آخرت کو یاد رکھنے اور اس کے لیے سعی و کوشش کرنے کے ثمرات و نتائج
آخرت کو یاد رکھنے
اور اس کے لیے سعی و کوشش کرنے کے ثمرات و نتائج
فہرست موضوعات تفہیم
القرآن جلد چہارم
صفحہ 343 سورہ ص آیت 45، 46
وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ
اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ اُولِى الۡاَيۡدِىۡ وَالۡاَبۡصَارِ ﴿38:45﴾اِنَّاۤ
اَخۡلَصۡنٰهُمۡ بِخَالِصَةٍ ذِكۡرَى الدَّارِۚ ﴿38:46﴾ سورہ ص آیت 45،
46
۴۵ - اور ہمارے بندوں ، ابراہیمؑ اور اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا ذکر
کرو۔ بڑی قوّتِ عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے۔ہم
نے اُن کو ایک خالص صفت کی بنا پر برگزیدہ کیا تھا، اور وہ دارِ آخرت کی یاد تھی۔
بڑی قوّتِ
عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے۔
48. اصل الفاظ ہیں
اُو لِی الْاَ یْدِ یْ وَالْاَبْصَارِ (ہاتھوں والے اور نگاہوں والے )۔ ہاتھ سے
مراد، جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں ، قوت و قدرت ہے ۔ اور ان انبیاء کو
صاحب قوت و قدرت کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ نہایت با عمل لوگ تھے ، اللہ تعالیٰ کی
اطاعت کرنے اور معصیتوں سے بچنے کی زبردست طاقت رکھتے تھے ، اور دنیا میں اللہ کا
کلمہ بلند کرنے کے لیے انہوں نے بڑی کوششیں کی تھیں ۔ نگاہ سے مراد آنکھوں کی بینائی
نہیں بلکہ دل کی بصیرت ہے ۔ وہ حق بین اور حقیقت شناس لوگ تھے ۔ دنیا میں اندھوں کی
طرح نہیں چلتے تھے بلکہ آنکھیں کھول کر علم و معرفت کی پوری روشنی میں ہدایت کا سیدھا
راستہ دیکھتے ہوئے چلتے تھے ۔ ان الفاظ میں ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جو
لوگ بد عمل اور گمراہ ہیں وہ درحقیقت ہاتھوں اور آنکھوں ، دونوں سے محروم ہیں ۔
ہاتھ والا حقیقت میں وہی ہے جواللہ کی راہ میں کام کرے اور آنکھوں والا دراصل وہی
ہے جو حق کی روشنی اور باطل کی تاریکی میں امتیاز کرے ۔
اور وہ
دارِ آخرت کی یاد تھی
49. یعنی ان کی تمام
سرفرازیوں کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان کے اندر دنیا طلبی اور دنیا پرستی کا شائبہ تک
نہ تھا، ان کی ساری فکر و سعی آخرت کے لیے تھی، وہ خود بھی اس کو یاد رکھتے تھے
اور دوسروں کو بھی یاد دلاتے تھے ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ مرتبے دیے جو
دنیا بنانے کی فکر میں منہمک رہنے والے لوگوں کو کبھی نصیب نہ ہوئے ۔ اس سلسلے میں
یہ لطیف نکتہ بھی نگاہ میں رہنا چاہیے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے آخرت کے لیے صرف
الدّار (وہ گھر، یا اصل گھر ) کا لفظ استعمال فرمایا ہے ۔ اس سے یہ حقیقت ذہن نشین
کرنی مطلوب ہے کہ یہ دنیا سرے سے انسان کا گھر ہے ہی نہیں ، بلکہ یہ صرف ایک گزر
گاہ ہے ، ایک مسافر خانہ ہے ، جس سے آدمی کو بہر حال رخصت ہو جانا ہے ۔ اصل گھر وہی
آخرت کا گھر ہے ۔ جو شخص اس کو سنوارنے کی فکر کرتا ہے وہی صاحب بصیرت ہے اور اللہ
کے نزدیک لامحالہ اسی کو پسندیدہ انسان ہونا چاہیے ۔ رہا وہ شخص جو اس مسافر خانے
میں اپنی چند روزہ قیام گاہ کو سجانے کے لیے وہ حرکتیں کرتا ہے جن سے آخرت کا اصل
گھر اس کے لیے اُجڑ جائے وہ عقل کا اندھا ہے اور فطری بات ہے کہ ایسا آدمی اللہ کو
پسند نہیں آ سکتا۔
Comments
Post a Comment