آخرت میں کوئی شخص فدیہ دے کر نہ چھوٹ سکے گا۔ تفہیم القرآن جلد دوم- عنوان -آخرت

 آخرت میں کوئی شخص فدیہ دے کر نہ چھوٹ سکے گا۔ تفہیم القرآن جلد دوم- عنوان -آخرت ، صفحہ 291،  454

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِي الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۰۰۵۴

سورہ یونس آیت 54

اگر ہر اُس شخص کے پاس جس نے ظلم کیا ہے، رُوئے زمین کی دولت بھی ہو تو اُس عذاب سے بچنے کے لیے  وہ اُسے فدیہ میں دینے پر آمادہ ہو جائے گا۔ جب یہ لوگ اس عذاب کو دیکھ لیں گے تو  دل ہی دل میں پچھتائیں گے۔سورہ یونس آیت 54

سورة یونس حاشیہ نمبر۵۹

جس چیز کو عمر بھر جھٹلاتے رہے ، جسے جھوٹ سمجھ کر ساری زندگی غلط کاموں میں کھپا گئے اور جس کی خبر دینے والےپیغمبروں کو طرح طرح کے الزام دیتے رہے ، وہی چیز جب ان کی توقعات کے بالکل خلاف اچانک سامنے  آکھڑی ہوگی تو ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل جائے گی، ان کا ضمیر انہیں خود بتا دے گا کہ جب حقیقت  یہ تھی تو جو کچھ وہ دنیا میں کر کے آئے ہیں اُ س کا انجام اب کیا ہونا  ہے۔ خود  کردہ را علاجے نیست۔  زبانیں بند ہوں گی اور ندامت و حسرت سے دل اندر ہی اندر بیٹھے جا رہے ہوں گے ۔ جس شخص نے قیاس و گمان کے سودے پر اپنی ساری پونجی لگا دی ہو اور کسی خیر خواہ کی بات مان کر نہ دی ہو ، وہ دیوالہ نکلنے کے بعد خود اپنے سوا اور کس کی شکایت کر سکتا ہے۔

لِلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى ١ؔؕ وَ الَّذِيْنَ لَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُؒ۰۰۱۸ سورہ الرعد آیت 18

جن لوگوں نے اپنے ربّ کی دعوت قبول کر لی اُن کے لیے بھلائی ہے، اور جنہوں نے اسے قبول نہ کیا وہ اگر زمین کی ساری دولت کے بھی مالک ہوں اور اتنی ہی اور فراہم کر لیں تو وہ خُدا کی پکڑ سے بچنے کے لیے اس سب کو فدیہ میں دے ڈالنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔33 یہ وہ لوگ ہیں جن سے بُری طرح حساب لیا جائے گا 34 اور اُن کا ٹھکانا جہنّم ہے، بہت ہی بُرا ٹھکانہ۔  ؏ ۲ سورہ الرعد آیت 18

سورة الرعد حاشیہ نمبر۳۳

یعنی اُس وقت ان پر ایسی مصیبت پڑے گی کہ وہ اپنی جان چھڑانے کے لیے دنیا و مافیہا کی دولت دے ڈالنے میں بھی تامل نہ کریں گے۔

سورة الرعد حاشیہ نمبر۳۴

بُری حساب فہمی یا سخت حساب فہمی سے مطلب یہ ہے کہ آدمی کی کسی خطا اور کسی لغزش کو معاف نہ کیا جائے ، کوئی قصور جو اس نے کیا ہو مؤاخذے کے بغیر نہ چھوڑا جائے۔

قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کا محاسبہ اپنے اُن بندوں سے کرے گا  جو اُس کے باغی بن کر دنیا میں رہے ہیں۔ بخلاف اس کے جنہوں نے اپنے خدا سے وفاداری کی ہے اور اس کے مطیع فرمان بن کر رہے ہیں ان سے ”حسابِ یسیر“ یعنی ہلکا حساب لیا جائے گا، اُ ن کی خدمات کے مقابلے میں ان کی خطاؤں سے درگزر کیا جائے گا اور  اُن کے مجموعی طرزِ عمل کی بھلائی کو ملحوظ رکھ کر  اُن کی بہت سی کوتاہیوں سے صرفِ نظر کر لیا جائے گا۔ اس کی مزید توضیح اُس حدیث سے ہوتی ہے  جو حضرت عائشہ ؓ سے ابوداؤد میں مروی ہے ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!  میرے نزدیک کتاب اللہ سب سے زیادہ  خوفناک آیت وہ  ہے جس میں ارشاد ہو ا ہے کہ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓ ءً یُّجْزَ بِہٖ۔ ”جو شخص کوئی برائی کرے گا وہ اس کی سزا پائے گا“۔ اس پر حضور ؐ نے فرمایا، عائشہ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خدا کی مطیع فرمان بندے کو دنیا میں جو تکلیف بھی پہنچتی ہے ، حتیٰ کہ اگر کوئی کانٹا بھی اُس کو چبھتا ہے ، تو اللہ اُسے اُس کے کسی نہ کسی قصور کی سزا قرار دے کر دنیا  ہی میں اس کا حساب صاف کر دیتا ہے؟ آخرت میں  تو جس سے بھی محاسبہ ہو گا وہ سزا پا کر رہے گا۔ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا ، پھر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا  مطلب کیا ہے کہ فَاَمَّا مَنْ اُوْ تِیَ کِتَابَہٗ بِیَمِیْنِہٖ فَسَوْ فَ یُحَا سَبُ  حِسَابًا یَّسِیْرًا؟ ”جس کا نامۂ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ  میں دیا جائے گا اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا“۔ حضورؐ نے جواب دیا ،  ا س سے مراد ہے پیشی(یعنی اس کی بھلائیوں کے ساتھ اُس کی برائیاں بھی اللہ تعالیٰ  کے سامنے  ضرور پیش ہوں گی) مگر  جس سے باز پرس  ہوئی تو  وہ بس سمجھ لو کہ مارا گیا۔

اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص  اپنے وفادار اور فرمانبردار ملازم کو چھوٹی چھوٹی خطاؤں پر کبھی سخت گرفت نہیں کرتا بلکہ اس کے بڑے بڑے قصوروں کو بھی اس کی خدمات  کے پیشِ نظر معاف کر دیتا ہے ۔ لیکن اگر کسی ملازم کی غداری و خیانت ثابت ہو جائے تو اس کی کوئی خدمت قابل لحاظ نہیں رہتی اور اس کے چھوٹے بڑے سب قصور شمار میں آجاتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں