آخرت میں تمام اختلافات کی حقیقت کھول دی جائے گی

 آخرت میں تمام اختلافات کی حقیقت کھول دی جائے گی

تفہیم القرآن-جلد دوم-عنوان -آخرت، صفہ 568

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِيْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِيَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا يَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ  سورہ نحل آیت 92

تمہاری حالت اُس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سُوت کاتا اور پھر آپ ہی اُسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکر و فریب کا ہتھیار بناتے ہو تاکہ ایک قوم دُوسری قوم سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے حالانکہ اللہ اس عہد و پیمان کے ذریعے سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے، اور ضرور وہ قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا۔

پھر آپ ہی اُسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا

سورة النحل حاشیہ نمبر۹۰

یہاں علی الترتیب تین قسم کے معاہدوں کو ان کی اہمیت کے لحاظ سے الگ الگ بیان کر کے ان کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے ۔ایک وہ عہد جو انسان نے خدا  کے ساتھ باندھا ہو، اور یہ اپنی اہمیت میں سب سے بڑھ کر ہے۔ دوسرا وہ عہد جو ایک انسان یا گروہ  نے دوسرے انسان یا گروہ سے باندھا ہو اور اس پر اللہ کی قسم کھائی ہو، یا کسی نہ کسی طور پر اللہ کا نام لے کر اپنے قول کی پختگی کا یقین دلایا ہو۔ یہ دوسرے درجے کی اہمیت رکھتا ہے ۔ تیسرا وہ عہد و پیمان جو اللہ کا نام لیے بغیر کیا گیا ہو۔ اس کی اہمیت اوپر کی دوقسموں کے بعد ہے۔ لیکن پابندی ان سب کی ضروری ہے اور خلاف ورزی ان میں سے کسی کی بھی روا نہیں ہے۔

تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے

سورة النحل حاشیہ نمبر۹١

”یہاں خصوصیت کے ساتھ عہد شکنی کی اُس برترین قسم پر ملامت کی گئی ہے  جو دنیا میں سب سے بڑھ کر موجبِ فساد ہوتی ہے اور جسے بڑے بڑے اونچے درجے کے لوگ بھی کارِ ثواب سمجھ کر کرتے اور اپنی قوم سے داد پاتے ہیں ۔ قوموں اور گروہوں کی سیاسی، معاشی اور مذہبی کشمکش میں یہ آئے دن  ہوتا رہتا ہے کہ ایک قوم کا لیڈر ایک وقت میں دوسری قوم سے ایک معاہدہ کرتا ہے اور دوسرے وقت میں محض اپنے قومی مفاد کی خاطر یا تو اسے علانیہ توڑ دیتا ہے یا درپردہ اس کی خلاف ورزی کر کے ناجائز فائدہ اُٹھاتا ہے۔ یہ حرکتیں ایسے ایسے لوگ تک کر گزرتے ہیں جو اپنی ذاتی زندگی میں بڑے راستباز ہوتے ہیں۔ اور ان حرکتوں پر صرف یہی نہیں کہ ان کی پوری قوم میں سے ملامت کی کوئی آواز نہیں  اُٹھتی ، بلکہ ہر طرف سے اُن کی پیٹھ ٹھونکی جاتی ہے اوراس  طرح کی چالبازیوں کو ڈپلومیسی کا کما ل سمجھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس  پر متنبہ فرماتا ہے کہ ہر معاہدہ دراصل معاہدہ کرنے والے شخص اور قوم کے اخلاق و دیانت کی آزمائش ہے اور جو لوگ اس آزمائش میں ناکام ہوں گے وہ اللہ کی عدالت میں مؤاخذہ سے نہ بچ سکیں گے۔

اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا

         

سورة النحل حاشیہ نمبر۹۲

یعنی یہ فیصلہ تو قیامت ہی کے روز ہو گا کہ جن اختلافات کی بنا پر تمہارے درمیان کشمکش برپا ہے ان میں برسرِ حق کون ہے اور برسر باطل کون۔ لیکن بہر حال ، خواہ کوئی سراسر حق پر ہی کیوں نہ ہو، اور اس کا حریف بالکل گمراہ اور باطل پرست ہی کیوں نہ ہو ، اس کے لیے یہ کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے حریف کے مقابلہ میں عہد شکنی اور کذب و افترا اور مکر و فریب کے ہتھیار استعمال کرے ۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو قیامت کے روز اللہ کے امتحان میں ناکام ثابت ہوگا ، کیونکہ حق پرستی صرف نظریے اور مقصد ہی میں صداقت کا مطالبہ نہیں کرتی ، طریقِ کار اور ذرائع میں بھی صداقت ہی چاہتی ہے ۔ یہ بات خصوصیت کے ساتھ اُن مذہبی گروہوں کی تنبیہ کے لیے فرمائی جا رہی ہے جو ہمیشہ اس غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں کہ ہم چونکہ خدا کے طرفدار ہیں اور ہمارا فریقِ مقابل خدا کا باغی ہے اس لیے ہمیں حق پہنچتا ہے کہ اسے جس طریقہ سے بھی ممکن ہو زک پہنچائیں۔ ہم پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ خدا کے باغیوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں بھی صداقت ، امانت اور وفائے عہد کا لحا ظ رکھیں۔ ٹھیک یہی بات تھی جو عرب کے یہودی کہا کرتے تھے کہ   لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمّیِّیْنَ سَبِیْلٌ۔ یعنی مشرکین ِ عرب کے معاملہ میں ہم پر کوئی پابندی نہیں ہے ، اُن سے ہر طرح کی خیانت کی جا سکتی ہے، جس چال اور تدبیر سے بھی خدا کے پیاروں کا بھلا  ہو اور کافروں کو زک پہنچے وہ بالکل روا ہے، اس پر کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں