اللہ کے ہاں کسی مستحق کا اجر مارا نہیں جاتا

 فہرست موضوعات-تفہیم القرآن- جلد اول-  اجر

اجر کے مستحق

تفہیم القرآن جلد اول صفحہ 103،  210

بَلٰى ١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَؒ۰۰۱۱۲ سورہ بقرہ آیت 112

۔  حق یہ ہے کہ جو اپنی ہستی کو اللہ کی اطاعت میں سونپ دے اور عملاً   نیک روش پر چلے ، اس کے لیے اس کے رب کے پاس اس کا اجر ہے اور ایسے لوگوں کےلیے کسی خوف یا رنج کا کوئی موقع نہیں ۔  سورہ بقرہ آیت 112

اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَؔ۰۰۲۷۴ سورہ بقرہ آیت 274

جو لوگ اپنے مال شب وروز کھُلے اور چھُپے خرچ کرتے ہیں ان کا اجر ان کے ربّ کے پاس ہے اور اُن کےلیے کسی خوف اور رنج کا مقام نہیں۔

کیسے لوگ اجر کے مستحق ہیں۔

اللہ کے ہاں کسی مستحق کا اجر مارا نہیں جاتا تفہیم القرآن جلد دوم صفحات،  94،  250،  372،  413،  428

سورہ اعراف آیت 170

وَ الَّذِيْنَ يُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِيْنَ۰۰۱۷۰ سورہ اعراف آیت 170

جو لوگ کتاب کی پابندی کرتے ہیں اور جنہوں نے نماز قائم رکھی ہے، یقیناً ایسے نیک کردار لوگو ں کا اجر ہم ضائع نہیں کریں گے۔ سورہ اعراف آیت 170

سورہ توبہ آیت  120

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِيْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا يَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا يُصِيْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ لَا يَطَـُٔوْنَ مَوْطِئًا يَّغِيْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا يَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَۙ۰۰۱۲۰ سورہ توبہ آیت 120

مدینے کے باشندوں اور  گردونواح کے بدویوں کو یہ ہر گز زیبا نہ تھا کہ اللہ کے رسُول ؐ       کو چھوڑ کو گھر بیٹھے رہتے اور اس کی طرف سے بے پروا ہو کر اپنے اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے۔ اس لیے کہ ایسا کبھی نہ ہوگا کہ اللہ کی راہ میں بھوک پیاس اور جسمانی مشقت کی کوئی تکلیف وہ جھیلیں، اور منکرینِ حق کو جو راہ ناگوار ہے پر کوئی قدم وہ اُٹھائیں، اور کسی دُشمن سے (عداوتِ حق کا)کوئی انتقام وہ لیں اور اس کے بدلے ان کے حق میں ایک عملِ صالح نہ لکھا جائے۔ یقیناً اللہ کے ہاں محسنوں کا حق الخدمت مارا نہیں جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی کبھی نہ ہو گا کہ (راہِ خدا میں)تھوڑا یا بہت کوئی خرچ وہ اُٹھائیں اور ( سعی ِجہاد میں)کوئی وادی وہ پار کریں اور ان کے حق میں اسے لکھ نہ لیا جائے تا کہ اللہ ان کے اس اچھے کارنامے کا صلہ انہیں عطا کرے۔ سورہ توبہ آیت 120

سورہ ھود آیت 115

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۱۱۵ سورہ ھود آیت 115

اور صبر کر، اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔ سورہ ھود آیت 115

سورہ یوسف آیت 56

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ١ۚ يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ١ؕ نُصِيْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۵۶ سورہ یوسف آیت 56

اِس طرح ہم نے اُس سرزمین میں یُوسُف ؑ کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کی۔ وہ مُختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے۔ ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں، نیک لوگوں کا اجر ہمارے ہاں مارا نہیں جاتا۔ سورہ یوسف آیت 56

سورہ یوسف آیت 90

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ يُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا يُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِيْ١ٞ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ يَّتَّقِ وَ يَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۹۰ سورہ یوسف آیت 90

  کیا تم یُوسُف  ؑ ہو؟ “ اُس نے کہا”ہاں، میں یوسُف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر احسان فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقوٰی اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجر مارا نہیں جاتا۔ سورہ یوسف آیت 90

اللہ نیکی کا اجر آدمی کے عمل سے زیادہ دیتا ہے۔  تفہیم القران جلد دوم صفحہ 280

سورہ یونس آیت 26

لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِيَادَةٌ١ؕ وَ لَا يَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۲۶ سورہ یونس آیت 26

جن لوگوں نے بھلائی کا طریقہ اختیار کیا اُن کے لیے بھلائی ہے اور مزید فضل۔ ان کے چہروں پر رُو سیاہی اور ذلّت نہ چھائے گی ۔ وہ جنّت کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔سورہ یونس آیت 26

اور مزید فضل

سورة یونس حاشیہ نمبر۳۳

یعنی ان کو صرف ان کی نیکی کے مطابق ہی اجر نہیں ملے گا بلکہ اللہ اپنے فضل سے ان کو مزید انعام بھی بخشے گا۔

نیکی کی جزا دینے میں اللہ کا قانون برائی کی سزا سے مختلف ہے۔ صفحات 250،  280،  570

سورہ توبہ آیت  120

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِيْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا يَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا يُصِيْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ لَا يَطَـُٔوْنَ مَوْطِئًا يَّغِيْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا يَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَۙ۰۰۱۲۰ سورہ توبہ آیت 120

مدینے کے باشندوں اور  گردونواح کے بدویوں کو یہ ہر گز زیبا نہ تھا کہ اللہ کے رسُول ؐ       کو چھوڑ کو گھر بیٹھے رہتے اور اس کی طرف سے بے پروا ہو کر اپنے اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے۔ اس لیے کہ ایسا کبھی نہ ہوگا کہ اللہ کی راہ میں بھوک پیاس اور جسمانی مشقت کی کوئی تکلیف وہ جھیلیں، اور منکرینِ حق کو جو راہ ناگوار ہے پر کوئی قدم وہ اُٹھائیں، اور کسی دُشمن سے (عداوتِ حق کا)کوئی انتقام وہ لیں اور اس کے بدلے ان کے حق میں ایک عملِ صالح نہ لکھا جائے۔ یقیناً اللہ کے ہاں محسنوں کا حق الخدمت مارا نہیں جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی کبھی نہ ہو گا کہ (راہِ خدا میں)تھوڑا یا بہت کوئی خرچ وہ اُٹھائیں اور ( سعی ِجہاد میں)کوئی وادی وہ پار کریں اور ان کے حق میں اسے لکھ نہ لیا جائے تا کہ اللہ ان کے اس اچھے کارنامے کا صلہ انہیں عطا کرے۔ سورہ توبہ آیت 120

سورہ یونس آیت 26

لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِيَادَةٌ١ؕ وَ لَا يَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۲۶ سورہ یونس آیت 26

جن لوگوں نے بھلائی کا طریقہ اختیار کیا اُن کے لیے بھلائی ہے اور مزید فضل۔ ان کے چہروں پر رُو سیاہی اور ذلّت نہ چھائے گی ۔ وہ جنّت کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔سورہ یونس آیت 26

سورہ نحل آیت 96،  97

مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِيَنَّ الَّذِيْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۹۶مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۹۷ سورہ نحل آیت 96،  97

جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہو جانے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے، اور ہم ضرور صبر سے  کام لینے والوں کو اُن کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے۔ جو شخص بھی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، اُسے ہم دُنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں )ایسے لوگوں کو اُن کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔

ہم ضرور صبر سے  کام لینے والوں کو اُن کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے

 

سورة النحل حاشیہ نمبر۹۸

”صبر سے کام لینے والوں کو“، یعنی ان لوگوں کو جو رہ طمع اور خواہش اور جذبۂ نفسانی کے مقابلہ میں حق اور راستی پر قائم رہیں، ہر اُس نقصان کو برداشت کر لیں جو اِس دنیا میں راستباز ی اختیار کرنے سے پہنچتا ہو، ہر اُس فائدے کو ٹھکرا دیں جو دنیا میں ناجائز طریقے اختیار کرنے سے حاصل ہو سکتا ہو، اور حسنِ عمل کے مفید نتائج کے لیے اُس وقت تک انتظار کر نے کے لیے تیار ہوں جو موجودہ  دنیوی زندگی ختم ہو جانے کے بعد دوسری دنیا میں آنے والا ہے۔

پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے۔

 

سورة النحل حاشیہ نمبر۹۹

اس آیت میں مسلم اور کافر دونوں ہی گروہوں کے اُن تمام کم نظر اور بے صبر لوگوں کی غلط فہمی دور کی گئی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ سچائی اور دیانت  اور پرہیز گاری کی روش اختیار کر نے سے آدمی کی آخرت چاہے بن جاتی ہو مگر اس کی دنیا ضرور بگڑ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے کہ تمہارا یہ خیال غلط ہے۔ اِ س صحیح رویہ سے محض آخرت ہی نہیں بنتی، دنیا بھی بنتی ہے۔ جو لوگ حقیقت میں ایماندار اور پاکباز اور معاملہ کےکھرے ہوتے ہیں ان کی دنیوی زندگی بھی بے ایمان اور بد عمل لوگوں کے مقابلہ میں صریحًا بہتر رہتی ہے ۔ جو ساکھ اور سچی عزت اپنی بے داغ سیرت کی وجہ سے انہیں نصیب ہوتی ہے و ہ دوسروں کو نصیب نہیں  ہوتی۔ جو ستھری اور پاکیزہ کامیابیاں انہیں حاصل ہوتی ہیں وہ ان لوگوں کو میسر نہیں آتیں جن کی ہر کامیابی گندے اور گھناؤنے طریقوں کا نتیجہ  ہوتی ہے۔ وہ بوریا نشین ہو کر بھی قلب کے جس اطمینان  اور ضمیر  کی جس ٹھنڈک سے بہرہ مند ہوتے ہیں اس کا کوئی ادنیٰ سا حصّہ بھی محلوں میں رہنے والے فساق و فجار نہیں  پا سکتے۔

 

ایسے لوگوں کو اُن کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔

سورة النحل حاشیہ نمبر١۰۰

یعنی آخرت میں ان کا مرتبہ اُن  کے بہتر  سے بہتر اعمال کے لحاظ سے مقرر ہو گا۔ بالفاظ دیگر جس شخص نے دنیا میں چھوٹی  اور بڑی، ہر طرح کی نیکیاں کی ہوں گی اُسے وہ  اونچا مرتبہ دیا جائے گا جس کا وہ اپنی بڑی سے بڑی نیکی کے لحاظ سے مستحق ہو گا۔

اللہ کے پاس اجر عظیم ہے ۔ صفحہ 140

سورہ انفال آیت  28

ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِيْمٌؒ۰۰۲۸ سورہ انفال آیت  28

اور اللہ کےپاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔ سورہ انفال آیت 28

اللہ کے پاس اجر عظیم ہے ۔ صفحہ،  184

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۰۰۲۲ سورہ توبہ آیت 26

یقیناً اللہ کے پاس خدمات کا صلہ دینے کو بہت کچھ ہے۔ سورہ توبہ آیت 26

اجر کبیر کیسے لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم القران جلد دوم صفحہ 602

سورہ بنی اسرائیل آیت 9

وَ يُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِيْرًاۙ۰۰۹ سورہ بنی اسرائیل آیت 9

جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے۔ سورہ بنی اسرائیل آیت 9

اصل اہمیت اجر آخرت کی ہے۔ تفہیم القران جلد دوم صفحہ 414

سورہ یوسف آیت 57

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا يَتَّقُوْنَؒ۰۰۵۷ سورہ یوسف آیت 57

اور آخرت کا اجر اُن لوگوں کے لیے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لائے اور خدا ترسی کے ساتھ کام کرتے رہے۔ سورہ یوسف آیت 57

سورة یوسف حاشیہ نمبر۴۹

یہ تنبیہ ہے  اس امر پر کہ  کوئی شخص دنیوی حکومت و اقتدار  کو نیکی و نکو کاری کا اصلی اجر اور حقیقی اجر مطلوب نہ سمجھ بیٹھے بلکہ خبر دار رہے کہ بہترین اجر ، اور وہ اجر جو مومن کو مطلوب ہونا چاہیے، وہ ہے جو اللہ تعالیٰ آخرت میں عطا فرمائے گا۔

اللہ کے ہاں کسی مستحق کا اجر مارا نہیں جاتا،  تفہیم القران جلد سوم،    صفحہ 24

سورہ کہف آیت 30

اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ۰۰۳۰ سورہ کہف آیت 30

 یقیناً ہم نیکو کار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے۔سورہ کہف آیت 30

اللہ کی خوشنودی پیش نظر رکھ کر اس کے قانون کے حدود میں جو کام بھی کیا جائے موجب اجر ہے۔ تفہیم القران جلد سوم صفحہ 62

سورہ مریم آیت 16، 17

وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مَرْيَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّاۙ۰۰۱۶فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا  سورہ مریم آیت 16، 17

اور اے محمدؐ ، اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو،  جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر شرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھی اور پردہ ڈال کر اُن سے چھُپ بیٹھی تھی۔ سورہ مریم، 16، 17

انبیائے سابقین کے ماننے والے اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیں تو دہرے اجر کے مستحق ہیں۔ 645،  649

سورہ قصص آیات 53، 54

وَ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ۰۰۵۳اُولٰٓىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا  سورہ قصص آیات 53، 54

جن لوگوں کو اِس سے پہلے ہم نے کتاب دی تھی وہ اِس (قرآن)پر ایمان لاتے ہیں۔ اور جب یہ اُن کو سُنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ”ہم اِس پر ایمان لائے، یہ واقعی حق ہے ہمارے ربّ کی طرف سے، ہم تو پہلے ہی سے مسلم ہیں۔“ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا اُس  ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی۔ سورہ قصص آیات 53،  54

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا

سورة القصص حاشیہ نمبر۷۴

یعنی ایک اجر اُس ایمان کا جو وہ پہلے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر رکھتے تھے اور دوسرا اجر اس ایمان کا جو وہ اب نبی عربی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر لائے۔ یہی بات اس حدیث میں بیان کی گئی ہے  جو بخاری و مسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  ثلٰثۃ لھم اجران، رجل من اھل الکتب اٰمن بنبیہ واٰمن بمحمدؐ۔۔۔۔”تین شخص ہیں جن کو دوہرا اجر ملے گا ۔ ان میں سے ایک وہ ہے جو اہل کتاب میں سے تھااور اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا، پھر محمد  صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا“۔

اجر عظیم کیسے لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم القرآن جلد چہارم، صفحہ 84،  94،  97

سورہ احزاب آیت 35

اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِيْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِيْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِيْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِيْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِيْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ۠ وَ الصَّآىِٕمِيْنَ۠ وَ الصّٰٓىِٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِيْمًا۰۰۳۵سورہ احزاب آیت 35

بالیقین  جو مرد اور جو عورتیں مسلم ہیں  ،  مومن ہیں  ،  مطیع فرمان ہیں  ،  راست باز ہیں  ،  صابر ہیں  ، اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں  صدقہ دینے والے ہیں  ، روزہ رکھنے والے ہیں  ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں  ،  اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں  ،  اور اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے۔ سورہ احزاب آیت 35

سورة الاحزاب حاشیہ نمبر٦۴

 اس آیت میں یہ بتا دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اصل قدر و قیمت کن اوصاف کی ہے۔ یہ اسلام کی بنیادی قدریں ( Basic values ) ہیں جنہیں ایک فقرے کے اندر سمیٹ دیا گیا ہے۔ ان قدروں کے لحاظ سے مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ عمل کے لحاظ سے تو بلاشبہ دونوں صنفوں کا دائرۂ کار الگ ہے۔ مردوں کو زندگی کے کچھ شعبوں میں کام کرنا ہے اور عورتوں کو کچھ اور شعبوں میں اگر یہ اوصاف دونوں میں یکساں موجود ہوں تو اللہ تعالیٰ کے ہاں دونوں کا مرتبہ یکساں اور دونوں کا اجر برابر ہو گا۔ اس لحاظ سے ان کے مرتبے اور اجر میں کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ ایک نے چولھا چکی سنبھالا اور دوسرے نے خلافت کی مسند پر بیٹھ کر احکام شریعت جاری کیے ، ایک نے گھر میں بچے پالے اور دوسرے نے میدانِ جنگ میں جا کر اللہ اور اس کے دین کے لیے جان لڑائی۔

دہرا اجر کیسے لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ 87،  88

سورہ احزاب آیت 31

وَ مَنْ يَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيْمًا۰۰۳۱ سورہ احزاب آیت 31

اور تم میں سے جو اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے گی اس کو ہم دوہرا اجر دیں گے اور ہم نے اس کے لیے رزقِ کریم مہیا کر رکھا ہے۔ سورہ احزاب آیت 31

دوہرا اجر دیں گے

سورة الاحزاب حاشیہ نمبر۴۵

 گناہ پر دوہرے عذاب اور نیکی پر دوہرے اجر کی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ انسانی معاشرے میں کسی بلند مرتبے پر سرفراز فرماتا ہے وہ بالعموم لوگوں کے رہنما بن جاتے ہیں اور بندگانِ خدا کی بڑی تعداد بھلائی اور بُرائی میں انہی کی پیروی کرتی ہے۔ اُن کی بُرائی تنہا انہی کی بُرائی نہیں ہوتی بلکہ ایک قوم کے بگاڑ کی موجب بھی ہوتی ہے اور ان کی بھلائی صرف انہی کی انفرادی بھلائی نہیں ہوتی بلکہ بہت سے انسانوں کی فلاح کا سبب بھی بنتی ہے۔ اس لیے جب وہ بُرے کام کرتے ہیں تو اپنے بگاڑ کے ساتھ دوسروں کے بگاڑ کی بھی سزا پاتے ہیں۔ اور جب وہ نیک کام کرتے ہیں تو انہیں اپنی نیکی کے ساتھ اس بات کی جزا بھی ملتی ہے کہ انہوں نے دوسروں کو بھلائی کی راہ دکھائی۔

      اس آیت سے یہ اصول بھی نکلتا ہے کہ جہاں جتنی زیادہ حرمت ہو گی اور جس قدر زیادہ امانت کی توقع ہو گی، وہاں اسی قدر زیادہ ہتک حرمت اور ارتکابِ خیانت کا جرم شدید ہو گا اور اسی قدر زیادہ اس کا عذاب ہو گا۔ مثلاًمسجد میں شراب پینا اپنے گھر میں شراب پینے سے شدید تر جرم ہے اور اس کی سزا زیادہ سخت ہے۔ محرّمات سے زنا کرنا غیر عورت سے زنا کی بہ نسبت اشدّ ہے اور اس پر زیادہ سخت عذاب ہو گا۔

اجر کریم کن لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ 104

سورہ احزاب آیات 41تا44

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِيْرًاۙ۰۰۴۱وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا۰۰۴۲هُوَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ وَ مَلٰٓىِٕكَتُهٗ لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا۰۰۴۳تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا۰۰۴۴ سورہ احزاب آیات 41تا44

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ کو کثرت سے یاد کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو  ۔ وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لے دُعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لائے ، وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے  جس روز وہ اس سے ملیں گے اُن کا استقبال سلام سے ہوگا  اور اُن کے لیے اللہ نے بڑا با عزت اجر فراہم کر رکھا ہے۔ سورہ احزاب آیات 41تا44

بے حساب اجر کن لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ 363، 364

سورہ زمر آیت 10

قُلْ يٰعِبَادِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ۰۰۱۰ سورہ زمر آیت 10

(اے نبیؐ )کہو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو ، اپنے ربّ سے ڈرو۔  جن لوگوں نے اِس دنیا میں نیک رویّہ اختیار کیا ہے ان کے لیے بھلائی ہے۔  اور خدا کی زمین وسیع ہے،  صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بے حسا ب دیا جائے گا۔ سورہ زمر آیت 10

نیکوکاروں کو اجر دینے کے متعلق اللہ تعالٰی کا قاعدہ  ۔ تفہیم القرآن جلد چہارم صفحات 372،373

سورہ زمر آیات 33تا35

وَ الَّذِيْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ۰۰۳۳لَهُمْ مَّا يَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِيْنَۚۖ۰۰۳۴لِيُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِيْ عَمِلُوْا وَ يَجْزِيَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِيْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۳۵ سورہ زمر آیات 33تا35

اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جنہوں نے اُس کو سچ مانا، وہی عذاب سے بچنے والے ہیں۔  انہیں اپنے ربّ کے ہاں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے۔  یہ ہے نیکی کرنے والوں کی جزا۔ تاکہ جو بدترین اعمال انہوں نے کیے تھے انہیں اللہ ان کے حساب سے ساقط کر دے اور جو بہترین اعمال وہ کرتے رہے  اُن کے لحاظ سے اُن کو اجر عطا فرمائے۔ سورہ زمر آیات 33تا35

سورة الزمر حاشیہ نمبر۵۴

 نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر جو لوگ ایمان لائے تھے ، زمانہ جاہلیت میں ان سے اعتقادی اور اخلاقی دونوں ہی طرح کے بد ترین گناہ سرزد ہو چکے تھے۔ اور ایمان لانے کے بعد انہوں نے صرف یہی ایک نیکی نہ کی تھی کہ اُس جھوٹ کو چھوڑ دیا جسے وہ پہلے مان رہے تھے اور وہ سچائی قبول کر لی جسے حضورؐ نے پیش فرمایا تھا، بلکہ مزید براں انہوں نے اخلاق، عبادات اور معاملات میں بہترین اعمال صالحہ انجام دیے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے وہ بدترین اعمال جو جاہلیت میں ان سے سرزد ہوئے تھے ان کے حساب سے محو کر دیے جائیں گے ، اور ان کو انعام ان اعمال کے لحاظ سے دیا جائے گا جو ان کے نامہ اعمال میں سب سے بہتر ہوں گے۔

نیکی کا اجر بے حساب  ملے گا بشرط یہ کہ آدمی مومن ہو۔ تفہیم القرآن جلد چہارم صفحہ 411

سورہ مومن آیت 40

مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُوْنَ فِيْهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ۰۰۴۰  سورہ مومن آیت 40

جو بُرائی کرے گا اُس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اُس نے برائی کی ہوگی۔ اور جو نیک عمل کرے گا ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، ایسے سب لوگ جنّت میں داخل ہوں گے جہاں اُن کو بے حساب رزق دیا جائے گا۔ سورہ مومن آیت 40

اللہ کے ہاں فرماں بردار بندوں کے اجر میں کبھی کم نہیں کی جاتی۔ تفہیم القرآن جلد پنجم صفحہ 101

سورہ حجرات آیت 14

وَ اِنْ تُطِيْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا يَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَيْـًٔا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰۱۴ سورہ حجرات آیت 14

اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری اختیار کر لو تو وہ تمہارے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہ کرے گا،یقیناً اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ سورہ حجرات آیت 14

اجر کبیر کن لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم القران جلد ششم صفحہ 46

سورہ ملک آیت 12

اِنَّ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِيْرٌ۰۰۱۲ سورہ ملک آیت 12

جو لوگ بے دیکھے اپنے ربّ سے ڈرتے ہیں،  یقیناً اُن کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر۔سورہ ملک آیت 12

سورة الملک حاشیہ نمبر۱۹

یعنی خدا سے بالغیب ڈرنے کے دو لازمی نتائج ہیں۔ ایک یہ کہ جو قصور بھی بشری کمزوریوں کی بنا پر آدمی سے سرزد ہو گئے ہوں وہ معاف کر دیے جائیں گے، بشرطیکہ ان کی تہ میں خدا سے بے خوفی کا ر فرما نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ جو نیک اعمال بھی انسان اِس عقیدے کے ساتھ انجام دے گا اُ س پر وہ بڑا اجر پائیگا۔

 

 

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں