آخرت کو نہ ماننے کے اخلاقی نتائج

 

آخرت کو نہ ماننے کے اخلاقی نتائج

فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد چہارم

صفحہ 194،  195

سورہ سبا آیت 21

وَمَا كَانَ لَهٗ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ يُّـؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَةِ مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِىۡ شَكٍّ ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَفِيۡظٌ ﴿34:21﴾ سورہ سبا آیت 21

ابلیس کو اُن پر کوئی اقتدار حاصل نہ تھا مگر جو کچھ ہوا وہ اس لیے ہوا کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون آخرت کا ماننے والا ہے اور کون اس کی طرف سے شک میں پڑا ہوا ہے ۔ تیرا ربّ ہر چیز پر نگران ہے۔

ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون آخرت کا ماننے والا ہے اور کون اس کی طرف سے شک میں پڑا ہوا ہے

36. یعنی ابلیس کو یہ طاقت حاصل نہ تھی کہ ان کا ارادہ تو خدا کی فرمانبرداری کرنے کا ہو مگر وہ زبردستی ان کا ہاتھ پکڑ ا کر انہیں نا فرمانی کی راہ پر کھینچ لے گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی قدرت اس کو دی تھی کہ وہ انہیں بہکائے اور ایسے تمام لوگوں کو اپنے پیچھے لگا لے جو خود اس کی پیروی کرنا چاہیں۔ اور اس اغوا کے مواقع ابلیس کو اس لیے عطا کیے گئے تاکہ آخرت کے ماننے والوں اور اس کی آمد میں شک رکھنے والوں کا فرق کھل جائے۔

 

دوسرے الفاظ میں یہ ارشاد ربانی اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ عقیدہ آخرت کے سوا کوئی دوسری چیز ایسی نہیں ہے جو اس دنیا میں انسان کو راہ راست پر قائم رکھنے کی ضامن ہو سکتی ہو۔ اگر کوئی شخص یہ نہ مانتا ہو کہ اسے مر کر دوبارہ اٹھنا ہے اور اپنے خدا کے حضور اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے، تو وہ لازماً گمراہ و بد راہ ہو کر رہے گا، کیونکہ اس کے اندر سرے سے وہ احساس ذمہ داری پیدا ہی نہ ہو سکے گا جو آدمی کو راہ راست پر ثابت قدم رکھتا ہے۔ اسی لیے شیطان کا سب سے بڑا حربہ، جس سے وہ آدمی کو اپنے پھندے میں پھانستا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے آخرت سے غافل کرتا ہے۔ اس کے اس فریب سے جو شخص بچ نکلے وہ کبھی اس بات پر راضی نہ ہو گا کہ اپنی اصل دائمی زندگی کے مفاد کو دنیا کی اس عارضی زندگی کے مفاد پر قربان کر دے۔ بخلاف اس کے جو شخص شیطان کے دام میں آ کر آخرت کا منکر ہو جائے، یا کم از کم اس کی طرف سے شک میں پڑ جائے، اسے کوئی چیز اس بات پر آمادہ نہیں کر سکتی کہ جو نقد سَودا اِس دنیا میں ہو رہا ہے اس سے صرف اس لیے ہاتھ اٹھا لے کہ اس سے کسی بعد کی زندگی میں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ دنیا میں جو شخص بھی گمراہ ہوا ہے اسی انکار آخرت یا شک فی ا لآخرۃ کی وجہ سے ہوا ہے، اور جس نے بھی راست روی اختیار کی ہے اس کے صحیح طرز عمل کی بنیاد ایمان بالآخرۃ ہی پر قائم ہوئی ہے۔

آخرت کو نہ ماننے کے اخلاقی نتائج

فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد چہارم

صفحہ 281

سورہ صفت آیت 11

فَاسۡتَفۡتِهِمۡ اَهُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمۡ مَّنۡ خَلَقۡنَاؕ اِنَّا خَلَقۡنٰهُمۡ مِّنۡ طِيۡنٍ لَّازِبٍ‏ ﴿37:11﴾سورہ صٰفّٰت آیت 11

اب اِن سے پوچھو، اِن کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا اُن چیزوں کی جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں؟  اِن کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے۔

اب اِن سے پوچھو، اِن کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا اُن چیزوں کی جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں؟

8. یہ کفار مکہ کے اس شبہ کا جواب ہے جو وہ آخرت کے بارے میں پیش کرتے تھے ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ آخرت ممکن نہیں ہے ، کیونکہ مرے ہوئے انسانوں کا دوبارہ پیدا ہونا محال ہے ۔ اس کے جواب میں امکانِ آخرت کے دلائل پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ان کے سامنے یہ سوال رکھتا ہے کہ اگر تمہارے نزدیک مرے ہوئے انسانوں کو دو بارہ پیدا کرنا بڑا سخت کام ہے جس کی قدرت تمہارے خیال میں ہم کو حاصل نہیں ہے تو بتاؤ کہ یہ زمین و آسمان، اور یہ بے شمار اشیاء جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ، ان کا پیدا کرنا کوئی آسان کام ہے ؟ آخر تمہاری عقل کہاں ماری گئی ہے کہ خدا کے لیے یہ عظیم کائنات پیدا کرنا مشکل نہ تھا، اور جو خود تم کو ایک دفعہ پیدا کر چکا ہے ، اس کے متعلق تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری دوبارہ تخلیق سے وہ عاجز ہے ۔

اِن کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے۔

یعنی یہ انسان کوئی بڑی چیز تو نہیں ہے ۔ مٹی سے بنایا گیا ہے اور پھر اسی مٹی سے بنایا جا سکتا ہے ۔

 

لیس دار گارے سے انسان کی پیدائش کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان اول کی پیدائش مٹی سے ہوئی تھی اور پھر آگے نسل انسانی اُسی پہلے انسان کے نطفے سے وجود میں آئی ۔ اور یہ بھی ہے کہ ہر انسان لیس دار گارے سے بنا ہے ۔ اس لیے کہ انسان کا سارا مادّہ وجود زمین ہی سے حاصل ہوتا ہے ۔ جس نطفے سے وہ پیدا ہوا ہے وہ غذا ہی سے بنتا ہے ، اور استقرارِ حمل کے وقت سے مرتے دم تک اس کی پوری ہستی جن اجزاء سے مرکب ہوتی ہے وہ سب بھی غذا ہی سے فراہم ہوتے ہیں ۔ یہ غذا خواہ حیوانی ہو یا نباتی، آخر کار اس کا ماخذ وہ مٹی ہے جو پانی کے ساتھ مل کر اس قابل ہوتی ہے کہ انسان کی خوراک کے لیے غلے اور ترکاریاں اور پھل نکالے ، اور ان حیوانات کو پرورش کرے جن کا دودھ اور گوشت انسان کھاتا ہے ۔

 

پس بنائے استدلال یہ ہے کہ یہ مٹی اگر حیات قبول کرنے کے لائق نہ تھی تو تم آج کیسے زندہ موجود ہو؟ اگر اس میں زندگی پیدا کیے جانے کا آج امکان ہے ، جیسا کہ تمہارا موجود ہونا خود اس کے امکان کو صریح طور پر ثابت کر رہا ہے ، توکل دوبارہ اسی مٹی سے تمہاری پیدائش کیوں ممکن نہ ہو گی ؟

آخرت کو نہ ماننے کے اخلاقی نتائج

فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد چہارم

صفحہ 327

سورہ ص آیت 26

يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِى الۡاَرۡضِ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الۡهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا يَوۡمَ الۡحِسَابِ‏ ﴿38:26﴾سورہ ص آیت 26

( ہم نے اس سے کہا)” اے داوٴدؑ ، ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تُو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقیناً اُن کے لیے سخت سزا ہے کہ وہ یوم الحساب کو بھُول گئے ۔“

آخرت کو نہ ماننے کے اخلاقی نتائج

فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد چہارم

صفحہ 376

سورہ زمر آیت 45

وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحۡدَهُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ‏  ﴿39:45﴾ سورہ زمر آیت 45

جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کُڑھنے لگتے ہیں، اور جب اُس کے سوا دُوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکایک وہ خوشی سے کھِل اُٹھتے ہیں۔

64. یہ بات قریب قریب ساری دنیا کے مشرکانہ ذوق رکھنے والے لوگوں میں مشترک ہے ، حتّیٰ کہ مسلمانوں میں بھی جن بد قسمتوں کو یہ بیماری لگ گئی ہے وہ بھی اس عیب سے خالی نہیں ہیں۔ زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں۔ لیکن حالت یہ ہے کہ اکیلے اللہ کا ذکر کیجیے تو ان کے چہرے بگڑنے لگتے ہیں۔ کہتے ہیں ، ضرور یہ شخص بزرگوں اور اولیاء کو نہیں مانتا، جبھی تو بس اللہ ہی اللہ کی باتیں کیے جاتا ہے۔ اور اگر دوسروں کا ذکر کیا جائے تو ان کے دلوں کی کلی کِھل جاتی ہے اور بشاشت سے ان کے چہرے دمکنے لگتے ہیں۔ اس طرز عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو اصل میں دلچسپی اور محبت کس سے ہے۔ علّامہ آلوسی نے روح المعانی میں اس مقام پر خود اپنا ایک تجربہ بیان کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی کسی مصیبت میں ایک وفات یافتہ بزرگ کو مدد کے لیے پکار رہا ہے۔ میں نے کہا اللہ کے بندے ، اللہ کو پکار، وہ خود فرماتا ہے کہ وَاِذَ ا سَأ لَکَ عَبَا دِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعَوَ ۃَ الدَّا عِ اِ ذَ ا دَعَانِ۔ میری یہ بات سُن کر اسے سخت غصّہ آیا اور بعد میں لوگوں نے مجھے بتایا کہ وہ کہتا تھا کہ یہ شخص اولیاء کا منکر ہے۔ اور بعض لوگوں نے اسے یہ کہتے بھی سنا کہ اللہ کی نسبت ولی جلدی سُن لیتے ہیں۔

آخرت کو نہ ماننے کے اخلاقی نتائج

فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد چہارم

صفحہ 405

سورہ مؤمن آیت 27

وَقَالَ مُوۡسٰٓى اِنِّىۡ عُذۡتُ بِرَبِّىۡ وَرَبِّكُمۡ مِّنۡ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ الۡحِسَابِ‏ ﴿40:27﴾سورہ مؤمن آیت 27 

۲۷ - موسیٰؑ نے کہا”میں نے تو ہر اُس متکبّر کے مقابلے میں جو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے ربّ اور تمہارے ربّ کی پناہ لے لی ہے۔“

 

آخرت کو نہ ماننے کے اخلاقی نتائج

فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد چہارم

صفحہ 471

سورہ حم السجدہ آیت 54

اَلَاۤ اِنَّهُمۡ فِىۡ مِرۡيَةٍ مِّنۡ لِّقَآءِ رَبِّهِمۡ سورہ حم السجدہ آیت 54

آگاہ رہو، یہ لوگ اپنےربّ کی ملاقات میں شک رکھتے ہیں۔

72. یعنی ان کے اس رویہ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہیں اس بات کا یقین نہیں ہے کہ کبھی ان کو اپنے رب کے سامنے جانا ہے اورا پنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے۔

 

آخرت کو نہ ماننے کے اخلاقی نتائج

فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد چہارم

صفحہ 497

سورہ شوری آیات 17،  18 

وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيۡبٌ‏ ﴿42:17﴾ يَسۡتَعۡجِلُ بِهَا الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهَا ۚ سورہ شوری آیات 17،18

اور تمہیں کیا خبر، شاید کہ فیصلے کی گھڑی قریب ہی آلگی ہو۔  ۱۸ - جو لوگ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے وہ تو اس کے لیے جلدی مچاتے ہیں،

33. یعنی جس کو سیدھا ہونا ہے بلا تا خیر سیدھا ہو جائے۔ فیصلے کی گھڑی کو دور سمجھ کر ٹالنا نہیں چاہیے۔ ایک سانس کے متعلق بھی آدمی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے بعد دوسرے سانس کی اسے مہلت ضرور ہی مل جائے گی۔ ہر سانس آخری سانس ہو سکتی ہے۔

آخرت کو نہ ماننے کے اخلاقی نتائج

فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد چہارم

صفحہ 578

سورہ جاثیہ

انکار آخرت کا عقیدہ اخلاق کے لیے سخت تباہ کن ہے۔ اس کو اختیار وہی لوگ کرتے ہیں جو اپنے نفس کے بندے بنے ہوئے ہیں، اور اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں بندگیٔ نفس کی کھلی چھوٹ مل جائے۔ پھر جب وہ اس عقیدے کو اختیار کر لیتے ہیں تو یہ انہیں گمراہ سے گمراہ تر کرتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ ان کی اخلاقی حِس بالکل مردہ ہو جاتی ہے اور ہدایت کے تمام دروازے ان کے لیے بند ہو جاتے ہیں۔

آخرت کو نہ ماننے کے اخلاقی نتائج

فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد چہارم

صفحہ 590

سورہ جاثیہ آیت 24

وَقَالُوۡا مَا هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا وَمَا يُهۡلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهۡرُؕ وَمَا لَهُمۡ بِذٰلِكَ مِنۡ عِلۡمٍ ۚ اِنۡ هُمۡ اِلَّا يَظُنُّوۡنَ‏ ﴿45:24﴾سورہ جاثیہ آیت 24

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ”زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے ، یہیں ہمارا مرنا اور جینا ہے اور گردشِ ایام کے سوا کوئی چیز نہیں جو ہمیں ہلاک کرتی ہو۔“ درحقیقت اِس معاملہ میں اِن کے پاس کوئی علم نہیں ہے۔ یہ محض گمان کی بنا پر یہ باتیں کرتے ہیں۔

34. یعنی کوئی ذریعہ علم ایسا نہیں ہے جس سے ان کو بتحقیق یہ معلوم ہو گیا ہو کہ اس زندگی کے بعد انسان کے لیے کوئی دوسرے زندگی نہیں ہے، اور یہ بات بھی انہیں معلوم ہو گئی ہو کہ انسان کی روح کسی خدا کے حکم سے قبض نہیں کی جاتی ہے بلکہ آدمی محض گردش ایام سے مر کر فنا ہو جاتا ہے۔ منکرین آخرت یہ باتیں کسی علم کی بنا پر نہیں بلکہ محض گمان کی بنا پر کرتے ہیں۔ علمی حیثیت سے اگر وہ بات کریں تو زیادہ سے زیادہ جو کچھ کہہ سکتے ہیں وہ بس یہ ہے کہ ’’ ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہے یا نہیں‘‘، لیکن یہ ہر گز نہیں کہہ سکتے کہ ’’ ہم جانتے ہیں کہ اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے۔‘‘ اسی طرح علمی طریقہ پر وہ یہ جاننے کا دعویٰ نہیں کر سکتے کہ آدمی کی روح خدا کے حکم سے نکالی نہیں جاتی ہے بلکہ وہ محض اس طرح مر کر ختم ہو جاتا ہے جیسے ایک گھڑی چلتے چلتے رک جائے۔ زیادہ سے زیادہ جو کچھ وہ کہہ سکتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ ہم ان دونوں میں سے کسی کے متعلق یہ نہیں جانتے کہ فی الواقع کیا صورت پیش آتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب انسانی ذرائع علم کی حد تک زندگی بعد موت کے ہونے یا نہ ہونے، اور قبض روح واقع ہونے یا گردش ایام سے آپ ہی آپ مر جانے کا یکساں احتمال ہے، تو آخر کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ امکان آخرت کے احتمال کو چھوڑ کر حتمی طور پر انکار آخرت کے حق میں فیصلہ کر ڈالتے ہیں۔ کیا اس کی وجہ اس کے سوا کچھ اور ہے کہ دراصل اس مسئلے کا آخری فیصلہ وہ دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ اپنی خواہش کی بنا پر کرتے ہیں؟ چونکہ ان کا دل یہ نہیں چاہتا کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہو اور موت کی حقیقت نیستی اور عدم نہیں بلکہ خدا کی طرف سے قبض روح ہو، اس لیے وہ اپنے دل کی مانگ کو اپنا عقیدہ بنا لیتے ہیں اور دوسری بات کا انکار کر دیتے ہیں۔

آخرت کو نہ ماننے کے اخلاقی نتائج

فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد چہارم

صفحہ 593

سورہ جاثیہ آیت 32

وَاِذَا قِيۡلَ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّالسَّاعَةُ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا قُلۡتُمۡ مَّا نَدۡرِىۡ مَا السَّاعَةُ ۙ اِنۡ نَّـظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحۡنُ بِمُسۡتَيۡقِنِيۡنَ‏ ﴿45:32﴾سورہ جاثیہ آیت 32

اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ بر حق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں ، تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہوتی ہے، ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں، یقین ہم کو نہیں ہے۔“

44. اس سے پہلے آیت 24 میں جن لوگوں کا ذکر گزر چکا ہے وہ آخرت کا قطعی اور کھلا انکار کرنے والے تھے۔ اور یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اس کا یقین نہیں رکھتے اگر چہ گمان کی حد تک اس کے امکان سے منکر نہیں ہیں۔ بظاہر ان دونوں گروہوں میں اس لحاظ سے بڑا فرق ہے کہ ایک بالکل منکر ہے اور دوسرا اس کے ممکن ہونے کا گمان رکھتا ہے۔ لیکن نتیجے اور انجام کے لحاظ سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اس لیے کہ آخرت کے انکار اور اس پر یقین نہ ہونے کے اخلاقی نتائج بالکل ایک جیسے ہیں۔ کوئی شخص خواہ آخرت کو نہ مانتا ہو، یا اس کا یقین نہ رکھتا ہو،دونوں صورتوں میں لازماً وہ خدا کے سامنے اپنی جواب دہی کے احساس سے خالی ہو گا، اور یہ عدم احساس اس کو لازماً فکر و عمل کی گمراہیوں میں مبتلا کر کے رہے گا۔ صرف آخرت کا یقین ہی دنیا میں آدمی کے رویے کو درست رکھ سکتا ہے۔ یہ اگر نہ ہو تو شک اور انکار، دونوں اسے ایک ہی طرح کی غیر ذمہ دارانہ روش پر ڈال دیتے ہیں۔ اور چونکہ یہی غیر ذمہ دارانہ روش آخرت کی بد انجامی کا اصل سبب ہے، اس لیے دوزخ میں جانے سے نہ انکار کرنے والا بچ سکتا ہے، نہ یقین نہ رکھنے والا۔

آخرت کو نہ ماننے کے اخلاقی نتائج

فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد چہارم

صفحہ 601

انسان کی سب سے بڑی بنیادی غلطی وہ ہے جو وہ خدا کے متعلق اپنے عقیدے کے تعین میں کرتا ہے۔ اس معاملہ میں سہل انگاری سے کام لے کر کسی گہرے اور سنجیدہ فکر و تحقیق کے بغیر ایک سر سری یا سُنا سنایا عقیدہ بنا لینا ایسی عظیم حماقت ہے جو دنیا کی زندگی میں انسان کے پورے رویے کو، اور ابدلآباد تک کے لیے اس کے انجام کو خراب کر کے رکھ دیتی ہے۔ لیکن جس وجہ سے آدمی اس خطر ناک سہل انگاری میں مبتلا ہو جاتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیر ذمہ دار اور غیر جواب دہ سمجھ لیتا ہے اور اس غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے کہ خدا کے بارے میں جو عقیدہ بھی میں اختیار کر لوں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ یا تو مرنے کے بعد سرے سے کوئی زندگی نہیں ہے جس میں مجھے کسی باز پرس سے سابقہ پیش آئے، یا اگر ایسی کوئی زندگی ہو اور وہاں باز پرس بھی ہو تو جن ہستیوں کا دامن میں نے تھام رکھا ہے وہ مجھے انجام بد سے بچا لیں گی۔ یہی احساس ذمہ داری کا فقدان آدمی کو مذہبی عقیدے کے انتخاب میں غیر سنجیدہ بنا دیتا ہے اور اسی بنا پر وہ بڑی بے فکری کے ساتھ دہریت سے لے کر شرک کی انتہائی نا معقول صورتوں تک طرح طرح کے لغو عقیدے خود گھڑتا ہے یا دوسروں کے گھڑے ہوئے عقیدے قبول کر لیتا ہے۔

آخرت کو نہ ماننے کے اخلاقی نتائج

فہرست موضوعات تفہیم القرآن جلد چہارم

وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوۡا ۚ وَلِيُوَفِّيَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ‏ ﴿46:19﴾ وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَلَى النَّارِ ؕ اَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبٰـتِكُمۡ فِىۡ حَيَاتِكُمُ الدُّنۡيَا وَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهَا ۚ فَالۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡـتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡسُقُوۡنَ‏ ﴿46:20﴾سورہ احقاف آیات 19،  20

دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تاکہ اللہ ان کے کیے کا پُورا پُورا بدلہ ان کو دے۔ ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا۔  ۲۰ - پھر جب یہ کافر آگ کے سامنے لاکھڑے کیے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا” تم اپنے حصّے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کر چکے اور ان کا لُطف تم نے اُٹھا لیا، اب جو تکبّر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں اُں کی پاداش میں آج تم کو ذلّت کا عذاب دیا جائے گا۔ “

ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا

23. یعنی نہ اچھے لوگوں کی نیکیاں اور قربانیاں ضائع ہوں گی اور نہ برے لوگوں کو ان کی برائی سے بڑھ کر سزا دی جائے گی۔ نیک آدمی اگر اپنے اجر سے محروم رہ جائے، یا اپنے حقیقی استحقاق سے کم اجر پائے تو یہ بھی ظلم ہے، اور برا آدمی اپنے کیے کی سزا نہ پائے یا جتنا کچھ قصور اس نے کیا ہے اس سے زیادہ سزا پائے تو یہ بھی ظلم ہے۔

آج تم کو ذلّت کا عذاب دیا جائے گا۔

24. ذلت کا عذاب اس تکبر کی مناسبت سے ہے جو انہوں نے کیا۔ وہ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ رسول پر ایمان لا کر غریب اور فقیر مومنوں کے گروہ میں شامل ہو جانا ان کی شان سے گری ہوئی بات ہے۔ وہ اس زعم میں مبتلا تھے کہ جس چیز کو چند غلاموں اور بے نوا انسانوں نے مانا ہے اسے ہم جیسے بڑے لوگ مان لیں گے تو ہماری عزت کو بٹا لگ جائے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ان کو آخرت میں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے غرور کو خاک میں ملا کررکھ دے گا۔

Comments