آخرت میں نامۂ اعمل کس طرح دیا جائے گا؟
آخرت میں نامۂ اعمال کس طرح دیا جائے گا صفحہ 632
فہرست مضامین-تفہیم القرآن- جلد دوم- آخرت
يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ
بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ
يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا۰۰۷۱ سورہ بنی اسرائیل آیت 71
پھر خیال کرو اس دن کا جب کہ ہم ہر انسانی گروہ کو اس
کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے۔ اُس وقت جن لوگوں کو ان کا نامہٴ اعمال سیدھے ہاتھ
میں دیا گیا وہ اپنا کارنامہ پڑھیں گےاور ان پر ذرّہ برابر ظلم نہ ہوگا۔سورہ بنی
اسرائیل آیت 71
اُس وقت جن لوگوں کو ان کا نامہٴ اعمال سیدھے ہاتھ میں
دیا گیا وہ اپنا کارنامہ پڑھیں گے
سورة بنی اسرائیل حاشیہ نمبر۸٦
یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے کہ قیامت کے روز نیک لوگوں
کو ان کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ خوشی خوشی اسے دیکھیں گے ،
بلکہ دوسروں کو بھی دکھائیں گے۔ رہے بد اعمال لوگ، تو ان کا نامہ سیاہ ان کو بائیں
ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ اسے لیتے ہی پیٹھ پیچھے چھپانے کی کوشش کریں گے۔
ملاحظہ ہو سورہ الحاقہ آیت ١۹۔ ۲۸۔ اور سورہ انشقاق آیت ۷۔١۳
سورہ الحاقّہ آیات 19تا28
فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ
بِيَمِيْنِهٖ١ۙ فَيَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْۚ۰۰۱۹اِنِّيْ ظَنَنْتُ
اَنِّيْ مُلٰقٍ حِسَابِيَهْۚ۰۰۲۰فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍۙ۰۰۲۱فِيْ جَنَّةٍ
عَالِيَةٍۙ۰۰۲۲قُطُوْفُهَا
دَانِيَةٌ۰۰۲۳كُلُوْا
وَ اشْرَبُوْا هَنِيْٓـًٔۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ۰۰۲۴وَ اَمَّا مَنْ
اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَيَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ لَمْ اُوْتَ
كِتٰبِيَهْۚ۰۰۲۵وَ
لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِيَهْۚ۰۰۲۶يٰلَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَۚ۰۰۲۷مَاۤ اَغْنٰى
عَنِّيْ مَالِيَهْۚ۰۰۲۸ سورہ الحاقہ 19تا28
اُس وقت جس کا نامہٴ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا
جائے گا وہ کہے گا” لو دیکھو، پڑھو میرا
نامہٴ اعمال، میں سمجھتا تھا کہ مجھے ضرور
اپنا حساب ملنے والا ہے۔“ پس وہ دل پسند عیش
میں ہوگا، عالی مقام جنت میں جس کے پھلوں
کے گچھے جُھکے پڑ رہے ہوں گے۔ (ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) مزے سے کھاوٴ اور پیو اپنے
اُن اعمال کے بدلے جو تم نے گُزرے
ہوئے دنوں میں کیے ہیں۔
اور جس کا نامہٴ اعمال
اُس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا
وہ کہے گا” کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا گیا ہوتا اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ کاش میری وہی موت (جو
دُنیا میں آئی تھی) فیصلہ کُن ہوتی۔
آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔
سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا
سورة الحاقةحاشیہ نمبر۱۲
سیدھے ہاتھ میں نامہ اعمال کا دیا جانا ہی ظاہر کر دے
گا کہ اُس کا حساب بے باق ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں مجرم کی حیثیت سے نہیں
بلکہ صالح انسان کی حیثیت سے پیش ہو رہا ہے۔ اغلب یہ ہے کہ اعمال ناموں کی تقسیم
کے وقت صالح انسان خود سیدھا ہاتھ بڑھا کر اپنا نامہ اعمال لے گا، کیونکہ موت کے
وقت سے میدانِ حشر میں حاضری تک اُس کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا ہوگا اس کی وجہ سے
اس کو پہلے ہی یہ اطمینان حاصل ہو چکا
ہوگا کہ میں یہاں انعام پانے کے لیے پیش ہو رہا ہوں نہ کہ سزا پانے کے لیے۔ قرآن
مجید میں یہ بات جگہ جگہ بڑی صراحت کے
ساتھ بتائی گئی ہے کہ موت کے وقت ہی سے یہ بات انسان پر واضح ہوجاتی ہے کہ وہ نیک
بخت آدمی کی حیثیت سے دوسرے عالم میں جا رہا ہے یا بدبخت آدمی کی حیثیت سے ۔ پھر
موت سے قیامت تک نیک انسان کے ساتھ مہمان کا سا معاملہ ہوتا ہے اور بد انسان کے
ساتھ حوالاتی مجرم کا سا۔ اس کے بعد جب قیامت کے روز دوسری زندگی کا آغاز ہوتا ہے
اسی وقت سے صالحین کی حالت و کیفیت کچھ اور ہوتی ہے اور کفار و منافقین اور مجرمین
کی حالت و کیفیت کچھ اور (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم،
الانفال،آیت۵۰۔النحل،
آیات۲۸،۳۲،مع
حاشیہ ۲۶۔بنی
اسرائیل، آیت۹۷۔
جلد سوم ، طٰہٰ، آیات۱۰۲،۱۰۳،۱۲۴تا۱۲۶،مع حواشی ۸۰،۷۹،۱۰۷ لانبیاء، آیت ۱۰۳، مع حاشیہ ۹۸۔الفرقان،آیت۲۴، مع حاشیہ۳۸۔ النمل، آیت۸۹،مع حاشیہ۱۰۹م جلد چہارم، سبا،آیت ۵۱،مع حاشیہ۷۲۔ یٰس، آیات ۲۶،۲۷،مع حواشی ۲۲۔۲۳۔المومن، آیات۴۵،۴۶،مع حاشیہ ۶۳۔جلد پنجم، محمد ؐ ، آیت۲۷ مع حاشیہ ۳۷۔ق،آیات۱۹تا۲۳۔مع حواشی ۲۵،۲۳،۲۲)۔
پڑھو میرا نامہٴ اعمال،
سورة الحاقةحاشیہ نمبر۱۳
یعنی نامہ اعمال ملتے ہی وہ خوش ہو جائے گا اور اپنے ساتھیوں
کو دکھائے گا ۔ سورہ الشقاق ، آیت ۹
میں بیان ہوا ہے کہ ”وہ خوش خوش اپنے لوگوں کی طرف پلٹے گا۔
حساب ملنے والا ہے۔“
سورة الحاقةحاشیہ نمبر۱۴
یعنی وہ اپنی خوش قسمتی کی وجہ یہ بتائے گا کہ وہ دنیا
میں آخرت سے غافل نہ تھا بلکہ یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتا رہا کہ ایک روزاُسے
خدا کے حضور حاضر ہونا ور اپنا حساب دینا ہے۔
اور جس کا نامہٴ اعمال
اُس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا
سورة الحاقةحاشیہ نمبر۱۵
سورہ انشقاق میں فرمایا گیا ہے ”اور جس کا نامہ اعمال
اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا“۔غالباً اس کی صورت یہ ہوگی کہ مجرم کو چونکہ
پہلے ہی سے اپنے مجرم ہونے کا علم ہو گا اور وہ جانتا ہو گا کہ اس نامہ اعمال میں
اس کا کیا کچھا چٹھا در ج ہے، اس لیے وہ نہایت بددلی کے ساتھ اپنا بایاں ہاتھ بڑھا
کر اُسے لے گا اور فوراً پیٹھ کے پیچھے چھپا لے گا تا کہ کوئی دیکھنے نہ پائے۔
کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا گیا ہوتا
سورة الحاقةحاشیہ نمبر۱۶
یعنی مجھے یہ نامہ اعمال دے کر میدان ِ حشر میں علانیہ
سب کے سامنے ذلیل و رسوا نہ کیا جاتا اور جو سزا بھی دینی تھی دے ڈالی جاتی۔
میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے
سورة الحاقةحاشیہ نمبر۱۷
یعنی مجھے نہ بتایا جاتا کہ میں دنیا میں کیا کچھ کر کے
آیاہوں۔ دوسرا مطلب اس آیت کا یہ بھی ہو
سکتا ہے کہ میں نے کبھی یہ نہ جانا تھا کہ حساب کیا بلا ہوتی ہے، مجھے کبھی یہ خیال
تک نہ آیا تھا کہ ایک دن مجھے اپنا حساب بھی دینا ہوگا اور میرا سب کیا کرایا میرے
سامنے رکھ دیا جائے گا۔
میری وہی موت (جو دُنیا میں آئی تھی) فیصلہ کُن ہوتی
سورة الحاقةحاشیہ نمبر۱۸
یعنی دنیا میں مرنے کے بعد میں ہمیشہ کے لیے معدوم ہو گیا
ہوتا اور کوئی دوسری زندگی نہ ہوتی۔
سورہ انشقاق آیات 7تا13
فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖۙ۰۰۷فَسَوْفَ
يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًاۙ۰۰۸وَّ يَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ
مَسْرُوْرًاؕ۰۰۹وَ
اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ۰۰۱۰فَسَوْفَ
يَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ۰۰۱۱وَّ
يَصْلٰى سَعِيْرًاؕ۰۰۱۲اِنَّهٗ
كَانَ فِيْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ۰۰۱۳ سورہ انشقاق آیات
7تا 13
پھر جس کا نامہٴ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا گیا،
اُس سے ہلکا حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے
لوگوں کی طرف خوش خوش پلٹے گا۔ رہا وہ شخص جس کا
نامہٴ اعمال اُس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا تو وہ موت کو پکارے گا اور بھڑکتی ہوئی آگ میں
جا پڑے گا۔ وہ اپنے گھر والوں میں مگن تھا۔ سورہ انشقاق آیات 7تا13
ہلکا حساب لیا جائے گا
سورة الانشقاق حاشیہ نمبر۶
یعنی اُس سے سخت حساب فہمی نہ کی جائے گی۔ اُس سے یہ نہیں
پوچھا جائے گا کہ فلاں فلاں کام تونے کیوں کیے تھے اور تیرے پاس اُن کاموں کے لیے
کیا عذر ہے۔ اُس کی بھلائیوں کے ساتھ اُس کی برائیاں بھی اُس کے نامہ اعمال میں
موجود ضرور ہوں گی، مگر بس یہ دیکھ کر کہ بھلائیوں کا پلڑا برائیوں سے بھاری ہے ،
اس کے قصوروں سے درگزر کیا جائےگا اور اسے معاف کر دیا جائے گا۔ قرآن مجید میں بد
اعمال لوگوں سے سخت حساب فہمی کے لیے سُوءُ الْحِسابِ (بری طرح حساب لینے) کے
الفاظ استعمال کیے گئے ہیں (الرعد، آیت۱۸)، اور نیک لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے
کہ”یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہتر اعمال قبول کر لیں گے اور ان کی برائیوں سے
درگزر کریں گے“(الاحقاف، آیت۱۶)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کی جو تشریح فرمائی ہے اُسے امام احمد،بخاری،مسلم،
ترمذی، نَسائی، ابو داؤد،حاکم ،ابن جریر، عبد بن حُمَید اور بن مردویہ نے مختلف
الفاظ میں حضرت عائشہؓ نے نقل کی اہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضورؐ نے
فرمایا”جس سے بھی حساب لیا گیا وہ مارا گیا“۔حضرت عائشہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایاکہ”جس کا نامہ اعمال اس کے
سیدھے ہاتھ میں دیا گیا اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا“؟حضورؐ نے جواب دیا”وہ تو صرف
اعمال کی پیشی ہے ، لیکن جس سے پوچھ گچھ کی گئی وہ مارا گیا“۔ایک اور روایت میں
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضورؐ کو نماز میں یہ دعا مانگتے
ہوئے سنا کہ ”خدایا مجھ سے آسان حساب لے“۔آپ نے جب سلام پھیرا تو میں نے اس کا
مطلب پوچھا۔ آپ نے فرمایا”ہلکے حساب سے مراد یہ ہے کہ بندے کے نامہ اعمال کو دیکھا
جائے گا اور اُس سے درگزر کیا جائے گا۔ اے عائشہؓ، اُس روز جس سے حساب فہمی کی گئی
وہ مارا گیا“۔
خوش خوش پلٹے گا
سورة الانشقاق حاشیہ نمبر۷
اپنے لوگوں سے مراد آدمی کے وہ اہل وعیال، رشتہ دار اور
ساتھی ہیں جو اُسی کی طرح معاف کیے گئے ہوں گے۔
پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا
سورة الانشقاق حاشیہ نمبر۸
سورہ اَلْحَاقّہ میں فرمایاگیا ہے کہ جس کا نامہ اعمال
اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ اور یہاں ارشاد ہوا ہے اُ س کی پیٹھ کے پیچھے
دیا جائے گا۔ غالبًا اِ س کی صورت یہ ہوگی کہ وہ شخص اِ س بات سے تو پہلے ہی مایوس
ہوگا کہ اُسے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملے گا، کیونکہ اپنے کرتوتوں سے وہ خوب
واقف ہوگا اور اسے یقین ہوگا کہ مجھے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں ملنے والا ہے ۔
البتہ سار ی خلقت کے سامنے بائیں ہاتھ میں
نامہ اعمال لیتے ہوئے اُسےخِفّت محسوس ہوگی، اس لیے وہ اپنا ہاتھ پیچھے کر لے گا۔
مگر اِس تدابیر سے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ اپنا کچّا چٹھا اپنے ہاتھ میں لینے سے بچ
جائے۔ وہ تو بہر حال اسے پکڑا یا ہی جائے گا خواہ وہ ہاتھ آگے بڑھا کر لے یا پیٹھ
کے پیچھے چھپالے۔
وہ اپنے گھر والوں میں مگن تھا
سورة الانشقاق حاشیہ نمبر۹
یعنی اُس کا حال خدا کے صالح بندوں سے مختلف تھا جن کے
متعلق سورہ طور (آیت ۲۶) میں
فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں میں خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے، یعنی
ہر وقت اُنہیں یہ خوف لاحق رہتا تھا کہ کہیں بال بچوں کی محبت میں گرفتا ر ہو کر
ہم اُن کی دنیا بنانے کےلیے اپنی عاقبت بر باد نہ کر لیں۔ اِس کے بر عکس اُس شخص
کا حال یہ تھا کہ اپنے گھر میں وہ چین کی بنسری بجا رہا تھا اور خوب بال بچوں کو عیش
کر ا رہا تھا، خوہ وہ کتنی ہی حرام خوریاں کر کے اور کتنے ہی لوگوں کے حق مار کر یہ
سامانِ عیش فراہم کرے، اور اس لطف و لذت کے لیے خدا کی باندھی ہوئی حدوں کو کتنا ہی
پامال کرتا رہے۔
(تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم،
الانفال،آیت۵۰۔النحل،
آیات۲۸،۳۲،مع
حاشیہ ۲۶۔بنی
اسرائیل، آیت۹۷۔
جلد سوم ، طٰہٰ، آیات۱۰۲،۱۰۳،۱۲۴تا۱۲۶،مع حواشی ۸۰،۷۹،۱۰۷ لانبیاء، آیت ۱۰۳، مع حاشیہ ۹۸۔الفرقان،آیت۲۴، مع حاشیہ۳۸۔ النمل، آیت۸۹،مع حاشیہ۱۰۹ جلد چہارم، سبا،آیت ۵۱،مع حاشیہ۷۲۔ یٰس، آیات ۲۶،۲۷،مع حواشی ۲۲۔۲۳۔المومن، آیات۴۵،۴۶،مع حاشیہ ۶۳۔جلد پنجم، محمد ؐ ، آیت۲۷ مع حاشیہ ۳۷۔ق،آیات۱۹تا۲۳۔مع حواشی ۲۵،۲۳،۲۲)۔
تفہیم القرآن، جلد دوم، الانفال،آیت۵۰
وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ
كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ
ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ۰۰۵۰ سورہ انفال آیت 50
کاش تم اُس حالت کو دیکھ سکتے جب کہ فرشتے مقتول کافروں کی
رُوحیں قبض کر رہےتھے! وہ ان کے چہروں اور ان کے کُولہوں پر ضربیں لگانے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے ” لو
اب چلنے کی سزا بُھگتو"۔ سورہ انفال آیت 50
تفہیم القرآن، جلد دوم النحل، آیات۲۸،۳۲ مع حاشیہ ۲۶
الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ ظَالِمِيْۤ
اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى
اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۰۰۲۸ سورہ نحل آیت 28
اُنہی کافروں کے لیے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب
ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں25 تو (سرکشی چھوڑ کر)فوراً ڈَگیں ڈال دیتے ہیں
اور کہتے ہیں” ہم تو کوئی قصُور نہیں کر رہے تھے۔“ ملائکہ جواب دیتے ہیں” کر کیسے
نہیں رہے تھے!اللہ تمہارے کرتُوتوں سے خوب واقف ہے۔ سورہ نحل آیت 28
سورة النحل حاشیہ نمبر۲٦
یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت ، جس میں قبضِ روح کے بعد
متقیوں اور ملائکہ کی گفتگو کا ذکر ہے ، قرآن اُن متعدد آیات میں سے ہے جو صریح
طور پر عذاب و ثواب ِ قبر کا ثبوت دیتی ہیں۔ حدیث میں ”قبر“ کا لفظ
مجازًا عالمِ برزخ کے لیے استعمال ہوا ہے ، اور اس سے مراد وہ عالم ہے جس میں موت کی آخری ہچکی سے لے کر بعث بعد
الموت کے پہلے جھٹکے تک انسانی ارواح رہیں
گی۔ منکرینِ حدیث کو اس پر اصرار ہے کہ یہ
عالم بالکل عدم محض کا عالم ہے جس میں کوئی احساس اور شعور نہ
ہوگا۔ اور کسی قسم کا عذاب یا ثواب نہ ہوگا۔ لیکن یہاں دیکھیے کہ کفار کی روحیں جب
قبض کی جاتی ہیں تو موت کی سرحد کے پار کا حال
بالکل اپنی توقعات کے خلاف پا کر سراسیمہ ہو جاتی ہیں۔ اور فورًا سلام
ٹھونک کر ملائکہ کو یقین دلانے کی کوشش
کرتی ہیں کہ ہم کوئی بُرا کام نہیں کر رہے تھے۔ جوب میں ملائکہ ان کو ڈانٹ بتاتے ہیں
اور جہنم واصل ہونے کی پیشگی خبر دیتے ہیں۔ دوسری طرف اتقیاء کی روحیں جب قبض کی
جاتی ہیں تو ملائکہ اُن کو سلام بجا لاتے ہیں اور جنتی ہونے کی پیشگی مبارکباد دیتے
ہیں۔ کیا برزخ کی زندگی ، احساس، شعور، عذاب اور ثواب کا اس سے بھی زیادہ کھلا ہوا
کوئی ثبوت درکار ہے؟ اسی سے ملتا جُلتا مضمون سورۂ نساء آیت نمبر ۹۷ میں گزر چکا
ہے۔جہاں ہجرت نہ کرنے والے مسلمانو ں سے قبضِ روح کے بعد ملائکہ کی روح کا ذکر آیا
ہے اور ان سب سے زیادہ صاف الفاظ میں عذابِ برزخ کی تصریح سورۂ مومن آیت نمبر ۴۵
– ۴۶ میں کی گئی ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرعون اور آلِ فرعون کے متعلق بتاتا ہے کہ”ایک
سخت عذاب ان کو گھیرے ہوئے ہے، یعنی صبح و شام وہ آگے کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں ،
پھر قیامت کی گھڑی آجائے گی تو حکم دیا جائے گا کہ آلِ فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو“۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن اور حدیث دونوں سے موت اور قیامت کے
درمیان کی حالت کا ایک ہی نقشہ معلوم ہوتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ موت محض جسم و روح
کی علیحدگی کا نام ہے نہ کہ بالکل معدوم ہو جانے کا۔ جسم سے علیٰحدہ ہو جانے بعد
روح معدوم نہیں ہو جاتی بلکہ اُس پوری شخصیت کے ساتھ زندہ رہتی ہے جو دنیا کی زندگی کے تجربات اور ذہنی و اخلاقی
اکتسابات سے بنی تھی۔ اس حالت میں روح کی شعور، احساس، مشاہدات اور تجربات کی کیفیت
خواب سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔ یہ مجرم روح سے فرشتوں کی باز پرس اور پھر اس کا عذاب
اور اذیت میں مبتلا ہونا اور دوزخ کے سامنے پیش کیا جانا ، سب کچھ اُس کیفیت سے
مشابہہ ہوتا ہے جو ایک قتل کے مجرم پر
پھانسی کی تاریخ سے ایک دن پہلے ایک ڈراؤنے خواب کی شکل میں گزرتی ہو گی۔ اسی طرح
ایک پاکیزہ روح کا استقبال ، اور پھر اُس کا جنت کی بشارت سننا ، اور جنت کی
ہواؤں اور خوشبوؤں سے متمتع ہونا ، یہ
سب بھی اُس ملازم کے خواب سے ملتا جلتا ہو
گا جو حسنِ کارکردگی کے بعد سرکاری بلاوے
پر ہیڈ کوارٹر میں حاضر ہوا ہو اور وعدہ ٔ ملاقات کی تاریخ سے ایک دن پہلے
آئندہ انعامات کی امیدوں سے لبریز ایک
سہانا خواب دیکھ رہا ہو۔ یہ خواب ایک لختِ نفخ
صورِ دوم سے ٹوٹ جائے گا اور یکایک میدانِ حشر میں اپنے آپ کو جسم و روح کے
ساتھ زندہ پا کر مجرمین حیرت سے کہیں گے کہ یٰوَیْلَنَا مَنْم بَعَثَنَا مِنْ مَّرْ قَدِنَا (ارے یہ کون ہمیں ہماری خواب گاہ سے اُٹھا لایا؟) مگر اہلِ
ایمان پورے اطمینان سے کہیں گے ھِذَا
مَا وَعَدَ الرَّ حْمٰنُ وَصَدَ قَ الْمُرْسَلُوْنَ (یہ وہی چیز ہے جس
کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کا بیان سچّا تھا)۔ مجرمین کا فوری احساس اُس وقت یہ ہو گا کہ وہ اپنی خواب گاہ میں (جہاں بستر موت پر اُنہوں نے دنیا میں جان دی
تھی) شاید کوئی ایک گھنٹہ بھر سوئے ہوں گے اور اب اچانک اس حادثہ سے آنکھ کھلتے ہی
کہیں بھاگے چلے جا رہے ہیں۔ مگر اہلِ ایمان پورے ثباتِ قلب کے ساتھ کہیں گے کہ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ کِتَابِ اللہ ِ اِلیٰ یُوْ مِ
الْبَعْثِ وَلٰکِنَّکُمْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (اللہ کے دفتر میں تو تم روز حشر تک ٹھیرے رہے ہو اور یہی روز حشر ہے مگر تم اِ س چیز
کو جانتے نہ تھے)۔
الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ
طَيِّبِيْنَ١ۙ يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا
كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۰۰۳۲ سورہ نحل آیت 32
اُن متّقیوں کو جن کی رُوحیں پاکیزگی کی حالت میں جب
ملائکہ قبض کر رہے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں” سلام ہو تم پر، جاوٴ جنّت میں اپنے اعمال
کے بدلے۔“ سورہ نحل آیت 32
تفہیم القرآن، جلد دوم سورہ بنی اسرائیل آیت 97
وَ مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ
وَ مَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِيَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ
نَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّ بُكْمًا وَّ
صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا۰۰۹۷
سورہ بنی اسرائيل آیت 97
جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے، اور جسے
وہ گمراہی میں ڈال دے تو اس کے بعد ایسے لوگوں کے لیے تُو کوئی حامی و ناصر نہیں
پاسکتا۔ ان لوگوں کو ہم قیامت کے روز اوندھے منہ کھینچ لائیں گے، اندھے، گُونگے
اور بہرے۔ اُن کا ٹھکانا جہنّم ہے ۔ جب کبھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اسے
اور بھڑکا دیں گے۔ سورہ بنی اسرائیل آیت 97
ایسے لوگوں کے لیے تُو کوئی حامی و ناصر نہیں پاسکتا
سورة بنی اسرائیل حاشیہ نمبر١١۰
یعنی جس کی ضلالت پسندی اور ہٹ دھر می کے سبب سے اللہ
نے اس پر ہدایت کے دروازے بند کر دیے ہوں اور جسے اللہ ہی نے ان گمراہیوں کی طرف
دھکیل دیا ہو جن کی طرف وہ جانا چاہتا تھا، تو اب اور کون ہے جو اس کو راہِ
راست پر لاسکے؟ جس شخص نے سچائی سے منہ
موڑ کر جھوٹ پر مطمئن ہونا چاہا ، اور جس کی اس خباثت کو دیکھ کر اللہ نے بھی اس
کے لیے وہ اسباب فراہم کر دیے جن سے سچائی کے خلاف اُس کی نفرت میں اور جھوٹ پر اس
کے اطمینان میں اور زیادہ اضافہ ہوتا چلا جائے، اسے آخر دنیا کی کونسی طاقت جھوٹ
سے منحرف اور سچائی پر مطمئن کر سکتی ہے ؟
اللہ کا یہ قاعدہ نہیں کہ جو خود بھٹکنا چاہے اسے زبر دستی ہدایت دے ، اور کسی
دوسری ہستی میں یہ طاقت نہیں کہ لوگوں کے دل بدل دے۔
اندھے، گُونگے
اور بہرے
سورة بنی اسرائیل حاشیہ نمبر١١١
یعنی جیسے وہ دنیا میں کررہے کہ نہ حق دیکھتے تھے، نہ حق سنتے تھے اور نہ
حق بولتے تھے، ویسے ہی وہ قیامت میں اُٹھائے جائیں گے۔
تفہیم القرآن، جلد سوم، طٰہٰ، آیات۱۰۲،۱۰۳،۱۲۴تا۱۲۶،مع حواشی ۸۰،۷۹،۱۰۷
يَّوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ
الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ زُرْقًاۚۖ۰۰۱۰۲يَّتَخَافَتُوْنَ۠
بَيْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا۰۰۱۰۳ سورہ طہ آیت 102،103
اُس دن جبکہ صُور پھُونکا جائے
گا اور ہم مجرموں کو اِس حال میں گھیر لائیں
گے کہ ان کی آنکھیں (دہشت کے مارے)پتھرائی ہوئی ہوں گی، آپس میں چُپکےچُپکے کہیں
گے کہ دُنیا میں مشکل ہی سے تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے۔ سورہ طہ آیت 102،103
پتھرائی ہوئی ہوں گی،
سورة طٰہٰ حاشیہ نمبر۷۹
اصل میں لفظ”زُرْقًا“ استعمال
ہواہے ، جو اَزْرَق کی جمع ہے ۔ بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ وہ لوگ جو
خود اَزْرق (سفیدی مائل نیلگوں) ہو جائیں گے کیونکہ خوف و دہشت کے مارے ان کا خون
خشک ہو جائے گا اور ان کی حالت ایسی ہو جائے گی کہ گویا ان کے جسم میں خون کا ایک
قطرہ تک نہیں ہے ۔ اور بعض دوسرے لوگوں نے اس لفظ کو ازرق العین (کرنجی آنکھوں
والے) کے معنی میں لیا ہے اور وہ اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ شدّتِ ہول سے ان کے دیدے
پتھرا جائیں گے۔ جب کسی شخص کی آنکھ بے نور ہو جاتی ہے تو اس کے حدقۂ چشم کا رنگ
سفید ہو جاتا ہے۔
سورة طٰہٰ حاشیہ نمبر۸۰
دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ”
موت کے بعد سے اِس وقت تک تم کو مشکل ہی سے دس دن گزرے ہوں گے“۔ قرآن مجید کے
دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے روز لوگ اپنی دنیوی زندگی کے متعلق بھی
یہ اندازہ لگائیں گے کہ وہ بہت تھوڑی تھی ، اور موت سے لے کر قیامت تک جو وقت گزرا
ہو گا اس کے متعلق بھی ان کے اندازے کچھ ایسے ہی ہوں گے ۔ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے قَالَ کَمْ لَبِثْتُمْ فِی
الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ o قَالُوْ ا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ
الْعَادِّیْنَ۔”اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے سال رہے ہو؟ وہ جواب دیں گے ایک
دن یا دن کا ایک حصّہ رہے ہوں گے، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیے“ (المومنون آیات ۱۱۲ – ۱۱۳)۔ دوسری جگہ فرمایا جاتا ہے وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ مَا
لَبِثُوْ ا غَیْرَ سَا عَۃٍ کَذٰلِکَ کَا نُوْ ا یُؤْفَکُوْنَo وَقَالَ الَّذیْنَ اُوْتُوْ ا
الْعِلْمَ وَ ا لْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ کِتَابِ اللہِ اِلیٰ یَوْمِ
الْبَعْثِ فَھٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَلٰکِنَّکُمْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَo ”اور جس روز قیامت قائم ہو جائے گی
تو مجرم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ
ہم ( موت کی حالت میں) ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں پڑے رہے ہیں۔ اسی طرح وہ دنیا میں
بھی دھوکے کھاتے رہتے تھے۔ اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ کتاب اللہ کی رو سے تو تم یوم
البعث تک پڑے رہے ہو اور یہ وہی یوم البعث ہے، مگر تم جانتے نہ تھے“(الروم – آیات ۵۵ – ۵۶)۔ ان مختلف تصریحات سے ثابت ہوتا
ہے کہ دنیا کی زندگی اور برزخ کی زندگی ،
دونوں ہی کو وہ بہت قلیل سمجھیں گے ۔ دنیا کی زندگی کے متعلق وہ اس لیے یہ باتیں
کریں گے کہ اپنی امیدوں کے بالکل خلاف جب انہیں آخرت کی ابدی زندگی میں آنکھیں کھولنی پڑیں گی، اور
جب وہ دیکھیں گے کہ یہاں کے لیے وہ کچھ بھی تیاری کر کے نہیں آئے ہیں، تو انتہا
درجہ کی حسرت کے ساتھ وہ اپنی دنیوی زندگی کی طرف پلٹ کر دیکھیں گے اور کفِ افسوس
ملیں گے کہ چار دن کے لطف و مسرت اور فائدہ و لذت کی خاطر ہم نے ہمیشہ کے لیے اپنے
پاؤں پر کلہاڑی مار لی۔ موت کے بعد سے قیامت تک کا وقت انہیں اس لیے تھوڑا نظر
آئے گا کہ زندگی بعد ِ موت کو وہ دنیا میں غیر ممکن سمجھتے تھے اور قرآن کے بتائے
ہوئے عالمِ آخرت کا جغرافیہ کبھی سنجیدگی
کے ساتھ ان کے ذہن میں اُترا ہی نہ تھا۔ یہی تصوّرات لیے ہوئے دنیا میں
احساس و شعور کی آخری ساعت انہوں نے ختم کی تھی۔ اب جو اچانک وہ آنکھیں ملتے ہوئے
دوسری زندگی میں بیدا ر ہوں گے اور دوسرے
ہی لمحے اپنے آپ کو ایک بگل یا نر سنگھے کی آواز پر مارچ کرتے ہوئے پائیں گے تو وہ
شدید گبھراہٹ کے ساتھ اندازہ لگائیں گے کہ فلاں ہسپتال میں بے ہوش ہونے یا فلاں
جہاز میں ڈوبنے یا فلاں مقام پر حادثہ سے
دوچار ہونے کے بعد سے اِس وقت تک آخر کتنا
وقت لگا ہو گا ۔ اُن کی کھوپڑی میں اُس وقت یہ بات سمائے گی ہی نہیں کہ دنیا میں وہ جاں بحق ہو چکے تھے اور اب یہ وہی دوسری
زندگی ہے جسے ہم بالکل لغو بات کہہ کر ٹھٹھوں میں اُڑا دیا کرتے تھے ۔ اس لیے ان میں
سے ہر ایک یہ سمجھے گا یہ شاید میں چند گھنٹے یا چند دن بے ہوش پڑا رہا ہوں ، اور
اب شاید ایسے وقت مجھے ہوش آیا ہے یا ایسی جگہ اتفاق سے پہنچ گیا ہوں جہاں کسی بڑے
حادثہ کی وجہ سے لوگ ایک طرف کو بھاگے جا رہے ہیں۔ بعید نہیں کہ آج کل کے
مرنے والے صاحب لوگ صور کی آواز کو کچھ دیر تک ہوائی حملے کا سائرن ہی
سمجھتے رہیں۔
وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ
فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى ۰۰۱۲۴ سورہ طہ آیت 124
اور جو میرے”ذکر“(درسِ نصیحت)سے منہ
موڑے گا اُس کے لیے دُنیا میں تنگ زندگی ہوگی 105 اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا
اُٹھائیں گے۔“ سورہ طہ آیت 124
سورة طٰہٰ حاشیہ نمبر١۰۷
قیامت کے روز نئی زندگی کے آغاز سے
لے کر جہنم میں داخل ہونے تک جو مختلف کیفیات مجرمین پر گزریں گی ان کو قرآن مجید میں مختلف مواقع پر جدا جدا بیان
کیا گیا ہے۔ ایک کیفیت یہ ہے : لَقَدْ کُنْتَ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ھٰذَا فَکَشَفْنَا
عَنْکَ غِطَآ ءَکَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ،” تُو اِس چیز سے غفلت میں پڑا ہوا
تھا ، اب ہم نے تیرے آگے سے پردہ ہٹا دیا ہے، آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے“ یعنی تجھے
نظر آرہا ہے۔(ق۔ آیت ۲۲)۔ دوسری کیفیت یہ ہے: اِنَّمَا یُؤَ
خِّرُھُمْ لِیَوْ مٍ تَشْخَصُ فِیْہِ الْاَبْصَا رُ مُھْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُسِھِمْ لَا
یَرْتَدُّ اِلَیْہِمْ طَرْفُھُمْ وَاَفْئِدَ تُھُمْ ھَوَآ ء، ” اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے اُس
دن کے لیے جب حال یہہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی
پھٹی رہ گئی ہیں، سر اُٹھائے بھاگے چلے جا رہے ہیں، نظریں اُوپر جمی ہیں اور دل ہیں
کہ اُڑتے جاتے ہیں“ (ابراہیم ۔ آیت ۴۳)۔ تیسری کیفیت یہ ہے:
وَنُخْرِجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ کِتَا بًا یَّلْقٰہُ مَنْشُورًا ،
اِقْرَأْ کِتَابَکَ ، کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًا، ” اور قیامت کے روز ہم اس کے لیے
ایک نوشتہ نکالیں گے جسے وہ کھلی کتاب پائے گا۔ پڑھ اپنا نامۂ اعمال ، آج اپنا حساب لگانے کے لیے تُو
خود ہی کافی ہے“ (بنی اسرائیل ۔ آیات ۱۳ – ۱۴)۔ اور انہی کیفیات میں سے ایک یہ بھی ہے جو آیت زیرِ بحث میں بیان ہوئی ہے۔ معلوم ایسا
ہوتا ہے کہ خدا کی قدرت سے یہ لوگ آخرت کے ہولناک مناظر اور اپنی شامتِ اعمال کے
نتائج کو تو خوب دیکھیں گے، لیکن بس ان کی بینائی
یہی کچھ دیکھنے کے لیے ہو گی۔ باقی دوسری حیثیتوں سے ان کا حال اندھے کا سا
ہو گا جسے اپنا راستہ نظر نہ آتا ہو، جو
نہ لاٹھی رکھتا ہو کہ ٹٹول کر چل سکے نہ کوئی اس کا ہاتھ پکڑ کے چلانے والا ہو،
قدم قدم پر ٹھوکریں کھا رہا ہو، اور اس کو
کچھ نہ سُوجھتا ہو کہ کدھر جائے اور اپنی ضروریات کہاں سے پوری کرے۔ اسی کیفیت کو
اِن الفاظ میں ادا کیا گیا ہے کہ” جس طرح تُو نے ہماری آیات کو بھُلا دیا تھا اُسی
طرح آج تُو بھلایا جا رہا ہے“، یعنی آج کوئی پروا نہ کی جائے گی کہ تُو کہاں کہاں
ٹھوکریں کھا کر گرتا ہے اور کیسی کیسی
محرومیاں برداشت کر رہا ہے۔ کوئی تیرا ہاتھ نہ پکڑے گا ، کوئی تیری حاجتیں پوری نہ
کرے گا ، اور تیری کچھ بھی خبر گیری نہ کی جائے گی۔
تفہیم القرآن جلد سوم ، الانبیاء، آیت ۱۰۳، مع حاشیہ ۹۸
لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ
الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ١ؕ هٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِيْ
كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۰۰۱۰۳ سورہ الانبیاء آیت 103
وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت اُن کو
ذرا پریشان نہ کرے گا، اور ملائکہ بڑھ کر
اُن کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ ” یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا
تھا۔“ سورہ الانبیاء آیت 103
اُن کو ذرا پریشان نہ کرے گا
سورة الانبیاء حاشیہ نمبر۹۸
یعنی روز ِ محشر اور خدا کے حضور پیشی
کا وقت، جو عام لوگوں کے لیے انتہائی گھبراہٹ اور پریشانی کا وقت ہو گا، اس
وقت نیک لوگوں پر ایک اطمینان کی کیفیت
طاری رہے گی۔ اس لیے کہ سب کچھ اُن کی توقعات کے مطابق ہو رہا ہو گا۔ ایمان و عملِ
صالح کی جو پونجی لیے ہوئے وہ دنیا سے رخصت ہوئے تھے وہ اُس وقت خدا کے فضل سے اُن
کی ڈھارس بندھائے گی اور خوف و حزن کے بجائے ان کے دلوں میں اُمید پیدا کر ے گی کہ عنقریب وہ اپنی سعی
کے نتائج خیر سے ہم کنار ہو نے والے ہیں۔
تفہیم القرآن جلد سوم، الفرقان،آیت۲۴، مع حاشیہ۳۸
اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ
خَيْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِيْلًا۰۰۲۴ الفرقان،آیت۲۴
بس وہی لوگ جو جنّت کے مستحق ہیں
اُس دن اچھی جگہ ٹھہریں گے اور دوپہر گزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے۔ الفرقان،آیت۲۴
سورة الفرقان حاشیہ نمبر۳۸
یعنی میدان حشر میں جنت کے مستحق لوگوں کے ساتھ
مجرمین سے مختلف معاملہ ہو گا۔ وہ عزت کے ساتھ بٹھائے جائیں گے اور روز حشر کی سخت
دوپہر گزارنے کے لیے ان کو آرام کی جگہ دی جائے گی۔ اس دن کی ساری سختیاں مجرموں
کے لیے ہوں گی نہ کہ نیکو کاروں کے لیے ۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے ، حضورؐ نے فرمایا
والذی نفسی بیدہ اِنّہٗ لیخفف علی المؤمن حتی یکون اخف علیہ من صلوۃ مکتوبۃ یصلیھا
فی الدنیا’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، قیامت کا عظیم الشان
اور خوفناک دن ایک مومن کے لیے بہت ہلکا کریا جائے گا، حتیٰ کہ اتنا ہلکا جتنا دنیا
میں ایک فرض نماز پڑھنے کا وقت ہوتا ہے ‘‘۔ (مسند احمد بروایت ابی سعید خدری)۔
تفہیم القرآن جلد سوم ،النمل، آیت۸۹،مع حاشیہ۱۰۹
مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ
خَيْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ يَّوْمَىِٕذٍ اٰمِنُوْنَ۰۰۸۹ النمل، آیت۸۹
جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے
اُس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اُس دن کے
ہَول سے محفوظ ہوں گے۔ النمل، آیت۸۹
اُس دن کے ہَول سے محفوظ ہوں گے
سورة النمل حاشیہ نمبر١۰۹
یعنی قیامت اور حشر و نشر کی وہ
ہولناکیاں جو منکرینِ حق کے حواس باختہ کیے دے رہی ہوں گی، ان کے درمیان یہ لوگ
مطمئن ہوں گے۔ اس لیے کہ یہ سب کچھ ان
توقعات کے مطابق ہو گا۔ وہ پہلے سے اللہ اور اسکے
رسولوں کی دی ہوئی خبروں کے مطابق اچھی طرح جانتے تھے کہ قیامت قائم ہو نی
ہے ، ایک دوسری زندگی پیش آنی ہے اور اس میں
یہی سب کچھ ہونا ہے ۔ اس لیے ان پر وہ سب بد حواسی اور گھبراہت طاری نہ ہوگی جو
مرتے دم تک اس چیزکا انکار کرنے والوں اور اس سے غافل رہنے والوں پر طاری ہوگی۔
پھر ان کے اطمینان کی وجہ یہ بھی ہو گی کہ انہوں نے اس دن کی توقع پر اس کے لیے
فکر کی تھی اور یہاں کی کامیابی کے لیے کچھ سامان کر کے دنیا سے آئے تھے۔ اس لیے
اُن پر وہ گھبراہٹ طاری نہ ہوگی جوان لوگوں پر طاری ہو گی جنہوں نے اپنا سارا سرمایہ
حیات دنیا ہی کی کامیابیاں حاصل کرنے پر لگا دیا تھا اور کبھی نہ سوچا تھا کہ کوئی آخرت بھی ہے جس کےلیے کچھ سامان کرنا ہے ۔
منکرین کے بر عکس یہ مومنین اب مطمئن ہوں گے کہ جس دن کے لیے ہم نے ناجائز فائدوں
اور لذتوں کو چھوڑا تھا، اور صعوبتیں اور مشقتیں برداشت کی تھیں، وہ دن آگیا ہے اور اب یہاں ہماری
محنتوں کا اجر ضائع ہونے والا نہیں ہے۔
تفہیم القرآن، جلد چہارم، سبا،آیت ۵۱،مع حاشیہ۷۲
وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا
فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍۙ۰۰۵۱ سبا،آیت ۵۱
کاش تم دیکھو انہیں اُس وقت جب یہ لوگ گھبرائے پھر
رہے ہوں گے اور کہیں بچ کر نہ جا سکیں گے، بلکہ قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے۔ سبا،آیت ۵۱
سورة سبا حاشیہ نمبر۷۲
یعنی قیامت کے روز ہر مجرم اس طرح پکڑا جائے گا
کہ گویا پکڑنے والا قریب ہی کہیں چھپا کھڑا تھا، ذرا اس نے بھاگنے کی کوشش کی اور
فوراً ہی دھر لیا گیا۔
۔المومن، آیات۴۵،۴۶،مع حاشیہ ۶۳۔جلد پنجم، محمد ؐ ، آیت۲۷ مع حاشیہ ۳۷۔ق،آیات۱۹تا۲۳۔مع حواشی ۲۵،۲۳،۲۲)۔
تفہیم القرآن، جلد چہارم، یٰس، آیات ۲۶،۲۷،مع حواشی ۲۲۔۲۳
قِيْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ
يٰلَيْتَ قَوْمِيْ يَعْلَمُوْنَۙ۰۰۲۶بِمَا غَفَرَ لِيْ رَبِّيْ وَ جَعَلَنِيْ مِنَ
الْمُكْرَمِيْنَ۰۰۲۷ یٰس، آیات ۲۶،۲۷
(آخر کار ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا
اور)اس شخص سے کہہ دیا گیا کہ”داخل ہو جاوٴ جنّت میں۔“ اُس نے کہا” کاش میری قوم کو معلوم ہوتا کہ میرے
ربّ نے کس چیز کی بدولت میری مغفرت فرمادی اور مجھے با عزّت لوگوں میں داخل فرمایا۔“ یٰس، آیات ۲۶،۲۷
داخل ہو جاوٴ جنّت میں
سورة یٰس حاشیہ نمبر۲۲
یعنی شہادت نصیب ہوتے ہی اس شخص کو
جنت کی بشارت د دی گئی۔ جون ہی کہ وہ موت کے دروازے سے گزر کر دوسرے علم میں
پہنچا، فرشتے اس کے استقبال کو موجود تے اور انہوں نے اسے خوش خبری دے دی کہ
فردوسِ بریں اس کی منتظر ہے ۔ اس فقرے کی تاویل میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔
قَتَادہ کہتے ہیں کہ ’’ اللہ نے اسی وقت اسے جنت میں داخل کر دیا اور سہ وہاں زندہ
ہے ‘‘۔ یہ بات ملائکہ نے اس سے بشارت کے طور پر کہی اور اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت
کے بعد جب تمام اہل ایمان جنت میں داخل ہوں گے تو وہ بھی اُن کے ساتھ داخل ہو
گا۔‘‘
مجھے با عزّت لوگوں میں داخل فرمایا
سورة یٰس حاشیہ نمبر۲۳
یہ اس مرد مومن کے کمالِ اخلاق کا
ایک نمونہ ہے ۔ جن لوگوں نے اسے ابھی ابھی قتل کیا تھا ان کے خلاف کوئی غصہ اور
جذبۂ انتقام اس کے دل میں نہ تھا کہ وہ اللہ سے ان کے حق میں بد دعا کرتا اس کے
بجائے وہ اب بھی ان کی خیر خواہی کیے جا رہا تھا۔ مرنے کے بعد اس کے دل میں اگر
کوئی تمنّا پیدا ہوئی تو وہ بس یہ تھی کہ کاش میری قوم میرے اس انجامِ نیک سے
باخبر ہو جائے اور میری زندگی سے نہیں تو
میری موت ہی سے سبق لے کر راہِ راست اختیار کر لے ۔ وہ شریف انسان اپنے قاتلوں کے
لیے بھی جہنم نہ چاہتا تھا بلکہ یہ چاہتا تھا کہ وہ ایمان لا کر جنت کے مستحق بنیں۔
اسی کی تعریف کرتے ہوئے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ نصح قومہ حیّا و میتا، ’’ اس شخص
نے جیتے جی بھی اپنی قوم کی خیر خواہی کی اور مر کر بھی‘‘۔
اس واقعہ کو بیان کر کے اللہ تعالیٰ
نے کفار مکہ کو در پردہ اس حقیقت پر متنبہ فرمایا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم
اور ان کے ساتھ اہل ایمان بھی اسی طرح تمہارے سچے خیر خواہ ہیں جس طرح وہ مرد مومن
اپنی قوم کا خیر خواہ تھا۔ یہ لوگ تمہاری تمام ایذا رسانیوں کے باوجود تمہارے خلاف
کوئی ذاتی عناد اور کوئی جذبہ انتقام نہیں رکھتے ۔ ان کو دشمنی تم سے نہیں بلکہ
تمہاری گمراہی سے ہے ۔ یہ تم سے صرف اس لیے لڑ رہے ہیں کہ تم راہ راست پر آ جاؤ۔
اس کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں ہے ۔
یہ آیت بھی منجملہ ان آیات کے ہے
جن سے حیاتِ برزخ کا صریح ثبوت ملتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد سے قیامت
تک کا زمانہ خالص عدم اور کامل نیستی کا زمانہ نہیں ہے ، جیسا کہ بعض کم علم
لوگ گمان کرتے ہیں، بلکہ اس زمانہ میں جسم کے بغیر روح زندہ رہتی ہے ، کلام
کرتی اور کلام سنتی ہے ، جذبات و احساسات رکھتی ہے ، خوشی اور غم محسوس کرتی ہے ،
اور اہل دنیا کے ساتھ بھی اس کی دلچسپیاں باقی رہتی ہیں۔ اگر یہ نہ ہوتا تو مرنے
کے بعد اس مرد مومن کو جنت کی بشارت کیسے دی جاتی
اور وہ اپنی قوم کے لیے یہ تمنا کیسے کرتا کہ کاش وہ اس کے انجام نیک سے
باخبر ہو جائے ۔
تفہیم القرآن، جلد چہارم ۔المومن،
آیات۴۵،۴۶،مع حاشیہ ۶۳۔
فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا
مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ۰۰۴۵اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا
غُدُوًّا وَّ عَشِيًّا١ۚ وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ
فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ۰۰۴۶ المومن، آیات۴۵،۴۶
آخر کار اُن لوگوں نے جو بُری سے
بُری چالیں اُس مومن کے خلاف چلیں، اللہ نے اُن سب سے اُس کو بچا لیا ، اور فرعون کے ساتھی خود بدترین عذاب کے پھیر
میں آگئے۔ المومن، آیات۴۵،۴۶
سورة المومن حاشیہ نمبر٦۳
یہ آیت اس عذاب برزخ کا صریح ثبوت ہے جس کا ذکر
بکثرت احادیث میں عذاب قبر کے عنوان سے آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہاں صاف الفاظ میں
عذاب کے دو مرحلوں کا ذکر فرما رہا ہے، ایک کم تر درجے کا عذاب جو قیامت کے آنے سے
پہلے فرعون اور آل فرعون کو اب دیا جا رہا ہے، اور وہ یہ ہے کہ انہیں صبح و شام
دوزخ کی آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جسے دیکھ کر وہ ہر وقت ہول کھاتے رہتے ہیں کہ
یہ ہے وہ دوزخ جس میں آخر کار ہمیں جانا ہے۔ اس کے بعد جب قیامت آ جاۓ گی تو انہیں وہ اصلی اور بڑی سزا
دی جاۓ گی جو ان کے لیے مقدر ہے، یعنی وہ
اسی دوزخ میں جھونک دیے جائین گے جس کا نظارہ انہیں غراب ہو جانے کے وقت سے آج تک
کرایا جا رہا ہے اور قیامت کی گھڑی تک کرایا جاتا رہے گا۔ اور یہ معاملہ صرف فرعون
و آل فرعون کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے۔ تمام
مجرموں کو موت کی ساعت سے لے کر قیامت تک وہ انجام بد نظر آتا رہتا ہے جو ان کا
انتظار کر رہا ہے، اور تمام نیک لوگوں کو اس انجام نیک کی حسین تصویر دکھائی جاتی
رہتی ہے جو اللہ نے ان کے لیے مہیا کر رکھا ہے۔
بخاری، مسلم اور مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ حضورؐ
نے فرمایا ’’ان احد کم اذا مات عرض علیہ مقعدہ بالغداۃ و العشی، ان کان من اھل
الجنۃ فمن اھل الجنۃ، وان کان من اھل النار فمن اھل النار، فیقال ھٰذا مقعدک حتیٰ یبعثک
اللہ عزوجل الیہ یوم القیٰمۃ‘‘ تم میں سے جو شخص بھی مرتا ہے اسے صبح و شام اس کی
آخری قیام گاہ دکھائی جاتی رہتی ہے، خواہ وہ جنتی ہو یا دوزخی۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں تو اس
وقت جاۓ گا جب اللہ تجھے قیامت کے روز
دوبارہ اٹھا کر اپنے حضور بلاۓ گا۔‘‘(مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القران جلد اول، صفحہ 386۔ جلد
دوم،ص 150۔ 535 تا 538۔ جلد سوم، ص 299۔ 300۔ جلد چہارم، سورہ یٰسٓ، حاشیہ 22۔23)
تفہیم القرآن، جلد پنجم، محمد ؐ ،
آیت۲۷ مع حاشیہ ۳۷۔
تفہیم القرآن، جلد پنجم، محمد ؐ ،
آیت۲۷ مع حاشیہ ۳۷
فَكَيْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ
يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ۰۰۲۷ محمد ؐ ، آیت۲۷
پھر اس وقت کیا حال ہو گا جب فرشتے
ان کی روحیں قبض کریں گے اور ان کےمنہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انھیں لے جائیں گے۔ محمد ؐ ، آیت۲۷
سورۃ محمد حاشیہ نمبر۳۷
یعنی دنیا میں تو یہ طرز عمل انہوں
نے اس لیے اختیار کر لیا کہ اپنے مفادات کی حفاظت کرتے رہیں اور کفر و اسلام کی
جنگ کے خطرات سے اپنے آپ کو بچائے رکھیں، لیکن مرنے کے بعد یہ خدا کی گرفت سے بچ کر کہاں جائیں گے؟ اس وقت تو ان کی کوئی
تدبیر فرشتوں کی مار سے ان کو نہ بچا سکے گی۔
یہ آیت بھی ان آیات میں سے ہے جو
عذاب برزخ (یعنی عذاب قبر) کی تصریح کرتے ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ موت کے
وقت ہی کفار و منافقین پر عذاب شروع ہو جاتا ہے، اور یہ عذاب اس سزا سے مختلف چیز
ہے جو قیامت میں ان کے مقدمے کا فیصلہ ہونے کے بعد ان کو دی جائے گی۔ مزید تشریح
کے لیے ملاحظہ ہو النساء، آیت 97۔ الانعام، 93۔ 94۔ الانفال، 50۔ النحل، 28۔32۔
المومنون، 99۔ 100۔ یٰس، 26۔ 27 (مع حاشیہ 22،23) المومن، 46 (مع حاشیہ۔ 63)۔
تفہیم القرآن، جلد پنجم۔ ق،آیات۱۹تا۲۳۔مع حواشی ۲۵،۲۳،۲۲۔
وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ
بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ۰۰۱۹وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ١ؕ
ذٰلِكَ يَوْمُ الْوَعِيْدِ۰۰۲۰وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآىِٕقٌ وَّ
شَهِيْدٌ۰۰۲۱لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ
غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ۰۰۲۲وَ قَالَ قَرِيْنُهٗ هٰذَا مَا
لَدَيَّ عَتِيْدٌؕ۰۰۲۳ ق،آیات۱۹تا۲۳
پھر دیکھو، وہ موت کی جاں کنی حق
لے کر آ پہنچی، یہ وہی چیز ہے جس سے تُو بھاگتا تھا۔ اور پھر صُور پھونکا گیا، یہ
ہے وہ دن جس کا تجھے خوف دلایا جاتا تھا۔ ہر شخص اِس حال میں آگیا کہ اس کے ساتھ ایک
ہانک کرلانے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا۔ اِس چیز کی طرف سے تُو غفلت میں تھا
، ہم نے وہ پردہ ہٹا دیا جو تیرے آگے پڑا ہوا تھا اور آج تیری نگاہ خوب تیز ہے۔
اُس کے ساتھی نے عرض کیا یہ جو میری سپردگی میں تھا حاضر ہے۔ ق،آیات۱۹تا۲۳
حق لے کر آ پہنچی
سورۃ ق حاشیہ نمبر۲۲
حق لے کر آ پہنچے سے مراد یہ ہے کہ
موت کی جانکنی وہ نقطۂ آغاز ہے جہاں سے وہ حقیقت کھلُنی شروع ہو جاتی جس پر دنیا کی
زندگی میں پردہ پڑا ہوا تھا۔ اس مقام سے آدمی وہ دوسرا عالم صاف دیکھنے لگتا ہے جس کی خبر انبیاء علیہم
السلام نے دی تھی۔ یہاں آدمی کو یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ آخرت بالکل برحق ہے، اور یہ حقیقت بھی اس
کو معلوم ہو جاتی ہے کہ زندگی کے اس دوسرے مرحلے میں وہ نیک بخت کی حیثیت سے داخل
ہو رہا ہے یا بد بخت کی حیثیت سے۔
تُو بھاگتا تھا۔
سورۃ ق حاشیہ نمبر۲۳
یعنی یہ وہی حقیقت ہے جس کو ماننے
سے تو کنّی کتراتا تھا۔ تو چاہتا تھا کہ دنیا میں نتھے بیل کی طرح چھوٹا پھرے اور
مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہ ہو جس میں تجھے اپنے اعمال کا خمیازہ بھگتنا پڑے۔
اسی لیے آخرت کے تصور سے تو دور بھا کتا تھا اور کسی طرح یہ ماننے کے لیے تیار نہ
تھا کہ کبھی یہ عالم بھی برپا ہونا ہے۔ اب دیکھ لے، یہ وہی دوسرا علم تیرے سامنے آ
رہا ہے۔
ایک گواہی دینے والا
سورۃ ق حاشیہ نمبر۲۵
اغلب یہ ہے کہ اس سے مراد وہی دو
فرشتے ہیں جو دنیا میں اس شخص کے قول و عمل کا ریکارڈ مرتب کر نے کے لیے مامور رہے
تھے۔ قیامت کے روز جب صور کی آواز بلند ہوتے ہی ہر انسان اپنے مرقد سے اٹھے گا تو
فوراً وہ دونوں فرشتے آ کر اسے اپنے چارج میں لے لیں گے۔ ایک اسے عدالت گاہ خداوندی
کی طرف ہانکتا ہو لے چلے گا اور دوسرا اس کا نامۂ اعمال ساتھ لیے ہوئے ہو گا۔
Comments
Post a Comment