آخرت میں کس طرح انسان پر حجت قائم کی جائے گی
آخرت میں کس طرح انسان پر حجت قائم کی جائے گی؟ صفحہ 96،97،99،281،562 ، 564
تفہیم القرآن- جلد دوم- آخرت /صفحہ 97
سورہ الاعراف آیات 172تا174
وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْۤ اٰدَمَ مِنْ
ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ
بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى ١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ
الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَۙ۰۰۱۷۲اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا
ذُرِّيَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ۰۰۱۷۳وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ۰۰۱۷۴
اور اے نبی، لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی
آدم کی پُشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا
”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟“
انہوں نے کہا” ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں ، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں “۔ یہ ہم نے
اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ
کہہ دو کہ ”ہم اس بات سے بے خبر تھے“، یا یہ نہ کہنے لگو کہ ”شرک کی ابتدا تو
ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے کی تھی اور ہم بعد کو ان کی نسل سے پیدا ہوئے، پھر کیا
آپ ہمیں اُس قصُور میں پکڑتے ہیں جو غلط
کار لوگوں نے کیا تھا۔“ دیکھو، اِس طرح ہم نشانیاں واضح طور پر پیش کرتے ہیں۔ اور
اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ پلٹ آئیں۔سورہ الاعراف
آیات 172تا174
لوگوں کو یاد دلاؤ
سورة الاعراف حاشیہ نمبر١۳۳
اوپر
کا سلسلہ بیان اس بات پر ختم ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بندگی و
اطاعت کا عہد لیا تھا ۔ اب عام انسانوں کی طرف خطاب کر کے انہیں بتایا جا رہا ہے
کہ بنی اسرائیل ہی کی کوئی خصوصیت نہیں ہے
، درحقیقت تم سب اپنے خالق کے ساتھ ایک میثاق میں بند ھے ہوئے ہو اور تمہیں ایک
روز جواب دہی کرنی ہے کہ تم نے اس میثاق کی کہاں تک پابندی کی ۔
ہم اس پر گواہی دیتے ہیں
سورة الاعراف حاشیہ نمبر١۳۴
جیسا
کہ متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ
معاملہ تخلیق آدم کےموقع پر پیش آیا تھا ۔
اس وقت جس طرح فرشتوں کو جمع کر کے انسان اول کو سجدہ کرایا گیا تھا اور زمین پر
انسان کی خلافت کا اعلان کیا گیا تھا، اُسی طرح پوری نسلِ آدم کو بھی، جو قیامت تک
پیدا ہونے والی تھی، اللہ تعالیٰ نے بیک وقت وجود اور شعور بخش کر اپنے سامنے حاضر
کیا تھا اور ان سے اپنی ربوبیت کی شہادت لی تھی۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت اُبَیّ بن کَعب نے غالباً نبی صلی اللہ علیہ
وسلم سے استفادہ کر کے جو کچھ بیان کیا ہے وہ اس مضمون کی بہترین شرح ہے ۔ وہ
فرماتے ہیں:۔
” اللہ تعالیٰ نے
سب کو جمع کیا اور (ایک ایک قسم یا ایک ایک دور کے) لوگوں کو الگ الگ گروہوں کی
شکل میں مرتب کر کے انہیں انسانی صورت اور گویائی کی طاقت عطا کی، پھر ان سے عہد و
میثاق لیا اور انہیں آپ اپنے اوپر گواہ بناتے ہوئے پو چھا کیا میں تمہارا رب نہیں
ہوں؟ انہوں نے عرض کیا ضرور آپ ہمارے رب ہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تم پر زمین و آسمان سب کو اور خود تمہارے باپ آدم کو گواہ
ٹھیراتا ہوں تا کہ تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ سکو کہ ہم کو اس کا علم نہ تھا۔ خوب
جان لو کہ میرے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں ہے اور میرے سوا کوئی رب نہیں ہے۔ تم میرے
ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرانا۔ میں تمہارے پاس اپنے پیغمبر بھیجوں گا جو تم کو یہ
عہد و میثاق جو تم میرے ساتھ باندھ رہے ہو، یاد دلائیں گے اور تم پر اپنی کتابیں
بھی نازل کروں گا ۔ اس پر سب انسانوں نے
کہا کہ ہم گواہ ہوئے، آپ ہی ہمارے رب اور آپ ہی ہمارے معبود ہیں، آپ کے سوا نہ کوئی ہمارا رب ہے نہ کوئی
معبود“۔
اس معاملہ کو بعض لو گ
محض تمثیلی انداز ِ بیان پر محمُول کرتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ دراصل یہاں
قرآن مجید صرف یہ بات ذہن نشین کرنا چاہتا ہے کہ اللہ کی ربوبیت کا اقرار انسانی
فطرت میں پیوست ہے، اور اس بات کو یہاں ایسے انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ گویا یہ
ایک واقعہ تھا جو عالمِ خارجی میں پیش آیا ۔ لیکن ہم اس تاویل کو صحیح نہیں سمجھتے ۔ قرآن اور حدیث دونوں میں اسے بالکل ایک
واقعہ کے طور پر بیان گیا گیا ہے اور صرف
بیانِ واقعہ پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کے روز
بنی آدم پر حجت قائم کرتے ہوئے اس ازلی
عہد و اقرار کو سند میں پیش کیا جائے گا۔
لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ ہم اُسے محض ایک تمثیلی بیان قرار دیں۔ہمارے نزدیک یہ
واقعہ بالکل اسی طرح پیش آیا تھا جس طرح عالمِ خارجی میں واقعات پیش آیا کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فی الواقع اُن تمام انسانوں کو جنہیں وہ قیامت تک پیدا کرنے کا
ارادہ رکھتا تھا، بیک وقت زندگی اور شعور اور گویائی عطا کر کے اپنے سامنے حاضر کیا
تھا، اور فی الواقع انہیں اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ کر دیا تھا کہ ان کا کوئی رب
اور کوئی الٰہ اُس کی ذاتِ اقدس و اعلیٰ کے سوا نہیں ہے، اور ان کے لیے کوئی صحیح
طریق زندگی اُس کی بندگی و فرماں برداری
(اسلام) کے سوا نہیں ہے۔ اس اجتماع کو اگر کوئی شخص بعید از امکان سمجھتا ہے تو یہ
محض اس کے دائرہ فکر کی تنگی کا نتیجہ ہے، ورنہ حقیقت میں تو نسلِ انسانی کی
موجودہ تدریجی پیدائش جتنی قریب ازامکان ہے ، اتنا ہی ازل میں ان کا مجموعی ظہور،
ابد میں ان کا مجموعی حشر و نشر بھی قریب
از امکان ہے۔ پھر یہ بات نہایت معقول
معلوم ہوتی ہے کہ انسان جیسی صاحبِ عقل و شعور اور صاحب ِ تصرف و اختیارات مخلوق
کو زمین پر بحیثیت خلیفہ مامور کرتے وقت اللہ تعالیٰ اسے حقیقت سے آگاہی بخشے اور
اس سے اپنی وفاداری کا اقرار (Oath of
allegiance ) لے۔ اس معاملہ کا پیش
آنا قابلِ تعجب نہیں ، البتہ اگر یہ پیش نہ آتا تو ضرور قابلِ تعجب ہوتا ۔
غلط کار لوگوں نے کیا تھا
سورة الاعراف حاشیہ نمبر ۱۳۵
اس آیت میں وہ غرض بیان کی گئی ہے جس کے لیے ازل میں پوری نسلِ آدم سے اقرار لیا
گیا تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ انسانوں میں سے جو لوگ اپنے خدا سے بغاوت اختیار کریں وہ
اپنے اِس جرم کے پوری طرح ذمہ دار قرار پائیں ۔ اُنہیں اپنی صفائی میں نہ تو لاعلمی
کا عذر پیش کرنے کا موقع ملے اور نہ وہ سابق نسلوں پر اپنی گمراہی کی ذمہ داری ڈال
کر خود بری الذمہ ہو سکیں گویا بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ اس ازلی عہد و میثاق کو اس
بات پر دلیل قرار دیتا ہے کہ نوعِ انسانی میں سے ہر شخص انفرادی طور پر اللہ کے الٰہِ واحد اور ربِّ واحد ہونے کی شہادت
اپنے اندر لیے ہوئے ہے اور اس بنا پر یہ کہنا غلط ہے کہ کوئی شخص کامل بے خبری کے
سبب سے، یا ایک گمراہ ماحول میں پر ورش پانے کے سبب سے اپنی گمراہی کی ذمہ داری سے
بالکلیہ بری ہو سکتا ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ ازلی میثاق فی الواقع عمل میں
آیا بھی تھا تو کیا اس کی یاد ہمارے شعور
اور حافظہ میں محفوظ ہے؟ کیا ہم میں سے کوئی شخص بھی یہ جانتا ہے کہ آغازِ آفرنیش
میں وہ اپنے خدا کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور اس سے اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ کا سوال
ہوا تھا اور اس نے بلیٰ کہا تھا؟ اگر نہیں
تو پھر اُس اقرار کو جس کی یاد ہمارے شعور و حافظہ سے محو ہو چکی ہے ہمارے خلاف
حجت کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اُس میثاق کا نقش انسان کے شعور
اور حافظہ میں تازہ رہنے دیا جاتا تو انسان کا دنیا کی موجودہ امتحان گاہ میں بھیجا
جانا سرے سے فضول ہو جاتا کیونکہ اس کے بعد تو اس آزمائش و امتحان کے کوئی معنی ہی
باقی نہ رہ جاتے۔ لہٰذا اس نقش کو شعور و حافظہ میں تو تازہ نہیں رکھا گیا، لیکن
وہ تحت الشعور(Sub-conscious
mind ) اور وِجدان(Intuition ) میں یقیناً محفوظ ہے۔ اس کا حال وہی ہے جو ہمارے تمام دوسرے
تحت الشعوری اور وِجدانی علوم کا حال ہے۔
تہذیب و تمدّن اور اخلاق و معلاملات کے تمام شعبوں میں انسان سے آج تک جو کچھ بھی
ظہور میں آیا ہے وہ سب درحقیقت انسان کے اندر بالقُوَّة(Potentially ) موجود تھا۔ خارجی محرکات اور داخلی تحریکات نے مل جل کر اگر
کچھ کیا ہے تو صرف اتنا کہ جو کچھ
بالقُوَّة تھا اُسے بالفعل کر دیا ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی تعلیم، کوئی تربیت ،
کوئی ماحولی تا ثیر اور کوئی داخلی تحریک
انسان کے اندر کوئی چیز بھی، جو اُس کے
اندر بالقُوَّة موجود نہ ہو، ہر گز پیدا نہیں
کر سکتی۔ اور اسی طرح یہ سب مؤثّرات اگر اپنا تمام زور بھی صرف کردیں تو ان
میں یہ طاقت نہیں ہے کہ اُن چیزوں میں سے ، جو انسان کے اندر بالقُوَّة موجود ہیں،
کسی چیز کو قطعی محو کر دیں۔ زیادہ سے زیادہ جو کچھ وہ کر سکتے ہیں وہ صرف یہ ہے
کہ اسے اصل فطرت سے منحرف(Pervert ) کر
دیں ۔ لیکن وہ چیز تمام تحریفات و تمسیخات کے باوجود اندر موجود رہے گی، ظہور میں
آنے کے لیے زور لگاتی رہے گی، اور خارجی اپیل کا جواب دینے کے لیے مستعد رہے گی۔ یہ
معاملہ جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا، ہمارے تمام تحت الشعوری اور وِجدانی علوم کے
ساتھ عام ہے:
وہ سب ہمارے اندر بالقُوَّة موجود ہیں، اور ان کے موجود
ہونے کا یقینی ثبوت اُن چیزوں سے ہمیں ملتا ہےجو بالفعل ہم سے ظاہر ہوتی ہیں۔
ان سب کے ظہو رمیں آنے کے لیے خارجی تذکیر (یاد دہانی)، تعلیم،
تربیت اور تشکیل کی ضرورت ہوتی ہے ، اور جو کچھ ہم سے ظاہر ہوتا ہے وہ گویا درحقیقت
خارجی اپیل کا وہ جواب ہے جو ہمارے اندر کی بالقُوَّة موجودات کی طرف سے ملتا ہے۔
ان سب کو اندر کی غلط خواہشات اور باہر کی غلط تا ثیرات دبا
کر، پردہ ڈال کر ، منحرف اور مسخ کر کے کالعدم کر سکتی ہیں مگر بالکل معدوم نہیں
کر سکتیں، اور اسی لیے اندرونی احساس اور بیرونی سعی دونوں سے اصلاح اور تبدیلی(Conversion ) ممکن
ہوتی ہے۔
ٹھیک ٹھیک یہی کیفیت اُس وجدانی علم کی بھی ہے جو ہمیں
کائنات میں اپنی حقیقی حیثیت، اور خالقِ کائنات کے ساتھ اپنے تعلق کے بارے میں
حاصل ہے:
اس کے موجود ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ وہ انسانی زندگی کے ہر
دور میں، زمین کے ہر خطہ میں، ہر بستی، ہر پشت اور ہر نسل میں اُبھرتا رہا ہے اور کبھی دنیا کی کوئی طاقت اسے محو کر
دینے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
اس کے مطابقِ حقیقت ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ جب کبھی وہ اُبھر
کر بالفعل ہماری زندگی میں کار فرما ہوا ہے اس نے صالح اور مفید نتائج ہی پیدا کیے
ہیں۔
اس کو اُبھر نے اور ظہور میں آنے اور عملی صورت اختیار کرنے
کے لیے ایک خارجی اپیل کی ہمیشہ ضروت رہی ہے ، چنانچہ انبیاء علیہم السلام اور
کتبِ آسمانی اور ان کی پیروی کرنے والے
داعیانِ حق سب کے سب یہی خدمت انجام دیتے رہے ہیں۔ اسی لیے اُن کو قرآن میں
مذکِّر(یاد دلانے والے)ذِکر (یاد)تذکرہ(یادداشت) اور ان کے کام کوتذکیر(یاد دہانی)کے الفاظ سے تعبیر
گیا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ انبیاء اور کتابیں اور داعیانِ حق انسان کے اندر
کوئی نئی چیز پیدا نہیں کرتے بلکہ اُسی چیز کو اُبھارتے اور تازہ کرتے ہیں جو ان
کے اندر پہلے سے موجود تھی۔
نفسِ انسانی کی طرف سے ہر زمانہ میں اِس تذکیر کا جواب
بصورتِ لبیک ملنا اس بات کا مزید ایک ثبوت ہے کہ اندر فی الواقع کوئی علم چھپا ہوا
تھا جو اپنے پکارنے والے کی آواز پہچان کر جواب دینے کے لیے اُبھر آیا۔
پھر اسے جہالت اور جاہلیت اور خواہشات نفس اور تعصبات اور شیا
طینِ جن و انس کی گمراہ کن تعلیمات و ترغیبات نے ہمیشہ دبانے اور چھپانے اور منحرف
اور مسخ کرنے کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں شرک، دہریت، الحاد ، زندقہ اور اخلاقی
و عملی فساد رونما ہوتا رہا ہے۔ لیکن ضلالت کی ان ساری طاقتوں کے متحدہ عمل کے
باوجود اس علم کا پیدائشی نقش انسان کی لوح دل پر کسی نہ کسی حد تک موجود رہا ہے
اور اسی لیے تذکیر و تجدید کی کوششیں اُسے اُبھارنے میں کامیاب ہوتی رہی ہیں۔
بلاشبہ دنیا کی موجودہ زندگی میں جو لوگ حق اور حقیقت کے انکار پر مصر ہیں وہ اپنی حُجَّت بازیوں سے اس پیدائشی نقش کے
وجود کا انکار کر سکتے ہیں یا کم از کم اسے مشتبہ ثابت کر سکتے ہیں۔ لیکن جس روز یوم
الحساب برپا ہو گا اس روز ان کا خالق ان کے شعور وحافظہ میں روزِ ازل کے اُس
اجتماع کی یاد تازہ کر دے گا جبکہ انہوں نے اس کو اپنا واحد معبود اور واحد رب تسلیم
کیا تھا۔ پھر وہ اس بات کا ثبوت بھی ان کے اپنے نفس ہی سے فراہم کر دے گا
کہ اس میثاق کا نقش ان کے نفس میں برابر موجود رہا اور یہ بھی وہ ان کی اپنی زندگی ہی کے ریکارڈ سے علیٰ رؤس
الا شہاد دکھادے گا کہ انہوں نے کس کس طرح اس نقش کو دبایا، کب کب اور کن کن مواقع
پر ان کے قلب سے تصدیق کی آوازیں اُٹھیں، اپنی اور اپنے گردوپیش کی گمراہیوں پر ان
کے وِجدان نے کہاں کہاں اور کس کس وقت صدائے انکار بلند کی، داعیانِ حق کی دعوت کا
جواب دینے کے لیے ان کے اندر کا چھپا ہوا علم کتنی کتنی مرتبہ اور کس کس جگہ
اُبھرنے پر آمادہ ہوا، اور پھر وہ اپنے تعصبات اور اپنی خواہشات نفس کی بنا پر کیسے
کیسے حیلوں اور بہانوں سے اس کو فریب دیتے اور خاموش کر دیتے رہے۔ وہ وقت جبکہ یہ
سارے راز فاش ہوں گے، حجت بازیوں کا نہ ہوگا بلکہ صاف صاف اقرار جرم کا ہوگا۔ اسی
لیے قرآن مجید کہتا ہے کہ اس وقت مجرمین یہ نہیں کہیں گے کہ ہم جاہل تھے یا غافل
تھے، بلکہ یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ ہم کافر تھے۔ یعنی ہم نے جان بوجھ کر حق کا
انکار کیا۔ وَ شَھِدُوْا عَلٓیٰ
اَنْفُسِہِمْ اَنَّھُمْ کَانُوْ ا کَا فِرِیْنَ (الاَنعام، ۱۳۰)۔
دیکھو، اِس طرح ہم نشانیاں واضح طور پر پیش کرتے ہیں
سورة الاعراف حاشیہ نمبر١۳٦
یعنی
معرفتِ حق کے جو نشانات انسان کے اپنے نفس میں موجود ہیں ان کا صاف صاف پتہ دیتے ہیں۔
یہ لوگ پلٹ آئیں
سورة الاعراف حاشیہ نمبر137
یعنی بغاوت و انحراف کی روش چھوڑ کر بندگی و اطاعت کے رویّے
کی طرف واپس ہوں۔
وَ يَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ
لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَيَّلْنَا
بَيْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِيَّانَا تَعْبُدُوْنَ۰۰۲۸فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ
عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِيْنَ۰۰۲۹هُنَالِكَ
تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ
الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَؒ۰۰۳۰
سورہ یونس آیت 28،29،30
جس روز ہم ان سب کو ایک ساتھ (اپنی عدالت میں)اکٹھا کریں
گے، پھر ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ہے کہیں گے کہ ٹھہر جاوٴ تم بھی اور تمہارے
بنائے ہوئے شریک بھی ، پھر ہم ان کے درمیان سے اجنبیت کا پردہ ہٹا دیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ ”
تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے
کہ ( تم اگر ہماری عبادت کرتے بھی تھے تو )ہم تمہاری اس عبادت سے بالکل بے خبر
تھے۔“ اُس وقت ہر شخص اپنے کیے کا مزا چکھ
لے گا، سب اپنے حقیقی مالک کی طرف پھیر دیے جائیں گے اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے
گھڑ رکھے تھے گُم ہو جائیں گے۔ سورہ یونس
آیات 28،29،30
اجنبیت کا پردہ ہٹا
دیں گے
سورة یونس حاشیہ نمبر۳٦
متن میں فَزَیَّلْنَا بَیْنَھُمْ کے الفاظ ہیں۔ اس کا مفہوم
بعض مفسرین نے یہ لیا ہے کہ ہم ان کا باہمی ربط و تعلق توڑ دیں گے تا کہ کسی تعلق کی بنا پر وہ ایک دوسرے
کا لحاظ نہ کریں۔ لیکن یہ معنی عربی محاورے کے مطابق نہیں ہیں۔ محاورۂ عرب کی رو
سے اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے درمیان
تمیز پیدا کردیں گے ، یا ان کو ایک دوسرے سے ممیز کر دیں گے۔ اسی معنی کو ادا کرنے
کے لیے ہم نے یہ طرزِ بیان اختیار کیا ہے کہ”ان کے درمیان سے اجنبیت کا پردہ ہٹا دیں
گے“ یعنی مشرکین اور ان کے معبود آمنے سامنے کھڑے ہوں گے اور دونوں گروہوں کی امتیازی
حیثیت ایک دوسرے پر واضح ہو گی، مشرکین جان لیں گے کہ یہ ہیں وہ جن کو ہم دنیا میں
معبود بنائے ہوئے تھے، اور ان کے معبود جان لیں گے کہ یہ ہیں وہ جنہوں نے ہمیں
اپنا معبود بنا رکھا تھا۔
ہم تمہاری اس عبادت سے بالکل بے خبر تھے
سورة یونس حاشیہ نمبر۳۷
یعنی وہ تمام فرشتے جن کو دنیا میں دیوی اور دیوتا قرار دے
کر پوجا گیا ، اور وہ تمام جِنّ، ارواح، اسلاف، اجداد، انبیاء، اولیاء، شہداء وغیرہ
جن کو خدائی صفات میں شریک ٹھیرا کر وہ حقوق انہیں ادا کیے گئے جو دراصل خدا کے
حقو ق تھے ، وہاں اپنے پرستاروں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہمیں تو خبر تک نہ تھی کہ تم
ہماری عبادت بجا لا رہے ہو۔ تمہاری کوئی دعا ، کوئی التجا، کوئی پکار اور فریاد،
کوئی نذر و نیاز، کوئی چڑہاوے کی چیز، کوئی تعریف و مدح اور ہمارے نام کی جاپ اور
کوئی سجدہ ریزی و آستانہ بوسی و درگاہ گردی ہم تک نہیں پہنچی۔
وَ يَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا ثُمَّ لَا
يُؤْذَنُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ۠۰۰۸۴وَ اِذَا رَاَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ
لَا هُمْ يُنْظَرُوْنَ۰۰۸۵ سورہ نحل آیت 84،85
(اِنہیں کچھ ہوش بھی ہے کہ اُس روز کیا بنے گی)جب کہ ہم ہر
اُمّت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے، پھر کافروں کو نہ حُجتیں پیش کرنے کا موقع دیا
جائے گا نہ ان سے توبہ و استغفار ہی کا
مطالبہ کیا جائے گا۔ ظالم لوگ جب ایک دفعہ عذاب دیکھ لیں گے تو اس کے بعد نہ اُن
کے عذاب میں کوئی تخفیف کی جائے گی اور نہ انہیں ایک لمحہ بھر کی مہلت دی جائے گی۔
سورہ نحل آیت 84،85
ایک گواہ کھڑا کریں گے
سورة النحل حاشیہ نمبر۸۰
یعنی اُس امت کا نبی،
یا کوئی ایسا شخص جس نے نبی کے گزر جانے کے بعد اس اُمت کو توحید اور خالص
خدا پرستی کی دعوت دی ہو،شرک اور مشرکانہ اوہام و رسوم پر متنبہ کیا ہو، اور روزِ
قیامت کی جواب دہی سے خبردار کیا ہو۔ وہ اس امر کی شہادت دے گا کہ میں نے پیغام حق
اِن لوگوں کو پہنچا دیا تھا، ا س لیے جو کچھ انہوں نے کیا وہ ناواقفیت کی بنا پر
نہیں کیا، بلکہ جانتے بوجھتے کیا۔
پھر کافروں کو نہ حُجتیں پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا
سورة النحل حاشیہ نمبر۸١
یہ مطلب نہیں ہے کہ انہیں صفائی پیش کر نے کی اجازت نہ دی
جائے گی۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کے جرائم ایسی صریح ناقابلِ انکار اور ناقابلِ تاویل
شہادتوں سے ثابت کر دیے جائیں گے کہ ان کے لیے صفائی پیش کرنے کی کوئی گنجائش نہ
رہے گی۔
نہ ان سے توبہ و
استغفار ہی کا مطالبہ کیا جائے گا
سورة النحل حاشیہ نمبر۸۲
یعنی اُس وقت اُن
سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ اب اپنے رب سے اپنے قصوروں کی معافی مانگ لو۔ کیونکہ وہ
فیصلے کا وقت ہو گا، معافی طلب کر نے کا وقت
گزر چکا ہوگا۔ قرآن اور حدیث دونوں اس معاملہ میں ناطق ہیں کہ تو بہ و
استغفار کی جگہ دنیا ہے نہ کہ آخرت۔ اور دنیا میں بھی اس کا موقع صرف اسی وقت تک
ہے جب تک آثارِ موت طاری نہیں ہو جاتے جس
وقت آدمی کو یقین ہو جائے کہ ا سکا آخری وقت آن پہنچا ہے اُس وقت کی توبہ ناقابلِ قبول
ہے ۔ موت کی سرحد میں داخل ہوتے ہی آدمی کی
مہلتِ عمل ختم ہو جاتی ہے اور صرف جزا و سزا ہی کا اسحقاق باقی نہیں رہ جاتا ہے۔
وَ يَوْمَ نَبْعَثُ فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا
عَلَيْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ
نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً
وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ۠ؒ۰۰۸۹ سورہ نحل آیت 89
(اے محمد ؐ ، اِنہیں اُس دن سے خبردار کر دو)جب کہ ہم ہر
اُمّت میں خود اُسی کے اندر سے ایک گواہ اُٹھا کھڑا کریں گے جو اُس کےمقابلہ میں
شہادت دے گا، اور اِن لوگوں کے مقابلے میں شہادت دینے کے لیے ہم تمہیں لائیں گے۔
اور (یہ اسی شہادت کی تیاری ہے کہ)ہم نے یہ کتاب تم پر نازل کر دی ہے جو ہر چیز کی
صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے86 اور ہدایت و رحمت اور بشارت ہے اُن لوگوں کے لیے
جنہوں نے سرِ تسلیم خَم کر دیا ہے۔87 سورہ
نحل آیت 89
سورة النحل حاشیہ نمبر۸۰
یعنی اُس امت کا نبی،
یا کوئی ایسا شخص جس نے نبی کے گزر جانے کے بعد اس اُمت کو توحید اور خالص
خدا پرستی کی دعوت دی ہو،شرک اور مشرکانہ اوہام و رسوم پر متنبہ کیا ہو، اور روزِ
قیامت کی جواب دہی سے خبردار کیا ہو۔ وہ اس امر کی شہادت دے گا کہ میں نے پیغام حق
اِن لوگوں کو پہنچا دیا تھا، ا س لیے جو کچھ انہوں نے کیا وہ ناواقفیت کی بنا پر
نہیں کیا، بلکہ جانتے بوجھتے کیا۔
جو ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے
سورة النحل حاشیہ نمبر۸۷
یعنی جولوگ آج اِس کتاب کو مان لیں گے اور اطاعت کی راہ اختیار
کر لیں گے ان کو یہ زندگی کے ہر معاملہ میں صحیح رہنمائی دے گی اور اس کی پیروی کی
وجہ سے اُن پر اللہ کی رحمتیں ہوں گی اور انہیں یہ کتاب خوشخبری دے گی کہ فیصلہ کے
دن اللہ کی عدالت سے وہ کامیاب ہو کر نکلیں
گے۔ بخلاف اس کے جو لوگ اسے نہ مانیں گے و ہ صرف یہی نہیں کہ ہدایت اور رحمت سے محروم رہیں گے ، بلکہ قیامت
کے روز جب خدا کا پیغمبر ان کے مقابلہ میں گواہی دینے کو کھڑا ہو گا تو یہی دستاویز
اُن کے خلاف ایک زبر دست حجت ہو گی۔ کیونکہ پیغمبرؐ یہ ثابت کر دے گا کہ اس نے وہ
چیز انہیں پہنچا دی تھی جس میں حق اور
باطل کا فرق کھول کر رکھ دیا گیا تھا۔
Comments
Post a Comment