آخرت کی کامیابی صرف متقین کےلیے ہے
آخرت کی کامیابی صرف متقین کےلیے ہے ، فہرست مضامین -تفہیم القرآن جلد دوم صفحہ 94 سورہ اعراف آیت 169، 437 سورہ یوسف آیت 109
وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ
لِّلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ
آخرت کی قیام گاہ تو خدا ترس لوگوں
کے لیے ہی بہتر ہے
سورة الاعراف حاشیہ نمبر١۳١
اس آیت کے دو ترجمے ہو سکتے ہیں ۔ ایک وہ جو ہم
نے متن میں اختیار کیا ہے۔ دوسرا یہ کہ ”خدا ترس لوگوں کے لیے تو آخرت کی قیام گاہ
ہی بہتر ہے“۔ پہلے ترجمہ کے لحاظ سے مطلب یہ ہو گا کہ مغفرت کسی کا ذاتی یا خاندانی
اجارہ نہیں ہے، یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ تم کام تو وہ کرو جو سزا دینے کے لائق
ہوں مگر تمہیں آخرت میں جگہ مل جائے اچھی محض اس لیے کہ تم یہودی یا اسرائیلی ہو۔
اگر تم میں کچھ بھی عقل موجود ہو تو تم خود سمجھ سکتے ہو کہ آخرت میں اچھا مقام
صرف اُنہی لوگوں کو مل سکتا جو دنیا میں خدا ترسی کے ساتھ کام کریں۔ رہا دوسرا ترجمہ تو اس کے لحاظ سے مطلب یہ ہو
گا کہ دنیا اور اس کے فائدوں کو آخرت پر ترجیح دینا تو صرف اُن لوگوں کا کام ہے جو
نا خدا ترس ہوں، خدا ترس لوگ تو لازماً دنیا کی مصلحتوں پر آخرت کی مصلحت کو اور
دنیا کے عیش پر آخرت کی بھلائی کو تر جیح دیتے ہیں۔
وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ
لِّلَّذِيْنَ اتَّقَوْا سورہ یوسف آیت 109
یقیناً آخرت کا گھر اُن لوگوں کے لیے
اَور زیادہ بہتر ہے جنہوں نے (پیغمبروں کی بات مان کر)تقوٰی کی روش اختیار کی
سورة یوسف حاشیہ نمبر۷۹
یہاں ایک بہت بڑے مضمون کو دو تین
جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ اس کو اگر کسی تفصیلی عبارت میں بیان کیا جائے تو یوں کہا جا سکتا ہے : یہ لوگ تمہاری بات کی طرف
اس لیے توجہ نہیں کرتے کہ جو شخص کل ان کے
شہر میں پیدا ہوا اور انہی کے درمیان بچے سے جوان اور جوان سے بوڑھا ہوا اس کے
متعلق یہ کیسے مان لیں کہ یکایک ایک روز خدا
نے اُسے اپنا سفیر مقرر کر دیا۔ لیکن یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے جس سے آج
دنیا میں پہلی مرتبہ انہی کو سابقہ پیش آیا ہو۔ اس سے پہلے بھی خدا اپنے نبی بھیج چکا ہے اور وہ سب بھی انسان ہی تھے ۔ پھر یہ
بھی کبھی نہیں ہوا کہ اچانک ایک اجنبی شخص
کسی شہر میں نمودار ہوگیا ہو اور اس نے
کہا ہو کہ میں پیغمبر بنا کر بھیجا گیا
ہوں۔ بلکہ جو لوگ بھی انسانوں کی اصلاح کے لیے اُٹھائے گئے وہ سب ان کی اپنی ہی
بستیوں کے رہنے والے تھے۔ مسیح ، موسیٰ ، ابراہیم، نوح علیہم السلام ، آخر کون
تھے؟ اب تم خود ہی دیکھ لو کہ جن قوموں نے ان لوگوں کی دعوتِ اصلاح کو قبول نہ کیا
اور اپنے بے بنیاد تخیلات اور بے لگام خواہشات کے پیچھے چلتی رہیں ان کا انجام کیا
ہوا۔ تم خود اپنے تجارتی سفروں میں عاد، ثمود ، مدین اور قوم لوط وغیرہ کے تباہ شدہ علاقوں سے گزرتے رہے ہو۔ کیا وہاں
کوئی سبق تمہیں نہیں ملا؟ یہ انجام جو
انہوں نے دنیا میں دیکھا، یہی تو خبر دے رہا ہے کہ عاقبت میں وہ اس سے بد تر
انجام دیکھیں گے۔ اور یہ کہ جن لوگوں نے دنیا میں
اپنی اصلاح کر لی وہ صرف دنیا ہی میں اچھے نہ رہے، آخرت میں ان کا انجام اس
سے بھی زیادہ بہتر ہو گا“۔
Comments
Post a Comment