اجر کے مستحق لوگ
Reward -List of topics - Tafhim al-Qur'an - Volume I
فہرست موضوعات-تفہیم القرآن- جلد اول- اجر
اجر کے مستحق
تفہیم القرآن جلد اول صفحہ 103، 210
بَلٰى ١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ
فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ
يَحْزَنُوْنَؒ۰۰۱۱۲ سورہ بقرہ آیت 112
۔ حق یہ ہے کہ جو
اپنی ہستی کو اللہ کی اطاعت میں سونپ دے اور عملاً نیک روش پر چلے ، اس کے لیے اس کے رب کے پاس
اس کا اجر ہے اور ایسے لوگوں کےلیے کسی خوف یا رنج کا کوئی موقع نہیں ۔ سورہ بقرہ آیت 112
اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَ
النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا
خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَؔ۰۰۲۷۴
سورہ بقرہ آیت 274
جو لوگ اپنے مال شب وروز کھُلے اور چھُپے خرچ کرتے ہیں ان
کا اجر ان کے ربّ کے پاس ہے اور اُن کےلیے کسی خوف اور رنج کا مقام نہیں۔
کیسے لوگ اجر کے مستحق ہیں۔
فہرست موضوعات- تفہیم القران- اجر- جلد دوم- 139، 140،
326، 414
وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ
وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِيْمٌؒ۰۰۲۸
سورہ انفال آیت 28
، اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامانِ آزمائش ہیں اور اللہ کےپاس اجر دینے کے لیے بہت
کچھ ہے۔ سورہ انفال آیت 28
سامانِ آزمائش ہیں
سورة الانفال حاشیہ نمبر۲۳
انسان کے اخلاص ایمانی میں جو چیز بالعموم خلل ڈالتی ہے اور
جس کی وجہ سے انسان اکثر منافقت، غداری اور خیانت میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے مالی
مفاد اور اپنی اولاد کے مفاد سےاس کی حد سے بڑھی ہوئی دلچسپی ہوتی ہے۔ اسی لیے
فرمایا کہ یہ مال اور اولاد، جن کی محبت میں گرفتار ہو کر تم عموماً راستی سے ہٹ
جاتے ہو، دراصل یہ دنیا کی امتحان گاہ میں تمہارے لیے سامان آزمائش ہیں ۔ جسے تم بیٹا
یا بیٹی کہتے ہو حقیقت کی زبان میں وہ در اصل امتحان کا ایک پر چہ ہے۔ اور جسے تم
جائداد یا کاروبار کہتے ہو وہ بھی درحقیقت ایک دوسرا پرچہ امتحان ہے۔ یہ چیزیں
تمہارے حوالہ کی ہی اس لیے گئی ہیں کہ ان کے ذریعہ سے تمہیں جانچ کر دیکھا جائے کہ
تم کہاں تک حقوق ا ور حدود کا لحاظ کرتے ہو، کہاں تک اپنے نفس کو جواِن دنیوی چیزوں
کی محبت میں اسیر ہوتاہے، اسی طرح قابو میں رکھتے ہو کہ پوری طرح بندہ حق بھی بنے
رہو اور ان چیزوں کے حقوق اس حد تک ادا بھی
کرتے رہو جس حد تک حضرتِ حق نے خود ان کا استحقاق مقرر کیا ہے۔
کیسے لوگ اجر کے مستحق ہیں؟
تفہیم القران- جلد سوم- 9، 24،
716
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْۤ
اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ۰۰۱قَيِّمًا لِّيُنْذِرَ بَاْسًا
شَدِيْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ يُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ
الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ۰۰۲ سورہ کہف آیات 1، 2
تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے
بندے پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہ رکھی۔1 ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے
والی کتاب، تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے، اور ایمان لا
کر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دیدے کہ
ان کے لیے اچھا اجر ہے۔ سورہ کہف آیات 1،
2
تفہیم القرآن جلد سوم سورہ کہف آیت
30
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ
عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ۰۰۳۰ سورہ کہف آیت 30
رہے وہ لوگ جو مان لیں اور نیک عمل
کریں، تو یقیناً ہم نیکو کار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے۔ سورہ کہف آیت 30
تفہیم القرآن جلد سوم سورہ عنکبوت آیت 58
وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ
عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِيْ مِنْ
تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَۗۖ۰۰۵۸ سورہ عنکبوت آیت 58
اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان
کو ہم جنت کی بلندو بالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں
وہ ہمیشہ رہیں گے، کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں کےلیے۔ سورہ عنکبوت آیت 58
کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں
کےلیے۔
سورة العنکبوت حاشیہ نمبر۹٦
یعنی اگر ایمان اور نیکی کے راستہ
پر چل کر بالفرض تم دنیا کی ساری نعمتوں سے محروم بھی رہ گئے
اور دنیوی نقطۂ نظر سے سراسر ناکام بھی
مرے تو یقین رکھو کہ اس کی تلافی بہر حال ہو گی اور نِری تلافی ہی نہ ہو گی
بلکہ بہترین اجر نصیب ہو گا۔
کیسے لوگ اجر کے مستحق ہیں
تفہیم القرآن جلد چہارم 84، 221،
232، 233، 248،
363، 384، 385،
441، 442، 511
سورہ احزاب آیت 29
وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ
اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ
لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِيْمًا۰۰۲۹ سورہ احزاب آیت 29
اور اگر تم اللہ اور اس کے رسولؐ اور دارِ آخرت
کی طالب ہو تو جان لو کہ تم میں سے جو نیکوکار
ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے ۔ سورہ احزاب آیت 29
سورہ فاطر آیت 7
اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ
عَذَابٌ شَدِيْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ
مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِيْرٌؒ۰۰۷ سورہ فاطر آیت 7
جو لوگ کُفر کریں گے اُن کے لیے سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائیں گے
اور نیک عمل کریں گے اُن کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔
جو لوگ کُفر کریں گے
سورة فاطر حاشیہ نمبر١۳
یعنی خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی اس دعوت کو
ماننے سے انکار کر دیں گے۔
بڑا اجر ہے۔
سورة فاطر حاشیہ نمبر١۴
یعنی اللہ تعالیٰ ان کی خطاؤں سے درگزر فرمائے
گا اور جو نیک عمل انہوں نے کیے ہوں گے ان کا محض
برابر سرا بر ہی اجر دے کر ہی نہ رہ جائے گا بلکہ انہیں بڑا اجر عطا فر
مائے گا۔
سورہ فاطر آیات 29، 30
اِنَّ الَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ
كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ
سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً يَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ۰۰۲۹لِيُوَفِّيَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ
يَزِيْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ۰۰۳۰ سورہ فاطر آیات 29،
30
جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں
اور نماز قائم کرتے ہیں ، اور جو کچھ ہم نے اُنہیں رزق دیا ہے اُس میں سے کھُلے
اور چھُپے خرچ کرتے ہیں، یقیناً وہ ایک ایسی تجارت کے متوقع ہیں جس میں ہر گز
خسارہ نہ ہوگا۔ (اس تجارت میں انہوں نے اپنا سب کچھ اِس لیے کھپایا ہے)تاکہ اللہ
اُن کے اجر پورے کے پورے اُن کو دے اور مزید اپنے فضل سے ان کو عطا فرمائے۔ بےشک اللہ بخشنے والا اور قدردان ہے۔ سورہ فاطر آیات 29، 30
اپنے فضل سے ان کو عطا فرمائے
سورة فاطر حاشیہ نمبر۵١
اہل ایمان کے اس عمل کو تجارت سے اس لیے تشبیہ دی
گئی ہے کہ آدمی تجارت میں اپنا سرمایہ اور محنت و قابلیت اس امید پر صرف کرتا ہے
کہ نہ صرف اصل واپس ملے گا، اور نہ صرف وقت اور محنت کی اجرت ملے گی، بلکہ کچھ مزید
منافعہ بھی حاصل ہوگا۔ اسی طرح ایک مومن بھی خدا کی فرمانبرداری میں، اس کی بندگی
و عبادت میں، اور اس کے دین کی خاطر جدوجہد میں، اپنا مال، اپنے اوقات، اپنی محنتیں
اور قابلیتیں اس امید پر کھپا دیتا ہے کہ نہ صرف ان سب کا پورا پورا اجر ملے گا
بلکہ اللہ اپنے فضل سے مزید بہت کچھ عنایت فرمائے گا۔ مگر دونوں تجارتوں میں فرق
اور بہت بڑا فرق اس بنا پر ہے کہ دنیوی تجارت میں محض نفع ہی کی امید نہیں ہوتے،
گھاٹے اور دیوالے تک کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ بخلاف اس کے جو تجارت ایک مخلص بندہ
اپنے خدا کے ساتھ کرتا ہے اس میں کسی خسارے کا اندیشہ نہیں۔
بخشنے والا اور قدردان ہے
سورة فاطر حاشیہ نمبر۵۲
یعنی مخلص اہل ایمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا
معاملہ اس تنگ دل آقا کا سا نہیں ہے جو بات بات پر گرفت کرتا ہو اور ایک ذرا سی
خطا پر اپنے ملازم کی ساری خدمتوں اور وفا داریوں پر پانی پھیر دیتا ہو۔ وہ فیاض
اور کریم آقا ہے۔ جو بندہ اس کا وفادار ہو اس کی خطاؤں پر چشم پوشی سے کام لیتا ہے
اور جو کچھ بھی خدمت اس سے بن آئی ہو اس کی قدر فرماتا ہے۔
سورہ یس آیت 11
اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ
الذِّكْرَ وَ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ
اَجْرٍ كَرِيْمٍ۰۰۱۱ سورہ یس آیت 11
تم تو اُسی شخص کو خبردار کر سکتے ہو جو نصیحت کی
پیروی کرے اور بے دیکھے خدائے رحمٰن سے ڈرے۔ اُسے مغفرت اور اجرِ کریم کی بشارت دے
دو۔ سورہ یس آیت 11
سورہ زمر آیت 10
قُلْ يٰعِبَادِ الَّذِيْنَ
اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا
حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ
اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ۰۰۱۰ سورہ زمر آیت 10
(اے نبیؐ )کہو کہ اے میرے بندو جو
ایمان لائے ہو ، اپنے ربّ سے ڈرو۔ جن
لوگوں نے اِس دنیا میں نیک رویّہ اختیار کیا ہے ان کے لیے بھلائی ہے۔ اور خدا کی
زمین وسیع ہے، صبر کرنے والوں کو تو ان کا
اجر بے حسا ب دیا جائے گا۔
صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بے
حسا ب دیا جائے گا۔
سورة الزمر حاشیہ نمبر۳۲
یعنی ان لوگوں کو جو خدا پرستی اور نیکی کے راستے پر چلنے میں ہر طرح کے مصائب و شدائد
برداشت کر لیں مگر راہ حق سے نہ ہٹیں۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو دین و ایمان
کی خاطر ہجرت کر کے جلا وطنی کی مصیبتیں برداشت کریں ، اور وہ بھی جو ظلم کی سر زمین
میں جم کر ہر آفت کا سامنا کرتے چلے جائیں۔
سورہ زمر آیات 73، 74
وَ سِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا
رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ
اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا
خٰلِدِيْنَ۰۰۷۳وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ صَدَقَنَا
وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَآءُ١ۚ
فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ۰۰۷۴ سورہ زمر آیات 73،
74
اور جو لوگ اپنے ربّ کی نافرمانی
سے پرہیز کرتے تھے انہیں گروہ در گروہ جنّت کی طرف لے جایا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب
وہ وہاں پہنچیں گے ، اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جا چکے ہوں گے، تو اُس کے
منتظمین ان سے کہیں گے ” سلام ہو تم پر، بہت اچھے رہے، داخل ہو جاوٴ اس میں ہمیشہ کے لیے۔“ اور وہ کہیں گے”شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہمارے ساتھ
اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا، اب ہم جنّت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔“ پس بہترین اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے۔ سورہ
زمر آیات 73، 74
پس بہترین اجر ہے عمل کرنے والوں
کے لیے
سورة الزمر حاشیہ نمبر۸۴
ہو سکتا ہے کہ یہ اہل جنت کا قول ہو، اور یہ بھی
ہو سکتا ہے کہ اہل جنت کی بات پر یہ جملہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور اضافہ ارشاد
فرمایا گیا ہو۔
حم سجدہ آیت 8
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ
عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍؒ۰۰۸ حم سجدہ آیت 8
رہے وہ لوگ جنہوں نے مان لیا اور نیک
اعمال کیے، اُن کے لیے یقیناً ایسا اجر ہے
جس کا سلسلہ ٹوٹنے والا نہیں ہے۔ حم سجدہ آیت 8
ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ ٹوٹنے
والا نہیں ہے
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ نمبر١۰
اصل میں : اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن کے دو معنی
اور بھی ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ ایسا اجر ہو
گا جس میں کبھی کمی نہ آٴئے گی۔ دوسرے یہ کہ وہ اجر احسان جتا جتا کر نہیں دیا جاٴئے
گا جیسے کسی بخیل کا عطیہ ہوتا ہے کہ اگر وہ جی کڑا کر کے کسی کو کچھ دیتا بھی ہے
تو بار بار اس کو جتاتا ہے۔
سورہ شوری آیت 40
وَ جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ
مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا
يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ۰۰۴۰ سورہ شوری آیت 40
بُرائی کا بدلہ ویسی ہی بُرائی
ہے ، پھر جو کوئی معاف کردے اور اصلاح کرے
اُس کا اجر اللہ کے ذمّہ ہے، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔
اُس کا اجر اللہ کے ذمّہ ہے
سورة الشوریٰ حاشیہ نمبر٦٦
یہ دوسرا قاعدہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادتی
کرنے والے سے بدلہ لے لینا اگر چہ جائز ہے ، لیکن جہاں معاف کر دینا اصلاح کا موجب
ہو سکتا ہو وہاں اصلاح کی خاطر بدلہ لینے کے بجائے معاف کر دینا زیادہ بہتر ہے۔
اور چونکہ یہ معافی انسان اپنے نفس پر جبر کر کے دیتا ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ
فرماتا ہے کہ اس کا اجر ہمارے ذمہ ہے ، کیونکہ تم نے بگڑے ہوئے لوگوں کی اصلاح کی
خاطر یہ کڑوا گھونٹ پیا ہے۔
اجر کیسے لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم القرآن جلد پنجم صفحات 31، 46، 49، 53، 65، 72،
306، 309، 315، 325، 544، 573
تفہیم القرآن جلد
پنجم صفحہ 31
سورہ محمد آیت 36
اِنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا
لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا يُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ
وَ لَا يَسْـَٔلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ۰۰۳۶ سورہ محمد آیت 36
یہ دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے۔ اگر تم ایمان رکھو
اور تقوٰی کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا اور وہ تمہارے مال
تم سے نہ مانگے گا۔ سورہ محمد آیت 36
تمہارے مال تم سے نہ مانگے گا
سورۃ محمد حاشیہ نمبر۴۳
یعنی وہ غنی ہے، اسے اپنی ذات کے لیے
تم سے لینے کی کچھ ضرورت نہیں ہے۔ اگر وہ اپنی راہ میں تم سے کچھ خرچ کرنے کے لیے
کہتا ہے تو وہ اپنے لیے نہیں بلکہ تمہاری ہی بھلائی کے لیے کہاتا ہے۔
اجر کیسے لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم
القرآن جلد پنجم صفحہ 46
سورہ فتح آیت 5
لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ
جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَ يُكَفِّرَ
عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِيْمًاۙ۰۰۵ سورہ فتح آیت 5
(اس نے یہ کام اس لیے کیا ہے)تاکہ
مومن مردوں اور عورتوں کو ہمیشہ رہنے کے لیے ایسی جنّتوں میں داخل فرمائے جن کے نیچے
نہریں بہ رہی ہو ں گی اور ان کی برائیاں ان سے دور کر دے ۔۔۔۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑی
کامیابی ہے
تاکہ مومن مردوں اور عورتوں
سورۃ الفتح حاشیہ نمبر۹
قرآن مجید میں بالعموم اہل ایمان
کے اجر کا ذکر مجموعی طور پر کیا جاتا ہے ، مردوں اور عورتوں کو اجر ملنے کی الگ
الگ تصریح نہیں کی جاتی۔ لیکن یہاں چونکہ یکجائی ذکر پر اکتفا کرنے سے یہ گمان پیدا
ہوسکتا تھا کہ شاید یہ اجر صرف مردوں کے لیے ہو،اس لیے اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں
کے متعلق الگ صراحت کر دی کہ وہ بھی اس اجر میں مومن مردوں کے ساتھ برابر کی شریک ہیں ۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ جن خدا
پرست خواتین نے اپنے شوہروں، بیٹوں ، بھائیوں اور باپوں کو اس خطرناک سفر پر جانے
سے روکنے اور آہ و فغان سے ان کے حوصلے پست کرنے کے بجائے ان کی ہمت افزائی کی،
جنہوں نے ان کے پیچھے ان کے گھر ، ان کے مال ، ان کی آبرو اور ان کے بچوں کی محافظ
بن کر انہیں اس طرف سے بے فکر کر دیا، جنہوں نے اس اندیشے سے بھی کوئی واویلا نہ
مچائی کہ چودہ سو صحابیوں کے ایک لخت چلے جانے کے بعد کہیں گرد و پیش کے کفار و
منافقین شہر پر نہ چڑھ آئیں ، وہ یقیناً گھر بیٹھنے کے باوجود جہاد کے اجر میں
اپنے مردوں کے ساتھ برابر کی شریک ہونی ہی چاہیے تھیں۔
اجر کیسے لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم
القرآن جلد پنجم صفحہ 49
سورہ فتح آیت 10
اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ
اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ١ۚ فَمَنْ
نَّكَثَ فَاِنَّمَا يَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ
عَلَيْهُ اللّٰهَ فَسَيُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًاؒ۰۰۱۰ سورہ فتح آیت 10
اے نبیؐ ، جو لوگ تم سے بیعت کر
رہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کر رہے
تھے۔ ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا۔ اب جو اس عہد کو توڑے گا اس کی عہد شکنی کا وبال اس کی اپنی ہی ذات پر ہو گا ، اور
جو اس عہد کو وفا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے، اللہ عنقریب اس کوبڑا اجر عطا فرمائے گا۔
اجر کیسے لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم
القرآن جلد پنجم صفحہ 53
سورہ فتح آیت 16
قُلْ لِّلْمُخَلَّفِيْنَ مِنَ
الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ
تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ يُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِيْعُوْا يُؤْتِكُمُ اللّٰهُ
اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِّنْ قَبْلُ
يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا۰۰۱۶ سورہ فتح آیت 16
ان پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ”عنقریب تمہیں ایسے لوگوں
سے لڑنے کے لیے بلایا جائے گا جو بڑے زور آور ہیں۔ تم کو ان سے جنگ کرنی ہوگی یا
وہ مطیع ہوجائیں گے۔ اس وقت اگر تم نے حکم جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا
اجر دیگا، اور اگر تم پھر اسی طرح منہ موڑ گئے جس طرح پہلے موڑ چکے ہو تو اللہ تم
کو درد ناک سزا دے گا۔ سورہ فتح آیت 16
اجر کیسے لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم
القرآن جلد پنجم صفحہ 65
سورہ فتح آیت 29
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ
الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ
تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١ٞ
سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي
التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِي الْاِنْجِيْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ
شَطْـَٔهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ يُعْجِبُ
الزُّرَّاعَ لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا
وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِيْمًاؒ۰۰۲۹ سورہ فتح آیت 29
محمدؐ اللہ کے رسول ہیں، اور جو
لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور
آپس میں رحیم ہیں۔ تم جب دیکھو گے انہیں
رکوع وسجود، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے۔ سجود کے
اثرات ان کے چہروں پرموجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ہے ان کی صفت
توراة میں۔ اور انجیل میں ان کی مثال یوں
دی گئی ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی، پھر اس کو تقویت دی ، پھر
وہ گدرائی ، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی
۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کر تی ہے تا کہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں ۔
اِس گروہ کےلوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں اللہ نےان سے
مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ سورہ فتح آیت 29
اجر کیسے لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم
القرآن جلد پنجم صفحہ 72
سورہ حجرات آیت 3
اِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّوْنَ
اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ
قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۰۰۳ سورہ حجرات آیت 3
جو لوگ رسولِ خدا کے حضور بات کرتے
ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں وہ درحقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقوٰی
کے لیے جانچ لیا ہے،5 ان کے لیے مغفرت ہے اور اجرِعظیم۔ سورہ حجرات آیت 3
اجر کیسے لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم
القرآن جلد پنجم صفحہ 306،309
سورہ حدید آیت 7
اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ
وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِيْنَ فِيْهِ١ؕ فَالَّذِيْنَ
اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِيْرٌ۰۰۷ سورہ حدید آیت 7
ایمان لاؤ اللہ اور اُس کے رسول
پر اور خرچ کرو اُن چیزوں میں سے جن پر اُس نے تم کو خلیفہ بنایا
ہے۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور
مال خرچ کریں گے ان کے لیے بڑا اجر ہے۔ سورہ حدید آیت 7
اجر کیسے لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم
القرآن جلد پنجم صفحہ309
مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ
اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِيْمٌۚ۰۰۱۱ سورہ حدید آیت 11
کون ہے جو اللہ کو قرض دے؟ اچھا
قرض، تاکہ اللہ اسے کئی گُنا بڑھا کر واپس دے، اور اُس کے لیے بہترین اجر ہے۔ سورہ
حدید آیت 11
سورۃ الحدید حاشیہ نمبر۱۶
یہ اللہ تعالیٰ کی شان کریمی ہے کہ
آدمی اگر اس کے بخشے ہوئے مال کو اسی کی راہ میں صرف کرے تو اسے وہ اپنے ذمہ قرض
قرار دیتا ہے ، بشرطیکہ وہ قرض حسن(اچھا قرض)ہو، یعنی خالص نیت کے ساتھ کسی ذاتی
غرض کے بغیر دیا جائے، کسی قسم کی ریا کاری اور شہرت و ناموری کی طلب اس میں شامل
نہ ہو، اسے دے کر کسی پر احسان نہ جتا یا جائے، اس کا دینے والا صرف اللہ کی رضا
کے لیے دے اور اس کے سوا کسی کے اجر اور کسی کی خوشنودی پر نگاہ نہ رکھے ۔ اس قرض
کے متعلق اللہ کے دو وعدے ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ اس کو کئی بڑھا چڑھا کر واپس دے گا،
دوسرے یہ کہ وہ اس پر اپنی طرف سے بہترین اجر بھی عطا فرمائے گا۔
حدیث میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی
روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور حضورؐ کی زبان مبارک سے لوگوں نے اس کو سنا
تو حضرت ابو الد حداح انصاری نے عرض کیا یا رسول اللہ، کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض
چاہتا ہے ؟ حضورؐ نے جواب دیا، ہاں ، اے ابو الدحداح۔ انہوں نے کہا، ذرا اپنا ہاتھ
مجھے دکھایئے۔ اپ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف
بڑھا دیا۔ انہوں نے آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا ’’ میں نے اپنے رب کو اپنا
باغ قرض میں دے دیا۔ حضرت عبداللہ بن
مسعود فرماتے ہیں کہ اس باغ میں کھجور کے 600 درخت تھے ، اسی میں ان کا گھر تھا،
وہیں ان کے بال بچے رہتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ بات کر کے وہ
سیدھے گھر پہنچے اور بیوی کو پکاراکر کہا
‘’دحداح کی ماں ، نکل آؤ، میں نے یہ
باغ اپنے رب کو قرض دے دیا ہے ‘‘ وہ بولیں ’’ تم نے نفع کا سودا کیا دحداح کے
باپ’’، اور اسی وقت اپنا سامان اور اپنے بچے لے کر باغ سے نکل گئیں (ابن ابی
حاتم)۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مخلص اہل ایمان کا طرز عمل اس وقت کیا تھا،
اور اسی سے یہ بات بھی سمجھ میں آسکتی ہے کہ وہ کیسا قرض حسن ہے جسے کئی گنا بڑھا
کر واپس دینے اور پھر اوپر سے اجر کریم عطا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے
۔
اجر کیسے لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم
القرآن جلد پنجم صفحہ315
اِنَّ الْمُصَّدِّقِيْنَ وَ
الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا يُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ
لَهُمْ اَجْرٌ كَرِيْمٌ۰۰۱۸ سورہ حدید آیت 18
مَردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ
صدقات دینے والے ہیں اور جنہوں نے اللہ کو
قرضِ حَسَن دیا ہے، اُن کو یقیناً کئی گُنا بڑھا کر دیا جائے گا اور ان کے لیےبہترین
اجر ہے۔ سورہ حدید آیت 18
اجر کیسے لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم
القرآن جلد پنجم صفحہ325
سورہ حدید آیت 27
ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلٰۤى
اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّيْنَا بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَ اٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ١ۙ۬
وَ جَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ
رَهْبَانِيَّةَ ا۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ
رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا١ۚ فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ
اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ۰۰۲۷ سورہ حدید آیت 27
، اور ان سب کے بعد عیسٰیؑ ابن مریم کو مبعوث کیا اور اُس کو انجیل عطا کی،
اور جن لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی اُن کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا۔ اور رہبانیت
انہوں نے خود ایجاد کر لی، ہم نے اُسے اُن پر فرض نہیں کیا تھا، مگر اللہ کی
خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بدعت نکالی
اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اسے ادا نہ کیا۔ اُن میں سے جو لوگ ایمان لائے ہوئے تھے اُن کا
اجر ہم نے عطا کیا، مگران میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔ سورہ حدید آیت 27
اجر کیسے لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم القرآن جلد پنجم صفحہ 544
سورہ تغابن آیت 15
اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ
اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۰۰۱۵ سورہ تغابن آیت 15
تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو ایک
آزمائش ہیں، اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا
اجر ہے۔ سورہ تغابن آیت 15
سورۃ التغابن حاشیہ نمبر۳۰
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم
القرآن، جلد دوم، الانفال، حاشیہ 23۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا
یہ ارشاد بھی نگاہ میں رہنا چاہیے جسے طبرانی نے حضرت ابو مالک اشعریؓ سے روایت کیا
ہے کہ ’’ تیرا اصل دشمن وہ نہیں ہے جسے اگر تو قتل کر دے تو تیرے لیے کامیابی ہے
اور وہ تجھے قتل کر دے تو تیرے لیے جنت ہے ، بلکہ تیرا اصل دشمن، ہو سکتا ہے کہ تیرا
اپنا وہ بچہ ہو جو تیری ہی صُلب سے پیدا ہوا ہے ، پھر تیرا سب سے بڑا دشمن تیرا وہ
مال ہے جس کا تو مالک ہے ‘‘۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں بھی اور سورہ انفال میں
بھی یہ فرمایا ہے کہ اگر تم مال اور اولاد کے فتنے سے اپنے آپ کو بچا لے جاؤ اور
ان کی محبت پر اللہ کی محبت کو غالب رکھنے میں کامیاب رہو۔ تو تمہارے لیے اللہ کے
ہاں بہت بڑا اجر ہے۔
اجر کیسے لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم
القرآن جلد پنجم صفحہ 573
سورہ طلاق آیت 5
ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ
اِلَيْكُمْ١ؕ وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّاٰتِهٖ وَ يُعْظِمْ
لَهٗۤ اَجْرًا۰۰۵ سورہ طلاق آیت 5
یہ اللہ کا حکم ہے جواُس نے تمہاری
طرف نازل کیا ہے۔ جو اللہ سے ڈرے گا اللہ
اُس کی بُرائیوں کو اُس سے دُور کر دے گا اور اُس کو بڑا اجر دے گا۔ سورہ طلاق آیت
5
سورۃ الطلاق حاشیہ نمبر۱۵
یہ اگر چہ ایک عمومی نصیحت ہے جس
کا اطلاق انسانی زندگی کے تمام حالات پر ہوتا ہے ، لیکن اس خاص سیاق و سباق میں
اسے ارشاد فرمانے کا مقصد مسلمانوں کو خبردار کرنا ہے کہ اوپر جو احکام بیان کیے
گئے ہیں، ان سے خواہ تمہارے اوپر کتنی ہی ذمہ داریوں کا بوجھ پڑتا ہو، بہر حال خدا
سے ڈرتے ہوئے ان کی پیروی کرو، اللہ تمہارے کام آسان کرے گا، تمہارے گناہ معاف کرے
گا اور تمہیں بڑا اجر دے گا۔ ظاہر ہے کہ جن مطلقہ عورتوں کی عدت تین مہینے مقرر کی
گئی ہے ان کا زمانہ عدت ان عورتوں کی بہ نسبت طویل تر ہو گا جن کی عدت تین حیض
مقرر کی گئی ہے ۔ اور حاملہ عورت کا زمانہ عدت تو اس سے بھی کئی مہینے زیادہ ہو
سکتا ہے ۔ اس پورے زمانے میں عورت کی سکونت اور اس کے نفقہ کی ذمہ داری اٹھانا،
جبکہ آدمی اسے چھوڑ دینے کا ارادہ کر چکا ہو، لوگوں کو ناقابل برداشت بار محسوس ہو
گا۔ لیکن جو بار اللہ سے ڈرتے ہوئے ، اللہ کے احکام کی پیروی میں اٹھایا جائے ،
اللہ کا وعدہ ہے کہ اپنے فضل سے وہ اس کو ہلکا کر دے گا اور اس کی اتنی بھاری جزا
دے گا جو دنیا میں اٹھائے ہوئے اس تھوڑے سے بار کی بہ نسبت بہت زیادہ گراں قدر ہو
گی۔
اجر کن لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم القرآن
جلد ششم صفحہ 51
سورہ قلم آیت 3
وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَيْرَ
مَمْنُوْنٍۚ۰۰۳ سورہ قلم آیت 3
اور یقیناً تمہارے لیے ایسا اجر ہے
جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ سورہ قلم آیت 3
سورة القلم حاشیہ نمبر۳
یعنی آپ کے لیے اِس بات پر بے حساب
اور لازوال اجر ہے کہ آپ خلقِ خدا کی ہدایت کے لیے جو کوششیں کر رہے ہیں اُن کے
جواب میں آپ کو ایسی ایسی اذیت ناک باتیں سُننی پڑ رہی ہیں اور پھر بھی آپ اپنے
اِس فرض کو انجام دیے چلے جا رہے ہیں۔
اجر کن لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم
القرآن جلد ششم صفحہ 291
سورہ انشقاق آیت 25
اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ
عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍؒ۰۰۲۵ سورہ انشقاق آیت 25
اجر کن لوگوں کے لیے ہے؟ تفہیم
القرآن جلد ششم صفحہ387، 388389
سورہ تین آیت 6
اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ
عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍؕ۰۰۶ سورہ تین آیت 6
سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔
سورة التین حاشیہ نمبر۵
جن مفسّرین نے اَسْفَلَ سَافِلِیْن
سے مراد بُڑھاپے کی وہ حالت لی ہے جس میں
انسان اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے وہ اِس آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ ”مگر جن
لوگوں نے اپنی جوانی اور تندرستی کی حالت میں ایمان لا کر نیک اعمال کیے
ہوں اُن کے لیے بُڑھاپے کی اِس حالت میں بھی وہی نیکیاں لکھی جائیں گی اور اُنہی
کے مطابق وہ اجر پائیں گے۔ اُن کے اجر میں اِس بنا پر کوئی کمی نہ کی جائے گی کہ
عمر کے اِس دور میں اُن سے وہ نیکیاں صادر نہیں ہوئیں۔“ اور جو مفسّرین اسفل سافلین کی طرف پھیر ے جانے کا
مطلب جہنّم کے ادنیٰ ترین درجہ میں پھینک دیا جانا لیتے ہیں ان کے نزدیک اِس آیت
کے معنی یہ ہیں کہ ” ایمان لا کر عملِ صالح کرنے والے لوگ اِس سے مستثنیٰ ہیں، وہ
اس درجہ کی طرف نہیں پھیرے جائیں گے، بلکہ اُن کو وہ اجر ملے گا جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہو گا۔“ لیکن یہ دونوں
معنی اُس استدلال سے مناسبت نہیں رکھتے جو جزا و سزا کے برحق ہونے پر اِس سورت میں
کیا گیا ہے ۔ ہمارے نزدیک آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ جس طرح انسانی معاشرے میں یہ
عام مشاہدے کی بات ہے کہ اخلاقی پستی میں گرنے والے لوگ گِرتے گِرتے سب نیچوں سے نیچ
ہو جاتے ہیں، اُسی طرح یہ بھی ہر زمانے کا عام مشاہدہ ہے کہ جو لوگ خدا اور آخرت اور رسالت پر ایمان لائے اور
جنہوں نے اپنی زندگی عملِ صالح کے سانچے میں دھال لی وہ اِس پستی میں گرنے سے بچ
گئے اور اُسی احسنِ تقویم پر قائم رہے جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا تھا، اس لیے
وہ اجرِ غیر ممنون کے مستحق ہیں، یعنی ایسے
اجر کے جو نہ اُن کے استحقاق سے کم دیا جائے گا ، اور نہ اُس کا سلسلہ کبھی
منقطع ہو گا۔
Comments
Post a Comment