منکرین آخرت جہالت اور افلاس و فکر و نظر میں مبتلا ہیں
منکرین آخرت جہالت اور افلاس و فکر و
نظر میں مبتلا ہیں
فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد چہارم
صفحہ 592 سورہ جاثیہ آیت 26
قُلِ اللّٰهُ يُحۡيِيۡكُمۡ ثُمَّ
يُمِيۡتُكُمۡ ثُمَّ يَجۡمَعُكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ
وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴿45:26﴾سورہ جاثیہ آیت 26
اے نبیؐ، اِن سے کہو، اللہ ہی تمہیں
زندگی بخشتا ہے، پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے، پھر وہی تم کو اُس قیامت کی دن جمع کر
ے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
اے نبیؐ، اِن سے کہو، اللہ
ہی تمہیں زندگی بخشتا ہے، پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے
37. یہ جواب ہے ان کی اس بات کا کہ
موت گردش ایام سے آپ ہی آپ آ جاتی ہے۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ نہ تمہیں زندگی
اتفاقاً ملتی ہے، نہ تمہاری موت خود بخود واقع ہو جاتی ہے۔ ایک خدا ہے جو تمہیں
زندگی دیتا ہے اور وہی اسے سلب کرتا ہے۔
پھر وہی تم کو اُس قیامت کی
دن جمع کر ے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں
38. یہ جواب ہے ان کی اس بات کا کہ
اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ یہ اب نہیں ہو گا، اور
متفرق طور پر نہیں ہو گا، بلکہ ایک دن سب انسانوں کے جمع کرنے کے لیے مقرر ہے۔
مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
39. یعنی جہالت اور قصور فکر و نظر ہی
لوگوں کے انکار آخرت کا اصل سبب ہے، ورنہ حقیقت میں تو آخرت کا ہونا نہیں بلکہ، اس
کا نہ ہونا بعید از عقل ہے۔ کائنات کے نظام اور خود اپنے وجود پر کوئی شخص صحیح طریقہ
سے غور کرے تو اسے خود محسوس ہو جائے گا کہ آخرت کے آنے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔
Comments
Post a Comment