منکرین آخرت گمراہ کن شک میں مبتلا ہیں
منکرین آخرت گمراہ کن
شک میں مبتلا ہیں
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحہ 194 سورہ سبا آیت 21
وَمَا كَانَ لَهٗ
عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ يُّـؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَةِ
مِمَّنۡ هُوَ مِنۡهَا فِىۡ شَكٍّ ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَفِيۡظٌ ﴿34:21﴾سورہ سبا آیت 21
- ابلیس کو اُن پر
کوئی اقتدار حاصل نہ تھا مگر جو کچھ ہوا وہ اس لیے ہوا کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے
کہ کون آخرت کا ماننے والا ہے اور کون اس کی طرف سے شک میں پڑا ہوا ہے ۔ تیرا ربّ
ہر چیز پر نگران ہے۔
36. یعنی ابلیس کو یہ طاقت حاصل نہ تھی کہ ان کا ارادہ تو خدا کی فرمانبرداری کرنے
کا ہو مگر وہ زبردستی ان کا ہاتھ پکڑ ا کر انہیں نا فرمانی کی راہ پر کھینچ لے گیا
ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی قدرت اس کو دی تھی کہ وہ انہیں بہکائے اور ایسے
تمام لوگوں کو اپنے پیچھے لگا لے جو خود اس کی پیروی کرنا چاہیں۔ اور اس اغوا کے
مواقع ابلیس کو اس لیے عطا کیے گئے تاکہ آخرت کے ماننے والوں اور اس کی آمد میں شک
رکھنے والوں کا فرق کھل جائے۔
دوسرے الفاظ میں یہ
ارشاد ربانی اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ عقیدہ آخرت کے سوا کوئی دوسری چیز ایسی
نہیں ہے جو اس دنیا میں انسان کو راہ راست پر قائم رکھنے کی ضامن ہو سکتی ہو۔ اگر
کوئی شخص یہ نہ مانتا ہو کہ اسے مر کر دوبارہ اٹھنا ہے اور اپنے خدا کے حضور اپنے
اعمال کی جواب دہی کرنی ہے، تو وہ لازماً گمراہ و بد راہ ہو کر رہے گا، کیونکہ اس
کے اندر سرے سے وہ احساس ذمہ داری پیدا ہی نہ ہو سکے گا جو آدمی کو راہ راست پر
ثابت قدم رکھتا ہے۔ اسی لیے شیطان کا سب سے بڑا حربہ، جس سے وہ آدمی کو اپنے پھندے
میں پھانستا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے آخرت سے غافل کرتا ہے۔ اس کے اس فریب سے جو شخص
بچ نکلے وہ کبھی اس بات پر راضی نہ ہو گا کہ اپنی اصل دائمی زندگی کے مفاد کو دنیا
کی اس عارضی زندگی کے مفاد پر قربان کر دے۔ بخلاف اس کے جو شخص شیطان کے دام میں آ
کر آخرت کا منکر ہو جائے، یا کم از کم اس کی طرف سے شک میں پڑ جائے، اسے کوئی چیز
اس بات پر آمادہ نہیں کر سکتی کہ جو نقد سَودا اِس دنیا میں ہو رہا ہے اس سے صرف
اس لیے ہاتھ اٹھا لے کہ اس سے کسی بعد کی زندگی میں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ دنیا
میں جو شخص بھی گمراہ ہوا ہے اسی انکار آخرت یا شک فی ا لآخرۃ کی وجہ سے ہوا ہے،
اور جس نے بھی راست روی اختیار کی ہے اس کے صحیح طرز عمل کی بنیاد ایمان بالآخرۃ ہی
پر قائم ہوئی ہے۔
منکرین آخرت گمراہ کن
شک میں مبتلا ہیں
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحہ 214
سورہ سبا آیت 54
وَحِيۡلَ بَيۡنَهُمۡ
وَبَيۡنَ مَا يَشۡتَهُوۡنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشۡيَاعِهِمۡ مِّنۡ قَبۡلُؕ اِنَّهُمۡ
كَانُوۡا فِىۡ شَكٍّ مُّرِيۡبٍ ﴿34:54﴾ سورہ
سبا آیت 54
اُس وقت جس چیز کی یہ
تمنّا کر رہے ہوں گے اس سے محرُوم کر دیے جائیں گے جس طرح اِن کے پیش رَو ہم مشرب
محروم ہوں گے۔ یہ بڑے گمراہ کُن شک میں پڑے ہوئے تھے۔
76. درحقیقت شرک اور
دہریت اور انکار آخرت کے عقائد کوئی شخص بھی یقین کی بنا پر اختیار نہیں کرتا اور
نہیں کر سکتا۔ اس لیے کہ یقین صرف علم سے حاصل ہوتا ہے، اور کسی شخص کو بھی یہ علم
حاصل نہیں ہے کہ خدا نہیں ہے، یا بہت سے خدا ہیں یا خدائی کے اختیارات میں بہت سی
ہستیوں کو دخل حاصل ہے، یا آخرت نہیں ہونی چاہیے۔ پس جس نے بھی دنیا میں یہ عقائد
اختیار کیے ہیں اس نے محض قیاس و گمان پر ایک عمارت کھڑی کر لی ہے جس کی اصل بنیاد
شک کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اور یہ شک انہیں سخت گمراہی کی طرف لے گیا ہے۔ انہیں
خدا کے وجود میں شک ہوا۔ انہیں توحید کی صداقت میں شک ہوا۔ انہیں آخرت کے آنے میں
شک ہوا۔ حتّیٰ کہ اس شک کو انہوں نے یقین کی طرح دلوں میں بٹھا کر انبیاء کی کوئی
بات نہ مانی اور اپنی زندگی کی پوری مہلت عمل ایک غلط راستے میں کھپا دی۔
منکرین آخرت گمراہ کن
شک میں مبتلا ہیں
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحہ 547
وَاِنَّهٗ لَعِلۡمٌ
لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوۡنِؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ
﴿43:61﴾ سورہ زخرف آیت 61
اور وہ دراصل قیامت کی
ایک نشانی ہے،پس تم اُس میں شک نہ کرو ، اور میری بات مان لو، یہی سیدھا راستہ ہے
اور وہ دراصل قیامت کی
ایک نشانی ہے
55. اس فقرے کا یہ
ترجمہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ قیامت کے علم کا ایک ذریعہ ہے ۔ یہاں یہ سوال پیدا
ہوتا ہے کہ ’’ وہ ‘’‘ سے کیا چیز مراد ہے ؟ حضرت حسن بصری اور سعید بن جبیر کے نزدیک
اس سے مراد قرآن ہے ، یعنی قرآن سے آدمی یہ علم حاصل کر سکتا ہے کہ قیامت آئے گی ۔
لیکن یہ تفسیر سیاق و سباق سے بالکل غیر متعلق ہے ۔ سلسلہ کلام میں کوئی قرینہ ایسا
موجود نہیں ہے جس کی بنا پر یہ کہا جا سکے کہ اشارہ قرآن کی طرف ہے ۔ دوسرے مفسرین
قریب قریب بالاتفاق یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ ابن مریم ہیں اور یہی
سیاق سباق کے لحاظ سے درست ہے ۔ اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آنجناب کو قیامت
کی نشانی یا قیامت کے علم کا ذریعہ کس معنی میں فرمایا گیا ہے ؟ ابن عباس، مجاہد ،
عکرمہ، قتادہ، سدی ، ضحاک، ابوالعالیہ اور ابو مالک کہتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ
کا نزول ثانی ہے جس کی خبر بکثرت احادیث میں وارد ہوئی ہے ، اور آیت کا مطلب یہ ہے
کہ وہ جب دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو معلوم ہو جائے گا کہ قیامت اب قریب ہے
۔ لیکن ان بزرگوں کی جلالت قدر کے باوجود یہ ماننا مشکل ہے کہ اس آیت میں حضرت عیسیٰ
کی آمد ثانی کو قیامت کی نشانی یا اس کے علم کا ذریعہ کہا گیا ہے ۔ اس لیے کہ بعد
کی عبارت یہ معنی لینے میں مانع ہے ۔ ان کا دوبارہ آنا تو قیامت کے علم کا ذریعہ
صرف ان لوگوں کے لیے بن سکتا ہے جو اس زمانہ میں موجود ہوں یا اس کے بعد پیدا ہوں۔
کفار مکہ کے لیے آخر وہ کیسے ذریعہ علم قرار پا سکتا تھا کہ ان کو خطاب کر کے یہ
کہنا صحیح ہوتا کہ ’’ پس تم اس میں شک نہ کرو‘‘۔ لہٰذا ہمارے نزدیک صحیح تفسیر وہی
ہے جو بعض دوسرے مفسرین نے کی ہے کہ یہاں حضرت عیسیٰ کے بے باپ پیدا ہونے اور ان
کے مٹی سے پرندہ بنانے اور مردے جِلانے کو قیامت کے امکان کی ایک دلیل قرار دیا گیا
ہے ، اور ارشاد خداوندی کا منشا یہ ہے کہ جو خدا باپ کے بغیر بچہ پیدا کر سکتا ہے
، اور جس خدا کا ایک بندہ مٹی کے پُتلے میں جان ڈال سکتا اور مردوں کو زندہ کر
سکتا ہے اس کے لیے آخر تم اس بات کو کیوں ناممکن سمجھتے ہو کہ وہ تمہیں اور تمام
انسانوں کو مرنے بعد دوبارہ زندہ کر دے ۔
Comments
Post a Comment