امکان آخرت کے دلائل-2 فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم صفحہ
امکان آخرت کے دلائل-2
فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم صفحہ 295
سورہ مؤمنون آیت 82،
83
قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا
ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ۠۰۰۸۲لَقَدْ
وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ
اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ
سورہ مؤمنون آیات 82، 83
یہ کہتے ہیں ”کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا
پنجر بن کر رہ جائیں گے توہم کو پھر زندہ کر کے اُٹھا یا جائے گا؟ ہم نے بھی یہ
وعدے بہت سُنے ہیں اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا بھی سُنتے رہے ہیں۔ یہ محض
افسانہائے پارینہ ہیں۔“ سورہ مؤمنون آیات 82،
83
سورة الموٴمنون حاشیہ نمبر۷۷
خیال رہے کہ اُن کا آخرت کو مستبعد سمجھنا صرف آخرت ہی کا
انکار نہ تھا، خدا کی قدرت اور حکمت کا بھی انکار تھا۔
امکان آخرت کے دلائل
فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم صفحہ 297
سورہ مؤمنون آیت 90
بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۰۰۹۰
سورہ مؤمنون آیت 90
جو امرِ حق ہے وہ
ہم ان کے سامنے لے آئے ہیں، اور کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں۔ سورہ مؤمنون
آیت 90
سورة الموٴمنون حاشیہ نمبر۸۳
یعنی اپنے اس قول میں
جھوٹے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو بھی الوہیت
(خدائی کی صفات ، اختیارات اور حقوق، یا
ان میں سے کوئی حصّہ) حاصل ہے۔ اور اپنے اس قول میں جھوٹے کہ زندگی بعد ِ موت ممکن
نہیں ہے۔ اُن کا جھوٹ اُن کے اپنے اعترافات سے ثابت ہے۔ ایک طرف یہ ماننا کہ زمین
و آسمان کا مالک اور کائنات کی ہر چیز کا مختار اللہ ہے، اور دوسری طرف یہ کہنا کہ
خدائی تنہا اسی کی نہیں ہے بلکہ دوسروں کا
بھی ( جولا محالہ اُس کے مملوک ہی ہوں گے) اُس میں کوئی حصّہ ہے، یہ دونوں باتیں
صریح طور پر ایک دوسرے سے متناقض ہیں۔ اسی
طرح ایک طرف یہ کہنا کہ ہم کو اور اِس عظیم الشان
کائنات کو خدا نے پیدا کیا ہے، اور دوسری طرف یہ کہنا کہ خدا اپنی ہی پیدا کردہ مخلوق کو دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا، صریحًا خلافِ عقل ہے۔ لہٰذا ان کی
اپنی مانی ہوئی صداقتوں سے یہ ثابت ہے کہ
شرک اور انکارِ آخرت ، دونوں ہی جھوٹے عقیدے ہیں جو انہوں نے اختیار کر رکھے ہیں
امکان آخرت کے دلائل
فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم صفحہ 598، 600
سورہ نمل آیات 66تا69
بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِيْ
شَكٍّ مِّنْهَا١۫ٞ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَؒ۰۰۶۶وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ
اَىِٕنَّا لَمُخْرَجُوْنَ۰۰۶۷لَقَدْ
وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ
اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ۰۰۶۸قُلْ
سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِيْنَ۰۰۶۹
سورہ نمل آیات 66تا 69
بلکہ آخرت کا تو علم ہی اِن لوگوں سے گُم ہو گیا ہے، بلکہ یہ
اس کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ یہ اُس سے
اندھے ہیں۔یہ منکرین کہتے ہیں”کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہو چکے ہوں گے تو
ہمیں واقعی قبروں سے نکالا جائے گا؟ یہ خبریں ہم کو بھی بہت دی گئی ہیں اور پہلے
ہمارے آبا و اجداد کو بھی دی جاتی رہی ہیں، مگر یہ بس افسانے ہی افسانے ہیں جو
اگلے وقتوں سے سُنتے چلے آرہے ہیں ۔“ کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہو چکا ہے۔
سورة النمل حاشیہ نمبر۸۵
الو ہیت کے بارے میں ان لوگوں کی بنیادی غلطیوں پر متنبہ
کرنے کے بعد اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ جو ان شدید گمراہیوں میں پڑے ہوئے ہیں
اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ غور فکر کرنے کے بعد یہ کسی دلیل وبر ہا ن سے اس نتیجے پر
پہنچے تھے کہ خدائی میں درحقیقت کچھ دوسری ہستیاں اللہ تعالیٰ کی شریک ہیں ۔ بلکہ
اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کبھی سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر ہی نہیں کیا ہے۔
چونکہ یہ لوگ آخرت سے بے خبر ہیں۔ یا اس کی طرف سے شک میں ہیں۔ یا اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں، اس لیے
فکرِ عقبٰی سے بے نیازی نے ان کے اندر سراسر ایک غیر ذمہ دارانہ رویّہ پیدا کر دیا
ہے۔ یہ کائنات اور خود اپنی زندگی کے حقیقی مسائل کے بارے میں سرے سے کوئی سنجیدگی
رکھتے ہی نہیں۔ ان کو اس کی پروا ہی نہیں ہے کہ حقیقت کیا ہے اور ان کا فلسفہ حیات
اُس حقیقت سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک آخر کار مشرک اور دہریے
اور موحد اور مُشکک سب کو مر کر مٹی ہو جانا ہے
اور کسی چیز کا بھی کوئی نتیجہ نکلنا نہیں ہے۔
آخرت کا یہ
مضمون اس سے پہلے کی آیت کے اِس فقرے سے نکلا ہے کہ ”وہ نہیں جانتے کہ کب وہ
اُٹھائے جائیں گے“۔اُس فقرے میں تو یہ بتایا گیا تھا کہ جن کو معبود بنایا جاتا
ہے۔۔۔۔اور ان میں فرشتے ، جِن ، انبیاء، اور اولیاء سب شامل تھے۔۔۔۔ ان میں سے کوئی
بھی آخرت کے وقت سے واقف نہیں ہے کہ وہ کب آئے گی۔ اس کے بعد اب عام مشرکین و کفار
کے بارے میں تین باتیں ار شاد ہوئی ہیں۔ اوّل یہ کہ وہ سرے سے یہی نہیں جانتے کہ
آخرت کبھی ہو گی بھی یا نہیں ۔ دوسرے یہ کہ ان کی یہ بے خبری اس بنا پر نہیں ہے
کہ انہیں اس کی اطلاع ہی کبھی نہ دی گئی ہو،بلکہ اس بنا پر ہے کہ جو خبر
انہیں دی گئی اس پر انہوں نے یقین نہیں کیا بلکہ اس کی صحت میں شک کرنے لگے ۔ تیسرے
یہ کہ انہوں نے کبھی غور و خوض کر کے اُن دلائل کو جانچنے کی زحمت ہی نہیں اٹھائی
جو آخرت کے وقوع کے بارے میں پیش کیے گئے ، بلکہ اس کی طرف سے اندھے بن کر رہنے ہی
کو انہوں نے ترجیح دی۔
دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہو چکا ہے
سورة النمل حاشیہ نمبر۸٦
اس مختصر سے فقرے میں آخرت کی دو زبر دست دلیلیں بھی ہیں
اور نصیحت بھی۔
پہلی دلیل یہ ہے کہ دنیا کی جن قوموں نے بھی آخرت کو نظر انداز کیا ہے وہ مجرم بنے بغیر نہیں رہ
سکی ہیں ۔ وہ غیر ذمہ دار بن کر ہیں۔
انہوں نے ظلم و ستم ڈھائے۔ وہ فسق و فجور میں غرق ہو گئیں۔ اور اخلاق کی تباہی نے
آخر کار ان کو برباد کر کے چھوڑا۔ یہ تاریخ انسانی کا مسلسل تجربہ، جس پر زمین میں
ہر طرف تباہ شدہ قوموں کے آثار شہادت دے
رہے ہیں، صاف ظاہر کرتا ہے کہ آخرت کے ماننے اور نہ ماننے کا نہایت گہرا تعلق
انسانی رویے کی صحت اور عدم صحت سے ہے۔ اس کو مانا جائے تو رویہ درست رہتا ہے ، نہ
مانا جائے تو رویہ غلط ہو جاتا ہے ۔ یہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ اس کانہ ماننا
صریح حقیقت کے خلاف ہے ، اسی وجہ سے یہ گاڑی پٹڑی سے اتر جاتی ہے۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ تاریخ کے اس طویل تجربے میں مجرم بن
جانے والی قوموں کا مسلسل تباہ ہونا اس حقیقت پر صاف دلالت کر رہا ہے کہ یہ کائنات
بے شعور طاقتوں کی اندھی بہری فرمانروائی نہیں ہے بلکہ یہ ایک حکیمانہ نظام ہے جس
کے اندر ایک اٹل قانون مکافات کام کر رہا ہے ۔ جس کی حکومت انسانی قوموں کے ساتھ
سراسر اخلاقی بنیادوں پر معاملہ کر رہی ہے ۔ جس میں کسی قوم کو بد کر داریوں کی کھلی چھوٹ نہیں دی جاتی کہ
ایک دفعہ عروج پاجانے کے بعد وہ ابد الآ باد تک دادِ عیش دیتی رہے اور ظلم و ستم کے ڈنکے بجائے چلی جائے۔ بلکہ ایک
خاص حد کو پہنچ کر ایک زبر دست ہاتھ آگے بڑھتا ہے اور اس کو بامِ عروج سے گرا کر
قعِر مذلت میں پھینک دیتا ہے ۔اس حقیقت کو جو شخص سمجھ لے وہ کبھی اس امر میں شک
نہی کر سکتا کہ یہی قانونِ مکافات اس دنیوی زندگی کے بعد ایک دوسرے عالم کا تقاضا
کرتا ہے جہاں افراد کا اور قوموں کا اور بحیثیت مجموعی پوری نوع انسانی کا انصاف
چُکا یا جائے۔ کیونکہ محض ایک ظالم قوم کے تباہ ہوجانے سے تو انصاف کے سارے تقاضے
پورے نہیں ہو ں گے ۔ اس سے اُن مظلوموں کی تو کوئی داد رسی نہیں ہوئی جن کی
لاشوں پر انہوں نے اپنی عظمت کا قصر بنا یا
تھا۔ اس سے ان ظالموں کوتو کوئی سزا نہیں
ملی جو تباہی کے آنے سے پہلے مزے اڑا کر جا چکے تھے۔ اس سے ان بدکاروں پر بھی کوئی
مواخذہ نہیں ہو ا جو پشت درپشت اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے گمراہیوں اور بد
اخلاقیوں کی میراث چھوڑتے چلے گئے تھے۔ دنیا میں عذاب بھیج کر تو صرف اُن کی آخری
نسل کے مزید ظلم کا سلسلہ توڑ دیا گیا ۔ ابھی عدالت کا اصل کام تو ہوا ہی نہیں کہ ہر ظالم کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے
اور ہر مظلوم کے نقصان کی تلافی کی جائے، اور اُن سب لوگوں کو انعام دیا جائے جو
بدی کے اِس طوفان میں راستی پر قائم اور اصلاح کے لیے کوشاں رہے اور عمر بھر اِس
راہ میں اذیتیں سہتے رہے۔ یہ سب لازماً کسی وقت ہونا چاہیے، کیونکہ دنیا میں قانونِ مکافات کی مسلسل کار فرمائی
کائنات کی فرمانروا حکومت کا یہ مزاج اور
طریقہ کار صاف بتا رہی ہے کہ وہ انسانی اعمال کو ان کی اخلاقی قدر کے لحاظ سے تولتی
اور ان کی جزا و سزا دیتی ہے۔
ان دودلیلوں
کے ساتھ اس آیت میں نصیحت کا پہلو یہ ہے کہ پچھلے مجرموں کا انجام دیکھ کر اس سے
سبق لو اور انکار آخرت کے اُسی احمقانہ عقیدے پر اصرار نہ کیے چلے جاؤ جس نے اُنہیں
مجرم بنا کر چھوڑا تھا۔
فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم صفحہ 688، 689،
سورہ عنکبوت آیت 17
اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ
تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا
يَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ
اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۰۰۱۷
سورہ عنکبوت آیت 17
۔ تم اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پُوج رہے ہو وہ تو محض بُت ہیں
اور تم ایک جھُوٹ گھڑ رہے ہو۔درحقیقت اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو وہ تمہیں
کوئی رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اللہ سے رزق مانگو اور اسی کی بندگی کرو
اور اس کا شکر ادا کرو، اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو۔ سورہ عنکبوت آیت 17
تم ایک جھُوٹ گھڑ رہے ہو
سورة العنکبوت حاشیہ نمبر۲۸
یعنی تم یہ بُت نہیں گھڑ رہے ہو بلکہ ایک جھوٹ گھڑ رہے ہو۔
ان بتوں کا وجود خود ایک جھوٹ ہے ۔ اور پھر تمہارے یہ عقائد کہ یہ دیویاں اور دیوتا
ہیں ، یا خدا کے اوتار یا اس کی اولاد ہیں، یا خدا کے مقرب اور اس کے ہاں شفیع ہیں،
یا یہ کہ ان میں سے کوئی شفا دینے والا اور کوئی اولاد بخشنے والا اور کوئی روزگار
دلوانے والا ہے، یہ سب جھوٹی باتیں ہیں جو
تم لوگوں نے اپنے وہم و گمان سے تصنیف کرلی ہیں۔ حقیقت اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ یہ محض بُت ہیں بے
جان ، بے اختیار اور بے اثر۔
اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو
سورة العنکبوت حاشیہ نمبر۲۹
ان چند فقروں میں حضرت ابراہیمؑ نے بُت پرستی
کے خلاف تمام معقول دلائل سمیٹ کر
رکھ دیے ہیں ۔ کسی کو معبود بنانے کے لیے لا محالہ کوئی معقول وجہ ہونی چاہیے۔
ایک معقول وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی ذات میں معبودیت کا کوئی استحقاق رکھتا
ہو۔ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ آدمی کا خالق ہو اور آدمی اپنے وجود کے لیے اس
کا رہینِ منت ہو۔ تیسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ آدمی کی پرورش کا سامان کرتا ہو
اور اسے رزق ، یعنی متاعِ زیست بہم پہنچاتا ہو۔ چوتھی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ آدمی کا
مستقبل اس کی عنایات سے وابستہ ہو اور آدمی کو اندیشہ ہو کہ اس کی ناراضی مول لے
کر وہ اپنا انجام خراب کر لے گا ۔ حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا کہ ان چاروں وجوہ میں
سے کوئی وجہ بھی بت پرستی کی حق میں نہیں
ہے بلکہ ہر ایک خالص خدا پرستی کا تقاضا کرتی ہے۔ ” یہ محض بُت ہیں“ کہہ کر اُنہوں نے پہلی وجہ کو ختم کر دیا، کیونکہ
جو نِرا بُت ہو اس کو معبود ہونے کا آخر کیا
ذاتی استحقاق حاصل ہو سکتا ہے۔ پھر یہ کہہ
کر کہ ” تم ان کے خالق ہو“ دوسری وجہ بھی ختم کر دی ۔ اس کے
بعد تیسری وجہ کو یہ فرما کر ختم کیا کہ وہ تمہیں کسی نوعیت کا کچھ بھی رزق نہیں
دے سکتے۔ اور آخری بات یہ ارشاد فرمائی کہ تمہیں پلٹنا تو خدا کی طرف ہے
نہ کہ اِن بتوں کی طرف، اس لیے تمہارا انجام اور تمہاری عاقبت سنوار نا یا
بگاڑنا بھی اِن کے اختیار میں نہیں صرف خدا کے اختیار میں ہے۔ اس طرح شرک کا پورا
ابطال کر کے حضرت والا نے یہ بات ان پر
واضح کر دی کہ جتنے وجوہ سے بھی انسان کسی کو معبود قرار دے سکتا ہے وہ سب کے سب
اللہ وحدہٗ لاشریک کے سوا کسی کی عبادت کے مقتضی نہیں ہیں۔
امکان آخرت کے دلائل
فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم صفحہ 736
سورہ روم آیات 11،
12
اَللّٰهُ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ ثُمَّ
اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۰۰۱۱وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ۰۰۱۲
سورہ روم آیات 11، 12
اللہ ہی خلق کی ابتدا کرتا ہے ، پھر وہی اس کا اعادہ کرے
گا، پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جاؤ گے۔ اور جب وہ ساعت
برپا ہو گی اس دن مجرم ہَک دَک رہ جائیں گے ۔ سورہ روم آیات 11، 12
پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا
سورة الروم حاشیہ نمبر١۳
یہ بات اگرچہ دعوے کے انداز میں بیان فرمائی گئی ہے مگر اس میں خود دلیلِ دعویٰ بھی موجود ہے۔ صریح
عقل اس بات پر شہادت دیتی ہے کہ جس کے لیے خلق کی ابتدا کرنا ممکن ہو اس کے لیے اسی
خلق کا اعادہ کرنا بدرجہ اَولیٰ ممکن ہے۔ خلق کی ابتدا تو ایک امرِ واقعہ ہے جو سب
کے سامنے موجود ہے۔ اور کفار و مشرکین بھی مانتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کا فعل
ہے ۔ اس کے بعد ان کا یہ خیال کرنا سراسر نا معقول بات ہے کہ وہی خدا جس نے اس خلق
کی ابتدا کی ہے، اس کا اعادہ نہیں کر سکتا۔
اور جب وہ ساعت برپا ہو گی
سورة الروم حاشیہ نمبر١۴
یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنے اور اس کے حضور پیش ہونے کی
ساعت۔
اس دن مجرم ہَک دَک رہ جائیں گے
سورة الروم حاشیہ نمبر١۵
اصل میں لفظ اِبْلَاس استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں
سخت مایوسی اور صدمے کی بنا پر کسی شخص کا گُم سُم ہو جانا، امید کے سارے راستے
بند پا کر حیران و ششدر رہ جانا، کوئی حجت
نہ پا کر دم بخود رہ جانا ۔ یہ لفظ جب مجرم کے لیے استعمال کیا جائے تو ذہن کے
سامنے اس کی یہ تصویر آتی ہے کہ ایک شخص عین حالتِ جُرم میں بھرے ہاتھوں (Red-handed ) پکڑا گیا ہے، نہ فرار کی کوئی راہ پاتا ہے، نہ اپنی صفائی میں
کوئی چیز پیش کر کے بچ نکلنے کی توقع رکھتا ہے، اس لیے زبان اس کی بند ہے اور وہ
انتہائی مایوسی و دل شکستگی کی حالت میں حیران و پریشان کھڑا ہے۔
اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ یہاں مجرمین سے
مراد صرف وہی لوگ نہیں ہیں جنہوں نے دنیا
میں قتل، چوری، ڈاکے اور اسی طرح کے دوسرے جرائم کیے ہیں، بلکہ وہ سب لوگ مراد ہیں
جنہوں نے خدا سے بغاوت کی ہے، اس کے رسولوں کی تعلیم و ہدایت کو قبول کرنے سے انکار
کیا ہے، آخرت کی جواب دہی کے منکر یا اس سے بے فکر رہے ہیں، اور دنیا میں خدا کے
بجائے دوسروں کی یا اپنے نفس کی بندگی کرتے رہے ہیں، خوا ہ اس بنیادی گمراہی کے
ساتھ انہوں نے وہ افعال کیے ہوں یا نہ کیے ہوں جنہیں عرف عام میں جرائم کہا جاتا
ہے۔ مزید براں اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں
نے خدا کو مان کر، اس کے رسولوں پر ایمان لا کر، آخرت کا اقرار کر کے پھر
دانستہ اپنے ربّ کی نافرمانیاں کی ہیں اور آخر وقت تک اپنی اس باغیانہ روش پر ڈٹے
رہے ہیں۔ یہ لوگ جب اپنی توقعات کے بالکل خلاف عالمِ آخرت میں یکایک جی اُٹھیں گے اور دیکھیں گے کہ یہاں
تو واقعی وہ دوسری زندگی پیش آگئی ہے جس کا انکار کر کے، یا جسے نظر انداز کر کے وہ دنیا میں کام
کرتے رہے تھے، تو ان کے حواس باختہ ہو جائیں گے اور وہ کیفیت ان پر طاری ہو گی جس
کا نقشہ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ کے الفاظ میں کھینچا گیا ہے۔
امکان آخرت کے دلائل
فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم صفحہ 742تا750
سورہ روم آیات 19تا27
يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ يُخْرِجُ الْمَيِّتَ
مِنَ الْحَيِّ وَ يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَؒ ۰۰۱۹ وَ مِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ
بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ۰۰۲۰وَ مِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ
اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَيْهَا وَ جَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ
رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠۰۰۲۱وَ مِنْ اٰيٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ
اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْعٰلِمِيْنَ۰۰۲۲وَ مِنْ اٰيٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّيْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ
مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ۰۰۲۳وَ مِنْ اٰيٰتِهٖ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ يُنَزِّلُ
مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَيُحْيٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِيْ
ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۰۰۲۴وَ مِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ
اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ۰۰۲۵وَ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ۰۰۲۶وَ هُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ
عَلَيْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ
الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُؒ۰۰۲۷سورہ روم آیات19تا27
وہ زندہ میں سے مردے کو نکالتا ہے اور مردے میں سے زندہ کو
نکال لاتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔25 اسی طرح تم لوگ بھی
(حالتِ موت سے) نکال لیے جاؤ گے۔؏ اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا
۔ پھر یکایک تم بشر ہو کہ (زمین میں)پھیلتے چلے جا رہے ہو۔27
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری
ہی جنس سے بیویاں بنائیں28 تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو29 اور تمہارے درمیان
محبّت اور رحمت پیدا کر دی۔30 یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے
جو غور وفکر کرتے ہیں۔
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش،31 اور تمہاری زبانوں اور تمہارے
رنگوں کا اختلاف ہے۔32 یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانشمند لوگوں کے لیے۔
اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے۔33 یقیناًاس
میں سے بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (غور سے) سنتے ہیں۔
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک
دکھاتا ہے خوف کے ساتھ بھی اور طمع کے ساتھ بھی۔34 اور آسمان سے پانی بر سا تا ہے،
پھر اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔35 یقیناً اس میں بہت
سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کےحکم
سے قائم ہیں۔36 پھر جو نہی کہ اس نےتمہیں زمین سے پکارا ، بس ایک ہی پکار میں
اچانک تم نکل آؤ گے۔37 آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اس کے بندے ہیں، سب کے سب
اسی کے تابع فرمان ہیں۔وہی ہے جو تخلیق کی
ابتد کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے۔38 آسمانوں
اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے۔ ؏۳
امکان آخرت کے دلائل
فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم صفحہ 763، 764
سورہ روم آیت 50
فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَيْفَ يُحْيِ
الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْيِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى
كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۰۰۵۰ سورہ روم آیت 50
۔ دیکھو اللہ کی رحمت کے اثرات کہ مُردہ پڑی ہوئی زمین کو
وہ کس طرح جِلا اُٹھاتا ہے، یقیناً وہ مُردوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور وہ ہر چیز
پر قادر ہے۔سورہ روم آیت 50
کہ مُردہ پڑی ہوئی زمین کو وہ کس طرح جِلا اُٹھاتا ہے
سورة الروم حاشیہ نمبر۷۳
یہاں جس انداز سے نبوت اور بارش کا ذکر یکے بعد دیگرے کیا گیا
ہے اس میں ایک لطیف اشارہ اس حقیقت کی طرف بھی ہے کہ نبی کی آمد بھی انسان کی
اخلاقی زندگی کے لے ویسی ہی رحمت ہے جیسی بارش کی آمد اس کی مادّی زندگی کے لیے
رحمت ثابت ہوتی ہے۔ جس طرح آسمانی بارش کے نزول سے مردہ پڑی ہوئی زمین یکایک جی
اُٹھتی ہے اور اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں، اسی طرح آسمانی وحی کا نزول اخلاق
و روحانیت کی ویران پڑی ہوئی دنیا کو جِلا اُٹھاتا ہے اور اس میں فضائل و محامد کے
گلزار لہلہانے شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ کفار کی اپنی بد قسمتی ہے کہ خدا کی طرف
سے یہ نعمت جب ان کے ہاں آتی ہے تو وہ اس
کا کفران کرتے ہیں اور اس کو اپنے لیے مژدۂ رحمت سمجھنے کے بجائے پیامِ
موت سمجھ لیتے ہیں۔
Comments
Post a Comment