آخرت میں ہر شخص کی انفرادی ذمہ داری الگ الگ تشخیص کی جائے گی

 آخرت میں ہر شخص کی انفرادی ذمہ داری الگ الگ تشخیص کی جائے گی، صفحہ 605 

فہرست مضامین -تفہیم القرآن- جلد دوم – عنوان آخرت

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْتَدِيْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا۰۰۱۵  سورہ بنی اسرائیل آیت 15

جو کوئی راہِ راست اختیار کرے اس کی راست روی اُس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، اور جو گُمراہ ہو اُس کی گمراہی کا وبال اُسی پر ہے۔ کوئی بوجھ اُٹھانے والا دُوسرے کا بوجھ نہ اُٹھائے گا۔ اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ (لوگوں کو حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے)ایک پیغام بر نہ بھیج دیں۔

جو گُمراہ ہو اُس کی گمراہی کا وبال اُسی پر ہے

سورة بنی اسرائیل حاشیہ نمبر١۵

یعنی راہ راست اختیار کر کے کوئی شخص خدا پر ، یا رسول پر ، یا اصلاح کی کوشش کرنے والوں پر کوئی احسان نہیں کرتا بلکہ  خود اپنے ہی حق میں بھلا کرتا ہے۔ اور اسی طرح گمراہی اختیار کرکے یا اس پر اصرار کر کے وہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑتا، اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ خدا  اور رسول اور داعیانِ حق انسان کو غلط راستوں سے بچانے  اور صحیح راہ دکھانے کی جو کوشش کرتے ہیں وہ اپنی کسی غرض کے لیے نہیں بلکہ انسان کی خیر خواہی کے لیے کرتےہیں۔ ایک عقلمند آدمی کا کام یہ ہے کہ جب دلیل سے اس کے سامنے حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا واضح کر دیا جائے تو وہ تعصبات اور مفاد پرستیوں کو چھوڑ کر سیدھی طرح باطل سے باز آجائے او ر حق اختیار کر لے۔ تعصب یا مفاد پرستی سے کام لےگا تو وہ اپنا آپ ہی بدخواہ ہوگا۔

دُوسرے کا بوجھ نہ اُٹھائے گا۔

سورة بنی اسرائیل حاشیہ نمبر١٦

یہ ایک نہایت اہم اصولی حقیقت ہے جسے قرآن مجید میں جگہ جگہ ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی ہے، کیونکہ اسے سمجھے بغیر انسان کا طرز عمل کبھی درست نہیں ہو سکتا ۔ اس فقرے کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان اپنی ایک مستقل اخلاقی ذمہ داری رکھتا ہے اور اپنی شخصی حیثیت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے۔ اس ذاتی ذمہ داری میں کوئی دوسرا شخص اس کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ دنیا میں خواہ کتنے ہی آدمی، کتنی ہی قومیں اور کتنی ہی نسلیں اور پشتیں ایک کام  یا ایک طریق عمل میں شریک ہوں، بہر حال خدا کی آخری عدالت میں اُس مشترک عمل کا تجزیہ  کر کے ایک ایک انسان کی ذاتی ذمہ داری الگ مشخص کر لی جائے گی اور اس کو جو کچھ بھی جزا یا سزا ملے گی، اس عمل کی ملے گی جس کا وہ خود اپنی انفرادی حیثیت میں ذمہ دار ثابت ہوگا۔اس انصاف کی میزان میں نہ  یہ ممکن ہوگا  کہ دوسروں کے کیے کا وبال اس پر ڈال دیا جائے، اور نہ یہی ممکن ہوگا کہ اس کے کرتوتوں کا بارِ گناہ کسی اور پر پڑجائے۔ اس لیے ایک دانش مند آدمی کو یہ نہ دیکھنا چاہیے کہ دوسرے کیا کر رہے ہیں، بلکہ اسے ہر وقت اس بات پر نگاہ رکھنی چاہیے کہ وہ خود کیا  کر رہا ہے۔ اگر اسے اپنی ذاتی ذمہ داری کا صحیح احساس ہو تو دوسرے خواہ کچھ کر رہے ہوں ، وہ بہر حال اُسی طرزِ عمل پر ثابت قدم رہےگا جس کی جواب دہی خدا کے حضور وہ کامیابی کے ساتھ کر سکتاہو۔

پیغام بر نہ بھیج دیں۔

سورة بنی اسرائیل حاشیہ نمبر١۷

یہ ایک اور اصولی حقیقت ہے جسے قرآن بار بار مختلف طریقوں سے انسان کے ذہن میں بٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نظام ِ عدالت میں پیغمبر ایک بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ پیغمبر اور اس کا لایا ہوا پیغام ہی بندوں  پر خدا کی حجت ہے۔ یہ حجت قائم نہ ہو تو بندوں کو عذاب دینا خلافِ انصاف ہوگا ، کیونکہ اس صورت میں وہ یہ عذر پیش کر سکیں گے کہ ہمیں آگاہ کیا ہی نہ گیا تھا پھر اب ہم پر یہ گرفت کیسی۔ مگر جب یہ حجت قائم ہو جائے تو اس کے بعد انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ اُن لوگوں کو سزا دی جائے جنہوں نے خدا کے بھیجے ہوئے پیغام سے منہ موڑا ہو، یا اسے پا کر پھر اس سے انحراف کیا ہو۔ بے وقوف لوگ  اس طرح کی آیات پڑھ کر اس سوال پر غور کرنے لگتے ہیں کہ جن لوگوں کے پاس کسی نبی کا پیغام نہیں پہنچا ان کی پوزیشن کیا ہوگی۔ حالانکہ ایک عقلمند آدمی کو غور  اس بات پر کرنا چاہیے کہ تیرے پاس تو پیغام پہنچ چکا ہے ۔ اب تیری اپنی پوزیشن کیا ہے۔ رہے دوسرے لوگ، تو یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کے پاس ، کب ، کس طرح اور کس حد تک اس کا پیغام پہنچا اور اس نے اس کے معاملے میں کیا رویہ اختیار کیا اور کیوں کیا ۔ عالم الغیب کے  سوا کوئی بھی یہ نہیں جان سکتا  کہ کس پر اللہ کی حجت پوری ہوئی ہے اور کس پر نہیں ہوئی۔

Comments