آخرت -توحید کے بعد اسلام کا دوسرا بنیادی عقیدہ
آخرت -توحید کے بعد اسلام کا دوسرا بنیادی عقیدہ
تفہیم القرآن جلد سوم صفحہ 90
سورہ طہ آیت 15
اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ اَكَادُ اُخْفِيْهَا لِتُجْزٰى
كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى۰۰۱۵ سورہ طہ آیت 15
قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے۔ میں اُس کا وقت مخفی رکھنا
چاہتا ہوں، تاک ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔ سورہ طہ آیت 15
بدلہ پائے
سورة طٰہٰ حاشیہ نمبر١۰
توحید کےبعد دوسری حقیقت جو ہر زمانے میں تمام انبیاء علیہم
السّلام پر منکشف کی گئی اور جس کی تعلیم دینے پر وہ مامور کیے گئے، آخرت ہے۔ یہاں
نہ صرف اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے بلکہ اس کے مقصد پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ
ساعتِ منتظرہ اِس لیے آئے گی کہ ہر شخص نے دنیا میں جو سعی کی ہے اس کا بدلہ آخرت
میں پائے۔ اور اس کے وقت کو مخفی بھی اس لیے رکھا گیا ہے کہ آزمائش کا مدّعا پورا
ہو سکے۔ جسے عاقبت کی کچھ فکر ہو اس کو ہر وقت
اِس گھڑی کا کھٹکا لگا رہے اور یہ کھٹکا اسے بے راہ روی سے بچاتا رہے ۔ اور
جو دنیا میں گم رہنا چاہتا ہے وہ اس خیال میں مگن رہے کہ قیامت ابھی کہیں دور دور
بھی آتی نظر نہیں آتی۔
آخرت کے عقیدے کی اہمیت تفہیم القران جلد سوم صفحہ 555
الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ يُؤْتُوْنَ
الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ۰۰۳اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمْ
اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُوْنَؕ۰۰۴اُولٰٓىِٕكَ
الَّذِيْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ
الْاَخْسَرُوْنَ۰۰۵ سورہ نمل آیات 3،
4، 5
اُن ایمان لانے والوں کے لیے جو نماز قائم کرتے اور زکوٰة دیتے
ہیں، اور پھر وہ ایسے لوگ ہیں جو آخرت پر پُورا یقین
رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ان کے لیے ہم نے اُن کے
کرتُوتوں کو خوشنما بنا دیا ہے، اس لیے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے
لیے بُری سزا ہے اور آخرت میں یہی سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے ہیں۔ سورہ نمل
آیات 3،4،5
آخرت پر پُورا یقین رکھتے ہیں
سورة النمل حاشیہ نمبر۴
اگر چہ آخرت کا عقیدہ ایمانیات میں شامل ہے، اور اس بنا پر”
ایمان لانے والوں“سے مراد ظاہر ہے کہ وہی لوگ ہیں جو توحید اور رسالت کے سا تھ
آخرت پر بھی ایمان لائیں، لیکن ایمانیات کے ضمن میں اس کے آپ سے آپ شامل ہونے کے
با وجود یہاں اس عقیدے کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے خاص طور پر زور دے کر اسے الگ بیان
کیا گیا ہے ۔ اس سے یہ ذہن نشین کرنا مقصود ہے کہ جو لوگ آخرت کے قائل نہ ہوں، ان
کے لیے اس قرآن کے بتائے ہوئے استے پر چلنا بلکہ اس پر قدم رکھنا بھی محال ہے ۔ کیونکہ
اس طرزِ فکر کے لوگ طبعاً اپنا معیارِ خیر و شر صرف اُنہی نتائج سے متعین کرتے ہیں
جو اِس دنیا میں ظاہر ہوتے یا ہو سکتے ہیں۔ اور ان کے لیے کسی ایسی نصیحت و ہدایت
کو قبول کرنا ممکن نہیں ہوتا جو انجامِ اُخروی کو سودوزیاں اور نفع و نقصان کا معیار
قرار دے کر خیر و شر کا تعین کرتی ہو۔ ایسے لوگ اول تو انبیاء علیہم السلام کی تعلیم
پر کان ہی نہیں دھرتے ، لیکن اگر کسی وجہ سے وہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں شامل
ہو بھی جائیں تو آخرت کا یقین نہ ہونے کے باعث ان کے لیے ایمان و اسلام کے راستے
پر ایک قدم چلنا بھی مشکل ہوتا ہے ۔ اس راہ میں پہلی ہی آزمائش جب پیش آئے گی،
جہاں دنیوی فائدے اور اُخروی نقصان کے تقاضے انہیں دو مختلف سمتوں میں کھینچیں گے
تو وہ بے تکلف دنیا کے فائدے کی طرف کھیچ جائیں گے اور آخرت کے نقصان کی ذرہ برابر
پروا نہ کریں گے ، خواہ زبان سے وہ ایمان کے کتنے ہی دعوے کر تے رہیں۔
عقیدۂ آخرت کے دلائل – تفہیم
القرآن جلد سوم – صفحات 189، 728، 729،
734، 735
عقیدۂ آخرت کے دلائل – تفہیم
القرآن جلد سوم- صفحہ 189
سورہ انبیاء آیت 104
يَوْمَ نَطْوِي السَّمَآءَ
كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهٗ١ؕ
وَعْدًا عَلَيْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيْنَ۰۰۱۰۴سورہ انبیاء آیت 104
وہ دن جبکہ آسمان کو ہم یوں لپیٹ
کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیے جاتے ہیں۔ جس طرح پہلےہم نے تخلیق کی
ابتدا کی تھی اُسی طرح ہم پھر اُس کا اعادہ کریں گے۔ یہ ایک وعدہ ہے ہمارے ذِمّے،
اور یہ کام ہمیں بہر حال کرنا ہے۔ سورہ انبیاء آیت 104
عقیدۂ آخرت کے دلائل – تفہیم
القرآن جلد سوم- 728، 729
سورہ روم :
موضوع اور مضمون: اس سورة میں کلام
کا آغاز اس بات سے کیا گیا ہے کہ آج رومی مغلوب ہوگئے ہیں اور ساری دنیا یہ سمجھ
رہی ہے کہ اس سلطنت کا خاتمہ قریب ہے، مگر چند سال نہ گزرنے پائیں گے کہ پانسہ پلٹ
جائے گا اور جو مغلوب ہے وہ غالب ہوجائے گا۔
اس تمہید سے یہ مضمون نکل آیاکہ
انسان اپنی سطح بینی کی وجہ سے وہی کچھ دیکھتا ہے ، جو بظاہر اس کی آنکھوں کے
سامنے ہوتا ہے، مگر اس ظاہر کے پردے کے پیچھے جو کچھ ہے اس کی اسے خبر نہیں ہوتی۔ یہ
ظاہر بینی جب دنیا کے ذرا ذرا سے معاملات میں غلط فہمیوں اور غلط اندازوں کی موجب
ہوتی ہے، اور جبکہ محض اتنی سی بات نہ جاننے کی وجہ سے کہ ” کل کیا ہونے والا ہے“
آدمی غلط تخمینے لگا بیٹھتا ہے، تو پھر بحیثیت مجموعی پوری زندگی کے معاملے میں
ظاہر حیات دنیا پر اعتماد کر بیٹھنا اور اسی کی بنیاد پر اپنے پورے سرمایہ حیات کو
داوٴ پر لگا دینا کتنی بڑی غلطی ہے۔
اس طرح روم اور ایران کے معاملےسے
تقریر کا رخ آخرت کے مضمون کی طرف پھرجاتا ہے ۔ اور مسلسل تین رکوعوں تک طریقے طریقے
سے یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آخرت ممکن بھی ہے، معقول بھی ہے، اس کی ضرورت
بھی ہے، اورانسانی زندگی کے نظام کو درست رکھنے کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ آدمی
آخرت کا یقین رکھ کر اپنی موجودہ زندگی کا پروگرام اختیار کرے، ورنہ وہی غلط ہوگی
جو ظاہر پر اعتماد کرلینے سے واقع ہوا کرتی ہے۔
اس سلسلے میں آخرت پر استدلال کرتے
ہوئے کائنات کے جن آثار کو شہادت میں پیش کیا گیا ہے وہ بعینہ وہی آثار ہیں جو توحید
پر بھی دلالت کرتے ہیں۔ اس لئے چوتھے رکوع کے آغاز سے تقریر کا رخ توحید کے اثبات
اور شرک کے ابطال کی طرف پھر جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ انسان کے لئے فطری دین
اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ وہ بالکل یکسو ہوکر
خدائے واحد کی بندگی کرے۔شرک فطرت کائنات اور فطرت انسان کے خلاف ہے، اسی
لئے جہاں بھی انسان نے اس گمراہی کو اختیار کیا ہے وہاں فساد رونما ہوا ہے ۔ اس
موقع پر پھر اس فساد عظیم کی طرف، جو اس وقت دنیا کی دو سب سے بڑی سلطنتوں کے درمیان
جنگ کی بدولت برپا تھا، اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ فساد شرک کے
نتائج میں سے ہے اور پچھلی انسانی تاریخ میں بھی جتنی قومیں مبتلائے فساد ہوئیں ہیں
وہ سب بھی مشرک ہی تھیں۔
خاتمہ کلام پر تمثیل کے پیرایہ میں
لوگوں کو سمجھایا گیا ہے کہ جس طرح مردہ پڑی ہوئی زمین خدا کی بھیجی ہوئی بارش سے یکایک
جی اٹھتی ہے اور زندگی و بہارکے خزانے اگلنے شروع
کردیتی ہے، اسی طرح خدا کی بھیجی ہوئی وحی اور نبوت بھی مردہ پڑی ہوئی انسانیت کے حق میں ایک باران رحمت ہے جس کانزول اس کے
لئے زندگی اور نشو ونما اور خیر و فلاح کا موجب ہوتا ہے ۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاوٴ
گے تو یہی عرب کی سونی زمین رحمت الہٰی سے لہلہا اٹھے گی اور ساری بھلائی تمہارے
اپنے لئے ہی ہوگی۔ اس سے فائدہ نہ اُٹھاو گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے، پھر پچھتانے
کا کچھ حاصل نہ ہوگا اور تلافی کا کوئی موقع تمہیں میسر نہ آئے گا۔
عقیدۂ آخرت کے دلائل – تفہیم
القرآن جلد سوم- صفحات 734، 735
سورہ روم آیت 9
اَوَ لَمْ يَسِيْرُوْا فِي
الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ
كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ
اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ١ؕ فَمَا
كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَؕ۰۰۹ سورہ روم آیت 9
اور کیا یہ لو گ کبھی زمین میں چلے
پھرے نہیں ہیں کہ انہیں ان لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ
ان سے زیادہ طاقت رکھتے تھے ، انہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا اور اسے اتنا آباد
کیا تھا جتنا انہوں نے نہیں کیا ہے۔ ان کےپاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے۔
پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔
سورہ روم آیت 9
پہلے گزر چکے ہیں؟
سورة الروم حاشیہ نمبر۸
یہ آخرت کے حق میں تاریخی استدلال
ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ آخرت کا انکار دنیا میں دوچار آدمیوں ہی نے تو نہیں کیا ہے۔
انسانی تاریخ کے دوران کثیر التعداد انسان اس مرض میں مبتلا ہوتے رہے ہیں۔ بلکہ
پوری پوری قومیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے یا تو اس کا انکار کیا ہے ، یا اس سے غافل
ہو کر رہی ہیں، یا حیات بعد الموت کے متعلق ایسے غلط عقیدے ایجاد کر لیے ہیں جن سے
آخرت کا عقیدہ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر تاریخ کا مسلسل تجربہ یہ بتاتا ہے کہ
انکارِ آخرت جس صور ت میں بھی کیا گیا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کے
اخلاق بگڑے ، وہ اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھ
لر شتر بے مہار بن گئے، انہوں ظلم
و فساد اور فسق و فجور کی حد کر دی، اور اسی چیز کی بدولت قوموں پر قومیں تباہ ہوتی
چلی گئیں۔ کیا ہزاروں سال کی تاریخ کا یہ تجربہ، جو پے در پے انسانی نسلوں کو پیش آتا رہا ہے، یہ ثابت نہیں کرتا کہ آخرت ایک حقیقت
ہے جس کا انکار انسان کے لیے تباہ کن ہے؟ انسان کششِ ثقل کا اسی لیے تو قائل ہے کہ
تجربے اور مشاہدے سے اس نے مادّی اشیاء کو ہمیشہ زمین کی طرف گرتے دیکھا ہے۔ انسان
نے زہر کو زہر اسی لیے تو مانا ہے کہ جس
نے بھی زہر کھایا وہ ہلاک ہوا۔ اسی طرح جب
آخرت کا انکار ہمیشہ انسان کے لیے اخلاقی بگاڑ کاموجب ثابت ہوا ہے تو کیا یہ تجربہ
یہ سبق دینے کے لیے کافی نہیں ہے کہ آخرت ایک حقیقت ہے اور اس کو نظر انداز کر کے
دنیا میں زندگی بسر کرنا غلط ہے؟
انہوں نے نہیں کیا ہے
سورة الروم حاشیہ نمبر١۰
اس میں اُن لوگوں کے استدلال کا
جواب موجود ہے جو محض مادی ترقی کو کسی قوم کے صالح ہونے کی علامت سمجھتے ہیں۔ وہ
کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے زمین کے ذرائع کو اتنے بڑے پیمانے پر استعمال (Exploit ) کیا ہے، جنہوں نے دنیا میں عظیم
الشان تعمیری کام کیے ہیں اور ایک شاندار تمدّن کو جنم دیا ہے ، بھلا یہ کیسے ممکن
ہے کہ اللہ ان کو جہنم کا ایندھن بنا دے۔ قرآن اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ یہ ”تعمیری
کام“ پہلے بھی بہت سی قوموں نے بڑے پیمانے پر کیے ہیں، پھر کیا تمہاری آنکھوں نے
نہیں دیکھا کہ وہ قومیں اپنی تہذیب اور اپنے تمدّن سمیت پیوند ِ خاک ہو گئیں اور
ان کی ”تعمیر“ کا قصرِ فلک بوس
زمین پر آرہا؟ جس خدا کے قانون نے یہاں عقیدہ ٔ حق اور اخلاقِ صالحہ کے بغیر
محض مادّی تعمیر کی یہ قدر کی ہے ، آخر کیا وجہ ہے کہ اسی خدا کا قانون دوسرے جہان
میں انہیں واصل جہنم نہ کرے؟
Comments
Post a Comment