آخرت کا وقوع عقل و انصاف کا تقاضا ہے
آخرت کا وقوع عقل و
انصاف کا تقاضا ہے
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحہ 175 سورہ سبا آیت 5
لِّيَجۡزِىَ الَّذِيۡنَ
اٰمَنُوا وَعَمِلُوۡا الصّٰلِحٰتِؕ اُولٰٓـئِكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ
كَرِيۡمٌ ﴿34:4﴾ وَالَّذِيۡنَ سَعَوۡ فِىۡۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيۡنَ اُولٰٓـئِكَ
لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ ﴿34:5﴾ سورہ
سبا آیت 5
اور یہ قیامت اس لیے
آئے گی کہ جزا دے اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کرتے رہے ہیں۔
اُن کے لیے مغفرت ہے اور رزقِ کریم۔ ۵ -
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا
ہے، ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے۔
اور جن لوگوں نے ہماری
آیات کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا ہے، ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے۔
8. اوپر آخرت کے
امکان کی دلیل تھی، اور یہ اس کے وجوب کی دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسا وقت ضرور
آنا ہی چاہیے جب ظالموں کو ان کے ظلم کا اور صالحوں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیا
جائے۔ عقل یہ چاہتی ہے اور انصاف یہ تقاضا کرتا ہے کہ جو نیکی کرے اسے انعام ملے
اور جو بدی کرے وہ سزا پائے۔ اب اگر تم دیکھتے ہو کہ دنیا کی موجودہ زندگی میں نہ
ہر بد کو اس کی بدی کا اور نہ ہر نیک کو اس کی نیکی کا پورا بدلہ ملتا ہے، بلکہ
بسا اوقات بدی اور نیکی کے الٹے نتائج بھی نکل آتے ہیں، تو تمہیں تسلیم کرنا چاہیے
کہ عقل اور انصاف کا یہ لازمی تقاضا کسی وقت ضرور پورا ہونا چاہیے۔ قیامت اور آخرت
اسی وقت کا نام ہے۔ اس کا آنا نہیں بلکہ نہ آنا عقل کے خلاف اور انصاف سے بعید ہے۔
آخرت کا وقوع عقل و
انصاف کا تقاضا ہے
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحہ 465، 466
سورہ حم سجدہ آیات
46، 47
مَنْ عَمِلَ
صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَيْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ
لِّلْعَبِيْدِ۰۰۴۶اِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ سورہ
حم سجدہ آیات 46، 47
جو کوئی نیک عمل کرے
گا اپنے ہی لیے اچھا کرے گا، جو بدی کرے گا اُس کا وبال اُسی پر ہوگا، اور تیرا
ربّ اپنے بندوں کے حق میں ظالم نہیں ہے۔ ۴۷ - اُس ساعت ۶۰ کا
علم اللہ ہی کی طرف راجع ہوتا ہے،
تیرا ربّ اپنے بندوں
کے حق میں ظالم نہیں ہے۔
سورة حٰم السجدۃ
حاشیہ نمبر۵۹
یعنی تیرا رب کبھی یہ
ظلم نہیں کر سکتا کہ نیک انسان کی نیکی ضائع کر دے اور بدی کرنے والوں کو ان کی
بدی کا بدلہ نہ دے۔
اُس ساعت
60. اس ساعت سے مراد
قیامت ہے،یعنی وہ گھڑی جب بدی کرنے والوں کو ان کی بدی کا بدلہ دیا جائیگا اور ان
نیک انسانوں کی داد رسی کی جائے گی جن کے ساتھ بدی کی گئی ہے۔
اُس ساعت کا علم اللہ ہی کی طرف راجع ہوتا ہے
61. یعنی اللہ کے سوا
کوئی نہیں جانتا کہ وہ گھڑی کب آئے گی۔ یہ جواب ہے کفار کے اس سوال کا کہ ہم پر بدی
کا وبال پڑنے کی جو دھمکی دی جا رہی ہے وہ آخر کب پوری ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے ان
کے سوال کو نقل کیے بغیر اس کا جواب دیا ہے۔
آخرت کا وقوع عقل و
انصاف کا تقاضا ہے
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحہ 587
سورہ جاثیہ آیات
21، 22
اَمْ حَسِبَ
الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا
وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْيَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا
يَحْكُمُوْنَؒ۰۰۲۱وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ
لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۰۰۲۲
کیا26 وہ لوگ جنہوں
نے بُرائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم اُنہیں اور ایمان لانے
والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کر دیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں
ہو جائے؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں۔ اللہ
نے تو آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے اور اس لیے کیا ہے کہ ہر متنفّس کو
اُس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے ۔ لوگوں پر ظلم ہر گز نہ کیا جائے گا۔
بہت بُرے حکم ہیں جو یہ
لوگ لگاتے ہیں۔
27. یہ آخرت کے بر حق
ہونے پر اخلاقی استدلال ہے۔ اخلاق میں خیر و شر اور اعمال میں نیکی و بدی کے فرق
کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اچھے اور برے لوگوں کا انجام یکساں نہ ہو، بلکہ اچھوں کو
ان کی اچھائی کا اچھا بدلہ ملے اور برے اپنی برائی کا برا بدلہ پائیں۔یہ بات اگر نہ
ہو، اور نیکی و بدی کا نتیجہ ایک ہی جیسا ہو تو سرے سے اخلاق میں خوبی و زشتی کی
تمیز ہی بے معنی ہو جاتی ہے اور خدا پر بے انصافی کا الزام عائد ہوتا ہے۔جو لوگ دنیا
میں بدی کی راہ چلتے ہیں وہ تو ضرور یہ چاہتے ہیں کہ کوئی جزا و سزا نہ ہو، کیونکہ
یہ تصور ہی ان کے عیش کو منغّص کر دینے والا ہے۔لیکن خداوند عالم کی حکمت اور اس
کے عدل سے یہ بات بالکل بعید ہے کہ وہ نیک و بد سے ایک جیسا معاملہ کرے اور کچھ نہ
دیکھے کہ مومن صالح نے دنیا میں کس طرح زندگی بسر کی ہے اور کافر و فاسق یہاں کیا
گل کھلاتا رہا ہے۔ ایک شخص عمر بھر اپنے اوپر اخلاق کی پابندیاں لگائے رہا۔ حق
والوں کے حق ادا کرتا رہا۔ نا جائز فائدوں اور لذتوں سے اپنے آپ کو محروم کیے رہا۔
اور حق و صداقت کی خاطر طرح طرح کے نقصانات برداشت کرتا رہا۔ دوسرے شخص نے اپنی
خواہشات ہر ممکن طریقے سے پوری کیں، نہ خدا کا حق پہچانا اور نہ بندوں کے حقوق پر
دست درازی کرنے سے باز آیا۔ جس طرح سے بھی اپنے لیے فائدے اور لذتیں سمیٹ سکتا
تھا، سمیٹتا چلا گیا۔ کیا خدا سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ان دونوں قسم کے آدمیوں
کی زندگی کے اس فرق کو وہ نظر انداز کر دے گا؟ مرتے دم تک جن کا جینا یکساں نہیں
رہا ہے، موت کے بعد اگر ان کا انجام یکساں ہو تو خدا کی خدائی میں اس سے بڑھ کر
اور کیا بے انصافی ہو سکتی ہے؟(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد
دوم،یونس،حواشی،9،10،ہود،حاشیہ،106،النحل،حاشیہ،35،جلد سوم،الحج،حاشیہ،9،النمل
،حاشیہ،86،الروم،حواشی،6تا8، جلد چہارم، تفسیر سورہ،صٓ، آیت 28۔ حاشیہ نمبر 30)
اللہ نے تو آسمانوں
اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے
28. یعنی اللہ تعالیٰ
نے زمین اور آسمان کی تخلیق کھیل کے طور پر نہیں کی ہے بلکہ یہ ایک با مقصد حکیمانہ
نظام ہے۔ اس نظام میں یہ بات بالکل ناقابل تصور ہے کہ اللہ کے دئے ہوئے اختیارات
اور ذرائع و وسائل کو صحیح طریقہ سے استعمال کر کے جن لوگوں نے اچھا کارنامہ انجام
دیا ہو، اور انہیں غلط طریقے سے استعمال کر کے جن دوسرے لوگوں نے ظلم و فساد برپا
کیا ہو، یہ دونوں قسم کے انسان آخر کار مر کر مٹی ہو جائیں اور اس موت کے بعد کوئی
دوسری زندگی نہ ہوجس میں انصاف کے مطابق ان کے اچھے اور برے اعمال کا کوئی اچھا یا
برا نتیجہ نکلے۔اگر ایسا ہو تو یہ کائنات ایک کھلنڈرے کا کھلونا ہو گی نہ کہ ایک
حکیم کا بنایا ہوا با مقصد نظام (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد
اول، الانعام،حاشیہ،46،جلد دوم،یونس،حاشیہ،11،ابراہیم،حاشیہ،46،النحل حاشیہ،6،جلد سوم،العنکبوت،حاشیہ،75،الروم،حاشیہ،6)
لوگوں پر ظلم ہر گز
نہ کیا جائے گا
29. اس سیاق و سباق میں
اس فقرے کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر نیک انسانوں کو ان کی نیکی کا اجر نہ ملے، اور
ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا نہ دی جائے، اور مظلوموں کی کبھی داد رسی نہ ہو تو یہ
ظلم ہو گا۔ خدا کی خدائی میں ایسا ظلم ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح خدا کے ہاں ظلم
کی یہ دوسری صورت بھی کبھی رونما نہیں ہو سکتی کہ کسی نیک انسان کو اس کے استحقاق
سے کم اجر دیا جائے، یا کسی بد انسان کو اس کے استحقاق سے زیادہ سزا دے دی جائے۔
Comments
Post a Comment