب حاکم
سے گزارش کرنے کا موقع پا لیتا ہے تو پھر وہ اِلحاح کے ساتھ ایک ہی درخواست کو بار
بار طرح طرح سے پیش کرتا ہے اور ایک بات بس ایک دفعہ عرض کر کے اسکی تسلی نہیں ہوتی۔
اُن لوگوں
کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کر لیا ہے
اُن لوگوں
کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کر لیا ہے
9. یعنی نافرمانی چھوڑ دی ہے، سرکشی سے باز آ گئے ہیں اور فرمانبرداری اختیار کر
کے زندگی کے اس راستے پر چلنے لگے ہیں جو تو نے خود بتایا ہے۔
اے ہمارے
ربّ، اور داخل کر اُن کو ہمیشہ رہنے والی اُن جنّتوں میں جن کا تُو نے اُن سے وعدہ
کیا ہے
10. اس میں بھی وہی الحاح کی کیفیت پائی جاتی ہے جس کی طرف اوپر حاشیہ نمبر 8 میں
ہم نے اشارہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ معاف کرنا اور دوزخ سے بچا لینا آپ سے آپ جنت میں
داخل کرنے کو مستلزم ہے، اور پھر جس جنت کا اللہ نے خود مومنین سے وعدہ کیا ہے،
بظاہر اسی کے لیے مومنین کے حق میں دعا کرنا غیر ضروری معلوم ہوتا ہے، لیکن اہل ایمان
کے لیے فرشتوں کے دل میں جذبۂ خیر خواہی کا اتنا جوش ہے کہ وہ اپنی طرف سے ان کے
حق میں کلمہ خیر کہتے ہی چلے جاتے ہیں حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ
سب مہربانیاں ان کے ساتھ کرنے والا ہے۔
اور اُن کے
والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں ( اُن کو بھی وہاں اُن کے ساتھ ہی
پہنچا دے ۱۱ )۔
11. یعنی ان کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے ان کے ماں باپ اور بیویوں اور اولاد کو
بھی ان کے ساتھ جمع کر دے۔یہ وہی بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود بھی ان نعمتوں کے
سلسلے میں بیان فرمائی ہے جو جنت میں اہل ایمان کو دی جائیں گی۔ ملاحظہ ہو سورہ
رعد آیت 23۔ اور سورہ طور آیت 21۔ سورہ طور والی آیت میں یہ تصریح بھی ہے کہ اگر ایک
شخص جنت میں بلند درجے کا مستحق ہو اور اس کے والدین اور بال بچے اس مرتبے کے
مستحق نہ ہوں تو اس کو نیچے لا کر ان کے ساتھ ملانے کے بجائے اللہ تعالیٰ ان کو
اٹھا کر اس کے درجے میں لے جائے گا۔
اور بچا دے
اُن کو برائیوں سے
12 ’’ سیّئات‘‘(برائیوں) کا لفظ تین مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور تینوں ہی یہاں
مراد ہیں۔ ایک، غلط عقائد اور بگڑے ہوئے اخلاق اور بُرے اعمال۔ دوسرے، گمراہی اور
اعمال بد کا وبال۔ تیسرے آفات اور مصائب اور اذیتیں خواہ وہ اس دنیا کی ہوں، یا
عالم برزخ کی، یا روز قیامت کی۔ فرشتوں کی دعا کا مقصود یہ ہے کہ ان کو ہر اس چیز
سے بچا جو ان کے حق میں بُری ہو۔
جس کو تُو
نے قیامت کے دن بُرائیوں سے بچا دیا اُس
پر تُو نے بڑا رحم کیا ، یہی بڑی کامیابی ہے
13. روز قیامت کی بُرائیوں سے مراد میدان حشر کا
ہَول، سائے اور ہر قسم کی آسائشوں سے محرومی، محاسبے
کی سختی، تمام خلائق
کے سامنے زندگی کے راز فاش ہونے کی رسوائی، اور دوسرے وہ تمام ذلتیں اور سختیاں ہیں
جن سے وہاں مجرمین کو سابقہ پیش آنے والا ہے۔
Comments
Post a Comment